روشنی اور چراغ ———– سعدیہ بشیر

0

تاریخ گواہ ہے کہ انسان نے جب بھی روشنی، گرمی اور حرارت کے لیے آگ جلائی تو خود کو اس آگ سے محفوظ رکھنے کی بھی ہر ممکن کوشش کی۔ لیکن چراغ کا دھواں ایک اٹل حقیقت ہے۔ اب صورت حال یوں ہے کہ چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی حقیقی خرد اور بصیرت نہیں مل رہی۔ ایڈیٹنگ کی دنیا میں اتنا انقلاب آیا کہ فرانزک کے منصفوں نے بے اعتنائی سے اعلان کر دیا کہ وہ آواز اور صورت پہچاننے سے قاصر ہیں۔ شاید ان کی خواہش ہو کہ کوئی پرچی پر لکھ کر مجرم کا نام دے دے اور وہ الزام کے وار روک سکیں۔ یہ چلن رفتہ رفتہ جدت کا حسن کہلانے لگا۔ دکان دار نہیں جانتا مہنگائی کیسے ہوئی کیونکہ دکان کے اندر رکھے آئیٹم پر اسے کتنی ہی بار کاٹ کر نئی پرچی چپکانا پڑتی ہے۔ سیاست دان دو آنکھوں سے آخر کتنا دیکھ سکتا ہے؟ ضمیر کی تیسری آنکھ نا پید ہے۔ غیر فطری نشوونما ناجائز تعلقات کی طرح چھپ چھپ کر پھیلتی ہی جا رہی ہے۔ روشنی کے منبع اپنی شکل و صورت کی تزئین و آرائش میں اس تواتر سے مشغول رہنے لگے ہیں کہ قدرتی ذرائع سے بھروسا ہی اٹھ گیا۔ ایک جراغ نے دوسرے چراغ سے کہا کہ یہ ساری روشنی ہماری وجہ ہے۔ اگر ہم اپنے اختیارات کا دائرہ وسیع کریں تو پورا ملک جگمگ جگمگ کرنے لگے گا۔ آخر سب چراغ متحد ہو جائیں تو سورج سے بھی زیادہ روشنی دے سکیں گے۔ شاید یہی سوچ کر انھوں نے سیاست کو چنا۔ اختیارات کا کارخانہ سیاست ہی تو ہے۔ کسی بھی محکمہ یا ادارہ میں چراغ بن جائیے اور عوام کو کولھو میں جوت کر خوب تیل نچوڑیے۔

کتنے ہی محکموں کے چراغ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی عوام کی راکھ سے روشنی پھیلانے کے دعوی دار ہیں لیکن وہ چراغ ہی کیا جو روشنی کا متقاضی ہو۔ بات مہنگائی، کرپشن اور معیشت کی حدود سے کہیں آگے نکل چکی ہے۔ جس ملک میں بھکاری پیٹ بھر کھائے اور حکومت سرکاری ملازمین کو سڑکوں پر خوار کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہو۔ اس کی بدنیتی ڈھکی چھپی نہیں۔ تعلیم میں استاداور شاگرد کا رشتہ ختم اور کم زور کر کے کیا خواہش کی جا رہی ہے۔ ایمرسن کالج کا احتجاج ملک کے کونے کونے میں پھیل چکا ہے۔ سرکاری ملازمین ہر بار دھرنا دے کر امید کے بنا دستخط کاغذ تھامے واپس آ آ جاتے ہیں لیکن حکومت بضد ہے کہ معیشت کے تلوں میں تیل نہیں. لاکھوں کی مد میں تنخواہوں کا ٹھپہ کرپشن، بد دیانتی اور سزا کے عمل سے مدھم نہیں پڑتا جہاں چند لوگ زندگی بھر کی مراعات کا یقین رکھتے ہوں ویاں زومبیز کی تشکیل روکے نہیں رکتی۔ یہ زومبیز ہر زندہ انسان پر چھپٹتے ہیں اور چشم زدن میں ان کے اعضاء نکالے جا رہے ہیں۔ حقوق و فرائض کی لڑائی ڈھول کی تھاپ اور رقص کے مختلف زاویوں کے ساتھ لڑی جا رہی ہے اور دانش ور اس غم میں پھولتے جا رہے ہیں کہ ان کے پس پردہ تجزیے کس قدر تنخواہ دار ہیں۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اب بقا کا نظام آسمان کے ہاتھ نہیں زمیں زادوں کی زنبیل میں ہے۔ حسن کرشمہ ساز ایڈیٹنگ اور الزام سازی کی انڈسٹری بن چکا ہے۔ خبری اور ٹاؤٹ سوشل میڈیا پر گھات لگائے پرزے بکھیر رہے ہیں لیکن خبر تو ہما ہے جسے کبوتر کے روپ میں پیش کیا جا رہا ہے۔

محکمانہ تنخواہوں کے اعدادوشمار پر بے شمار لکھا جا چکا ہے۔ بائیس کروڑ عوام ہر قدم پر ٹیکس دینے کے بعد روزانہ بائیس کروڑ بھی جمع کرنے کے لیے تیار ہے لیکن ہر بار قرض اتارو ملک سنوارو کی تحریک برف پانی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ ظلم یہ ہے کہ دریا، ندی اور چشمے خشک جب کہ گندے نالے بھرتے جا رہے ہیں۔ قاتل صنعت ہر قانون سے بالاتر جانیں لینے کے لیے تیار ہے۔ بھوکی ننگی قوم سڑکوں میلوں ٹھیلوں اور جشن بہاراں کے چراغ جلائے کرونا کے تمام ایس او پیز کو روند کے رقص میں مگن ہے۔ قانون کے سائے تلے ڈور ساز بسنت کے حامی گلے کاٹ کر جشن میں مگن ہیں۔ انھیں اس پر ندامت ہی نہیں کہ لہو مسیحا کا ہے، کسی ننھی کلی یا پھول کا۔ روحانی باپ، قوم کے معمار کا، کسی عالم کا یا پورے خاندان کا!

روم کی آگ پھیل رہی ہے اور نیرو کی بانسری دھواں دیتے چراغوں کے ہاتھ ہے۔ بے حسی کی چادر ایمو جی کے نقش ونگار بنتی چلی جا رہی ہے۔ صاف نظر آرہا ہے کہ حکومت جو جنگ کر رہی ہے وہ علامتی ہے۔ علامتی سزائیں، علامتی جنازے لیکن دکھ درد حقیقی ہیں۔

یہ بات شاید سب کھوٹے سکوں کے ذہن میں بٹھا دی گئی ہے کہ ان کے چلنے کے لیے جس روشنی کی ضرورت ہے وہ عوام کے دل پر پاؤں رکھ کر ہی حاصل کی جا سکتی ہے کیونکہ
یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں: گھر سے باہر نکلنے والی عورت-------- فارینہ الماس
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply