آپشنز کی کمی، نسلوں کا بگاڑ —– ہمایوں تارڑ

0

بچوں کو جگانے کا درست طریقہ کیا ہے؟

“آنکھیں بند کرو اور سو جاؤ، ورنہ خُون پینے والی بَلا آجائے گی۔ کالی مائی کو پتہ چل جائے گا آپ ابھی تک جاگ رہے ہو۔ جو بچے ماں کی بات نہیں مانتے، اُن کو فقیر بابا پکڑ کر لے جاتا ہے۔۔” وغیرہ۔ رات بستر پر سُلانے کی کوشش میں، یا کھانا کھلانے، پڑھانے، تمیز و تہذیب سکھانے کے نام پر بچوں کو اندھیرے، بِلی، کتے، ماؤس، ٹائیگر، بھوت، زومبیز وغیرہ سے ڈرایا جاتا ہے۔ یہ جانے بِنا کہ معصوم کا ذہن ایسے وقتوں میں تبدیلی Transition اور نشوونما growth کے مرحلوں میں سے گذر رہا ہوتا ہے۔

یہی دماغ انسان کا اصل سرمایہِِ حیات ہے جس کے بل بوتے پر اس نے آگے چل کر ساری لَرننگ کرنی اور اکیڈیمکس کا سفر طے کرنا ہے، کامیاب زندگی گذارنے کو اُسے رویوں اور تعلق داری کی داستان رقم کرنا ہے۔ اگر اس تِھنکنگ مشین میں پیچیدگیاں پیدا ہو گئیں تو مقامِ دل بھی متاثر ہوگا جو ایموشنز یعنی جذبات کی آماجگاہ ہے۔ نفسیاتی صحت بھی خراب، جذباتی صحت بھی متاثر۔ بچے میں طرح طرح کے جنون یا فوبیاز پیدا ہو جائیں گے۔

عجلت پسندی بھی ایک آپشن ہے مگر جان چھڑانے کی حِرص میں والدین اور بالخصوص مائیں اپنے بچوں کے تعمیر ی شب و روز برباد کر ڈالتی ہیں۔ آپ اکثر سنتے ہوں گے: “نہلا نادھلا نا، کپڑے دھونا، پہنانا، کھانا کھلا نا، گھر کی صفائی۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ میں کیا کرتی؟ تنگ کر رہا تھا۔ دو ہاتھ جڑ دئیے۔ کچھ دیر رُوں رُوں کی، پھر اچھا بھلا سو گیا۔”

دیکھا جائے تو ‘نہلانا دُھلانا، کھانا کھلانا۔۔۔’ کی صورت بچے کی مادّی / فزیکل ضروریات پوری کر دی گئیں جن کا تعلق بچے کے گوشت پوست والے بدن سے تھا مگر جونہی کوئی ذہنی، یا جذباتی ضرورت پیدا ہوئی، اُس emotional need کو کچل دیا گیا۔ حالانکہ اس ضرورت کے پورا کیے جانے کی صورت ہی اُس بچے نے ایک معقول، معتدل، نارمل انسان بننا ہے، بصورتِ دیگر متشدّد ذہنیت کا حامل ایک نفسیاتی مریض۔

کیا ہم پرفقط بچے کے ہارڈ ویئر کو maintain رکھنے کی ذمہ داری ہے، یا اس کے سافٹ ویئر کی بھی۔ سافٹ ویئر میں وائرس بھر گیا، وہ بگڑ گیا تو ہارڈ ویئر بھی ناکارہ ہو جائے گا۔

جذباتی اعتبار سے اَپ سیٹ لوگ فیس بُکوں پر بلاک ہوئے پڑے ہیں، دوستوں اور رشتہ داروں سےبگڑے تعلقات کے ساتھ ناخوشگوار زندگی بِتا رہے ہیں ـــ ناکام زندگی!

ایسی ماں بھی کیا کرے بیچاری ! ــــ جو واقعتاً نہیں جانتی کہ اُس مخصوص مسئلہ سےنمٹتے سمے جو کچھ وہ کر رہی ہے، اُس کے علاوہ آپشنز کیا ہیں۔ یہ ایک باقاعدہ علم ہے، تہذیب ہے۔ اِسے سیکھنا، خود اپنے اندر پیدا کرنا ہو گا۔

یہ سب آپشنز کی گیم ہے۔ یعنی ایک ماں، یا باپبچے سے متعلق کسی مسئلہ پر ردّ عمل دیتے ہوئے، کوئی نصیحت یا رہنمائی پیش کرتے ہوئے وہی کچھ کرے گا جو اس کے ذہن میں ہو گا۔ جو کچھ کیا، اگر اس سے بہتر کوئی آپشن ہوتا تو نتیجہ بھی مختلف ہوتا۔ یوں، آپ کی پہلی ضرورت آگاہی ہے، جاننا ہے، پھر اُسے عملاً نافذ کرنے کا تردّد۔ گوارا کرنا۔

بھائی کی جانب سے یہ کتاب ‘نئے اِمکاں، نئے نئے شب و روز’ پُرتشدّد رویوں سے نجات کا یا ایگریشن فرِی زندگی گذارنے کا گویا ایک کورس ہے۔ اس میں نسلوں کا سنوار ہے۔ نئے اضافوں کے ساتھ اس کا دوسرا ایڈیشن جون یا جولائی میں آجائے گا۔ آج کا کالم اسی کتاب میں سے لیے کچھ مواد پر مبنی ہے۔ موضوع کی طرف واپس آتے ہیں۔

یاد رہے، بچپن میں پیدا کئے خوف اور برتے گئے سخت رویے سنجیدہ ذہنی بیماریوں میں ڈھل سکتے ہیں۔ ایسی ایک بیماری وقتی ہو سکتی ہے، اور تا عمر جاری بھی رہ سکتی ہے۔

بچے کو سُلانے کا بہترین ذریعہ کہانی ہے۔ اور دن کے اوقات میں ایسے بچوں سے نمٹنے کو اُن کے لیے مصروفیات اور سرگرمیاں طے کرنا ہے۔ اور اس مقصد کے لیے بچوں سے مکالمہ کرنے کی روایت کو اپنے گھر میں استوار کرنا ہے۔ بچے کی جذباتی ضرورتوں سے آگاہ ہونا ہے۔ یہ باقاعدہ ایجوکیشن ہے جو آپ کو آزادی عطا کرتی ہے، مسائل کا حل پیش کرتی ہے، زندگی کو نسبتاً خوشگوار تر اور وقت کی گذران کو معنی خیز بناتی ہے۔ آئیں، یہاں ہم تربیت کے ایک پہلو پر بات کرتے ہیں: بچوں کو جگانے کا درست طریقہ کیا ہے؟

wake up song | morning song | kindergarten nursery rhymes for kids | cartoon videos for toddlers - YouTubeبچوں کو جگانا

بچوں کو جگانے کا یہ طریقہ غلط ہے:

1) اُن کے اوپر سے کمبل، رضائی، لحاف کھینچ لینا۔
2) اُن پر پانی چھڑکنا۔
3) درشت لب و لہجہ میں غرّاتے ہوئے بار بار کہنا “اُٹھو، اُٹھو”۔ 4) اُنہیں کوسنے دینا۔ طنز وتشنیع بھرے جملے یوں ادا کرنا جیسے پتھر مار رہے ہوں۔
4) دھمکیاں دینا۔۔۔” دو منٹ میں باہر نہ آئے تو یہ کر دوں گی، وہ کر دوں گی/گا۔”

یہ سب بدتمیزی کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔ ایسا کرنے میں نقصان کیا ہے؟بچے قطرہ قطرہ یہ کلچر جذب کر رہے ہیں۔

اِس صورتحال کے لیے اُنہیں بس یہ تربیت ملی کہ کسی خلافِ توقع اور خلافِ مزاج وقوعے پر “اِس” مزاج اور طرزِ عمل کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کو اسی طور جگائیں گے، اور یوں یہ “تہذیبی ورثہ” نسل در نسل منتقل ہو گا۔

درست طریقہ کیا ہے؟

اوّل، بچوں کو اِس طور ڈسپلن کرنے کی خواہش و عادت ترک کرتے ہوئے خود اپنے آپ پر نظم و ضبط لاگو کریں۔ سادہ سی بات ہے، جو خوبیاں بچوں میں دیکھنا چاہتے ہیں، اُنہیں خود اپنے اندر پیدا کرنا ہو گا۔ دیکھیں کہ فالٹ کہاں ہے؟ کہیں خود آپ سے کوئی غلطی تو نہیں ہو رہی؟ کیا آپ اور بچے رات درست وقت پر سو جایا کرتے ہیں؟ یا گھر کا نظام قطعی ڈھیلا ڈھالا، بےاصول قسم کا ہے جس میں کسی بھی معاملہ میں کوئی ترتیب، کوئی نظم و ضبط نہیں پایا جاتا؟

ضروری نہیں آپ گھر کو کیڈٹ کالج بنا ڈالیں مگر چند ایک اصول و ضوابط۔۔۔؟

اوّل، کیا آپ نے ‘بتدریج’ والے اصول پر عمل کرتے ہوئے بچوں کو آواز دینے پر ‘اٹھ جانے’ کی ترتیب و تہذیب سکھائی/بتائی ہے۔ کسی ڈسپلن کے لیے ذہناً تیار کیا ہے؟ کیا آپ خود اس معاملے میں درست طرزِ عمل اپنائے ہوئے ہیں؟

دوم، بوجوہ بچوں میں یہ پرابلم ہے تو اس معاملے میں ‘پہلے سے’ کہہ رکھنے والی نفسیاتی ترکیب پر عمل کریں۔ ترتیب اور کوڈ بتا دینے کے بعد دو ہفتے اس پر سختی سے عمل کرنا اور کروانا ہو گا۔ ہر روز درجِ ذیل قسم کا مکالمہ کرنا ہو گا۔ بچوں کے ساتھ مل کر ایک ‘Rising Code’ طے کریں کہ صبح کیسے اٹھنا ہے، جوش و خروش والے انداز میں، تب عملاً اسے لاگو کرنے کو یہ کچھ کریں:

 عملی طور پر کیسے؟

کوشش کریں رات نو بجے یا ساڑھے نو بجے آپ اور بچے بستر پر ہوں۔ بیڈ ٹائم سٹوری سنانے کی روایت مضبوط کریں۔ تب سونے سے پہلے سنجیدہ لب و لہجے میں پوچھیں:

“نو بج کر پچاس منٹ ہو گئے۔ صرف دس منٹ باقی ہیں۔ دعا پڑھنے سے پہلے بتائیں کہ ماما جب صبح آواز دیں گی تو کیا کرنا ہے؟ رِپیٹ کریں شابش۔”

بچے (ہنستے مسکراتے ہوئے): پہلی آواز پر نہیں اٹھنا۔ صرف نیند سے واپس آنا ہے real world میں۔

آپ: اور دوسری آواز پر؟
بچے: دوسری آواز پر بھی نہیں اٹھنا۔ بلکہ کروٹ بدلنی ہے، اپنا مائنڈ ریڈی کرنا ہے، اور تیسری آواز کا انتظار کرنا ہے۔
آپ: بہت اچھے۔ پھر؟
بچے: تیسری آواز پر اپنا ہاتھ کمبل میں سے نکال کر ماما / بابا کی طرف بلند کرنا ہے، یعنی جو بھی جگانے آئے گا۔ پھر اُٹھ کر بیٹھ جانا ہے۔
آپ: پھر؟
بچے: سب سے پہلے بیدار ہونے کی دُعا پڑھنی ہے۔ پھر پورا ایک منٹ بیٹھے رہنا ہے، ایک دم سے کھڑے نہیں ہو جانا، یہ میڈیکلی نقصان دہ ہے۔ اس دوران جو بھی سامنے ہو اُسے سلام اور گڈ مارننگ کہنا ہے۔
آپ: پھر؟
بچے : تب اٹھ کر کھڑے ہو جانا ہے۔

صبح آپ خود اسی ترتیب کا مظاہرہ کریں۔ کیسے؟

1۔  پاس آ کر نرم آواز میں پکاریں۔
2۔  آپ کی آواز زیادہ پچکارنے اور لاڈ کرنے والی نہ ہو، اور نہ حد سے زیادہ سنجیدہ و سپاٹ یا غصیلی۔
3۔  بچے کے سر پر اور گالوں پر ہلکا سا تھپتھپا دیں تا کہ وہ نیند سے واپس آ جائے۔
4۔  منہ سے بول کر کہیں “اٹھ جائیں بیٹا۔ ۔ ۔ ” ساتھ میں وقت بتا دیں۔ پھر ہٹ جائیں۔
5۔  دوسری آواز تین سے پانچ، سات منٹ کے بعد، دور سے: “فرحان، اٹھ جائیں بیٹا۔۔۔ دِس از سیکنڈ ٹائم” لب و لہجہ خوشگوار یا نارمل۔
6۔  تیسری دفعہ پاس آ کر، وقت بتاتے ہوئے:
“فرحان، آ جائیں بیٹا۔ آپ نے عائشہ سے پہلے واش رُوم جانا ہے۔ یہ تیسری دفعہ ہے۔ لائیں جی، اپنا ہاتھ باہر نکالیں۔۔۔”
بچے ابتدا میں چوں چرا کریں گے۔ رفتہ رفتہ ترتیب بن جائے گی۔ ثابت قدم رہیں۔
7۔  بچے جب سکول سے واپس آ جائیں، یا شام کے کھانے پر، یا رات سونے سے پہلے آپ مثبت لب و لہجہ میں سوال کریں، “آج کس کس نے کوڈ آف رائزنگ کو فالو کیا تھا؟”

یہ سوال بذات خود تنقید ہے۔ بچوں سے باتیں کرنا، باتوں سے باتیں نکال کر مزید باتیں کرنا ماہرین کے نزدیک تربیتِ اولاد کے اہم ترین ٹُولز میں سے ایک ہے۔ اس لیے قدرے سنجیدہ لب و لہجے میں مکالمہ کریں۔ بتدریج بچے ٹیون ہو جائیں گے۔ ہر روز تھوڑی سے اِمپروومنٹ آنی چاہیے۔۔۔ اور بالآخر یہ سب اِس گھر کا کلچر بن جائے گا۔ نسلوں تک جائے گا۔

خلاصہ کیا ہے؟

عین موقع پر نہیں! پہلے سے، پیچھے سے۔

ذہنی تیاری، ترتیب، تدریج، خود عمل، صبر و استقامت۔

یہ بھی پڑھیں: بچوں کی سماجی تربیت: کیسے؟ ------------------------ قاسم یعقوب
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply