حقوق نسواں مغرب کا لالی پاپ —- مہوش خان، جرمنی

0

ویلنٹائن ڈے، فادرز ڈے مدرزڈے سے چلڈرن ڈے اور وومنز ڈے، یہ مغرب کی طرف سے وہ لولی پوپ ہے اپنی عوام کے لئے جو سال میں ایک دن سب کو دیا جاتا ہے۔

ان ہی دنوں میں جو شاید سب سے اہم اور بھرپور طریقے سے اب ہمارے ملکوں میں بھی منایا جانے لگا ہے وہ ہے وومنز ڈے مطلب عورتوں کا دن جسے حقوق نسواں کا دن بھی کہا جاتا ہے تو سب سے پہلے تو یہ دیکھتے ہیں کہ یہ لفظ ہے کیا ”حقوق نسواں”

نسواں کا لفظ نساء سے ہے جو کہ قرآن میں نہ صرف ایک پوری سورت کا نام ہے بلکہ عورتوں کے حقوق پر ایک پوری سورت ہے۔

تو پھر ہم کیسے اپنی آج کی مسلمان عورت کو اپنے ہی دین کے خلاف کھڑا کر سکتے ہیں؟

وہ دین جس نے ایک عورت کو جینے کا حق دیا، عورت کو وراثت میں حصہ دیا، گواہی کا حق دیا، حق مہر دیا گھر سے نکل کر زمانے کی گردش میں پھنسنے سے محفوظ رکھا، گھر کا سکوں دیا، امت کی نسل کی تربیت کی ذمہ داری ڈالی۔

اسلام نے عورت کو پیدائش سے لے کر موت تک کے تمام حقوق دیئے، وہ جس کو پیدا ہوتے ہی زمین میں زندہ گاڑھ دیا جاتا تھا، وہ عورت کے جس کو شوہر کی موت پر ستی کر دیا جاتا تھا، وہ عورت کہ جسے ایک کھلونا بنا کر اس کی زندگی کو تماشا بنا دیا گیا تھا نہ اسے بساتے نہ ہی پوری طرح الگ کرتے تھے۔

آج ہم مسلم ممالک کی مسلمان عورتوں کو مغربی ممالک کی یہی لولی پوپ دینے کی کوششوں میں ہیں کہ آج مغرب میں عورت کا وہ مقام رہا نہ ہی وہ خاندانی نظام۔

عورت کو مرد کے برابر کھڑا کر کے اسے ان تمام نسوانی حقوق سے محروم کردیا گیا جس کی کہ وہ حقدار تھی۔

اگر عورت کو مرد کی برابری کرنے سے سکون ملتا تو آج مغرب کے ترقی یافتہ ملک کے عورت یوں بے بسی کی تصویر نہ بنی کھڑی ہوتی کہ مرد کی وحشت کی بھینٹ چڑھ کر اپنے ہی معصوم بچے کو اس دنیا میں آنکھ کھولنے کا حق ہی نہیں دیتی، کیونکہ وہ اکیلا بچہ پالنے سے گھبراتی ہے، اس کی ذمہ داریاں اٹھانے سے ہچکچاتی ہے۔ یہاں تقریبا ہر عورت کے پیچھے ایک ہی کہانی ہے ہر دوسری عورت طلاق یافتہ ہے، ایک عورت کئ مردوں کے بچے لے کر گھوم رہی ہوتی ہے۔ مرد کی برابری کی لولی پوپ نے اسے کہیں کا نہیں۔ یہاں کا مرد نہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی اسے وہ حقوق دینا چاہتا ہے کہ جس کی وہ حقدار تھی۔

آج کی مغربی عورت، عورت ہو کر مرد کا کردار نبھانے سے عاجز آ چکی ہے وہ تھک چکی ہے۔ اب وہ بھی چاہتی ہے کہ اپنی نانی دادی کی طرح گھر کا سکون پائے اپنے بچے پیدا کرے اور شوہر کی کمائی کھائے۔

مگر آپ شاید بہت دیر ہو چکی ہے کہ عورت کو مرد کے برابر کھڑا کرنے کا جو فریب ان کو دیا گیا تھا وہ انتہائی کربناک ہے۔

جب کہ ہماری مسلمان عورت کے لئے اسلام میں مرد کو کہیں باپ کے روپ میں تو کہیں بھائی کے روپ میں، کہیں شوہر کے روپ میں اور کہیں بیٹے کے روپ میں ڈھال بنایا گیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ آج مغرب کی عورت مشرقی عورت کی طرح گھر کا سکون چاہتی ہے جبکہ مشرقی عورت مغربی عورت کی طرح مرد کی برابری۔

یہ بھی پڑھیں: پاپولر فیمنزم : فیشن و سیکس انڈسٹری کا آلہ کار--------- وحید مراد
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply