حبس، ایک نام، دو بے مثال مصنفین کے ناول — نعیم الرحمٰن

0

ڈاکٹر حسن منظر اور محمدالیاس اردوکے دوبے مثال افسانہ و ناول نگار ہیں۔ جواسی کی دہائی میں اردو ادب کے منظر پر طلوع ہوئے۔ دونوں نے ’’حبس ‘‘ کے نام سے اردوادب کودوبہترین ناول دیے ہیں۔ ڈاکٹرحسن منظرمارچ 1934ء میں ہاپڑ، اترپردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مرادآباد میں حاصل کی۔ تقسیم کے بعداپنے خاندان کے ساتھ لاہور آگئے۔ جہاں فورمین کرسچین اور اسلامیہ کالج سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا۔ انہوں نے یونیورسٹی آف ایڈمبرا اور راول کالجزآف فزیشنزاینڈ سرجنزسے اعلیٰ طبی اسناد بھی حاصل کیں۔ ملازمت کے سلسلے میں ملایا، انگلینڈ، نائیجیریا اور سعودی عرب میں مقیم رہے اورکئی ممالک کے اسفارکے متنوع تجربات کوانہوں نے اپنی تحریروں میں بڑی خوبصورتی سے برتاہے۔ حسن منظر کراچی میں بطور ماہرِنفسیات پریکٹس کرتے ہیں۔ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’رہائی‘‘ 1982ء میں شائع ہوا۔ اب تک افسانوں کے چھ مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ ’’خاک کارتبہ‘‘ پر مولوی عبدالحق قومی ایوارڈ دیاگیا۔ ’’العاصفہ‘‘، ’’وبا‘‘، ’’دھنی بخش کے بیٹے‘‘، ’’انسان اے انسان‘‘ اور ’’اے فلک ناانصاف‘‘ ناول بھی شائع ہوکر قارئین کی داد حاصل کرچکے ہیں۔

حسن منظرنے ناول’’حبس‘‘ ایک منفرد موضوع پر تحریر کیاہے۔ ایریئل شیرون اسرائیل کاپہلا وزیر دفاع اور گیارہواں وزیراعظم تھا جو ہمیشہ فلسطین کے نام سے جانا جاتاتھا لیکن 1948ء سے ازرے ایئل یعنی اسرائیل کہلانے لگا۔ یہ تبدیلی صرف نام کی نہیں تھی وہاں کی کُل آبادی سے ملک کوخالی کرالینے کے لیے کی گئی تھی۔ یورپ کے سفید یہودیوں کو وہاں لابسانے کایہ کارخیرفلسطینیوں نے نہیں کیاتھا، نہ ان سے پوچھ کر کیا گیا تھا۔ اس کاتمغہ اعزاز پہلے برطانیہ اور اب امریکا کے سینے پرسجاہے۔ ایریئل شیرون خداکامنکر یہودی، روسی ماں باپ کا بیٹا تھا۔ اس کے اپنے پرائے پیٹھ پیچھے اسے بلڈوزر پکارتے۔ اس جسامت اور ذہنیت کے فردکے لیے اس سے بہتر نام دوسرا نہیں ہوسکتا۔ جس کی عادت بلڈنگوں کو ڈھانے اور بے خبر آبادیوں کو کچل ڈالنے کی تھی۔ 18دسمبر 2005ء کو شیرون پر فالج کاحملہ ہوا۔ سترہ دن بعد وہ جس نے فلسطینی بچوں اور بڑوں کا خون بہنے پرکبھی کفِ افسوس نہیں ملا تھا شریان کے پھٹنے سے خوداس کادماغ بے تحاشا خون میں نہا گیا۔ یعنی فالج اور بے ہوشی۔ متعدد اوپریشن ہوئے لیکن ہوش وحواس بحال نہ ہوسکے۔ تل عفیف کے شیبا میڈیکل سینٹر میں اس کی طویل نگہدا شت کی گئی جہاں ہوش مسلسل محو خواب رہنے سے اسے’سویادیو‘ کہا جانے لگا۔ لیکن وہ شخص جو نہتے فلسطینیوں پر شب خون مارتے وقت خوف ناآشنا ہوتا تھا حقیقت میں اپنی غفلت میں بھی تنہا نہیں ہوتاتھا۔ وہاں اس سے ملنے والے کون ہوتے تھے یہ ناول ان برسوں پر پھیلا ہے جب وہ بظاہر گہری غفلت میں تھا، اس کے شب وروزاوراس کے تمام مرئی اور غیرمرئی بن بلائے مہمانوں کی داستان ہے۔ مشہور یہودی ڈچ فلم ڈائریکٹر نے ایرک کو فلسطینی کیمپ کے خوف زدہ بھاگتے بچوں کا شکار اس طرح کرتے دیکھا تھا جس طرح ڈرے ہوئے خرگوشوں کا۔ ان میں دو گھٹنوں پرچلے والے بچے بھی تھے جنہیں اس نے شوٹ کیا۔ یہ خبر ایمسٹرڈیم کے ایک بڑے اخبارمیں چھپی لیکن اس کا نتیجہ وہی نکلا کہ خبر بے بنیاد ہے۔

حسن منظرنے ’’حبس‘‘ کا طویل انتساب کچھ یوں کیاہے۔ ’’1948ء میں مغربی استعمار کے ہاتھوں دربدرکئے گئے فلسطینیوں اور ان کی آزا دی کی انتھک جنگ میں دنیا بھر میں پھیلے ہوئے’ اُن کاساتھ دینے، ہاتھ بٹانے والوں کے نام ‘جن میں عیسائی، یہود، مسلم، دوسرے مذہبوں والے اور مذہب سے علاقہ نہ رکھنے والے، گورے، سیاہ، پیلے اورگیہواں رنگت والے سب ہی ہیں جوجانتے ہیں فلسطینی نہتے ہیں اور ان کا مقابل ٹینکوں، جیٹ فائٹرز اور ایٹمی اسلحہ سے لیس ہے، اور حقیقت میں اس چھوٹے سے ملک کی جنگ کسی بے پاؤں اور بازوکے غاصب اسرائیل سے نہیں، بقول خود دنیاکے سب سے طاقتور ملک اور اس کے حلیفوں سے ہے جن میں تیل کے خزانے پر کنڈل مار کر بیٹھے ہوئے فلسطینوں کے ہم زبان بھی ہیں لیکن انہیں جتنایقین اگلے دن سورج کے نکلنے کاہے اتنا ہی اس کابھی کہ اس جنگ کا انجام بھی آغاز کے دن ہی لکھ دیا گیا تھا۔ ہمیشہ کی طرح غاصب اور استعمارکی شکست۔ خودمیں ہوں نہ ہوں مجھے بھی اگلے سورج نکلنے کا یقین ہے اور سامراج کی پسپائی کا اور تھوڑا بہت اس مخلوق کے نام بھی جو خداکی زمین پرنفرت، فساد پھیلانے اور کمزوروں کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کو اپنی زندگی کا مقصد بناکرزندگی صرف کرتی ہے۔‘‘

اس انتساب میں ناول کے موضوع کا مکمل خاکہ پیش کردیا گیاہے۔ ناول کے پہلے باب’’ٹیڑھی ٹنگی ہوئی تصویریں‘‘ میں بے ہوش پڑا، ایریئل شیرون سوچ رہاہے۔ ’’آج جسم میں کوئی چیزنہیں کاٹ رہی ہے۔ نہ آوازیں ہیں جسم میں جان کی رمق ہے اور فرصت ہی فرصت۔ آرام سے ماضی کالطف لے سکوں گا۔ مرنے کے بعد فرصت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ آج تنگ کرنے والوں سے چھٹکارا ہے اور ای ای جی کے قلم کام کررہے ہیں۔ سامنے تصویر ایک آنکھ کے جنرل کی ہے۔ میرا ملٹری ٹیوٹر ماہرِ آثار قدیمہ اورسب کی طرح تھوڑاساچوربھی۔ چھ روزہ جنگ کے سنیریو کا لیکھک۔ دونوں طرف والوں نے اپنا اپنا پارٹ اسی طرح ادا کیاجس طرح اس نے ذہن میں تیار کیا ہوا تھا۔ سنیریو سے سرمو بھی ہٹ کر نہیں۔‘‘

باب ’’جوئے خوں‘‘ سے یہ خوفناک اقتباس دیکھیں۔ ’’یہ کون سی جگہ ہے جومجھے دکھائی جارہی ہے۔ کٹے ہوئے نرخروں سے خون کی پھنکار کی آوازیں آرہی ہیں۔ دوسری آوازیں رائفلوں کے چلنے کی ہیں۔ عورتوں کے چیخنے کی آوازیں وہاں سے اٹھ رہی ہی۔ انہیں گوشت کاٹنے کے چھروں سے کواشر کیا جارہا ہے۔ ہم نے موت دینے میں بھی یہ خیال رکھاہے کہ مسلمان، مسلمان موت مریں۔ 16ستمبر کی شام کو میرے حکم پرہمارے ٹینکوں نے پناہ گزینوں کی کیمپوں کو سربمہر کر دیا تھا۔ ہینڈگرنیڈزپھٹنے اور رائفلوں کے چلنے کی متواتر آواز اور قصابی کے چھروں کے جسموں میں گھسنے اور باہر نکلنے کی کھس کھس ایک اور کسٹرا ہے جسے میں کنڈکٹ کر رہا تھا۔ ایک آوازمجھ سے کہہ رہی ہے، تمہارے حلیف اب کیمپس میں چلنے کے لیے سوکھی راہ نہیں دیکھ پارہے ہیں۔ انہیں اعضا اور خون پرچلناپڑرہاہے۔ ان اعضامیں مردوں کے اعضا بھی ہیں اور عورتوں کے بھی۔ جسم سے علیحدہ ہوکر وہ کتنے بھیانک لگتے ہیں۔ نہ جنس کی علامت نہ جنس کے اعضا۔ بغیر ریسٹ اڑتیس گھنٹے کی ملٹری ڈیوٹی۔ دوہزارچار سو انسانوں کو ختم کرنا کوئی آسان نہیں تھا۔ کئی شفٹوں میں ہوا ہوگا اور اس کے لیے مارنے والوں کی ڈیوٹیاں کئی بار بدلی گئی ہوں گی۔‘‘

فلسطینی کیمپ میں قتل وخون کابازارشیرون نے کس طرح گرم رکھا اور پھر وہی ایریئل شیرون کئی سال تک بے بسی کی تصویر بنا اسپتال کے بیڈ پرپڑارہا اوراسی عالم میں دنیاسے رخصت ہوگیا۔ یہ بہت عبرت انگیز اور دردناک داستان ہے۔ بستر پر پڑا ایریئل شیرون سوچ رہا ہے۔ ’’میرے چھپے ہوئے خوف نے مجھے قائل کردیاہے کہ وہ وقت آئے گاضرورجب ازرے ائیل نہیں رہے گا۔ ٹھیک ہے نہ رہے مگر مجھے یقین ہے دنیاہمیشہ یادرکھے گی کیسے ایک منفردچھوٹی سی قوم نے دماغ۔ ۔ اور سرمایہ۔ کے بل بوتے پراپنے سے لاکھوں گنی بڑی دنیاکو کنٹرول کیا تھا، ان کے صحیح اور غلط کے معیار کو بدل دیااوریہ اس وجہ سے کہ ہماراخون بے میل ہے۔ مجھ سے اگر پوچھاجائے میں اپنی زندگی کابہترین دورکسے گنتاہوں تو میرا سوال ہوگا، 4جنوری 2006ء سے پہلے کی زندگی کا یا جو اس کے بعد مجھے ملی؟ میراخیال ہے اس تاریخ سے پہلے کی میری زندگی کا ایک ایک دن ازرے ائیل کی ملٹری کی تاریخ کے ہرصفحے پرپڑھا جاسکتا ہے۔ جووہاں نہیں ہے وہ موسادکے ریکورڈ میں محفوظ ہے، لیکن وہاں تک کس کی رسائی ہے! موساد کو قائم کرنا اور دنیا بھر میں رات دن سرگرم عمل رکھنا ہمارا بہت بڑا کارنامہ ہے۔ موسادکی سی مستعدی ہرملک میں، اس سے ہمارے تعلقات ہوں نہ ہوں، کے جی بی اورسی آئی اے کے لیے باعث رشک ہے۔ میں پچھلے تیرہ سال میں ڈوکٹروں کی بیڈسائڈ کونفرنس کا ایک ایک جملہ سن سکتا ہوں، ازرے ایئل کی خبریں مجھ تک پہنچ رہی ہیں۔ ہماری سرحدیں پھیل رہی ہیں اور عربوں کی سکڑتی جارہی ہیں، غزہ والوں کی ذراسی زیادتی کاجواب ہمارے بمباران کے شہروں پر منڈلاکر بھرپور دیتے ہیں۔ اتناکہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری یاوائٹ ہاؤس کے مقیم صدرکو کہنا پڑتا ہے ’یہ غیرمساوی جواب ہے‘۔ ‘‘

تو جو قصہ ھدسہ ہسپتال یاروشلائم کے ایک کمرے سے شروع ہواتھا۔ وہ 11جنوری 2014ء کوایریئل شیرون کی پچیاسی سال کی عمرمیں مو ت پراختتام کوپہنچا۔ دنیاکی رزم گاہ کو چھوڑتے وقت اس کے دونوں بیٹے، گیلاد اور اومری موجود تھے۔ چہیتی بیوی للی پہلے ہی انقلب کے فارم کی ایک قبر میں جاسوئی تھی اور اس کے برابر ایرک بلڈوزر، سوئے دیونے اپنے لیے جگہ رکھوائی تھی۔ گیلادنے اس کے شایان شان الفاظ میںموت کی خبر پریس اور الیکٹرونک میڈیاکو دی۔ ’’وہ اس وقت گیا جب اس نے جانے کافیصلہ کیا۔ ‘‘ایرک بلاشبہ بیسویں اوراکیسویں صدی کی ایک اہم شخصیت تھی۔ جس طرح صفر صدی میں آدم سے پہلے ابلیس کی، جس نے اس دور میں جب دنیاسے نوآبادیاں مغری استعما رکے تسلط سے آزاد ہوتی جارہی تھیں ایک نئی وضع کی کولونی مغرب کی ایما اور مسلسل عسکری اعانت سے قائم کرنے اورقائم رکھنے میں اہم رول ادا کیا۔ موجودہ دور میں اس عظیم دہشت گرد کو اس سے بڑھ کر اعزاز نہیں دیاگیا۔ ایڈولف ہٹلر اس لحاظ سے ہیٹا نصیبہ لے کر دنیا کے اسٹیج پر ابھرا تھا۔

ایرئیل شیرون کے حوالے حسن منظرنے مسئلہ فلسطین اور ان پرہونے والے ظلم واستبداد کو بہت موثر اور دل سوز انداز میں پیش کیا ہے۔ جس کے لیے وہ قارئین اور ناقدین کی بھرپور داد کے حقدارہیں۔
۔ ۔ ۔ ۔

محمد الیاس کاچھٹاناول بھی ’’حبس‘‘ کے نام سے شائع ہواہے۔ وہ ایک گوشہ نشین ادیب ہیں۔ جواپنی تخلیقات میں مصروف رہتے ہیں۔ خاقان ساجد کے مطابق محمد الیاس کے موضوعات کا کینوس بہت وسیع ہے۔ شاید ہی کوئی موضوع ان کے سحرآفریں، دل نشیں، دل ستاں قلم سے بچ سکا ہو۔ انہوں نے ہماری تہذیبی اور سماجی زندگی کی ہر کروٹ اور ہر قوس کو فن کارانہ چابک دستی سے اپنی گرفت میں لیا ہے۔ وہ اسی سرزمین کے باسی اور اسی پر بسنے والے انسانوں کی کلفتیں اور راحتیں بیان کرنے کے خوگر، اپنے کھیتوں، کھلیانوں، دریاؤں، پہاڑوں اور ریگستانوں کے سفیر بن کر اپنے لوگوں کے آدرشوں، انفرادی و اجتماعی رویوں، غموں اور خوشیوں، آسودگیوں اور محرومیوں کی تصویرکشی کرتے ہیں۔ زندگی جن کی رقیب ہے، جو زندگی کے سوتیلے ہیں، محمد الیاس کا قلم بطورِخاص ان بلاد کشوں کا دَم ساز ہے۔

کئی افسانوی مجموعوں کے بعد محمد الیاس کے قلم نے ناول کی جولان گاہ میں قدم رکھا اور یکے بعد دیگرے چھ ناول تحریر کرکے اپنی دھاک بٹھا دی۔ انہوں نے اپنے ناولوں کے نام ہمیشہ مختلف موسموں اوراس کی کیفیات پررکھے ہیں۔ محمد الیاس کا پہلا ناول ’’کہر‘‘ تھا۔ پھر انہوں نے ’’برف‘‘ تحریر کیا۔ ان کا تیسرا ناول ’’بارش‘‘ کے نام سے منصہ شہود پرآیا۔ جس کے بعد انہوں نے تین مزید ناول ’’دھوپ‘‘، ’’پروا‘‘ اور ’’حبس‘‘ بھی تخلیق کیے۔ اردو ادب کے بیشتر قارئین اور ناقدین یہ گلہ کرتے ہیں کہ اردو زبان میں اچھے ناول بہت کم لکھے گئے ہیں۔ اردو کے شاہکار ناولوں کو ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنا جاسکتا ہے۔ مجھے اس نقطہء نظر سے ہمیشہ اختلاف رہا ہے اور میرا دعویٰ ہے کہ اردو زبان کے قارئین اور ناقدین نے کئی اہم اور بڑے ناولوں پر توجہ ہی نہیں دی۔ ان میں محمدالیاس کے تمام ناول بھی شامل ہیں۔ محمد الیاس کے ناولوں
کے موضوعات، کردار، فضا اور کہانی ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں لیکن ان کے بعض پہلو اور مرکزی کرداروں میں کسی حد تک مماثلت نظر آتی ہے۔ ناول نگار کا بنیادی موضوع مذہبی انتہا پسندی کے مختلف روپ، مذہبی اور جاگیرداری سماج کے استبداد کی بیخ کنی اور تمام انسانوں کے درمیان مساوات کاپیغام اور اتحادِ بین المذاہب کی تلقین ہے۔

’’حبس‘‘ اپنے موضوع کے اعتبارسے محمدالیاس کے سابقہ ناولزسے قدرے مختلف ہے۔ اسے انہوں نے یکسرمختلف اسلوب میں تخلیق کیاہے۔ ناول کامرکزی کردار دلدارعالم نرگسیت کا شکارایک ادھیڑعمرخوبصورت شخص ہے۔ جس کی بیوی ریحانہ بیگم ہرلمحہ اس کے صدقے قربان جاتی ہے۔ جبکہ دلدارعالم اپنے کسی ذاتی کام کے لیے بھی اسے زحمت نہیں دیتا۔ دلدارعالم اپنی خودنوشت لکھ رہاہے۔ جواس کی بہوکے ہاتھ لگ جاتی ہے اوروہ اس خود نوشت کوپڑھ رہی ہے۔ دلدار عالم کے گرد گھومتی یہ منفرد روداداسی اندازمیں بیان ہوئی ہے۔ جس کی ابتدا کچھ اس اندازسے ہوتی ہے۔

’’شام کی چائے پی کرریحانہ بیگم ابھی وضوکے لیے اٹھنے والی تھی کہ دلدارعالم نے اندرقدم رکھا۔ وہ جھپ سے بول دی: ’’اسلام وعلیکم! اہلاً و سہلاً مرحبا! آج تودن چھپنے سے پہلے ہی لوٹ آئے۔ چشمِ بددور۔ بندی کوسواگت کے مناسب الفاظ اور آداب نہیں سوجھ رہے۔ دالدار نے نظریں جھکائے رکھیں۔ صرف ’شکریہ‘ کالفظ اداکیا۔ بیگ میں سے پانی کی خالی بوتل نکال کرکچن میں رکھی اورپلٹاہی تھاکہ اطلاعی گھنٹی بج اٹھی۔ وہ فوراً گیٹ کی طرف چل دیا۔ اتنے میں نوشین لاؤنج میں داخل ہوی۔ ریحانہ نے کہا:بہوآج تمہارے سسرخیرسے جلدی تشریف لے آئے ہیں۔ میرے پرس میں بیس بیس روپے کے دوتین نوٹ پڑے ہوں گے۔ کل کام والی کے بچے کوصدقہ خیرات کے طور پردے دینا۔ میں ذرا وضو کر آؤں۔ ریحانہ کے جاتے ہی نوشین نے ایک نظربیگ کودیکھا، جو کھُلا پڑا تھا۔ اندر رکھا لکیر دار پیڈ دکھائی دیا۔ تقریباً چالیس درجے زاویے پر دھرے پیڈ کے اوپر والے دائیں کونے میں چھوٹے سے چوکورکے اندرلکھی تحریرپڑھی گئی۔ ’’نوٹ ان سے ملتے جلتے خیالات کا اظہار ڈائری کے پہلے دوسرے صفحات پرہوچکاہے۔ ‘‘نوشین نے ہاتھ بڑھا کر پیڈ کو انگوٹھے اورانگشتِ شہادت کی گرفت میں لیا۔ ایک نگاہ داخلی دروازے کی جانب ڈالی۔ پیڈا ذرا سا باہر نکال لیا۔ بائیں کونے کے اندرصفحہ نمبر371کے الفاظ اور ہندسے درج تھے۔ تقریباً ڈیڑھ انچ حاشیہ چھوڑکرپوراورق خوش خط لکھاہواتھا۔ متجسس فطرت لڑکی خود کوبازنہ رکھ پائی اور سسر کی تحریر پڑھنے لگی۔ ’’بقول جون ایلیا، میں بھی بہت عجیب ہوں، اتناعجیب ہوں کہ بس، خودکوتباہ کرلیا اور ملال بھی نہیں۔ کشور کا کہناہے کہ میرے گریزنے مارڈالا۔ اُس کوتباہ ہونے کوچھوڑدیااورخودبھی ہوا۔ وہ عورت ذات ہوکر بھی یک طرفہ پیش رفت کرتی رہی۔ باپ کی خاندانی سماجی اورسرکاری حیثیت تو درکنار، ذاتی نسائی اناکوبھی پسِ پشت ڈال دیا۔ لیکن بلم ہرجائی نکلا۔ ذراالتفات نہ کیا۔ اتنی نرگسیت!! اللہ اللہ۔‘‘

یہ دراصل دلدارعالم کی زیرِتحریرخود نوشت تھی۔ جس کا چھوٹا ساحصہ پڑھ کرنوشین مکمل خودنوشت پڑھنے کوبے چین ہوگئی۔ اسے چنددن بعد ہی شوہرکے پاس بیرونِ ملک جانا تھا۔ اس لیے اس محدود وقت میں ہی اسے یہ تحریرحاصل کرنا تھی۔ نوشین نے سسرکے کمرے سے زیرِتحریر مسودہ حاصل کرکے اس کی فوٹو کاپی کرائی اوراسے پڑھناشروع کردیا۔ اس دلچسپ تحریرسے دلدارعالم کی زندگی کے نشیب وفرازکی پردہ کشا ئی ہوتی ہے۔ یوں محمدالیاس نے منفرداسلوب میں داستان کوبیان کیاہے۔ انتہائی حسین وجمیل ماں اوروجیہہ باپ کی محبت آمیزازدواجی رفا قت سے پیداہونے والے دلدار عالم کودلکش نین نقش اوررنگ وروپ عطا کرنے میں قدرت نے بڑی فیاضی سے کام لیاتھا اس پرمستزاد، ناز ونعمت میں پرورش، والدین نے لاڈپیار سے کی تھی۔ بیٹے کوقیمتی سے قیمتی اورجدیدترین لباس پہناکرمیاں بیوی خوش ہوا کرتے۔ ان کی کوشش ہوتی کہ کوئی اورلڑکاان کے بیٹے سے پہلے نیافیشن اپنانے میں پہل نہ کرے۔ دیکھنے والے اسے کوئی رئیس زادہ سمجھتے۔ ضلع دارکی پری چہرہ بیٹی تین چاربرس سے دلدارعالم کے حواسوں پرچھائی ہوئی تھی۔ اس کا دوست وجی شاہ اسے پرستان کی شہرادی کہاکرتاتھا۔ کشور ایم اے پاس کرچکی تھی۔ دلدارکاتعلیمی سلسلہ تھرڈ ایئر میں منقطع ہوگیاتھا۔ وہ عمرمیں اس سے تین سال بڑی، اونچی لمبی بھاری بدن والی گوری چٹی فیشن ایبل لڑکی تھی۔ ضلع دار نے ان کے گھرکے سامنے مکان تعمیرکرلیا تو دونوں خاندانوں کے بھی اچھے مراسم ہوگئے۔ لیکن دونوں ایک دوسرے کوصرف دیکھاکرتے تھے۔ دوسال کے عرصے میں دونوں ایک لفظ بھی نہ بول پائے۔ دونوں ایک وقت پرکالج جاتے اور لوٹتے۔

حسب ِ معمول ناول کاابتدائیہ معنی خیزہے۔ ’’ابتدا، میرے اللہ کے نام سے، جس نے محبت کاجذبہ تخلیق کیا۔ ‘‘اورانتساب ہے۔ ’’قدرت متخِیلّہ کے نام، جس کی کرشمہ سازیوں سے حَبس موسموں میں رم جھم مینہہ برسا اوربادِ صباچلی۔ ‘‘

دلدارعالم پوش ایریا کے جدیدپارک کی بنچ پربیٹھ کرجہاں یادداشتیں لکھتاہے، وہاں امراکے طبقہ سے ہرعمرکے افرادبیٹھے ہوتے ہیں۔ اس کی نشست الگ تھلگ جگہ پرواکنگ ٹریک کے شمال مغربی کونے کے نزدیک ہے۔ کشورسے دوتین گھنٹے کی بے تکلف ماحول میں ہونے والی گفتگو اور ذاتی احساسات رات تک دھندلاجانے کے خیال سے انہیں فوراً لکھ لینے سے حسبِ سابق اسے ذہنی سکون محسوس ہوتا ہے۔ اس اقتباس سے میاں بیوی کے تعلقات کی نوعیت کاعلم ہوتاہے۔

’’صبح ساس نے بہوسے کہا۔ تمہارے سسرتشریف لارہے ہیں۔ کچن خالی کردو، وہ اپناناشتہ بنائیں گے۔ نوشین نے کہا۔ امی جی! میں کیوں نہ بنادوں؟ روزانہ ایک ہی طرح کاناشتہ کرتے ہیں ناں!، ریحانہ بیگم قدرے ناخوشگوارلہجے میں بولیں، ہم تودست بستہ غلام ہیں بی بی! انھیں کسی کے ہاتھ کاکام پسندتوآئے۔ بڑے عالی ظرف ہیں، جوہم سی پھوہڑکے ساتھ زندگی بِتادی۔ اللہ اَجردے۔ کوئی اور ہوتا تھڑ دلامرد توشروع کے دنوں میں ہی، جسے ہنی مون بولتے ہیں، ہم نے توخیرمُون دیکھا، نہ ہَنی چکھا۔ خداجانے کس بَلاکانام ہے۔ بہرکیف اُسی عرصے میں ہم میکے بیٹھے اوپرتلے رجسٹریاں وصول کرچکے ہوتے۔ اتنے میں دلدارعالم سیڑھیاں اترکرلاؤنج میں آیا اور بہو سے بولا۔ بیٹی! اپنی ساس صاحبہ کو تسلی دلاسادو۔ میں ان کا شکر گزار ہوں کہ بڑے حوصلے اورصبرسے ایک ناپسندیدہ شخص کے ساتھ نباہ کیا۔ اب رہ ہی کتنی گئی ہے۔ ریحانہ جھٹ بول پڑی۔ آپ تو بہت عظیم انسان ہیں جی! انتہائی معتبر، دانا، وضع دار، بااصول، باذوق، صفائی پسند، مہذب، سنجیدہ اور باشعور۔ سب سے بڑھ کرکام کرہرکام کرنے کاجوسلیقہ آپ میں ہے، آج تک کسی اورمرد میں دیکھانہ سُنا۔ آپ باخدا آئیڈیل مرد ہیں لیکن ہمارے ساتھ قسمت پھوٹ گئی۔ ہم کسی طورآپ کے قابل نہ تھے۔ خدا لگتی کہنی چاہیے۔ ہم نے آپ کی زندگی برباد کردی۔‘‘

دلدار عالم اردوادب کازندہ جاویدکردارہے۔ جس کی تشکیل محمدالیاس نے بہت پیاراوراحتیاط کے ساتھ کی ہے۔ وہ خود اپنے بارے میں کہتا ہے۔ ’’میں بساط بھرغورکرنے کے باوجودسمجھ نہیں پایاکہ میرا دُکھ اصل میں کیاہے۔ بظاہرکوئی کمی نہیں۔ دستورِ زمانہ اورمروجہ معیارکے مطابق کامیاب انسان ہوں۔ ایساخوش قسمت، جسے بے انتہامحبت کرنے والے، ظاہروباطن سے برابرخوبصورت والدین ملے۔ نازونعمت میں پر ورش ہوئی۔ عنفوان ِ شباب میں جو ابتلا کا دور شروع ہوا، وہ ماں باپ کے ساتھ بے پایاں محبت کے طفیل انتھک جدوجہدکی بدولت کٹ گیا۔ سو فیصد جائزذرائع سے محدود پیمانے پرخوش حالی نصیب ہوئی۔ سلجھی ہوئی تعلیم یافتہ قبول صورت بیوی ملی۔ اولاد میں بظاہر کوئی خامی ہے نہ عیب۔ پُرآسائش ذاتی گھر ہے، مگر روح بے چین، خوابوں اور خیالوں میں ہردم بھٹکتی ہوئی۔ انجانی منزلوںکی جانب پاؤںبے اختیاراٹھتے چلے جاتے ہیں۔ کیا کھوجتا رہتا ہوں، کِسے ڈھونڈنے نکلتاہوں کون ہے وہ؟واہمہ ہے یامیراکوئی رفیق ہمدم کھوگیاہے۔ رشتے ناتوں سے جڑے اپنوں کے ہوتے ہوئے بھری دنیامیں تنہاہونے کااحساس کیوں دامن گیرہے۔ میرے بارے میں عمومی تاثریہی ہے کہ میں بہت مہذب، خوش اخلاق اورشائستہ مزاج انسان ہوں معاشرے نے میری مرضی ومنشاجانے بوجھے بغیرہی مجھے اعلیٰ اوصاف اور حسنِ اخلاق کی اونچی مسند پربٹھادیا۔ اس اَن چاہی شرف یابی نے میری اصلی شخصیت مسخ کرکے رکھ دی۔ کئی بار ہمت بندھائی کہ زمانے کو واشگاف الفاظ میں بتادوںکہ اپنی ذات میں اتناشریف اورمہذب نہیں، جتنامجھے سمجھ لیا گیا ہے۔ صدحیف کہ اس دیرینہ خواہش پرعمل نہ کرپایا۔‘‘

معاشرہ ایک بچے کوغیرمعمولی انداز میں اچھابچہ کہہ کراس کابچپن اورجوانی کیسے چھین لیتاہے۔ یہ دلدارعالم کی شخصیت سے عیاں ہے۔ بیحد نازونعم میں پرورش پانے کے بعددلدارعالم کی زندگی بڑے بحران کاشکارہوجاتی ہے۔ ’’موسمِ گرما کی تعطیلات گھرپرگزارنے کاتجربہ یوں آزمائش ثابت ہواکہ اباجی علیل، اداس اورمایوس نظرآئے۔ کچھ عرصہ سے وہ ضعف بصارت کی شکایت توکرہی رہے تھے اورعلاج بھی جاری تھا مگراب معلوم ہواکہ اباجی کاعارضہ لاعلاج تھااوران کی آنکھوں کی بینائی رفتہ رفتہ زائل ہوسکتی ہے۔ اِلّایہ کہ کوئی معجزہ ہوجائے۔ ابا جی جذبات پرقابونہ رکھ سکے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ افسوس کہ خواب ادھورے رہ گئے۔ تمہاری تعلیم بھی مکمل نہ ہوپائے گی۔ بلکہ گھر کی ذمہ داریوں کابوجھ بھی تمہارے کندھوں پرآن پڑاہے۔ ڈاکٹرسے پوچھنے پراس نے بتایا۔ بیٹا! تم جوان ہو۔ بہادربنو۔ تمہارے والدکوساری بات کھول کربیان کرنے کی ہمت نہ پڑی۔ افسوس اس بیماری کاکہیں علاج نہیں ہوسکتااوربینائی تیزی سے ختم ہونے کاامکان ہے۔ اس عمرمیں معذورہونے کاصدمہ بڑابھاری ہوتاہے اس کوسہنے اورباقی افرادخانہ کوبھی ذہنی طورپرتیارہوناپڑے گا۔‘‘

دلدارعالم نے تعلیم چھوڑکرملازمت شروع کردی۔ ٹائپنگ اورشارٹ ہینڈبھی سیکھی اوربہت محنت سے کام کیا۔ لیکن جس کمپنی میں ملازم تھا اس کی انتظامیہ تبدیل ہونے پرفارغ کردیاگیا توفکرمعاش کے ساتھ تعلیم ادھوری رہ جانے کابھی غم تھا۔ جس سے بھی مشورہ کیا، یہی سننے میں آیاکہ ملک بھرمیں کراچی ہی واحدشہرہے جہاں بیک وقت روزگاراورحصول علم کے مواقع میسر آسکتے ہیں۔ اباجی نے سیٹھی صاحب کا ذکر چھیڑ دیا، جوکراچی میں دوبیٹوں کی معاونت سے ذاتی کاروبار کررہے ہیں۔ بیٹی ڈاؤمیڈیکل کالج کی طالبہ ہے۔ دلدارعالم کراچی سیٹھی صاحب کے ہاں پہنچ گیا اورانہی کے گھر میں رہتے ہوئے ان کے کاروبارمیں عمدگی سے معاونت کرنے لگا۔ ٹائپ، شارٹ ہینڈ کی مہارت کام آئی۔ کچھ عرصہ بعد سیٹھی صاحب خودجاکراس کے والدکوکراچی کے ڈاکٹرز کودکھانے کراچی لے آئے اورعلاج تونہ ہوسکالیکن والدین کی خواہش پرسیٹھی کی بیٹی ریحانہ بیگم سے دلدار کانکاح ہوگیا۔ شادی تین سال بعد ریحانہ کے ایم بی بی ایس کرنے پر ہونا قرار پائی۔ لیکن ایک گھر میں رہتے ہوئے ان کے ازدواجی تعلقات جلد قائم ہوگئے۔

’’حبس‘‘ میں کرداربہت زیادہ نہیں ہیں۔ تاہم محمدالیاس صاحب کی کردارنگاری عروج پرہے۔ دلدارعالم کے کردار کو انہوں نے بہت باریک بینی سے تشکیل دیاہے۔ لیکن ریحانہ بیگم، کشور، دلدارکے والدین، دوست وجی شاہ سیٹھی کے کردار بھی اپنی جگہ عمدگی سے تشکیل دیے گئے ہیں۔ ’’حبس‘‘ کا شمار بھی محمدالیاس کے دوسرے پانچ ناولز کی طرح اردوکے بہترین ناولوں میں کیاجائے گا۔ دورِحاضر کے دوبڑے قلم کاروں ڈاکٹرحسن منظر اور محمد الیاس نے ’’حبس ‘‘ کے ایک ہی نام سے اردوادب کو دو بہترین ناولز کا تحفہ دیاہے۔ جس کے لیے دونوںقارئین کی جانب سے بھرپور داد کے حقدار ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply