لپ اسٹک فیمنزم : Lipstick Feminism نسوانی بالادستی کا خواب —- وحید مراد

0

لپ اسٹک، صرف ہونٹ سرخ کرنے اور مصنوعی طور پر خوبصورتی میں اضافہ کرنے والی کاسمیٹک ہی نہیں جسے دنیا بھر کی اکثر خواتین ہر روز بیسیوں مرتبہ استعمال کرتی ہیں، بلکہ اسکے ساتھ فیمنزم کی پوری تاریخ وابستہ ہے۔ سولھویں صدی کی ملکہ الزبتھ اول سے لیکر بیسویں صدی کی نسائی تحریک کے رہنمائوں اور کارکنان تک سب نے اسے نسوانی آزادی، خودمختاری، خوداعتمادی، طاقت، بغاوت، بالادستی اور قیادت کی علامت کے طور پر استعمال کیا۔ جب تک فیمنسٹ تحریک کے ابتدائی ادوار میں حقوق نسواں کی جدوجہد اور سیاست کا غلبہ تھا لپ اسٹک صرف ایک علامت کے طور پر استعمال ہوتی رہی لیکن جیسے ہی تیسری ویو کے فیمنزم نے سیاسی و تحریکی جدوجہد کا راستہ ترک کرتے ہوئے انفرادیت، لباس، فیشن، ہار سنگھار اور جنسی جاذبیت کو وومن امپاورمنٹ کا ذریعہ بنایا، اسکا نام لپ اسٹک فیمنزم (Lipstick Feminism) پڑ گیا۔

Feminist Hero designs, themes, templates and downloadable graphic elements on Dribbbleلپ اسٹک فیمنزم کیا ہے؟

ساٹھ اور ستر کے عشرے میں، فیمنزم کی دوسری ویو کی کچھ سرکردہ خواتین رہنما جنسیت اور پورنو گرافی کے خلاف تھیں۔ وہ جنسی ابتذال کے بجائے ضبط و شائستگی پر زور دیتیں اور نسوانی انفرادیت ابھارنے کے بجائے اجتماعی حقوق کی بات کرتیں۔ انکا خیال تھا کہ عریانی، فحاشی اور جنس کا آزادانہ اظہار مردانہ بالادستی اور روایتی پاور اسٹرکچر کو تقویت فراہم کرتا ہے اور اس سے عورتوں کے خلاف استحصال اور جنسی تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن 1990 کے عشرے میں نوجوان نسائی پسندوں نےاس خیال کو مسترد کرتے ہوئے جنسی کشش و جاذبیت کو عورت کی آزادی، خودمختاری اور ایمپاورمنٹ کے حق میں استعمال کرنا شروع کر دیا۔

نوجوان فیمنسٹ خواتین کا موقف ہے کہ لباس، فیشن اورجنسی آزادی کا اظہار خواتین کو زیادہ با اختیار، پراعتماد اور مضبوط بناتا ہے۔ ان کے خیال میں مختصر اسکرٹ پہننا، اپنی پسند کےجنسی اعمال کا انتخاب، اور جنسی انحراف کے بارے میں مثبت رویہ خواتین کی طاقت و قوت میں اضافے کے ساتھ نسائی تحریک کا بھی ایک اہم جزو ہے۔ تاہم کچھ فیمنسٹ خواتین ایک حد سے آگے نہیں بڑھتیں مگر وہ بھی سمجھتی ہیں کہ میک اپ، ڈریسنگ، فیشن، جنسی خواہشات کی آزادانہ تکمیل اور نسائی اقدار کے درمیان کوئی تنازعہ نہیں۔ نوجوان نسائی قیادت کے خیال میں عورتوں کی نسوانیت اور جنسیت پر ہونے والے اعتراضات کے جواب میں انفرادی خصوصیات کو مزید ابھارنا اور مخالفین کو چیلنج کرنا ضروری ہے۔ کسی خاتون کے شوہر، بھائی، باپ یا خاندان کے بزرگ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ بتائے کہ اسے کس قسم کا لباس پہننا ہے، کس طرح کا جنسی رویہ اپنانا ہے اور کس طرح کا اظہار خیال کرنا ہے۔

لپ اسٹک فیمنزم کی آئیڈیالوجی، فرسٹ ویو فیمنزم کی کچھ اسکالرز مثلاً زورا نیل ہورسٹن (Zora Neale Hurston)، انارکسٹ اسکالر ایما گولڈ مین (Emma Goldman) اور ہیلن گرلے برائون (Helen Gurley Brown) کے خیالات سے مستعار لی گئی ہے۔ ان اسکالرز کا خیال تھا کہ فرسٹ ویو فیمنزم، حقوق نسواں کی طرف بڑھنے کا پہلا قدم ہے اور آگے کئی مراحل مختلف انداز سے طے ہونگے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ جمالیات کے فلسفیانہ نظریات اور نسائی نظریات کو ملا کر استعمال کرتے ہوئے اصناف کو روزمرہ زندگی میں جنسی نوعیت کے مظاہروں میں مشغول کرنے اور جدید طریقوں سے ایمپاور کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

lipstick feminism | The Dilettante's Dilemmaایما گولڈ مین نے محبت و جنس میں آزادی، زچگی، اسقاط حمل و مانع حمل اشیاء کے استعمال میں آزادی اور ہم جنس پرستی کی وکالت اس وقت کی جب لوگ ان تصورات سے واقف ہی نہیں تھے۔ اسکا خیال تھا کہ خواتین کو مکمل آزادی اس وقت حاصل ہوگی جب شادی و نکاح کے بندھن اور پرانی روایات و عادات سے چھٹکارا حاصل کرلیا جائے گا۔

ہیلن برائون کی کتاب ‘سیکس اور غیر شادی شدہ لڑکی Sex and Single Girl’ 1962′ میں 28 ممالک میں شائع ہوئی اور مقبولیت کے ریکارڈ توڑے۔ بعدازاں اس پر فلمین بھی بنائی گئیں۔ یہ کتاب اس خیال کو فروغ دیتی ہےکہ نوجوان خواتین بغیر شادی کے جنسی تعلقات سے لطف اندوز ہو سکتی ہیں اور خواتین کو مردوں کی طرح جاب اور کیئریر سے بھی مستفید ہونا چاہیے۔ انگریزی زبان کا ایک مشہور گانا ہےکہ ‘اچھی لڑکیاں جنت میں جاتی ہیں اور بری لڑکیاں ہر جگہ Good girls go to Heaven and bad go everywhere’، ہیلن برائون نے یہ مقولہ اپنے دفتر میں عملی طورپر ثابت کرکے دکھایا۔

اگرچہ اس زمانے میں بٹی فریڈن (Betty Fridan) اور گلوریا اسٹینم (Gloria Steinem) کو برائون کے خیالات سے اختلاف تھا لیکن آج کے دور کی فیمنسٹ خواتین برائون کو اپنا آئیڈیل سمجھتی ہیں۔ لپ اسٹک فیمنزم اور پورن کلچر بھی برائون کے اس فلسفے کی عکاسی کرتا ہے کہ ‘مردوں کو اس طرح استعمال کرو جیسا انہوں نے ہمیشہ ہمیں استعمال کیا‘۔ فریڈن اور اسٹینیم کا جرم تو صرف یہ تھا کہ انہوں نے عورتوں کو ترغیب دی تھی کہ ‘ان مردوں کو سپردگی مت دو جو تمہارا استحصال کرتےہیں‘ لیکن برائون نے تو عورتوں کی یہ تربیت دی کہ’ مرد جب بھی جنسی عمل کی فرمائش کریں فوراً ہاں بولو اور پھر انکی جیبیں صاف کردو، مرد ہمیشہ مرد ہوتے ہیں اور انکی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کا کوئی موقع ہاتھ سےجانے مت دو‘ برائون نے اپنے میگزین میں مردوں کو قابو کرنے کے پچاس طریقے بھی بتائے تھے اور یہ بھی رہنمائی فراہم کی تھی کہ ان پر عمل کرکے کیسے اپنی مرضی مسلط کی جا سکتی ہے۔

برائون، پلے بوائے طرز کے ‘کاسموپولیٹن’ میگزین کی چیف ایڈیٹر تھیں اور اس میں جاب کرنے والی خواتین اور جنسی آزادی کی وکالت کرتی رہیں۔ برائون کا دعوی تھا کہ عورت صرف محبت، سیکس اور پیسے کی بھوکی ہوتی ہے۔ برائون نے فیشن اور گلیمر کو اتنا پروموٹ کیا کہ اسکے میگزین کے نام پر فیشن ایبل لڑکیوں کو’ کاسمو گرل Cosmo Girl’ کہا جاتا ہے۔ بیچاری ہیلن برائون اپنی عمر بھر کی سعی کا مکمل نتیجہ اپنی آنکھوں سے تو نہ دیکھ سکی لیکن اسکی موت کے بعد یہ اسکی توقع سے کہیں بڑھ کر’جنسی انقلاب Sexual revolution’ کی شکل میں نمودار ہوا۔

لپ اسٹک فیمنزم کے ماڈرن وکیل:

آج کے مغرب میں فیوننگھوالا سوینی (Fionnghuala Sweeney)، کیتھی ڈیوس (Kathy Davis) اور انکی طرز کی بےشمار فیمنسٹ اسکالر ہیں جو خواتین کو روایتی معاشرے کے دقیانوسی خیالات سے آزادی دلانے اور ایمپاور کرنے کیلئے جنسی آزادی اور لپ اسٹک فیمنزم کی وکالت کرتی ہیں لیکن ان میں میری ٹیل سوان (Mary Teal Swan) کا اسلوب اور طرز سب سے منفرد ہے۔

میری ٹیل سوان امریکن فیمنسٹ ناول نگار اور جنسی و شہوانی روحانیات کی ‘گرو’ ہیں۔ خودکشی کے بارے میں انکا خیال ہے کہ ‘خودکشی کرنے میں کیا حرج ہے؟ یہ ایک ری سیٹ بٹن ہے اور جب آپ زندگی کی رنگینیوں سے بیزار ہوجائیں تو کسی وقت بھی اسے دبا کر ازلی سکون حاصل کر سکتے ہیں‘۔ انکے خیالات سے متاثر ہوکر انکے دو چیلے کھیل ہی کھیل میں یہ بٹن دبا کر اس جہاں فانی سے رخصت ہو کر ابدی سکون پا گئے۔ ٹیل سوان اپنے ایک بلاگ میں ‘لپ اسٹک فیمنزم’ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ

‘ہمیں اپنی جنسی کشش اور جاذبیت پر پوری طرح سے اپنا حق تسلیم کرنا چاہیے۔ خواتین کو اس بات کا شعور ہونا چاہیے کہ مردوں میں اس کشش کیلئے دیوانگی پائی جاتی ہے اس لئے اس صلاحیت میں نکھار لاتے ہوئے انہیں مزید متاثر کرنا چاہیے۔ عورت کی جنسی طاقت میں اضافہ لپ اسٹک، میک اپ، مختصر اسکرٹ سے ہوتا ہو یا اونچی ہیل کے جوتوں سے، ہر حربہ آزمانا چاہیے۔ اگر مردوں سے لڑ کر اختیارات نہیں چھینے جا سکتے توانہیں جنس کا رسیا اور غلام بنا کر تواختیارات پر قبضہ کیا جا سکتا ہے۔ سیکنڈ ویو کی فیمنسٹ لیڈران خواہ مخواہ اپنی چولیاں (bras) جلا کر احتجاج کرتے ہوئے مردوں کو دشمن بناتی رہیں۔ انکی وجہ سے فیمنزم پر بدنامی کے جو داغ لگے، اب موقع ہے کہ انہیں خوبصورت طریقے سے دھویا جا ئے۔ مردوں کو جب جنسی کشش کے ذریعے زیر کرنا ممکن ہے تو پھر ان سے لڑائی جھگڑا مول لینے کی کیا ضرورت ہے؟’

ٹیل سوان گرو جی مزید فرماتی ہیں کہ

‘جنسی و شہوانی جذبات کے کھلے عام اظہار سے جومنفی شہرتحاصل ہوتی ہے اسے ‘بیہودگی یا بدنامی’ تصور نہیں کرنا چاہیے، اور اگر یہ بدنامی ہے بھی تو ہو، مگر یہ ہماری طاقت اور شناخت ہے۔ اگر یہ بیہودگی ہماری خودمختاری میں اضافہ کرتی ہےتو ہمیں دل و جان سے قبول ہے۔ کوئی فائدہ حاصل کئے بغیراپنے اوپر ‘اینٹی سیکسٹ Anti-Sexist’ کا لیبل لگوانے سے تو بہتر ہے کہ ‘بیہودہ فیمنسٹ Ugly feminist’ ہونے کا لیبل لگوا کر کچھ فائدے حاصل کئے جائیں۔ اس لیبل کا ایک اضافی فائدہ یہ ہے کہ اسکے ذریعے مردوں کو ہمارا پوشیدہ پیغام بھی پہنچ جاتا ہے کہ اگر وہ نسوانی حسن سے متاثر اور اپنی خواہشات سے مجبور ہوکر ہماری غلامی میں آنا چاہیں تو ہمیں قبول ہے اور ہم انہیں اس عمل سے کبھی منع نہیں کریں گے’۔

ٹیل سوان گروجی کا فیمنسٹ خواتین کیلئے تیسرا فرمان ہےکہ

‘ہمیں اپنے نسوانی و شہوانی جذبات کو دبانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہمیں ان جذبات کو ہر اس چیز سے نسبت دینے اور ہم آہنگ کرنے کیلئے تیار رہنا چاہیے جس سے ہماری آزادی اور طاقت میں اضافہ ہوتا ہو۔ ہمیں اس ترددمیں بالکل نہیں پڑنا چاہیے کہ ہم ایک اچھی شہرت والی خاتون کیسے بنیں؟ ہمارے اندرشہوانی خصوصیات کا جوہر اور توانائی پہلے سے موجود ہے ہمیں صرف اس قوت سے آگہی حاصل کرتے ہوئے اسے مزید نکھار، سنوار کر استعمال میں لانا ہے۔ ہمارے سامنے دو راستے ہیں ایک یہ کہ ضبط کرکے اس جوہر اور توانائی کو دبا دیں۔ فرسٹ ویو کے فیمنسٹ رہنمائوں نے پہلا راستہ اختیار کرتے ہوئے اس توانائی کو نظر انداز اور ضائع کیا۔ انہوں نے احتجاج و سیاست کو اپنایا لیکن یہ بہت ناگوار اور تھکا دینے والا راستہ ہے۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ جو بھی ذرائع میسر ہوں ان سے اپنی جنسی توانائی میں ضافہ کرتے ہوئے اسکا مہارت سے استعمال کیا جائے۔ یہ راستہ آسان، حظ اٹھانے والا اور راج کرنے والا ہے’۔

International Women's Day was conceived as a celebration of women's rights. It turned into a pseudo-feminist nightmare — RT Op-edاونچی ہیل کی جوتی کا فیمنزم:

ٹیل سوان اور اس طرح کے دیگر فیمنسٹ ماہرین جس فیمنزم کی وکالت کرتے ہیں وہ لپ اسٹک فیمنزم سے بھی زیادہ ریڈیکل اور انتہاپسندانہ ہے۔ اسے عموماً اونچی ہیل والی جوتی (Stiletto Feminism) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ فیمنزم نوجوان خواتین کو یہ باور کراتا ہے کہ ہائی ہیل جوتے انکی انفرادیت میں اضافہ کرتے ہوئے خودمختاری اور ایمپاورمنٹ میں معاون ثابت ہوتے ہیں حالانکہ انکے ڈیزائن میں نہ چلنے کی سہولت کو مد نظر رکھا گیا نہ پائوں کے آرام اور حفاظت کو۔ انکی ایجاد کا مقصد صرف مردوں کی توجہ حاصل کرنا ہے۔ یہ جوتے پہن کر عورت کی چال ڈھال بہت منفرد اورجاذب نظر بن جاتی ہے۔ مرد ایسی خواتین پر جتنی زیادہ نظریں جماتے اور گھورتے ہیں اس جوتے کی سیل اتنی ہی زیادہ بڑھتی ہے۔ یہ جوتا عورت کو بااختیار بنانے کا آلہ ہو یا نہ ہو لیکن سرمایہ دار کیلئے پیسے بنانے کا آلہ ضرور ہے اور اس سے عورت کا جسم بظاہر تین انچ اونچا نظر آتا ہےلیکن حقیقت میں اسکی نسوانی فطرت اور شناخت کو نیچا دکھانا مقصود ہے۔

ہائی ہیل جوتے والے فیمنزم کے دلائل میک اپ اور فیشن سے آگے بڑھ کر عورت کے جسم کی خوبصورتی کو مختلف پیشوں میں استعمال کرنے کی بھی وکالت کرتے ہیں۔ ان پیشوں میں اسٹرپ ڈانسر (striptease dancer)، پول ڈانسر (Pole dancer)، فلیشنگ (flashhing) اور لزبئین نمائش (lesbian exhibitionism) شامل ہیں۔ اسی طرح اس میں ہم جنس پرستی، پورنو گرافی، جنسی معروضیت (Sexual Objectification)، BDMS، Prostitution، اور جنسی ثقافت (Raunch Culture) کی بھی وکالت کی جاتی ہے۔

Hell on Heels: Feminism Wedding Day Marriage Stiletto Gift Hell On Heels Funny Bride (6"x9") Lined notebook Journal to write in by Gordon, Cyril - Amazon.aeلپ اسٹک فیمنزم اور اونچی ہیل والی جوتی کے فیمنزم (Stiletto Feminism) کا ایک خاص پہلو یہ بھی ہے کہ وہ الفاظ اور جملے جو کسی زمانے میں زیادہ جارحانہ، توہین آمیز، ذلت آمیز، واہیات اور گالی سمجھے جاتے تھے انہیں یہ کثرت سے اپنی اصطلاحات کے طورپر استعمال کرتے ہیں جیسے فاحشہ عورت (Slut) وغیرہ۔ مثلاً ٹورانٹو میں ایک خاتون (جسے الزامات کا سامنا تھا) کے بیان کے جواب میں ایک پولیس افسر نے کہہ دیا کہ ‘معزز خواتین کو فاحشہ عورتوں کی طرح لباس زیب تن نہیں کرنا چاہیے تاکہ ان پر کسی قسم کے الزامات نہ لگیں’۔ اس پر فیمنسٹ تحریک مشتعل ہو گئی اور 3 اپریل 2011 کو ٹورانٹو میں ایک واک منعقد کی جسے ‘فاحشہ عورتوں کی واک Slut walk‘ کا نام دیا گیا۔ پھر اس کے ساتھ یکجہتی کے طورپر برلن، لندن، نیویارک، ہالی ووڈ اور دنیا کے دیگر بڑے شہروں میں اسی نام سے واک منعقد کی گئی۔

دنیا بھر میں اس واک کے نام کے خلاف فیمنسٹ حلقوں کے اندر اور باہر شدید تنقید ہوئی۔ لیکن اسکے جواب میں دلیل یہ دی گئی کی چونکہ مساجنی اور سیکسزم خواتین کے خلاف جلن اور دشمنی میں اس طرح کے الفاظ استعمال کرتے ہیں اس لئے انہیں جواب دینے کیلئے وہی الفاظ استعمال کئے گئے۔ ان غیر مناسب الفاظ کی شکل میں دئے گئے جواب سے مساجنی اور سیکسزم پرکوئی اثر ہوا یا نہیں اسکے بارے میں تو کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن یہ بات سب کے علم میں ہے کہ جب فیمنسٹ کارکنان اس طرح کے بیہودہ الفاظ اپنے نعروں اور کمپئین میں استعمال کرتی ہیں یا آزادی کے اظہار کیلئے سر عام جنسی اعمال سرانجام دیتی ہیں اور پرنٹ، الیکٹرانک یا سوشل میڈیا انہی الفاظ اور اعمال کی رپورٹنگ کرتا ہے تو خواتین کے اعتراض پر میڈیا کےعمل کو جرم ثابت کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

Fresh Lipstick: Redressing Fashion and Feminism: Scott, Linda M.: 9781403971340: Amazon.com: Booksلپ اسٹک فیمنزم کی خطرناک چیز صرف یہ نہیں کہ یہ کاسمیٹکس، فیشن، جنسی خواہشات و اعمال کو وومن ایمپاورمنٹ کیلئے استعمال کرتا ہے بلکہ اصل خطرہ اسکے اس نقطہ نظر میں مضمر ہے جو نوآبادیاتی اور کنزیومر ازم کی ثقافت کو مسلط کرنا چاہتا ہے۔ یہ صرف عورتوں کو سیکسی لباس اور میک کرواکے انکی انفرادیت اور جنسیت کو نہیں ابھارتا بلکہ یہ تہذیبی ذوق، حسن، خوبصورتی اور جمالیاتی معیارات پر قابو پانا چاہتا ہے۔ یہ نوجوان خواتین کو باور کراتا ہے کہ روایتی تہذیبوں کا معیارِ حسن آپکی انفرادیت کے اظہار میں رکاوٹ ہے۔ ایک قانون، قاعدے اور تہذیب کے تحت جنسی اعمال کو ضابطے میں لانا ظلم اور استحصال ہے لہذا اس جبر کو توڑ کر اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق جنس کا اظہار کیا جائے۔

لپ اسٹک فیمنزم اور سرمایہ دار کا گٹھ جوڑ:

ماڈرن ازم اور لبرل ازم نے اپنے ابتدائی ادوار میں فلاحی ریاست کا خواب دکھایا اور اداروں کا ایک ایسا مجموعہ تشکیل دیا جو بظاہر لوگوں کو زیادہ خودمختار اور قابل بناتا تھا مثلا نظام تعلیم، نظام قانون، نظام عدل، نظام سیاست وغیرہ وغیرہ۔ ان نظام ہائے ریاست کی وجہ سے لوگ اس قابل تو ہوئے کہ وہ اپنی زندگی کی ضروریات وافر مقدار میں کمائیں اور معیار زندگی ایک حد تک بلند کر سکیں لیکن جیسے جیسے روایتی ڈھانچے کمزور ہوتے چلے گئے جدیدیت نے روایات، تہذیب، اقدار ہر چیز کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ اس جدیدیت سے نمودار ہونی والی صنفی تحریک نے خواتین کو ان معاشروں سے الگ کر دیا جن میں اصناف کے کردار روایتی ثقافت اور رسوم و رواج سے طے ہوتے تھے۔ اب خواتین کو یہ باور کرایا گیا کہ انکی انفرادیت اورانکا ذاتی رویہ یہ تعین کرے گا کہ وہ کتنی کامیاب اور کامران ہیں۔ دوسرے لفظوں میں خواتین کو روزگار، تعلیم، سول سوسائٹی کے شعبوں میں صنفی شناخت کی پیش کش کی گئی اور انہیں کہا گیا کہ وہ روایتی معاشرت اور ثقافت کے سامنے اپنی جنسی طاقت کے ساتھ دیوار بن کر کھڑی ہوجائیں۔

لپ اسٹک فیمنزم واضح طور پر نولبرل کنزیومر ازم کے عین مطابق ہےجس میں مسحورکن انفرادیت کے حصول کو خواتین کے اختیار اور کامیابی کی کلید کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اب ساری توجہ انفرادی منصوبوں پر مرکوز ہے جو کنزیومر کلچر سے متاثر ہو کر اوراسکی تائید میں عمل پذیر ہوتے ہیں۔ اب عورت کی آزادی ایک انفرادی پروجیکٹ ہے جسکا احساس خواتین کو انکی زندگی میں کرایا جاتا ہے اور اس فریم ورک کے اندر نسائی سیاست کا پرانا ایجنڈا بیکار ہوچکا ہے۔ انجیلا میکروبی نے اس صورتحال کا تجزیہ اپنی کتاب Aftermath of Feminism میں خوبصورت انداز سے کیا۔ اسکے مطابق فیمنزم اب خواتین کے معاشرتی حقوق کی تحریک کے طورپر ختم ہو چکی۔ پاپولر کلچر لامحدودامکانات اور آزادی کا ایک خوبصورت سراب اور وہم فراہم کرتا ہے لیکن درحقیقت یہ خواتین پر عائد پرانی پابندیوں کو نئی پابندیوں سے بدل کر انہیں پہلے سے زیادہ محکوم بناتا ہے۔ نوجوان خواتین گلیمر سے اس حد تک مرعوب ہیں کہ وہ پاپولر کلچر سے مرتب ہونے والے ثرات کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور اپنے گرداسکے کسے جانے والے شکنجے کے احساس سے عاری ہیں۔

لپ اسٹک فیمنزم تمام بڑی انڈسٹریز کے ساتھ ملی بھگت میں صرف سرمایہ کی بڑھوتری کیلئے کام کر رہا ہے اور حقیقی تخلیق کاروں اور محنت کشوں کے پیٹ پر لات مار رہا ہے۔ تمام سرمایہ دار اوربڑے کاروباری حضرات پورا سال عوام کو لوٹتے ہیں اور جیسے ہی کوئی خاص دن آتا ہے تویہ موقع کی مناسبت کے سلوگنز اور اشتہارات کے ذریعےسیل کا اعلان کر دیتے ہیں۔ انہیں نسائی تحریک کے نعروں کو برانڈز کے ساتھ پیش کرنے کا خیال صرف عورت مارچ، وومن ڈے اور اس طرح کے دیگر مواقع پر ہی کیوں یاد آتا ہے؟ صرف انہی ایام میں یہ سلوگن، ٹوکن ازم، ہیش ٹیگ، ایوارڈز، تحائف، سیلیبریشن متحرک کیوں ہوتے ہیں؟ اسکی وجہ یہ ہے کہ نوجوان خواتین کو مخصوص ایام اور واقعات کی یاد دلا کر تفریح مہیا کرتے اور نعرے لگاتے ہوئے اپنی جمع شدہ اشیاء کا ذخیرہ فروخت کرنا چاہتے ہی۔ آج کےدور کا فیمنزم ان لوگوں سے اپنی لاتعلقی کا اظہار نہیں کرتا جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ سب منافع بانٹنے کی ملی بھگت ہے۔

صرف مصنوعات کی انڈسٹریز ہی نہیں پبلشنگ کمپنیز بھی اس عمل میں برابر کی شریک ہیں۔ انکے ہاں بڑے بڑے فلسفیوں اور رائٹرز کی تحریروں کو اتنی مقبولیت حاصل نہیں ہو رہی جتنی مشہور فلمی اور گانے والے شخصیات کے چند ٹوٹے پھوٹے جملوں، گلیمرس تصاویر اور بیانات پر مبنی تحریروں کو پذیرائی مل رہی ہے۔ اس پذیرائی کو اشتہار کے طورپر استعمال کرتے ہوئے برانڈز کی مارکیٹنگ کی جاتی ہے۔ یعنی اب علم اور معلومات کی ترویج انسان کی تحقیق و تجسس کی پیاس بجھانے کے بجائے صرف اشیاء بیچنے کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ مارکٹنگ کی مہمات میں فیمنزم کے جن تصورات کو اشتہارات کی زبان میں پیش کیا جاتا ہے اسکا عورت کی فلاح و بہبود اور حقوق سے تو کوئی تعلق نہیں ہاں یہ لپ اسٹک فیمنزم کی ضرور نمائندگی کرتے ہیں۔

فیمنزم اشیاء فروخت کرنے، صارفین کو راغب کرنے، جھوٹی ترغیبات دینے کیلئے بزورڈ (buzzword) کے طورپر استعمال ہو رہا ہے۔ متناسب اقدار اور اخلاقیات کے بغیر کسی اشتہاری مہم یا برانڈ کمپین کے ذریعہ الفاظ اور اصطلاحات کا استعمال ہی محض سرمایہ داریت کہلاتا ہے اور یہ اشیاء کا صارفین پر حملہ اور قتل عام ہے جس میں لوگ دل و ارادےسے چاہے بغیر اور دماغ و شعور سے سوچےسمجھے بغیر اشیاء کو خرید لینے کے جرم کا ارتکاب کر لیتے ہیں اور پھر سمجھ آنے پر افسوس کرتے ہیں۔ اسکی حالیہ مثال کتابیں شائع کرنے والے عالمی ادارہ پینگوئین (Penguine) کی ہے جنہوں نے لندن میں خواتین کے فیشن ایبل کپڑے بیچنے والے ایک اسٹور کے ساتھ اشتراک کرکے ایک کتاب’Girl Up’ کی تشہیر کی۔

اس میں طریقہ واردات یہ استعمال کیا گیا کہ اس اسٹور سے فیشن ایبل کپڑے خریدنے کیلئے آنے والی ہر نوجوان خاتون کو یہ کتاب آفر کی جاتی جس میں مشہور شخصیات کی دیدہ زیب تصاویر کے ساتھ لپ اسٹک فیمنزم کے مضامین شامل تھے۔ نوجوان خواتین جیسے ہی اس کتاب کی ورق گردانی کرتیں وہ دیکھ کر حیران رہ جاتی کہ سب مضامین انکی پسندیدہ ہیروئین کے لکھے ہوئے ہوتے اور وہ فوراً اس کتاب کو خرید لیتیں۔ اسی طرح اس شاپ والے نے نوجوان خواتین کو یہ تاثر بھی دیا کہ اسکے کپڑوں کے ڈیرائن اور برانڈز فیمنزم سے منظور شدہ ہیں لہذا انکی فروخت میں خوب اضافہ ہوا۔ اگر آپ مغرب میں شائع ہونے والی کسی ایک بڑے اخبار یا میگزین کا باقاعدگی سے مطالعہ کریں توسرمایہ دارانہ نظام اور فیمنزم کے گٹھ جوڑ کی بے شمار مثالیں آپ کو آئے روز دیکھنے کو ملیں گی۔

لپ اسٹک فیمنزم کی تضاد بیانی:

نواب مصطفی خان شیفتہ نے دو صدی قبل شہرت کی طلب میں ہونے والی بدنامی اور ننگے پن پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ: ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام۔ بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔ لیکن اسکی عملی تعبیر آج لپ اسٹک فیمنزم کے ذریعے ننگے پن اور بدنامی کوطاقت اور قوت بنا کرپیش کی جا رہی ہے۔ اسی طرح جب یہ محاورہ ایجاد ہواتھا کہ ‘بے حیاء، پھٹی چڈی، رہی تو کیا، نہیں تو کیا، تو اسکو صرف شرم و حیاء کی یادہانی اور اصلاح کیلئے استعمال کیا جاتا تھا لیکن آج اس پر لفظی اور معنوی طور پر (literally) عمل کرکے دکھایا جا رہا ہے۔

ایک زمانہ تھا جب مردانہ طاقت کا محور عزم، ارادہ، ہمت، سعی، اخلاقی برتری، علم، شعور، تقویٰ، اللہ کی بندگی، احترام آدمیت، خلوص، نیک نیتی اورشرم و حیاء کو قرار دیا جاتا تھا اور نسوانیت مامتا، نرمی، ملائمت، پاکیزگی، پاکدامنی، عزت، وقار، نیک سیرت، طاہرہ، باحیاء، صالح، راسخ العقیدہ، صبر و شکر کرنے والی، عفت و عصمت کی حفاظت کرنے والی، حسن سلوک کرنےوالی اورآنکھیں ٹھنڈی کرنے والی صفات کا مرقع تھی۔ لیکن آج کے دور کا لپ اسٹک فیمنزم عورت کے جسم اور جنس سے خارج ہونے والی کشش اور شہوانیت کو ایمپاورمنٹ اور طاقت قرار دیتی ہے۔ لپ اسٹک فیمنزم کے اسکالرز کا کہنا ہے کہ خواتین کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے جنسی جذبات کے مطابق آسودگی حاصل کرنے کیلئے جس طرح کا انتخاب اور رویہ اپنانا چاہیں اپنائیں اور دلکش نظر آنے کیلئے جتنا مختصر لباس پہننا چاہیں پہنیں خواہ اس سے جنسی اعضاء چھلکیں اور کشش صاف نمایاں ہو۔

یہ بات صرف فیشن، انتخاب اور مرضی کا رویہ اپنانے تک محدود نہیں بلکہ وہ بیہودہ الفاظ (derogatory words) اور جملے جو گالی اور بدتہذیبی کی علامت تھے اور انہیں لڑائی کے وقت دوسروں کیلئے استعمال کرنے میں ججھک محسوس کی جاتی تھی ا اب انہیں اپنے بارے میں استعمال کرنے کو ہتھیار اور طاقت کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اب نوجون عورت کو یہ سکھایا جا رہا ہے کہ اچھی لڑکی (good girl)، مہذب عورت (cultured women)، پاکباز اور متقی ماں (the abnegated mother)، نیک سیرت بہن (virtuous sister) جیسے جملے مردوں کے دئے ہوئے ہیں اور اس سے عورت مردوں کی محکوم نظر آتی ہے اس لئے اگر عورت کو بااختیار بننا ہے تو ان جملوں کااستعمال ترک کرنا ہوگا۔ لیکن اگر غور کیا جائے تو اس میں کس قدر تضاد بیانی ہے کہ ایک طرف خود اپنے آپ کو برے برے ناموں اور القاب سے متعارف کرایا جائے اور دوسری طرف مردوں سے یہ شکایت کی جائے کہ وہ عورت کی عزت نہیں کرتے اور جنسی تعصب کی بنا پر انہیں برے ناموں سے پکارتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خواتین کارڈ اور سوشل میڈیا ------------- محمد شافع صابر
(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply