آہ مولانا وحید الدین خان صاحب: بے حد احترام اور کچھ اختلاف بھی — میر امتیاز آفریں

0

عام طور پر دینی شخصیات پر رائے قائم کرتے وقت ہم اعتدال و توازن برقرار نہیں رکھ پاتے، اگر زیر بحث شخصیت اپنی ہو تو ہم اسے تقریباً معصوم عن الخطا سمجھ کر آسانی سے شخصیت پرستی کے مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور اگر شخصیت مخالف مکتبہ فکر سے تعلق رکھتی ہو تو اسے تعصب کی عینک سے دیکھتے ہوئے ہرزہ سرائیاں کرنے پر آجاتے ہیں۔ شخصیت ‘اپنی’ ہو تو ہم تعریفوں کے پل باندھنے لگتے ہیں اور ‘غیر’ سے تعلق رکھتی ہو تو ہم اکثر انکی کردار کشی character assassination پر آجاتے ہیں اور نفرتوں کا اظہار کرتے ہیں۔ دراصل بیک وقت مثبت و منفی پہلوؤں کو دیکھنا اور ان سے علمی استفادہ کرنے کا کلچر ہم میں پروان نہیں چڑھ سکا، جس کے مضر اثرات فرقہ وارانہ کشیدگی کی صورت میں ہمارے گرد و پیش میں اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ دراصل عظیم دینی شخصیات پوری ملت کے لیے ایک عظیم سرمایہ ہوتی ہیں اور ہر طبقہ کو ممکنہ اختلاف کے باوجود ان سے استفادہ کرنا چاہئے کیونکہ اسی سے علمی تمدن پروان چڑھتا ہے اور تنگ ذہنوں کے تالے کھلتے ہیں۔ شخصیات سے مثبت طریقے سےاستفادہ کرنے کے لئے ہمیں تنگ ذہنوں کو کھولنا ہوگا اور افکار و نظریات پر غیر جانبدارانہ طور پر کھل کر غور کرنا ہوگا۔ دور حاضر کی ایک عظیم علمی و فکری شخصیت مولانا وحید الدین خان صاحب کے روپ میں ہم سے رخصت ہوئی اور دیانت کا تقاضا ہے کہ ہم تعصبات سے اوپر اٹھ کر آپ کی نگارشات سے استفادہ کریں۔ مولانا صاحب کسی خاص مکتب فکر سے باقاعدگی سے وابستہ نہ تھے مگر ہمارے یہاں تقریباً ہر گروہ میں ان کے مداحوں کی کمی ہے اور نہ ان کے ناقدوں کی۔ زندگی میں ہی انہیں قبول عام بھی حاصل ہوا اور ان پر تنقید کے نشتر بھی چلائے گئے لیکن انھوں نے پلٹ کر کسی کے وار کا جواب نہیں دیا کیونکہ ان کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ وہ رک کر پیچھے دیکھتے اور دشنام طرازوں کو سننے میں اپنا وقت ضائع کرتے۔ وقت کا استعمال کرتے ہوئے انہوں نے اپنے پیچھے سو سے زائد کتابوں کا ایک سرمایہ چھوڑا اور دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق مسلم زہن کی تشکیل پر کام کیا۔

مجھے یاد ہے حضرت مولانا سے پہلی بار شناسائی  2002 میں اس وقت ہوئی جب میں کالج میں زیر تعلیم تھا اور مولانا کی کتاب ‘عظمت اسلام’ دیکھنے کو ملی۔۔۔ پہلی بار ہی دامن دل آپ کی طرز تحریر نے کھینچ لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے آپ کا فین بن گیا اور آپ کی درجنوں کتابوں کا مطالعہ کیا جن میں خاص کر مذہب اور جدید چیلنج، تذکیر القرآن، راز حیات، پیغمبرِانقلابؐ، تعبیر کی غلطی، اسلام دور جدید کا خالق وغیرہ آج بھی محبوب ترین کتب کی فہرست میں شامل ہیں۔ آپ کی تحریریں بے حد دلکش، جامع، معلوماتی اور دور حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق ہوتی ہیں، دور حاضر میں شاید ہی کوئی مصنف آپ کے دلکش اسلوب کی برابری کرسکے۔ مشکل سے مشکل بات کو آسان و عام فہم انداز میں بیان کرنے میں آپ کا کوئی ثانی نہیں۔ دعوت کے میدان میں آپ نے منفرد کام انجام دیا اور اپنی دعوتی نوعیت کی کتابوں سے جدید اسلوب میں اسلام کو بطور دین فطرت پیش کیا۔

خان صاحب کی کتابوں میں’مذہب اور جدید چیلنج’ (انگریزی ترجمہ GOD ARISES، عربی الاسلام یتحدی) ایک شاہکار (MASTERPIECE ) کی حیثیت رکھتی ہے جس کے بارے میں مسلم دنیا کے ایک مشہور ترین عربی اخبار ‘الاہرام’ نے اپنے تبصرے میں لکھا تھا:

“اگر تاریخ (اسلام) کو چھانا جائے اور اللہ کی طرف بلانے والی عمدہ کتابوں کو چھلنی سے چھان کر نکالا جائے تو یہ کتاب بلا شبہ ان میں سے ایک ہوگی۔”

اس کتاب میں آپ نے علمی بنیادوں پر جدید سائنسی ذہنوں کو ایڈریس کرکے مذہب کا مقدمہ پیش کرکے اس کی حقیقت و افادیت کو واضح کرنے کی زبردست کوشش کی ہے۔ کتاب کا اسلوب سائنٹفک اور تجزیاتی نوعیت کا ہونے کی وجہ سے اسے بے حد مقبولیت حاصل ہوئی اور اس نے علمی حلقوں میں گہرے اثرات مرتب کئے۔ پوری زندگی میں خان صاحب نے زیادہ تر فوکس دعوت و تذکیر پر کیا اور اسی کو بنیاد بنا کر آپ نے نفسیاتی، دعوتی و فکری نوعیت کی تفسیر ‘تذکیر القرآن’ کے نام سے تحریر کی۔ شدت پسندی اور سیاسی اسلام کے خلاف آپ نے زبردست قلمی کام کیا اور ‘تعبیر کی غلطی’ اور ‘دین کی سیاسی تعبیر’ کے عنوان سے اس موضوع پر دو اہم کتابیں تصنیف کیں۔ اسلام میں تصوف کی روایت کے وہ زبردست ناقد تھے اور اپنی جملہ کتب میں انہوں نے تصوف کی اصطلاحات کو استعمال کرنے سے گریز کیا مگر ان کی کتب جیسے ‘کتاب معرفت ‘ وغیرہ میں کثرت سے صوفیانہ طرز فکر سے استفادہ کے اشارے ملتے ہیں اور کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ انہوں نےصوفیانہ افکار کو روحانیت (Spirituality) کے نام پر بیچنے کی کوشش کی ہے۔ اسلام کے پیغام امن و سکون کو فروغ دینے کے لئے آپ نے Centre for Peace and Spirituality International کے نام سے ایک ادارہ بھی قائم کیا۔ آپ کے زیر اثر اسلامی دعوتی کتب کی اشاعت کے لئے Goodword Books کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے ذریعے قرآن مجید کے کئی زبانوں میں ترجمے شائع ہوئے اور عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر شائع ہوا۔ 1976ء سے آپ کا ماہنامہ الرسالہ شائع ہوتا رہا ہے جو آپ کے افکار و خیالات کا نمائندہ ہے۔

آپ کی کتابوں سے ناجانے کتنوں کی زندگیوں میں انقلاب آیا اور کتنے تاریک دماغ نور بصیرت سے روشناس ہوئے۔ ‘راز حیات’ اور ‘رہنمائے زندگی’ جیسی کتب کے ذریعے آپ نے مسلم زہن کو خیالی دنیا اور اپنے ماضی پر فخر کرنے کی نفسیات سے نکل کر حقیقت پسندانہ عزائم کی طرف بلانے کی کاوشیں کیں۔ آپ ذہنی طور پر ایک مفلوج اور جامد قوم کے صحت مند اور متحرک دماغ والے انسان تھے۔ ایک بہترین اسلامی Motivational Writer کی طرح آپ مسلم زہن کو پستی و مایوسی سے نکال کر راہ عمل پر گامزن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بے پناہ خوبیوں کے ساتھ ہی مولانا کے کچھ ایسے افکار و نظریات بھی ہیں جو نہ صرف ناقابل قبول ہیں بلکہ دینی و ملی اعتبار سے قابل اعتراض بھی اور ان پر جید علماء کرام نے آپ کا شدید رد بھی کیا ہے اور بجا کیا ہے۔ چاہے آمد مسیحؑ و مہدیؑ اور دجال پر آپ کے نظریات ہوں یا جمہور سے ہٹ کر ‘اسوہ حسنہ’ کی تشریح، مسلم روایتی فکر پر آپ کی شدید تنقید ہو یا اجتماعی ملی مسائل پر آپ کے تفردات۔۔۔ آپ کے تطرفات اور انحرافات کا سلسلہ خاصا لمبا ہے اور ان معاملات پر آپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور روایتی علمی طبقات میں آپ کو زیادہ مقبولیت حاصل نہ ہوسکی۔

ان تفردات و انحرافات سے صرف نظر۔ ۔ ۔ مولانا بلاشبہ غیر معمولی اوصاف سے متصف ایک عبقری (genius) تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ سے اختلاف تو کیا جاسکتا ہے مگر آپ سے دامن چھڑانا بھی مشکل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وحید الدین خان: وحید الجمال نفسے وحید — عزیز ابن الحسن

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply