فحش مواد اور عریاں لباس : مغرب میں بھی ریپ کا سبب؟ —— وحید مراد

0

کچھ دنوں سے ‘فحاشی اور جنسی جرائم’ سے متعلق وزیر اعظم عمران خان کی گفتگو زیر بحث ہے۔ کچھ لوگوں کو یہ گفتگو اتنی بری لگی کہ انہوں نے اس بنیاد پر وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کر ڈالا۔ عالمی میڈیا نے بھی فحاشی کے خلاف اس گفتگو کو وکٹم بلیمنگ سے جوڑتے ہوئے عمران خان پر تنقید کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انہیں غصہ اس بات پر ہے کہ جس چیز کو دنیا بھر میں فروغ دینے پر وہ اربوں ڈالر سالانہ خرچ کرتے ہیں اسکے خلاف ایک مقروض ملک کا لیڈر اتنا سخت بیان کیسے دے سکتا ہے؟

عمران خان نے اس طرح کی گفتگو پہلی بار نہیں کی وہ اس سے ملتے جلتے بیانات پہلے بھی دے چکے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ جنسی جرائم اور زنا بالجبر و رضا سے متعلق جتنے بھی سخت قوانین بنا لیں لیکن ان پر اس وقت تک قابو نہیں پایا جاسکتا جب تک فحاشی کو عدالتی و قانونی نظام کے علاوہ افراد معاشرہ کی مزاحمت کے ذریعے کنٹرول نہ کیا جائے۔ انہوں نے نہ وکٹم بلیمنگ کی اور نہ یہ کہا کہ زنا بالجبر کا شکار ہونے والی متاثرہ خواتین یا بچیوں کا محض لباس ان واقعات کا سبب بنتا ہے۔ انہوں نے بحثیت مجموعی معاشرے میں فحش مواد تک بڑھتی ہوئی رسائی اور اسکے نتیجے میں ہونے والی ناقابل قبول جنسی سرگرمیوں اور اخلاقی گراوٹ کو اس کا ذمہ دار قرار دیا۔ اس سے قبل ستمبر 2020 میں انہوں نے کہا تھا کہ ‘دنیا میں جہاں کہیں بھی فحاشی کو فروغ دیا جاتا ہے اس سے جنسی جرائم بڑھتے ہیں، طلاقوں کی شرح میں اضافہ اور خاندانی نظام تباہ ہوتا ہے۔ وہ اس سلسلے میں برطانیہ، ہندوستان اور کئی دیگر ممالک کی مثالیں بھی پیش کر چکے ہیں۔

جناب وزیر اعظم نے جو کچھ کہا وہ کوئی نئی یا انوکھی بات نہیں۔ پاکستان کے تمام ذمہ دار اور پڑھے لکھے شہری بشمول عمران خان کے سیاسی مخالفین، سب اس بات سے بخوبی واقف ہیں اور بہت بڑی اکثریت نے اس بیان کی حمایت کی۔ علماء نے بھی اس بیان کی پرزور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستان میں فحاشی عروج پر ہے اور اس میں غیر مناسب لباس، فیشن، فلموں، ویب سائٹس اور میڈیا کا بہت عمل دخل ہے۔ فحاشی سے متاثر ہونے والے اذہان کا بُرائی کی طرف راغب ہونا ایک حقیقت ہے۔ زنا بالجبر اور زنا بالرضا کے بڑھتے ہوئے جرائم کے کئی عوامل ہوسکتے ہیں۔ لیکن اس سے بھی انکار ممکن نہیں کہ عریانی دیکھ کر کچھ لوگوں میں شدید شہوانی جذبات پیدا ہوتے ہیں اور وہ کمسن بچوں اور عورتوں کو زیادتی کا نشان بناتے ہیں۔

عمران خان کے اس بیان کے بعد کچھ لوگوں نے اس سلسلے میں نئی قانون سازی پر بھی زور دیا۔ اس صورتحال میں اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہےکہ آج کے دور کی فحاشی کی وہ کونسی نئی شکلیں اور ذرائع ہیں جو پہلے موجود نہیں تھے اور ان پر قابو پانے کیلئے نئی قانون سازی کی ضرورت پیش آرہی ہے؟ یہ فحاشی اور اسکے نتیجے میں بڑھنے والے جنسی جرائم صرف پاکستان میں ہیں یا پوری دنیا اس مسئلے سے دوچار ہے؟ دیگر ممالک کے اسکالرز اس بارے میں کیا کہتے ہیں اور انکے قوانین میں اس مشکل سے نبٹنے کا کیا طریقہ کار موجود ہے؟

فحاشی کیا ہے؟

فحاشی (Obscenity)سے مراد ہر وہ بات، حرکت، سرگرمی، رویہ یا اظہار ہے جو کسی خاص دور کے معاشرے کے مروجہ اخلاقی اصولوں کو مجروح کرتا ہو(Merrim Webster Dictionary)۔ Obscenity لاطینی زبان کا لفظ ہے جس میں بیمار ذہنیت، بیہودگی، غیر اخلاقی و ناگوار گفتگو اور غیر مہذب رویوں کا مفہوم پایا جاتا ہے (Oxford Dictionary)۔ قانونی اصطلاح میں فحاشی سے مراد عوامی شائستگی کے جذبات کیلئے ناگوار اورناقابل قبول جنسی سرگرمیوں کی عکاسی ہے (Encyclopedia of Britannica)۔

مذکورہ تعریفات کی روشنی میں فحاشی سے مراد ہر وہ عمل ہے جو ناجائز جنسی لذت کے حصول، پیسہ کمانے یا لوگوں کو متاثر کرنے کیلئے کیا اور کروایا جائے یا اسکی تشہیر کی جائے۔ اس میں ہر وہ تحریر، تصویر، لباس، بات چیت، اشارہ، عریانی یا کوئی اور فعل و طریقہ شامل ہے جو جنسی اعضاء کو اس نیت سے دکھاتا ہو کہ اس سے جنسی اشتہاء بھڑکتی یا تسکین پاتی ہو۔ طبی، قانونی یا علمی مقصد کیلئے لکھا جانے والا لٹریچر یا جنسی اعضاء دیکھنے و دکھانے کا عمل فحاشی میں شامل نہیں۔ شریعت میں ہر قسم کی بیہودگی، فحش گوئی اور مرد و زن کا اضطراری حالت کے علاوہ ستر کا آشکارا کرنا فحاشی کے زمرے میں آتا ہے۔ زنا کو فحاشی کی انتہائی شکل قرار دیاگیا ہے۔ سورۃ بنی اسرائیل کی آیت 32 میں ہے کہ ‘زنا کے قریب بھی نہ جائو کیونکہ وہ فحاشی اور برائی کا راستہ ہے۔

عوامی جگہوں پر فحاشی کے فروغ سے خواتین کے عزت و احترام میں کمی واقع ہوتی ہے۔ جو خواتین ایسی ناموزوں سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہیں انکا مشاہدہ کرنے والے لوگوں میں انکے حوالے سےتقدس ختم ہونے لگتا ہے۔ ایسے لوگ نہ صرف خواتین کو جنسی کھلونا تصور کرنے لگتے ہیں بلکہ انکے حوالے سے ہونے والی ناانصافی، جبر، استحصال اور ظلم پر بھی کسی قسم کی مزاحمت اورا عتراض نہیں کرتے۔ میڈیا میں اشتہارات کی غرض سے دکھانے جانے والے جنسی اعمال (hyper Sexualization) نسوانیت کے ساتھ زیادتی و تحقیر اور اسکے ادب و احترام کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔ اس طرح کے خیالات کی تصویر کشی خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ یہ خیالات بہت جلدی عام ہو کر ہر شخص تک پہنچ جاتے ہیں اور معاشرے میں پائی جانے والی مزاحمت اور اقدار کو تباہ و برباد کردیتے ہیں۔ جنسی زیادتی کے افعال ہر زمانے اور ہر معاشرے میں ہوتے تھے لیکن اب عوامی جگہوں پر یہ زیادتیاں سر عام ہورہی ہیں کیونکہ جنسی زیادتی جرم کے بجائے ایک نظریہ بن چکا ہے۔

میڈیا پر فحاشی کی تشہیر اور اسکے اثرات:

اس وقت فحاشی اور عریانی کی تشہیر میں فلمیں، ڈرامے، اشتہارات، فیشن شوز، میوزیکل پروگرامز، ویڈیوز، فحش میگزینز، الیکٹرانک میڈیا، ویب سائٹس اور سوشل میڈیا اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور فحش مواد کی ترسیل سے لاکھوں ڈالر کما رہے ہیں۔ یہ ادارے اس کام میں عام طور پر نوجوان کو استعمال کرتے ہیں جو بغیر کسی معاوضے کے بھی محض تفریح کی غرض سے مختلف موبائیل اپلیکیشنز کے ذریعے فحش لطیفے، تصاویر اور ویڈیوز ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں اور ان اداروں کو مالی فوائد پہچانے کا سبب بنتے ہیں۔ فحاشی کی دنیا میں صرف رضامندی، انتخاب اور جنسی تسکین کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے اس میں رشتے اور اخلاقی اصول کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ بالکل اجنبی اور ناآشنا لوگوں سے بھی جنسی تعلق قائم کیا جاتا ہے۔

جس طرح اچھی تعلیم و تربیت، باتیں، نصیحتیں، تسلی اورکتابیں ہمارے اندر جوش، جذبہ اور تحریک پیدا کرتے ہیں اسی طرح فحاشی بھی ہمارے ذہن، نفس اور خیالات پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ جو لوگ تشہیری پیشے اور صنعت سےوابستہ ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کامیاب مارکٹنگ کیا ہوتی ہے؟ فحش مواد کو رمزیہ علامات (buzzword) کے طورپر استعمال کرتے ہوئے گاہکوں کو لبھا کر زیادہ سے زیادہ مصنوعات کیسے فروخت کی جاتی ہیں؟ اس کاروبار سے منسلک اداروں اور کمپنیوں کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ فحاشی کو اپنائیں تاکہ اسکے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ منافع حاصل ہو۔ متناسب اقدار اور اخلاقیات کے بغیر کسی اشتہاری مہم میں فحش مواد کا استعمال کرتے ہوئے صارفین کو راغب کرنا ان پر حملے کے مترادف ہے۔ جس طرح کچھ دنوں تک نشے اور منشیات کے متواتر استعمال سے یہ عادت پختہ ہوجاتی ہے اسی طرح انسان فحش مواد کا بھی فوراً عادی اور غلام بن جاتا ہے۔ اس شہوانی اور نفسیاتی اسیری کے دوران لوگ بغیر ارادے، خواہش اور منصوبے کے غیر ضروری اشیاء خریدنے کا ارتکاب کر لیتے ہیں اور پھر ہوش آنے پر افسوس کرتے ہیں۔

جب فحاشی کسی انسان کی زندگی کا حصہ بنتی ہے تو وہ اِس کے جال میں مستقل طورپر پھنس جاتا ہے۔ کچھ عرصے بعد جب تصاویر اور ویڈیوز اسے پہلے جیسی لذت اور تسکین مہیا نہیں کرپاتیں تو وہ ایک قدم آگے بڑھ کراپنی بے جینی کا علاج زندہ انسانوں کے ساتھ جنسی تعلق میں ڈھونڈتا ہے۔ اس صورتحال میں وہ شکار کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے اور جہاں کوئی اکیلا بچہ، بچی یا غیر محفوظ خاتون نظر آتی ہے اسے جنسی آلہ کار کے طورپر استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس وقت دنیا میں کروڑوں افراد مختلف درجات میں فحاشی کا شکار ہیں۔ فحاشی کو فروغ دینے والی انڈسٹری اربوں ڈالر اس لئے خرچ کرتی ہے کہ دنیا بھر کے نوجوانوں کو اس چنگل میں پھنسایا جائے۔ اس مرض کا علاج پوشیدگی پر قابوپانے اور شائستگی، پاکیزگی اور پاکدامنی کواختیار کرنے کے سوا کچھ نہیں۔

فحاشی اور اسکے عوامل پر ہونے والی تحقیقات:

بہت سی تحقیقات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ ظاہری شکل، عریاں لباس اور غیر مہذب رویے، جنسی استحصال میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ جنسی استحصال اپنی انتہائی شکل میں خواتین کو جنسی آلہ کارکے طورپر استعمال کرتے ہوئے انکے ساتھ غیر انسانی سلوک اور جنسی تشدد کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ذیل میں پیش کی جانے والی تحقیقات میں جسمانی تعلق و احساس (body perception) اور جنسی معروضیت (sexual objectification) کا مطالعہ کرتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ خواتین کے لباس کا تناظر جنسی حملوں اور زیادتیوں میں کیا کردار ادا کرتا ہے۔

انسانی سماج میں لباس موسمی اثرات سے بچائو کے علاوہ سماجی تشخص، حیثیت اور شناخت کی علامت کے طورپر بھی استعمال ہوتا ہے۔ ڈاکٹرز، انجنئیرز، پروفیسرز، ججز، فوجی افسران، فنکار، اداکار اور مذہبی لیڈران اپنے مخصوص لباس کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ لباس کے ذریعےہر قوم کے افراد کے خیالات، عقائد اور اقدار کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کون اپنی سماجی اقدار کی کس قدر پاسداری یا ان سے انحراف کر تا ہے۔ لباس ایک ایسی چیز ہے جس سے دوسرے لوگ خوش ہوں تو داد تحسین دیتے ہیں۔ ناخوشی کی صورت میں تنقید و اعتراض اور جنسی طورپر متاثر ہوں تو آپ کو آلہ کار کے طورپر استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پروفیسر سوفی ووڈ ورڈ (Dr. Sophie Woodward) کے مطابق مختلف ڈریسز سے بھری ہوئی الماری آپ کی شخصیت کے متنوع پہلوئوں کے ساتھ اعتقادات کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔ انسان کا چہرہ، حلیہ، گیٹ اپ اور باڈی لینگویج اسکی عمر، صنف، ارادے، خواہشات، ذہنی، جذباتی و نفسیاتی کیفیات اور تاثرات کی عکاسی کرتی ہے۔

اینتھروپولوجی کی پروفیسر ڈاکٹر سیلی اسٹریٹ (Dr. Sally Street) کا کہنا ہے کہ لباس کی ایجاد صرف موسمی تغیرات سے بچنے کیلئے نہیں ہوئی بلکہ جب انسان نے انفرادی زندگی سے معاشرتی زندگی میں قدم رکھا تو اپنےجنسی اعضاء کو دوسروں کے سامنے ظاہر نہ کرنےکی غرض سے اسے اختیار کیا۔ خاص طورپر بالغ ہونے والی اور حاملہ خواتین نے اپنے جسم کی بدلتی ہوئی ساخت اور کیفیات کو پوشیدہ رکھنے کیلئے لباس پہننا شروع کیا۔

یونیورسٹی آف نارتھ کیرولینا میں سائیکالوجی اور نیورو سائنس کی پروفیسر فریڈریکسن (Barbara L. Fredrickson) کی ایک تحقیق کے مطابق خواتین کے جسم کو جس طرح جنسی آلہ کار کے طور استعمال کرنے کی غرض سے دیکھا جاتا ہے اس طرح مردوں کے جسم کو نہیں دیکھا جاتا۔ عورت کے جسم اور عریاں جنسی اعضاء کو قابل اعتراض نگاہوں سے گھورنے کا عمل انفرادی مڈبھیڑ سے زیادہ میڈیا پرپیش کئے جانے کے دوران ہوتا ہےاور معمول کے معاشرتی اصولوں سے انحراف کرتا ہوا جنسی اشتعال انگیزلباس (Provocative dress) اس عمل کی بنیادی وجہ ہے۔

سینڈرابارٹکی (Sandra Lee Bartky) یونیورسٹی آف الینوائے، شکاگو میں فلسفے اور جینڈر اسٹڈیز کی پروفیسر تھیں۔ انہوں نے ایک تحقیق میں یہ نتائج اخذ کئے کہ جب کوئی خاتون نے پبلک کے سامنے انتہائی مختصر لباس یاسوئمنگ سوٹ وغیرہ پہن کر نکلتی ہے تو اسکو محض ایک ایسے جسم کے طورپر دیکھا جاتا ہے جو دوسروں کو شہوانی تسکین فراہم کرنے کیلئے پیش کیا جارہا ہو۔ ایسی خواتین کو مکمل درجے کا انسان سمجھنے کے بجائے صرف جنسی آلہ سمجھا جاتا ہے اور انکے ساتھ جنسی زیادتی کے امکانات ان خواتین کی نسبت بہت زیادہ ہوتے ہیں جو مکمل لباس پہنتی ہیں۔

انسانی شخصیت اور فطرت کی پہچان معاشرتی تاثر(Social perception) سے ہوتی ہے۔ معاشرتی تاثر اگر معقول لباس اور شناخت کےانسانی دائرے کے اندر نہ ہو تو لوگ ایسی خاتون کی ظاہری جنسی شبیہ کو جنسی کھلونا (Sexual object) اورکم درجے کا انسان(dehumanize Sexualized women) سمجھنے لگتے ہیں۔ اصلی شخصیت کے بجائے انکی ظاہری شکل اورعریاں اعضاء توجہ اور دھیان کا مرکز بن جاتے ہیں۔ اس لئے عورتوں کو مردوں کی نسبت زیادہ خطرات لاحق ہوتے ہیں اور انہیں اس معاملے میں زیادہ احتیاط برتنی چاہیے۔

ایک محقق ڈیان آرچر(Diane Archer) کا کہنا ہے کہ جب انتہائی مختصر قسم کا لباس پہنے ہوئے کوئی خاتون ٹی وی، فلم، میگزین اور اشتہارات وغیرہ میں پیش ہوتی ہے تو تمام کیمرہ فریمز کا فوکس اسکے چہرے اور شخصیت کے بجائے اسکے عریاں جنسی اعضاء پر ہوتا ہے۔ اسکا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دیکھنے والے کو مسحور کرتے ہوئے اسکے ذہن اور نفسیات میں مصنوعات کی خریداری کیلئے نرم گوشہ پیدا کیا جائے۔ سمانتھا گڈین (Samantha M. Goodin) نے بھی اپنی تحقیق میں اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ میں نوعمر لڑکیوں کے مختصر اورپرکشش لباس جنسی زیادتیوں میں اضافے کی وجہ بنتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی 2015 کی ایک رپورٹ میں بھی دنیا بھر میں جنسی جرائم میں اضافے کی بنیادی وجہ میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی جنسی معروضیت (sexual objectification) اور جنسی اعضاء پر نظریں جمانے کے عمل (objectifying gaze) کو قرار دیا گیا۔

ہاورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر مائیکل ملبرن (Dr. Michael Milburn) نے اس بات کے شواہد پیش کئے کہ وہ لوگ جو جنسی ہیجان پیدا کرنے والی ایسی فلمیں دیکھتے ہیں جن میں عورت کو جنسی آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، انکے ذہن میں وکٹم کے دکھ اور تکلیف کا احساس بالکل ختم ہوجاتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ عریاں لباس پہننے والی خاتون جب وکٹم بنتی ہے تو وہ اس بات کی مستحق ہوتی ہےکہ اسکے ساتھ جنسی زیادتی ہو۔

برطانوی محقق شیلا جیفریز (Sheila Jeffreys) نے اس بات کی نشاندہی کی کہ خواتین کے پرکشش لباس تیار کرنے والی کمپنیاں مردوں کی خواہشات کو سامنے رکھتی ہیں نہ کہ عورتوں کی۔ عورت کا پروفیشنل لباس تیار کرتے وقت بھی انکے جنسی اعضاء کو نمایاں کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس میں ہائی ہیل جوتے شامل کرکے اسے اتنا اشتعال انگیز بنایا جاتا ہےکہ مردوں کی نظریں انکے جنسی اعضاء پرٹکی رہیں۔ ایسا لباس پہننے والی خواتین کو زیادہ چھیڑ چھاڑکا نشانہ بھی بنایا جاتاہے۔ ٹریشا ڈنکل (Trisha M, Dunkel) نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ میں مغربی طرز کا لباس نہ پہنے والی مسلم خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا عمل ان خواتین کی نسبت بہت کم ہوتا ہے جو مغربی طرز کا لباس پہنتی ہیں۔

میلیسا فارلی(Dr. Melissa Farley) امریکن ماہر نفسیات اور ایکٹوسٹ ہیں۔ وہ پورنوگرافی اور جسم فروشی کے خلاف تحقیقاتی مقالے لکھنے اور سخت اقدامات اٹھانے کی حمایت کرنے کی وجہ سے مشہور ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ امریکہ کی ریاست نیواڈا (Nevada) میں ریپ کی شرح بہت زیادہ ہے۔ یہ شرح نیویارک، کیلیفورنیا اور نیو جرسی سے بھی زیادہ ہے اور اسکا تعلق وہاں فحاشی اور جسم فروشی کی قانونی اجازت سے ہے۔ قانونی جسم فروشی ایک ایسا ماحول اور فضا پیدا کرتی ہے جس میں خواتین کو صرف جنسی آلہ تصور کیا جاتا ہے اورانکی عزت و احترام ختم ہوجاتا ہے۔ اسکے بعد یہ عمل خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کی مختلف منزلیں طے کرتا ہے۔

دیگر ممالک میں فحاشی کے خلاف قوانین:

ساٹھ اور ستر کے عشرے میں امریکہ کی نسوانی حقوق کی تحریک سے تعلق رکھنے والی خواتین کی اکثریت فحاشی، جنسیت اور پورنوگرافی کے سخت خلافت تھی۔ انکا خیال تھا کہ اس عمل سےخواتین کے خلاف استحصال اورجنسی تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن 1980 کے عشرے میں نوجوان قیادت نےاس خیال کو مسترد کر دیا اور جنسیت کو عورت کی آزادی اور خودمختاری کے حق میں استعمال کرنا شروع کر دیا۔ 1983 میں پیج میلش(Page Mellish)، اندریا ڈوورکن (Andrea Dworkin) اور کیتھرائن میک کینن (Catharine MacKinnon) و دیگر رہنمائوں نے پورن انڈسٹری پر پابندیاں لگوانے کی غرض سے اسکے خلاف مہم چلا ئی اور اینٹی پورنو گرافی سول رائٹس آرڈیننس کا مسودہ بھی تیار کیا۔ یہ ڈوورکن میکنن آرڈیننس کہلاتا ہے لیکن اسکی منظوری کے بعد امریکہ کی سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر اس پر عمل درآمد روک دیا کہ یہ قانون انکے آئین کی ترمیم’آزادی اظہار رائے’ سے متصادم ہے۔

امریکہ کے بڑے بڑے سرمایہ داروں، وائین اینڈ بیوریجز، فیشن و گارمنٹس، سیکس انڈسٹری، اشتہاری انڈسٹری اور ڈرگ انڈسٹری وغیرہ نے سپریم کورٹ کی حمایت حاصل ہوجانے کے بعد پورنو گرافی کو خوب فروغ دیا اور پیسے بنائے۔ امریکی عدالت نے عام پورنوگرافی کے خلاف قوانین پر عمل درآمد تو روک دیا لیکن چائلڈ پورنوگرافی انکے ہاں اب بھی خلاف قانون ہے اور اس مواد کو اپنے پاس رکھنا، بنانا یا اسکی ترسیل کرنا جرم ہے کیونکہ اس سے چائلڈ ابیوز کے مواقع بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ یہی خدشات عام پورنوگرافی کے خلاف بھی پائے جاتے تھے لیکن امریکی عدالتوں نے’آزادی رائے’ کے عقیدے اور سرمایہ دارانہ ہتھکنڈوں کے سامنے ان کو اہمیت نہیں دی۔

برطانیہ اور کنیڈا میں فحش مواد کی تیاری، ترسیل اور اشاعت وغیرہ پر پابندی کیلئے قوانین موجود ہیں لیکن امریکی تقلید میں ان پر پوری طرح عمل درآمد نہیں ہوتا۔ برازیل میں عوامی جگہ پر کوئی فحش عمل کرنے کی سزا 3 ماہ سے ایک سال تک ہے۔ فحش مواد کی ترسیل، اشاعت، تقسیم، تیاری وغیرہ بھی جرم ہے اوراسکی سزا 6 ماہ سے ایک سال تک بمع جرمانہ ہے۔

1999 میں سویڈن نے جنسی خدمت کے عوض ادائیگی کو غیر قانونی قرار دیا۔ بعد ازاں 2009 میں اسی طرح کے قوانین ناروے اور آئس لینڈ میں بھی یہ کہتے ہوئے منطور کئے گئے کہ ہمارے ملک کی خواتین عام مصنوعات کی طرح کوئی بکائو مال نہیں کہ ہم پیسے کی خاطر انہیں جسم فروشی کی اجازت دیں۔ 2014 میں یورپی یونین نے بھی اس قانون کی توثیق کی اور خیال ظاہر کیا کہ اس سے انسانی اسمگلنگ کی روک تھام میں معاونت ہوگی۔ 2011 میں ڈنمارک کی حکومت نے جنسی خدمات کی خرید پر پابندی لگائی اور بعد ازاں ہنگری نے بھی اس عمل کی تقلید کرتے ہوئے فحاشی کے خلاف قوانین بنائے۔

چین میں فحش مواد پر سخت پابندی ہے اور چینی وزارت ثقافت تمام کمپنیوں اور ویپ سائٹس کو فحش مواد روکنے کیلئے سینسر کرتی ہے۔ سعودی عرب کی موجودہ حکومت نے اگرچہ بہت سی چیزوں پر پابندیاں نرم کی ہیں لیکن اسکے باوجود وہاں میڈیا اور عوامی مقامات پر فحاشی کی اجازت نہیں۔ 2006 میں وہاں انٹر مواد پر سخت فلٹرنگ کا سسٹم لگایا گیا تھا جو بدستور قائم ہے اور تمام غیر اخلاقی اور فحش ویب سائٹس پر پابندی ہے۔ 2011 میں سعودی حکومت نے انٹرنیٹ کے نئے قواعد و ضوابط متعارف کروائے جن کے تحت تمام ویب سائٹس اور آن لائن اخبارات کو وزارت اطلاعات سے لائسنس لینا پڑتا ہے اور اس بات کی یقین دہانی کرانی پڑتی ہے کہ وہ فحش مواد کی نشرواشاعت نہیں کریں گے۔ اس قانون کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں ہیں جو دس سال قید اور کوڑوں کی صورت میں ہو سکتی ہیں۔ مصر میں بھی 500 سو سے زائد ویب سائٹس تک رسائی بند کر دی گئی۔ کئی ایسے بلاگرز کو گرفتار کیا گیا جو جعلی خبریں اور فحاشی کا مواد شائع کرتے تھے۔ قطر اور متحدہ عرب امارات میں بھی اس طرح کے قوانین موجود ہیں۔

2019 میں سعودی عرب نے عوامی شائستگی(Public Decency)کا قانون پاس کیا جس میں عوام اور سیاحوں کو اس بات سے آگاہ کیا گیا ہے وہ سعودی عرب کے عوامی شائستگی کے قوانین کا احترام کریں۔ اس سے قبل عوامی شائستگی کے قوانین غیر تحریری تھے لیکن سیاحوں کو ویزہ کے حصول سے قبل اب تحریری قانون کے ذریعے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اس قانون میں 19 جرائم سے متعلق قواعد شامل ہیں جن میں بغیر اجازت لوگوں کی تصاویر، ویڈیو بنانے سے لیکر غیر اخلاقی لباس، جنسی حرکات، اشارے وغیرہ کی ممانعت ہے۔ مردو زن کیلئے ایک ایسے مناسب لباس کی تجویز بھی اس میں شامل کی گئی ہے جو زیادہ چست، مختصر اورعریاں نہ ہو۔

مسئلے کا حل:

فحاشی کے فروغ اور اسکی وجہ سے پھیلنے والے والے جنسی جرائم پر قابو پانے کا پہلا قدم تو یہ ہے کہ اسلامی شریعت کےتمام احکامات پر عمل کرتے ہوئے پہلے سے موجود قوانین پر سختی سے عمل درآمدکروایا جائے، مجرموں کا فوری ٹرائل کرتے ہوئے انہیں قانون کے مطابق سزائیں دی جائیں۔ دوسری بات یہ کہ جہاں نئی قانون سازی کی ضرورت ہے وہاں چین، سعودی عرب اور دیگر ممالک کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے قانون سازی کی جائے اور باہر سے آنے والے سیاحوں اوردیگر افراد کو اس وقت تک ویزہ جاری نہ کیا جائے جب تک وہ یہاں کے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کو یقینی نہ بنائیں۔ الیکٹرانک میڈیا، پریس، میگزینز، ویب سائٹس، سوشل میڈیا، گارمنٹس و فیشن انڈسٹری، اشتہاری انڈسٹری وغیرہ کو قوانین کے ذریعے پابند کیا جائے کہ وہ فحاشی کا کاروبار بند کریں۔ فحاشی پھیلانے والی ویب سائٹس اور اپلی کیشنز پر پابندی لگائی جائے اور جدید الیکٹرانک آلات استعمال کرنے والوں کو ضابطہ اخلاق کا پابند کیا جائے۔

روایتی تہذیبی و مذہبی اداروں مثلاً مسجد، مدرسہ، خانقاہ، خاندان اورگھر کو نوجوان نسل کی اخلاقی تربیت کرنے کے سلسلے میں فعال کیا جائے اور بالغ شہریوں کی تربیت کی جائے کہ وہ پبلک مقامات پر فحاشی کے خلاف مزاحمت کریں۔ اس مزاحمت کے حوالے سے قانون میں باقاعدہ ایک ضابطہ اور طریقہ کار وضح کیا جائے۔

مغربی ممالک جہاں کی اکثریتی آبادی جنسی اخلاقیات، قواعد و ضوابط اورحدود و قیود کو ترک کر چکی ہےوہاں جو لوگ اس اخلاق باختگی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں انہوں نے بھی اپنی جدوجہد کا آغازشائستگی، پاکیزگی اور پاکدامنی سے کیا ہے۔ امریکہ کی ایک نوجوان خاتون اسکالر وینڈی شالٹ (Wendy Shalit) نے ایک کتاب لکھی جسکا عنوان ہے’A Return to Modesty: Discovering the Lost Virtue’۔ اس کتاب کی اشاعت کے بعد بے شمار لوگوں نے اس سے رابطہ کیا اور نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کیلئے تحریک چلانے پر زور دیا۔ چنانچہ وینڈی شالٹ اور اسکے کئی حامی، نوجوانوں کو فحاشی سے بچانے کیلئے قلمی جہاد میں مصروف ہیں۔ اپنی تحقیقات کے ذریعے وہ فحاشی کو کنٹرول کرنے کے جس حل تک پہنچے ہیں وہ ‘روایتی اخلاقی اصولوں کی طرف لوٹنے’ کا نام ہے۔

وینڈی شالٹ کے مطابق اس وقت پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر فحاشی کا جو سیلاب امڈ آیا ہے اسکا حل اسکے علاوہ کچھ نہیں کہ ہم خودپاکیزگی، پاکدامنی اور شائستگی کو اپنائیں اوراپنے اردگرد کے لوگوں کواسکی تعلیم و تربیت دیں۔ اس عمل کو وہ پاکیزگی کی طرف مراجعت(return to modesty) کے سفر سے تعبیر کرتی ہے۔ اس کے نزدیک شائستگی اور پاکدامنی (Modesty) ایسی صفت اور قدر ہے جو خواتین کی حفاظت عصمت کا سب سے بڑا ہتھیار ہے اوریہ ان کے وجود میں فطری طورپر پائی جاتی ہے۔ لیکن وہ مائیں جنہیں اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ اپنی ناقابل تردید نسوانیت کی حفاظت کیسے کریں وہ اپنی بیٹیوں کی اس صلاحیت کو بھی ضائع کر دیتی ہیں۔ عورت کی شائستگی اور پاکدامنی کو تباہ کرنا ایک قابل نفرت پروجیکٹ ہے۔

جب کسی معاشرے میں ان فطری خصوصیات کے ذریعے عورت کا وقار اور حرمت بحال ہو جاتی ہے تو اسے مصنوعی طریقوں سے ایمپاور کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ شائستگی اور پاکدامنی عورتوں کی وہ فطرت ہے جس کی وجہ سے مرد بھی شائستگی کا جواب شائستگی اور نرمی سے دیتے ہوئے شریف آدمی بننے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور عزت سے پیش آتے ہیں۔ وہ عورتوں کے جسم وجان کی حفاظت کے ساتھ ساتھ انکی عفت و عصمت کے بھی محافظ بن جاتے ہیں۔ مشرقی تہذیبوں میں ان روایتی اصول پر عمل درآمد کا سلسلہ نہ کبھی رکا اور نہ تعطل کا شکار ہوا لیکن کچھ عرصے سےیہ ضعف کا شکار ضرور ہورہا ہے۔ تھوڑی سی توجہ دے کر ان اصولوں پر عمل درآمد کو پہلے کی طرح مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نوجوانوں سے کچھ فکر انگیز باتیں --------- احمد جاوید
(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply