“مزاحمتی” مغلوب —— شریف اللہ محمد

0

برا ہو سوشل میڈیا کا کہ اب کرامت اور اعجاز کے نام پہ ہونے والی مدہوش حماقتیں بھی عوام تک پہنچتی ہیں اور انکا پوسٹ مارٹم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف کرامتیں نایاب ہورہی ہیں بلکہ حماقتوں میں بھی کبھی کچھ سلیقے کا خیال رکھا جانے لگا ہے۔

میں نے امر جلیل کی پوری تحریر میں خدا کو مائنس کرکے پڑھا، خدا کی جگہ کسی ناپسندیدہ شخص اور کبھی بے تکلف دوست کا نام لگا کر پڑھا۔ لیکن مجھے تحریر میں نہ اعلی نثر دکھائی دی نہ زبان کا بلند معیار، نہ انفرادیت، نہ روانی، اور نہ ایسی گہرائی اور گیرائی جو سوچ کے عقدے کھولے اور جسے بار بار پڑھنے کا دل کرے (میں نے سندھی پیس بھی سنا ہے)۔ کیا یہ انشائیہ ہے؟ کیا اس تحریر میں کوئی منطق ہے جو کسی کو سمجھ آنہ سکی؟ کیا کوئی کوئی ایسا استدلال ہے جس کی بنیاد پر ایک اوجھل چیز کی وضاحت کی گئی ہو۔ کیا کسی کو اس تحریر سے خوشگوار استعجاب محسوس ہوا؟ انداز بھی غیر رسمی کے بجائے انتہائی عامیانہ ہے۔

ہمارے ان دیسی ترقی پسندوں کا حال یہ ہے مسلمان اور اسکی مذہبی حساسیت کو اپنی آوارہ خیالی سے روندنا فرض گردانتے ہیں۔ اگر اسی تحریر میں خدا کی جگہ ہولو کاسٹ، کارل مارکس، بھٹو، شاہ لطیف یا کسی مالیاتی خدا پر طنز کربیٹھیں تو انکا ہاضمہ خراب ہوجائے۔

سے-ٹائر (Satire) یا پیروڈی (Parody) تو سب جانتے ہیں مگر سوشل میڈیا کی برکت سے مزاح کی ایک شدت پسند شکل بھی وجود میں آگئی ہے جس سے پبلک فارٹ اور پبلک پوپ کے عنوان سے سوشل میڈیا بھرا ہوا ہے۔ اس نئے ٹرینڈ کا بنیادی مقصد توجہ حاصل کرنا ہوتا ہے مگر یاد رہے وہ پرینک ہوتا ہے اور امر جلیل نے پرینک نہیں کیا۔

تھوڑی دیر کے لئے امر جلیل کو بھول کر اس بغداد کا تصور کریں جس پر ہلاکو خان کسی آندھی اور طوفان کی طرح نازل ہوا چارو و ناچار جب شہر کی فصیل کے دروازے کھول دیے گئے تو فقط چند ساعتوں کے بعد خلیفہ مستعصم باللہ کے علاوہ ساری اشرافیہ تہہ تیغ کی جاچکی تھی۔ عبداللہ وصاف شیرازی کے الفاظ سے اپ اُس کیفیت کا اندازہ لگاسکتے ہیں

“وہ شہر میں بھوکے گدھوں کی طرح پھِیل گئے، بلک اسی طرح جیسے غضبناک بھیڑیے بھیڑوں پر ہِلہ بول دیتے ہیں۔ بستر اور تکیے چاقوؤں سے پھاڑ دیے گئے۔ حرم کی عورتیں گلیوں میں گھسیٹی گئیں اور ان میں سے ہر ایک تاتاریوں کا کھلونا بن کر رہ گئی۔”

اگر تاراج بغداد کی عملی کیفیت اس ملک میں موجود کسی شخص نے اپنی انکھوں سے دیکھنی ہو یا محسوس کرنی ہو تو وہ سندھ دیکھ لے خاص طور پر اندرون سندھ۔

نورالہدا شاہ نے ایک بار امر جلیل کے بارے میں کہا تھا کہ

“تاریخ میں جتنے بھی باغی اور زہر پینے والے کردار گزرے ہیں، منصور حلاج ہو، سرمد ہو یا سقراط ہو امر جلیل انکا کمبینشن ہے”۔

اپ اس کمبینیشن کی بہادری دیکھیں کہ کسی پروگرام میں امر جلیل سے کسی نے تعلیمی نظام کی بربادی حوالے سے سوال کیا، مجال ہے جو “ستر سالوں سے” کی تکرار سے ایک سال نیچے آئیں ہوں۔ انکو پتہ ہے اگر سندھ کے ڈاکوؤں کا نام لیں گے تو ایوارڈ کون دیگا۔ جتنے انکی تصانیف کے ایڈیشن ہیں اتنی تو شاید کتابیں بھی لوگوں نے پڑھی نہیں ہونگیں۔ یہ ہے انکی مزاحمت، مزاحمت کا معیار اور تحریر کی قبولیت۔ اگر مزاحمت کی فقط آہٹ تک کسی نے سننی ہے تو احمد فراز کی “محاصرہ” یا “پیشہ ور قاتلو” پڑھ لے

میں خدا کی کسی نثر میں تمثیل کے خلاف نہیں اور میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اگر مذکورہ تحریر میں سے خدا اور امرجلیل کا نام نکال کر کسی جگہ چھپنے کے لئے بھیجتے تو یقین کریں تحریر نہ چھپنے کی وجہ بھی بتانا ضروری نہ خیال کیا جائے۔ یقین نہ آئے تو گرد بیٹھنے کے بعد نہ پہچانے جانے کی خاطر معمولی رد و بدل کرکے کسی اوسط درجے کے ادیب کو بھیج کر دیکھئے۔ اپ اسے کچھ بھی کہہ دیں مگر کم از کم تمثیل کے عنوان سے کوئی ادبی کام مت کہیئے کیونکہ پھر ہر بہو نے اپنی ساس کے متعلق فرمائے ہوئے کو ادبی شہہ پارہ قرار دینے کا مطالبہ کردینا ہے۔ جب خدا کو اپنے ادب میں گھسیٹنا ہی تھا کچھ ایسا لکھتے جو نایاب ہوتا اور امر جلیل امر ہوجاتا۔

ہر مسلمان کی طرح اپنے رب سے سرگوشیاں کرنے کا عادی ہوں، بے تکلف ہو کر بہت سارے گلے شکوے بھی کرتا ہوں، نوک جھونک بھی کرتا رہتا ہوں اور محسوس کرتا ہوں کہ میرا رب میری حماقتوں پر مسکرا رہا ہے لیکن میں اللہ سے اپنے تعلق کو سر راہ تماشا نہیں بناتا۔ یہ خالق کائنات اور مچھر کے پر جیسی دنیا کے ایک بے مول اور حقیر بندے کا تعلق ہے۔ ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں۔ ان “مزاحمتی” ادیب کو کوئی بتائے کہ ماں سے محبت کا سلیقہ اور کسی عورت کی عزت کرنے کا طریقہ میرے رب سے بہتر اگر کسی اور نے سکھایا ہو تو سامنے اجائے۔

نوٹ: خدا کو اپنی تحری، تقریر اور شاعری میں زیر بحث لانے پر کوئی پابندی نہیں سمجھتا۔ معلوم انسانی تاریخ سے لیکر آج تک یہ کام ہورہا ہے اور ہوتا رہیگا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply