گھر سے باہر نکلنے والی عورت —- فارینہ الماس

0

”جب دکھ جھیلنے پڑیں تو پتہ ہے سب سے ذیادہ تکلیف دہ شے کیا ہوتی ہے؟ گزرے وقت کے خوش کن اور بے فکر دنوں کی یاد“ مجھے مسز ذیشان کی اس بات نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ یاد آیا کہ بچپن میں جب میں عید تہوار یا کسی اور خاص دن پر کسی چھوٹی سی خواہش کے پورا نہ ہونے پر ناراض ہوکر کمرے میں خود کو بند کرلیا کرتی تھی تو اماں مجھے منانے کو کہا کرتیں ”اپنی خوشیوں کو چھوٹی چھوٹی رنجشوں کا گرہن لگنے نہ دیا کرو۔ کیونکہ بچپنے کی خوشیاں بہت انمول ہوتی ہیں۔ جیسے جیسے زندگی آگے بڑھتی ہے، خوشیوں کا منہ دیکھنے کے لئے بہت سی آزمائشوں اور مصائب کے دریا عبور کرنا پڑتے ہیں۔“

مسز ذیشان بظاہر تو بہت مطمئن اور پر سکون دکھائی دیتی تھیں۔ ان کی زندگی نے اپنے دامن میں کیا کیا دکھ چھپا رکھے تھے کبھی شبہ ہونے ہی نہیں دیا۔ انہیں ملازمت کی خاصی دقت رہتی تھی کیونکہ ان کے گھر اور اس پرائیویٹ سکول کے درمیاں اچھا خاصا فاصلہ تھا۔ صبح سویرے گھر سے نکلتیں، دو بسیں بدل کر سکول پہنچتیں اور برق رفتاری سے دفتر کی طرف لپکا کرتیں کہ اپنی آمد کی دفتری اطلاع تحریر کرسکیں۔ مسلسل تین دن کی تاخیر ایک دن کی تنخواہ کٹوانے کا باعث بن سکتی تھی۔ عجلت کا کچھ یہی حال واپسی پر بھی رہا کرتا۔ ہمیں ایک شادی شدہ عورت کی زندگی کے مسائل کا کیا ادراک ہو سکتا تھا، ہمارے لئے تو ملازمت ایک اچھی وقت گزاری کا ذریعہ تھی۔ اس لئے ان کی اس بھاگ دوڑ کا تمسخر بڑی آسانی سے اڑایا کرتے اور کہتے، ”انہیں کیا پڑی ہے خود کو ایسے جوکھم میں ڈالنے کی، گھر کیوں نہیں بیٹھ رہتیں اپنے بچوں کے پاس۔“

اس دن وہ بتانے لگیں کہ انہیں کیوں اس ملازمت کی اشد ضرورت ہے۔ ایک بے وجہ سا رنج یکدم ان کی آنکھوں کو دھندلانے لگا۔ ”جب ہم خوش ہوتے ہیں تو پوری فتح مندی اور لاپروائی سے زندگی بسر کرتے ہیں۔ جب دکھ بھگتنے کا وقت آجائے تو اس دکھ سے کہیں ذیادہ، گزرے ہوئے لمحوں کی یاد اک ٹیس بن جاتی ہے۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب نہ خوشیاں اہم رہتی ہیں اور نا دکھ۔ زندگی بنا کچھ محسوس کئے جینے کا قرض ادا کرنے لگتی ہے۔ اس کے پاس اور کوئی راستہ رہتا ہی نہیں“۔ وہ کچھ توقف کے بعد پھر گویا ہوئیں ”ہم گزری ہوئی سنہری یادوں میں کھوئے رہ کر بھی وقت گزاری کر سکتے ہیں لیکن اس سے ذہن اور روح دونوں ہی مر جاتے ہیں۔ پھر ان کا کیا کیا جائے، جن کی زندگی ہماری ہمت اور طاقت کی محتاج ہوتی ہے؟“

اس دن پہلی بار مسز ذیشان نے اپنی زندگی کا دکھ بیان کیا۔ ان کی شادی ایک اچھے کھاتے پیتے گھرانے میں ہوئی۔ ان کے شوہر دبئی میں ایک اچھی ملازمت کر رہے تھے۔ وہ خود بھی شادی سے پہلے گورنمنٹ ملازمت کرتی تھیں۔ شادی کے بعد تین بچے ہوگئے تو سسرال والوں نے انہیں یہ ملازمت ترک کر دینے کا مشورہ دے دیا۔ گو کہ شوہر کی طرف سے کوئی دباؤ نہ تھا لیکن انہوں نے سب کی رائے کو بہتر جانتے ہوئے ملازمت چھوڑ کر گھر پر بچوں کی پرورش کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ بتانے لگیں۔ ”ملازمت ترک کردینے کے تقریباً دوسال بعد میرے میاں پاکستان آئے تو انہوں نے گھر میں ایک بہت بڑی دعوت رکھنے کا ارادہ کیا۔ اسی سلسلے میں وہ شہر سے باہر اپنے کچھ رشتے داروں کو دعوت دینے گئے۔ لیکن۔۔۔۔ واپسی پر۔۔۔ راستے میں ان کی گاڑی کو حادثہ پیش آگیا۔۔۔۔۔“ مسز ذیشان کی آنکھوں میں زندگی کا کرب تیرنے لگا۔ ”یہ حادثہ ہم پر ایک قیامت بن کر ٹوٹا۔۔۔ یہ ایک ہی قیامت نہ تھی کہ ہم سے ہمارا سائبان چھن گیا بلکہ اس سے بھی بڑی قیامت اس وقت برپا ہوئی جب دو چار سال کے اندر سبھی جمع پونجی صرف ہوجانے کے بعد میرے گھر اور سسرال میں کسی نے بھی ہماری کفالت کا ذمہ نہ اٹھایا۔ ماں باپ تھے ہی نہیں جو میرا احساس کرتے۔ سسرال والے تو یوں بدل گئے جیسے ہمیں جانتے ہی نہ ہوں۔ الٹا جیٹھ صاحب کی نظروں کی گندگی نے میرا جینا حرام کررکھا تھا۔ اس وقت مجھے اپنی اچھی خاصی ملازمت ترک کر دینے کا شدید رنج ہوا لیکن کیا ہو سکتا تھا۔ میں چپ چاپ اپنے بچوں کو لے کر علیحدہ کرائے کے مکان میں آبیٹھی۔ یہ اتنا آسان نہیں تھا لیکن اس فیصلے نے مجھے بہت بہادر بنا دیا۔ پھر اللہ نے ساتھ دیا اور بہت تلاش کے بعد یہ ملازمت مل گئی۔ اب تکلیف تو ہے لیکن مطمئن ہوں کہ اپنے بچوں کا سہارا بن گئی ہوں۔“ یہ سب سن کر مجھے احسا س ہوا کہ عورت کا معاشی طور پر مضبوط ہونا کس قدر ضروری ہے۔ خود کو اور اپنی عزت و ناموس کو اس سفاک معاشرے سے بچانے کے لئے۔

زندگی میں انسان کو کئی کردار نبھانے پڑتے ہیں۔ کبھی خود کے لئے سب کچھ اپنا آپ ہوتا ہے اور کبھی خود کو بھلا کر سب کے لئے سبھی کچھ کرنا پڑتا ہے۔ عورت کا مرد کی جگہ پر آنا، باہر نکلنا، ملازمت کر نا، یہ سب وہ کسی مقابلہ بازی میں یا مرد کو نیچا دکھانے کو نہیں کرتی بلکہ (سوائے کچھ مثالوں کے) وہ یہ اپنی مجبوریوں کو نبھانے کے لئے کر رہی ہے۔ ایسی انگنت مثالیں ہیں جن میں بیوی کو اولاد پیدا نہ کرپانے کی پاداش میں، یا محض بیٹیاں پیدا کرنے کی سزا میں ہاتھ میں طلاق پکڑا دی جاتی ہے۔ ایسی بھی مثالیں ہیں کہ اکلوتا بھائی ماں باپ کی جمع پونجی سے پڑھ لکھ کر یورپ اعلیٰ تعلیم کے لئے گیا اور پھر وہیں کا ہو رہا۔ چند سال خرچ بھیج کر اس ذمہ داری سے بھی سبکدوش ہو گیا اور اب بوڑھے والدین کا خرچ کماؤ بیٹیاں اٹھا رہی ہیں۔

سوچتی ہوں جو خواتین پڑھی لکھی نہیں ان کے لئے کس قدر مشکل ہے ایسے حالات سے نپٹنا۔
جیسے گھروں میں کام کرنے والی ملازمائیں۔ ۔ ۔ ۔
میں گھر میں کام کرنے والی ملازمہ کی آئے روز کی چھٹیوں سے اکثر خائف رہتی ہوں۔ مجھے غصہ بھی آتا ہے جب وہ بتائے بغیر غائب ہو جاتی ہے۔ دو مرتبہ وہ اپنا سازو سامان اٹھا کر بنا اطلاع کئے گاؤں چلی گئی اور دونوں بار دوچار ماہ گاؤں میں ٹھہرنے کے بعد واپس آگئی۔ دل تو نہیں مانتا تھا کہ اسے پھر سے کام دیا جائے لیکن وہ بضد رہی کہ اسے کام پر رکھ لوں۔ مجھے محسو س ہوتا ہے کہ یہ گھروں میں کام کرنے والی عورتیں بہت شاطر ہوتی ہیں۔ یہ ہماری شرافت اور انسانیت کا بھرکس نکال دیتی ہیں۔ ہم ان کی تمام تر چالاکیوں کے باوجود پھر سے ان کے نرغے میں آجاتے ہیں۔ لیکن پھر میں سوچتی ہوں کہ اپنی انا، خودپرستی، اپنی خود ساختہ عقل مندی، تعصب و رعونت کی دیواروں کی درزوں سے جھانک کر، اپنے انفرادی احساس سے باہر ایک مجموعی انسانی احساس کی نظر سے دوسروں کو دیکھا جائے تو بہت سے ایسے لوگ جو ہمارے لئے قابل نفرت ہیں وہ قابل رحم دکھائی دینے لگیں گے۔ کام والی اس دن بتا رہی تھی کہ ”اس کا شوہر پرلے درجے کا ہڈ حرام ہے۔ کوئی کام کاج ہی نہیں کرتا۔ زندگی کو سگریٹ کے دھوئیں میں اڑانا اور کبھی کبھار کا نشہ کرلینا ہی اس کی زندگی کا مقصد ہے۔ وہ تن تنہا پانچ بچے پال رہی ہے۔ بڑی بیٹی بیاہنے کے لائق ہو گئی ہے۔ ایک بیٹا مستقل کسی بیماری کا شکار ہے وہ اور ان کے علاوہ تین بچے۔ ان پانچوں کو تین وقت روٹی چاہئے۔ تن ڈھانپنے کو کپڑا چاہئے۔ وہ اپنے بچوں کو جیسے تیسے پڑھا نابھی چاہتی ہے۔ وہ حتی الامکان کوشش کررہی ہے کہ زندگی سے مایوس اور بیزار نہ ہو۔ وہ ہاتھ پاؤں ماررہی ہے کہ اس کے بچے بھی عام انسانی بچے دکھائی دیں۔ اس دنیا اور زندگی کا بھرم ان کی نظروں میں قائم رہے۔ ”باجی میرا میاں سنتا ہی نہیں۔ اسے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ بچے بھوکے سوئیں یا بیمار پڑجائیں۔ وہ لاتعلق ہی رہتا ہے۔ دو بار معافی تلافی کے بعد گھر لے گیا کہ اس بار سب کا خرچہ اٹھائے گا لیکن کچھ بھی نہ ہوا اور ہم پھر سے سازو سامان اٹھا کر شہر آگئے۔ مکان کا کرایہ ہے، بجلی گیس کے بل ہیں، بچوں کی فیسیں ہیں، مہینے بھر کا راشن پانی، بچے کے علاج کا خرچہ۔ اور تو اور خود اس کا خرچ بھی مجھے ہی اٹھانا ہے۔“ وہ گھروں کا کام کر کے یہ سب کیسے پورا کرتی تھی اس سے کہیں ذیادہ مجھے تکلیف تھی کہ اپنے شوہر کا خرچ کیوں اٹھارہی تھی۔ ”تو چھٹکارہ کیوں نہیں پا لیتی ایسے مرد سے۔ چھوڑ دے اسے طلاق لے لے۔“ ”نہ باجی نہ طلاق لے کے کیا کروں گی میرے بچوں کو کونسا نیا پیو مل جانا ہے۔ ہاں اپنے پیو کا نام تو سب کو فخر سے بتاتے ہیں نا اور پھر میری بھی عزت ڈھکی رہتی ہے۔“ عورت کو اپنی عزت ڈھکنے کے لئے کن کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے یہ احساس بہت تکلیف دہ ہے۔

عورت کا باہر نکل کر کام کرنا اتنا آسان نہیں۔ اسے محنت بھی کرنا ہے اور اپنی اخلاقی قدروں کی ہر حال میں پاسداری بھی۔ اسے اپنی عزت نفس کو بھی بچانا ہے اور خاندان کے نام مرتبے کو بھی۔ باہر نکل کر کام کرنے میں اسے بڑی قربانی دینی پڑتی ہے۔ اپنی صنفی نزاکت اور جھجھک کے دریا کو بھی عبور کرنا ہے تاکہ خود اپنا دفاع کر سکے اور کسی کی حرص و طمع کا نشانہ نہ بن سکے۔ اس کوشش میں وہ اپنا لا ابالی پن اور فطرتی نازکی و لطافت کو کھو بیٹھتی ہے۔ وہ کرخت ہو جاتی ہے۔ وہ سارے وقتوں، سارے جذبوں سے لطف اندوز ہونے سے محروم رہ جاتی ہے۔ اس کی سوچ اور فکر بٹ جاتی ہے۔

گزشتہ سال کے وبائی حالات میں گھر بھر کی کفالت کرتے مردوں کو جس قدر حوصلہ شکن حالات کا سامنا ہوا یہ بہت دل دہلا دینے والی حقیقت ہے۔ لیکن اس حقیقت کا بھی اعتراف کرنا ہوگا کہ خواتین نے ایسے حالات کو سنبھالا دینے میں اپنا کردار ادا کیاہے۔ گھروں میں رہ کر یا گھر سے باہر نکل کر انہوں نے معاشی ذمہ داریوں کو اٹھانے میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ میں ایسی بھی خواتین کو جانتی ہوں جو شوہر کی ملازمت چلے جانے سے کسی قسم کا شکوہ کئے بغیر خود روزگار کی تلاش میں نکل پڑیں۔

مجھے آج تک اپنے اردگرد ایسی عورت دکھائی نہیں دی جو محض اپنی عیاشی کے لئے ملازمت کر رہی ہے۔ یا جس نے اپنے کیرئیر کو بچانے کے لئے اپنی خانگی زندگی کو تیاگ دیا ہو۔ ہوتی ہیں سو میں سے دوچار ایسی مثالیں بھی۔ جو کچھ خواتین کو قابل نفرت بنا دیتی ہیں۔ ایسی کئی جسم فروش اور بھک منگتی عورتیں بھی ہیں جو آپ کے لئے قابل نفرت ہوں۔ لیکن باہر نکلنے والی ہر عورت کو حرافہ کا نام دینا کہاں کا انصاف ہے۔ آپ کیسے یہ کہہ سکتے ہیں کہ عورت گھر کی چار دیواری میں رہے۔ اگر ایک طلاق یافتہ یا بیوہ اپنی بچیوں کو سوتیلے باپ یا دیور جیٹھ کی گندی نظروں سے بچانے کے لئے ان کی کفالت عزت سے کرنا چاہتی ہے تو اس میں کیا قباحت ہے۔ اگر گھر سے نکلتے ہوئے اس کے ہاتھ میں اس کے بیمار ماں باپ یا بیمار بھائی یا بہن کے مہنگے ڈاکٹری نسخے، یا گھر کے بل اور راشن کی فہرست تھما دی گئی ہے تو اس میں اس کا کیا قصور۔ کیا پتہ وہ اپنے معذور شوہر کا بازو بننے یا اپنے بچوں کا دانا دنکا چننے نکلی ہو۔

زندگی مرد اور عورت دونوں ہی کے لئے تاش کے پتوں کا وہ جوا ہے جو کبھی ہم جیت جاتے ہیں اور کبھی ہار جاتے ہیں۔ اسے عزت سے جینے کے لئے دونوں ہی کو تگ و دو کرنا پڑتی ہے۔ کبھی مرد کو اپنی ذمے داریاں نبھانے کے ساتھ ساتھ عورت کی طرح اور کبھی عورت کو مرد کی طرح بھی جینا پڑتا ہے۔ باہر نکلنے والی عورت کو گالی نہ دیں اسے رستہ دیں وہ نہیں چاہتی کہ اس کی کوششوں اور قربانیوں کے لئے اسے سراہا جائے۔ اس کا تقاضہ یہ بھی نہیں کہ اس کی صلاحیتوں کو تسلیم کیا جائے۔ تقاضہ بس اتنا ہے کہ اسے زندگی کا دائرہ مکمل کرنے کے لئے سفر کی آسانیاں دی جائیں۔ اپنے صنفی و انائی تعصب کے ذاتی احساس کو بالائے طاق رکھ کر اس کے مسائل کو اجتماعی انسانی احساس کے ساتھ محسوس کریں تو شاید اس کی زندگی کی کئی الجھنیں، سلجھنے لگیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply