شناخت کا خودساختہ بحران اور دانشوروں کی کج فکری —- احمد الیاس

0

آپ نے اکثر یہ بات سنی ہوگی کہ پاکستانی شناخت کے بحران کا شکار ہیں اور خود کو عرب یا تُرک سمجھتے ہیں اور ان کے ہیروز کو ہیرو مانتے ہیں۔ میں نے کبھی کسی پاکستانی کو یہ کہتے نہیں سنا کہ ہم عرب یا تُرک ہیں۔ ہاں مگر پاکستانیوں کی اکثریت خود کو سب سے پہلے مسلمان سمجھتی ہے اور اسی شناخت کے اعتبار سے، صحیح یا غلط، ہیروز بناتی ہے۔

کچھ دانشور جسے شناخت کا بحران کہتے ہیں وہ شناخت کا بحران نہیں ہے۔ دراصل یہ “دانشور” وطنی یا لسانی شناخت کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ اکثر پاکستانی اس شناخت کو مقدم نہیں رکھتے بلکہ دینی شناخت کو برتر جانتے ہیں۔ اس بات پر چِڑ کر یہ لوگ کہہ دیتے ہیں کہ پاکستانی شناخت کے بحران کا شکار ہیں۔

پاکستانی اگر شناخت کے بحران کا شکار ہیں تو وہ خود کو ہندوستانی سمجھنے کے حوالے سے ہیں۔ “متحدہ ہندوستان” انگریزوں کی اختراء تھا وگرنہ پنجاب، پختونخواہ، سندھ، بنگال، مہاراشٹرا اور ہندوستان وغیرہ لسانی اور ثقافتی اور بڑی حد تک جغرافیائی طور پر علیحدہ علیحدہ وطن ہیں۔ موجودہ پاکستان کے خطے جنہیں اسلام اور دریائے سندھ باہم جوڑتا ہے، تہذیبی طور پر ہند، ایران اور توران کے درمیان ہونے کے سبب تینوں سے منسلک ہیں لیکن ہمیشہ سے اپنی جداگانہ شناخت بھی رکھتے ہیں۔

جہاں تک عربوں، ایرانیوں اور تُرکوں کے ہم پر تہذیبی و ذہنی اثرات کا تعلق ہے تو وہ مسلمہ ہیں اور صدیوں سے ہیں۔ ایران و توران کے اثرات تو اسلام سے بھی پہلے کے ہیں اور ہمارے تہذیبی ڈی این ای کے بنیادی اجزا میں سے ہیں۔ ہمارے ذخیرہ الفاظ سے لے کر ہمارے لباس شلوار قمیض تک، سب ایران اور توران سے آیا ہے۔ عربی و ترکی اثرات کو بھی اگر نکال دیا جائے تو ہمارے پاس کچھ نہیں بچتا۔ غزل سے قوالی تک، بریانی سے سموسے تک، رسم الخط سے ہماے خوبصورت ناموں تک، سب ترکوں اور عربوں سے آیا اور ہاں ضیاء دور میں نہیں، صدیوں پہلے آیا۔

شناخت کے بحران کا شکار عوام کم اور دانشور زیادہ ہیں۔ ان میں نوآبادیاتی اثرات اور نفسیاتی الجھنوں کے سبب عربوں، ترکوں اور ایرانیوں کے خلاف قومی تعصب بھرا ہے جس کے سبب وہ ان ثقافتوں کے اثرات کو نکال کر ہمارے تمدن کو کمزور، پسماندہ اور بدرنگ کرنا چاہتے ہیں۔

بلا شبہ یہ فتنوں کا دور ہے۔ ان فتنوں کا تعلق ہمارے بنیادی ترین تصورات اور سب سے بڑھ کر تصورِ ذات کی خرابی سے ہے۔ ہم اکثر  سنتے ہیں کہ صلاح الدین ایوبی تو عربوں کا ہیرو تھا، اندلس تو عربوں کا تہذیبی کارنامہ تھا، ابنِ سینا یا خوارزمی تو ایران و توران کے سر کا تاج ہیں، عربی یا فارسی سے ہمارا کیا تعلق؟ ہم عثمانیوں سے کیوں لگاؤ رکھتے ہیں؟

اسی طرح کچھ پشتون قوم پرست اقبال سے صرف اس لیے بغض رکھتے ہیں کہ وہ پنجابی تھا تو کئی پنجابی و ہندی قوم پرستوں کو غزنوی، غوری، ایبک، ابدالی سے نفرت کرنے کے لیے صرف یہ وجہ کافی لگتی ہے کہ “وہ افغان تھے” (حالانکہ وہ افغان نہیں تھے لیکن بالفرض ہوں بھی تو کیا؟)۔ سندھی قوم پرست اردو سے بیزار نظر آتا ہے تو مہاجروں میں جو متعصب ہیں ان کو شاہ عبدالطیف بھٹائی سے کوئی لگاؤ محسوس نہیں ہوتا۔

اسی طرح اس ذہنیت کے لوگوں کو یہ بھی اعتراض ہوتا ہے کہ دیگر خطوں کے مسلمانوں کے مسائل اور غم ہمارے مسائل اور غم کیسے ہوسکتے ہیں۔

اور پھر ان لوگوں کو وہ مسلمان عجیب اور جاہل لگتے ہیں جو مسلمان ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کی دیگر زبانوں اور ثقافتوں اور خطوں اور ان کے ہیروز سے لگاؤ رکھتے ہیں یا فلسطین یا بھارتی مسلمانوں وغیرہ کے غم میں گھلتے ہیں۔

دراصل ان لوگوں کی نظر میں موجود ذات کا بنیادی حوالہ ہی عام مسلمانوں کی نظر میں موجود ان کی ذات کے بنیادی حوالے سے مختلف ہوگیا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں ہے کہ کون سی زبان ہماری ہے او کون سی نہیں اور کون سا تہذیبی کارنامہ ہمارا تھا اور کون سا نہیں اور کون ہمارا ہیرو ہے اور کون نہیں اور ہمارا مسئلہ کیا ہے اور کیا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ “ہم کون ہیں؟”۔ یعنی ہماری مختلف شناختوں (مذہبی، لسانی، ملکی، نسلی وغیرہ) میں ہماری سب سے اہم اور بنیادی شناخت کون سی ہے؟

مسلمان ہمیشہ اس ضمن میں واضح رہے ہیں اور اب بھی عام مسلمانوں کا طرزِ احساس ہے یہی ہے کہ وہ سب سے پہلے مسلمان ہیں۔ باقی سب شناختیں مثلاً ملک اور زبان اور نسل وغیرہ بھی انہیں عزیز ہوتی ہیں (اور ہونی بھی چاہییں) لیکن ان کی ذات کا بنیادی حوالہ ان کا مذہب ہی رہا ہے۔ لہذا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں میں بولی جانے والی سب زبانیں ان کی اپنی ہی ہیں۔۔۔ خواہ وہ ان زبانوں کو جانتے بھی نہ ہوں۔ اسی طرح تمام مسلم لسانیتوں، قومیتوں، نسلوں، خطوں کے کلچر، تاریخ، ہیروز، مسائل ان کے اپنے ہی ہیں کیونکہ بنیادی اجتماعیت مسلمانیت ہے اور باقی سب چیزیں مسلمانوں کا ورثہ یا ملکیت ہیں۔

لہذا عام روایتی پنجابی مسلمان کو پنجاب سے خاص لگاؤ کے باوجود ترکی کا ارتغرل یا محمد فاتح بھی پرایا نہیں لگتا، قوم پرستی سے آزاد پشتون خوشحال خان خٹک سے تو محبت کرتا ہی ہے، اقبال یا سعدی کو بھی غیر نہیں جانتا، ترکی کے مسلمان کو صرف عثمانی سلطنت نہیں بلکہ اندلس کا عرب کلچر بھی اپیل کرتا ہے اور عرب قرون وسطیٰ کے ایرانی حکماء کو بھی اپنا ہی سمجھ لیتے ہیں۔

اس کے برعکس جو لوگ کوئی اور بنیادی حوالہ اپناتے ہیں انہیں اس حوالے سے وابستہ دیگر ثانوی شناختیں یکساں و برابر لگنے لگتی ہیں۔ مثلاً ایک پنجابی قوم پرست کو مسلمان ہوتے ہوئے بھی سکھ مذہب، اسلام اور ہندو مت اور مسیحیت میں زیادہ فرق نہیں لگتا اور سب پنجاب کے ورثے کے حصے ہونے کے ناطے اسی طرح اپنے لگتے ہیں جس طرح عام مسلمان کو مسلمانوں کی سب زبانیں۔

پنجابی میری مادری زبان ہے اور میں پشتو، ترکی، سواحلی یا بھاشا انڈونیشیا نہیں جانتا لیکن بطور مسلمان یہ سب میری ہی زبانیں ہیں۔ ایک قوم پرستانہ ذہن کو یہ بات بالکل بے ہودہ لگے گی لیکن مجھے اس کی یہ بات اتنی ہی بے ہودہ لگتی ہے کہ میری زبان بولنے والوں یا میرے وطن میں رہنے والوں یا میری نسل کے لوگوں کے سب مذہب میرے لیے برابر ہیں اور میرے کلچر اور ورثے کا برابر حصہ ہیں۔

اس سارے اختلاف رائے کو عموماً شناخت کا بحران کہا جاتا ہے۔ میرے نزدیک یہ کچھ لوگوں کو لاحق شناخت کا بلکہ ذات کا بحران ہے جسے کھینچ تان کر سماجی بحران بنایا جاتا ہے۔

عموماً یہ لوگ اعتماد سے کہتے ہیں کہ قوم مذہب سے نہیں بن سکتی یا مذہب کلی طور پر نجی معاملہ ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور جب ان سے اس کی دلیل مانگی جائے تو گھوم پھر کر جواب ملتا ہے کہ مغرب میں ایسا ہوتا ہے۔ مغرب والے سب سے پہلے فرینچ، جرمن، برٹش وغیرہ ہوتے ہیں اور بعد میں کیتھولک، پرٹیسٹنٹ، ملحد وغیرہ۔ ظاہر ہے یہ کوئی عقلی دلیل نہیں بلکہ سیدھا سیدھا احساس کمتری اور محض نو آبادیاتی لیگیسی ہے کہ دولت مند گورا ایسا کرتا ہے تو صرف یہی درست طریقہ ہوسکتا ہے۔ ہمیں اس میں سوچنے یا انتخاب کرنے کی کیا حاجت۔

اور تو اور یہ بات دوسری جنگ عظیم کے بعد حقیقت بھی نہیں رہی کہ مغرب میں زبان یا وطن ہی اجتماعیت کی بنیاد ہے اور اہل مغرب کا بنیادی حوالہِ ذات قومیت ہے۔ عظیم جنگوں میں قوم پرستی کا اچھا خاصا مزا یورپ نے چکھ لیا تھا لہذا دوسری جنگ عظیم کے بعد مغربیت کو یا مغربی تہذیب کو اور سرمایہ دارانہ نظام اور سیکولرازم وغیرہ جیسے خیالات کو مغرب میں بنیادی حوالہِ ذات بنایا گیا اور اہل مغرب خود کو سب سے پہلے فرینچ یا جرمن نہیں بلکہ مغربی سمجھنے لگے اور اس ہی طرز احساس پر نیٹو اور یورپی یونین جیسے ادارے بنے۔

عالم اسلام بھی مغرب کی طرح ایک تہذیبی لڑی اور اسلام بھی سیکولرازم کی طرح ایک خیال ہی ہے۔ گویا اصول کے لحاظ سے تو مغرب ہمارے اصولِ اجتماعیت یعنی تہذیب کی اساس بننے والے عقائد و نظریات کو اجتماعیت کی بنیاد مان چکا ہے۔ اور ایسا اس نے کسی استخراجی دلیل سے نہیں بلکہ تجربے سے مانا ہے جو ظاہر ہے کسی بھی فکری دلیل سے مستند ہے۔ لیکن جب کہا جاتا ہے کہ مسلم ممالک کو بھی یورپی یونین یا نیٹو جیسے کسی بلاک کی طرف بڑھنا چاہئے (اور ظاہر ہے ایسا عالمِ عرب سمیت پورے عالم اسلام میں جمہوریت آنے کے بعد ہی ہوسکتا ہے) تو اس بات پر تنقید کی جاتی ہے۔

اس طبقے کے دانشوروں کے پاس یہ ہوائی “دلیل” بھی ہوتی ہے کہ دیگر مسلمان اسلام کو اپنی اجتماعیت کی بنیاد نہیں مانتے تو ہم کیسے مانیں؟ اوّل تو یہ ایک مفروضہ ہے جس کے ثابت کرنے کے لیے ان کے پاس کچھ نہیں ہے۔ جن حکومتوں کی خود غرضیوں کی یہ مثالیں دیتے ہیں وہ تو نمائندہ ہی قومی ریاست اور سامراجیت کے اس غلیظ نظام کی ہیں، سب کی سب آمریتیں ہیں اور اپنے ملکوں کے مسلمانوں کے خیالات اور نظریات کی نمائندگی ہرگز نہیں کر سکتیں۔ اور پھر یہ کہ جن مسلم ملکوں میں جمہوریت آئی وہاں عموماً ایسی ہی قوتیں کامیاب ہوئیں جن کا فکری رجحان اسلامی عصبیت کی طرف تھا۔ (اگرچہ ان سب کے نظریات میں کجی بھی ہے اور جدید عالمی نظام کے تقاضے انہیں بھی قومی ریاست بنے رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔)

اور بالفرض ایسا ہو بھی کہ سب مسلمان اسلامی عصبیت سے بیگانہ ہوجائیں تو کیا ہم پر بھی فرض ہوجاتا ہے کہ ہم ہلاکت کی راہ پر چل پڑیں؟ گویا آپ کا بہن بھائی آپ سے محبت نہ رکھے تو آپ پر اس سے ذہنی طور پر لاتعلق ہوجانا واجب ہے؟ اس سے آپ کی اخلاقی کمزوری کا تو اندازہ ہوگا ہی، اپنے ماں باپ سے آپ کے تعلق کی کمزوری کی نشاندہی بھی ہوگی جن کی نسبت سے آپ کا بہن بھائی سے تعلق تھا۔ ہم مسلمانوں کے روحانی باپ کون ہیں، اور ان سے تعلق دین میں کیا اہمیت رکھتا ہے اور ان سے تعلق کے ان سے نسبت رکھنے والوں کے حوالے سے کیا تقاضے ہیں۔۔۔ مجھے شاید سمجھانے کی ضرورت بھی نہیں۔

میں نہ چاہتے ہوئے بھی سیاست اور مذہب کی طرف نکل گیا۔ آپ ارمغان حجاز کی یہ دو بیتی دیکھیں۔ دوسرا شعر اس موضوع پر لکھی بڑی بڑی کتابوں سے زیادہ موثر انداز میں سب کچھ کہہ رہا ہے۔

گهی شعرِ عِراقی را بِخوانم
گهی جامی زنَد آتش به جانم
ندانم گرچه آهنگِ عرب را
شریکِ نغمه‌هایِ ساربانم

میں گاہے «فخرالدّین عِراقی» کی شاعری کو پڑھتا ہوں۔۔۔ [اور] گاہے «عبدالرحمٰن جامی» میری جان میں آتش لگا دیتا ہے۔۔۔ اگرچہ مَیں عرَب کے آہنگ و نوا کو نہیں جانتا۔۔۔ [لیکن] مَیں [عرب] ساربان کے نغموں کا شریک ہوں۔۔۔ (ترجمہ بشکریہ حسان خان)

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply