میں امریکی شہری ہوں مگر فیمنسٹ ہرگز نہیں — ثانیہ صوفی

0

اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ فیمنسٹ تحریک کا نقطہ نظر آفاقی ہے جو امریکہ سے لیکر جاپان تک تمام خواتین پر لاگو ہوتا ہے لیکن میرے مطالعات اور مشاہدات اسکے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔ امریکہ میں فیمنزم کے نام پر جو تحریک سامنے آئی اس میں سفید فام خواتین کے علاوہ دیگر شامل نہیں تھیں۔ بل ہکس (Bell Hooks) ایک سوشل ایکٹوسٹ ہیں جنہوں نے سفید فام فیمنزم پر کافی کچھ لکھا ہے اور بتایا ہے کہ بیسویں صدی کے نسائی ادب میں سیاہ فام خواتین کے جذبات، ا حساسات و تجربات کیلئے کوئی جگہ نظر نہیں آتی۔ اس تحریک نے سفید فام خواتین کو حقوق کیلئے اٹھ کھڑے ہونے کی ترغیب دی لیکن سیاہ فام خواتین کےتلخ تجربات اور مشکلات کیلئے آواز اٹھانے میں بری طرح ناکام رہی۔

فیمنسٹ تحریک، سیاہ فام اور مسلم خواتین کے مسائل کی بات کیوں نہیں کرتی؟

زیادہ تر نسائی ماہرین یہ فرض کر لیتے ہیں کہ سیاہ فام خواتین کو جن مسائل کا سامنا ہے انکی وجوہات صرف نسل پرستانہ تصورات میں پوشیدہ ہیں نہ کہ جنسی تعصب (Sexism) میں۔ جس طرح پدرسری نظام معاشرت کے مفروضے سے سفید فام عورت کی اصل حیثیت کا تعین نہیں ہوتا اسی طرح محض نسل پرستانہ معاشرتی تشکیل سے سیاہ فام عورت کی صحیح تصویر بھی سامنے نہیں آتی۔ نسل پرستی اور جنس تعصب کے معاملات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ امریکہ میں کچھ فیمنسٹ تنظیموں نے سیاہ فام عورتوں کو بھی اپنی جدوجہد میں شامل کیا تاہم وہ ان مسائل کے بارے میں بالکل خاموش رہیں جو نسل پرستی کا نتیجہ تھے۔

امریکہ نسائی تحریک کا مضبوط گڑھ ہے لیکن اسکے باوجود نائن الیون کے بعد ایک امریکی پاکستانی مسلمان عورت کی حیثیت سے میں اپنے ساتھ پیش آنے والے اسلاموفوبیائی سلوک کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ امریکہ میں نسائی تحریک کی طرف سے میری جیسی مسلم اقلیتی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی ہزاروں خواتین کے تجربات واحساسات کو نظر انداز کرنا ایک بہت بڑی منافقت ہے۔ میں نسائی تحریک کا جب یہ منافقانہ عمل دیکھتی ہوں تو اسکے قریب سے بھی گزرنے کی کوشش نہیں کرتی کیونکہ یہ جنس تعصب کے خلاف آواز بلند کرنے کی تو چمئین ہے لیکن نسل پرستی اور مسلم دشمنی کے خلاف اسکی آنکھ بالکل بند ہے۔ سفید فام فیمنسٹ خواتین مساجنی Misogany سے ذلت اٹھانے کا جس قدر شور مچاتی ہیں اس سے کہیں زیادہ نفرت انگیز تجربات سے عرب اور جنوبی ایشیائی مسلم خواتین کو گزرنا پڑتا ہے۔ میں ایسی تحریک میں شمولیت کیوں اختیار کروں جو اپنے ملک کے شہریوں کے تاریخ، ثقافت، مسائل اور جدوجہد کو سمجھنے سے قاصر ہے، جس کی موجودگی میں ہمارے اوپر غیر مہذب، پسماندہ اور گنوار ہونے کے لیبل لگائے جاتے ہیں اور جسکا مقصد صرف مراعات یافتہ طبقے سے تعلق رکھنے والی سفید فام خواتین کی خدمت کرنا ہے۔

فیمنزم کی تحریک یہ تاثر دیتی ہےکہ دنیا کی ہر عورت کیلئے یہ ایک ناگزیر چیز ہے۔ یہ بات شاید ترقی یافتہ دنیا میں کسی حد تک درست ہو جہاں نہ جنگ کا کوئی خوف ہے اور نہ رہائش، پانی، خوراک، بجلی، گیس اور دیگر بنیادی سہولیات کے تعطل کا کوئی خدشہ، ہر کسی کو ان تک رسائی حاصل ہے۔ لیکن دنیا کے وہ حصے جہاں خواتین کی آنکھوں کے سامنے انکے خاندان کے پیارے ہر روز جہازوں اور ڈرونز حملوں میں ہلاک ہوتے ہیں انکا مراعات یافتہ طبقات کے ان چونچلوں سے کوئی کام نہیں۔ مغربی نقطہ نظر کی مرکزیت کو فروغ دینے والی فیمنسٹ تحریک کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ دنیا بھر میں ظلم کے خلاف چلنے والی تحریکیں اسکا حصہ ہیں لیکن جب آپ امریکہ سے باہر سفر کرتے ہیں تو خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں کہ اس دعوے میں کوئی حقیقت نہیں۔

یونیورسٹیز میں ابھرتے ہوئے وومن اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹس کو بھی فیمنزم کے مقاصد کی فتح قرار دیا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر ان شعبہ جات کا تعلق مفید علم اور تعلیم کی ترویج سے ہوتا تو تمام خواتین کو ان تک رسائی دی جاتی اور مستفید ہونے کا موقع فراہم کیا جاتا۔ ان اداروں میں ہونے والے کام کا تعلق صرف اشرافیہ کی خواتین سے ہے جو کالج اور یونیورسٹی جاتی ہیں، اسکا عام زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین سے کوئی تعلق نہیں۔ مثال کے طور پر سڑک پر پیدل چلنے والا کوئی مرد یا خاتون فیمنزم سے واقف نہیں کیونکہ یہ تحریک انکے مسائل کی بات نہیں کرتی۔ فیمنسٹ تحریک تک صرف کالج اور یونیورسٹی کی خواتین کی رسائی کوجنسی تعصب کے خلاف فتح کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔ فیمنزم کی آئیڈیالوجی صرف دنیا کے غالب طبقات کیلئے مخصوص ہے، اگر یہ جنسی تعصب کے خلاف تحریک ہوتی تو دنیا بھرکے تمام طبقات، مذاہب، رنگ، نسل سے تعلق رکھنے والے متاثرین کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرتی۔

فیمنسٹ تحریک نوآبادیاتی جنگ کی آلہ کار:

پچھلی صدی سے مغربی طاقتوں نے زندگی کے ہر شعبے میں غلبہ حاصل کر لیا ہے۔ سرمایہ دارانہ اور نوآبادیاتی نظام کی پشت پر قانون، قوت اور طرز حکمرانی کی جو حکمت عملی کارفرما تھی وہ آج بھی اسی طرح موجود ہے۔ مغرب کی کوکھ سے جنم لینے والی نسائی تحریک بھی سامراج کی طرح مشرق کو آمریت پسندانہ اور مستشرقانہ عینک سے دیکھتی ہے اس لئے فیمنزم کی جدوجہد کو بھی موجودہ دور کی پاور اسٹرگل کے توازن اور عدم توازن کے ساتھ جانچنا چاہیے۔ آخر وہ کونسی طاقتیں ہیں جو دنیا بھر کو ڈکٹیٹ کرتی ہیں کہ فیمنزم کیا ہے؟ اور کیوں ضروری ہے؟ آخر دنیا بھر کی مذہبی، روایتی اور علاقائی ثقافتوں و معاشروں کے اخلاق اور اصولوں کو مغربی اقدار کی لاٹھی سے کیوں ہانکا جاتا ہے؟

دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا جائزہ بھی فیمنسٹ ڈسکورس کو جدید دور کے سامراج کے آلہ کار کے طور پر دیکھتا ہے۔ امریکہ اور اسکے اتحادی، آمرانہ و استبدادی حکمرانی کے خلاف مزاحمت کرنے والی قوموں پر جنگیں مسلط کرتے ہیں اور جب جدیداسلحے کے زور پر مزاحمت کچلنے میں ناکام ہوتے ہیں تو لوگوں کے اذہان اور دلوں پر تسلط حاصل کرنے کیلئے ثقافتی جنگ شروع کر دیتے ہیں۔ حقوق انسانی کی تنظیمیں اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف، ورلڈ بینک وغیرہ)، خدمت خلق اور تعلیم کے نام پر کام کرنے والی آرگنائزیشنز (یو ایس ایڈ اور دیگر ڈونرز) سامراجی نظام کے ہرکارے کے طور پر کام کرتے ہیں۔ نائن الیون کے بعد سے تمام مغربی ادارے، تحریکیں و تنظیمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے نظریاتی ونگ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

فیمنسٹ ماہرین اور لیڈران کو اس کام پر لگایا گیا ہے کہ وہ مسلم معاشروں کو دنیا کے سامنے غیر ترقی یافتہ، ان پڑھ، اور پسماندہ ثابت کریں۔ اور یہ تاثر پیدا کریں کہ یہ قرون وسطیٰ کے ان خیالات پر عمل پیرا ہیں جن کے تحت چند صدیاں پہلے یورپ میں بھی عورت کو انسان نہیں سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ نئی نسل کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ان غیر تہذیب یافتہ لوگوں کو مغرب کی طرح تہذیب یافتہ بنانے کی خاطر انکے قانون، ثقافت، تمدن، اقدار، روایات، مذہب اور تعلیم کو تبدیل کرنا ضروری ہے۔

کچھ عرصہ قبل ایک صحافی مونا التحاوی (Mona Eltahawy’s) کے آرٹیکل بعنوان ‘وہ ہم سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟’ نے بہت ہلچل مچائی۔ یہ آرٹیکل مشرق وسطیٰ میں میں پائی جانے والی مساجنی (اصناف کا آپس میں اور ایک دوسرے کے خلاف نفرت کا جذباتی اظہار) کے خلاف سخت تنقید ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ‘عورت کے خلاف اصل جنگ’ مشرق وسطیٰ میں لڑی جارہی ہے۔ اس بات میں شاید اس حد تک حقیقت ہو سکتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں خواتین کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے لیکن ایسے ہی بے شمار چیلنجز امریکہ میں بھی خواتین کو درپیش ہیں۔

مونا التحاوی کے مضمون میں پیش کیا گیا موقف، مشرق وسطیٰ میں پہلے سے مسلط استعماری سوچ کے حق میں ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ مضمون میں ‘مردوں کی طرف سے عورتوں کے خلاف نفرت، ظلم اور جبر’ کا قائم کیا گیا مفروضہ نہ صرف نسل پرستی اور اسلاموفوبیا کا باعث بنتا ہے بلکہ اس مفروضے کو بھی جنم دیتا ہے کہ عرب مرد فطری طور پر جاہل، گنوار اور غیر تہذیب یافتہ ہوتے ہیں۔ نیز ان مفروضات سے ان گروہوں کو مزید طاقتور بنانا بھی مقصود ہے جو ان معاشروں پر پہلے سے مغرب کی شہہ پر مسلط ہیں۔ مزید یہ کہ ‘مرد بمقابلہ عورت’ کی بحث کو متنازعہ بناتے ہوئے التحاوی کا مضمون مردوں کے خلاف صنفی امتیاز اور تعصب ابھارتا ہے۔

مساجنی (اصناف سے جذباتی نفرت) ایک بہت پیچیدہ موضوع ہے اور اسکی کئی تہیں، سطحیں اور مظاہر ہیں۔ مساجنی کو ‘عورت بمقابلہ مرد’ کے سیاست اور صنفی تحریک کے طور پر استعمال کرنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک عمل ہے۔ یہ اس موضوع کو نہ سمجھنے اور ضرورت سے زیادہ سہل (اوور سمپلیفائی) بنانے کا نتیجہ ہے۔ التحاوی نے مساجنسٹس  Misogynist  اور اسلامسٹس کا تقابل اور تماثل بھی کیا ہے۔ اس سے وہ کیا بتانا چاہتی ہے کہ اسلام بذات خود عورت پر جبر، نفرت اور ظلم کی وکالت کرتا ہے؟ حقیقت اسکے بالکل برعکس ہے۔ نہ صرف مستند اسلامی نصوص و متون اس کی تصدیق نہیں کرتے بلکہ مشرق وسطیٰ کی خواتین بھی اس موقف سے اتفاق نہیں کرتیں بلکہ ان کے خیال میں مذہب انہیں زیادہ حقوق دیتا ہے۔

مشرق وسطیٰ کی غیر ذمہ دارانہ تصویر کشی کرکے التحاوی نے یقینی طورپر امریکہ اور یورپ میں اٹھنے والی اسلامو فوبیا کی آگ پر مزید تیل چھڑکا ہے۔ سامراجی طاقتیں اس طرح کے دقیانوسی خیالات کو بنیاد بنا کر، ‘انسانیت’ کے نام پران خطوں میں مزید مداخلت کا جوازتلاش کرتی ہیں۔ نائن الیون کے بعد جب امریکہ ااور اسکے اتحادیوں نے افغانستان پر جنگ مسلط کی تو اس وقت بھی مغربی ذرائع ابلاغ میں اسی طرح کےمضامین شائع کروائے جا رہے تھے۔ ان مضامین میں افغانی خواتین کو بہت مظلوم و مجبور اور مردوں کو نہایت دقیانوسی وپسماندہ قوم کے طورپر پیش کیا گیا۔ شاید دنیا کے کچھ دیگر خطوں کی طرح افغانستان میں بھی ایسے حالات رہے ہیں کہ خواتین کی فلاح و بہبود پر زیادہ کام نہیں ہو سکا لیکن بدترین صورتحال وہ ہوتی ہے جب باہر کی کوئی طاقت افغانی خواتین پر اپنی اجارہ داری دکھا کر مظلومیت کے نام پر جنگ کے جواز تلاش کرے اور افغانی عورت کو جاہل، ان پڑھ، پسماندہ، مظلوم اور مجبور قرار دیتے ہوئے یہ دعویٰ کرے کہ وہ اپنے فیصلے خود نہیں کر سکتی اس لئے ہماری مداخلت ضروری ہے۔

پروفیسر صبا محمود نے فیمنسٹ تنظیموں اور امریکی فوجی عہدیداروں کے گٹھ جوڑ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیمیں ملازمت، تعلیم اور عورت کی آزادی کے نام پر جو واویلا کرتی ہیں بالآخر اسکا نتیجہ مسلسل جنگ، فاقہ کشی اور فوجی تسلط کی شکل میں برآمد ہوا۔ افغانستان میں امریکی بمباری نے پورے ملک کو تین سال تک قحط اورخشک سالی کا شکار کئے رکھا اور اڑھائی ملین متاثرین خوراک اور پانی کیلئے ترستے رہے۔ اس جنگ کی ابتدا میں ہی میں نسائی تحریک اور امریکی فوج میں اس بات پر اتفاق تھا کہ افغانی عورت کی آزادی کی آڑ میں کیا کھیل کھیلنا ہے۔ فیمنسٹ گروپس خاموشی سے معصوم لوگوں کو تباہ ہوتے دیکھتے رہے اور کسی نے افغانیوں کیلئے امریکہ سے نہ کوئی احتجاج کیا نہ ہمدردی کے دولفظ بولے۔ جابر اور ظالم طالبان کے چنگل سے معصوم افغانی عورتوں کو آزاد کرانے کے نعروں نے امریکی فوج کو موقع فراہم کیا کہ وہ ظلم و تشدد کی ہر حد پار کردے اور عورتوں کو مساوی حقوق تو نہ مل سکے لیکن مردوزن کو مساوی قبروں میں ضرور دفن کیا گیا۔ نسائی تحریک کے انتہائی غیر ذمہ درانہ رویے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے وہ افغانستان میں جنگ بندی، امریکی مداخلت کی مخالفت، نسلی و قبائلی تشدد کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کے بجائے صرف پدرسری نظام معاشرت کے خلاف دہائیاں دیتے ہوئے افغانی خواتین کی حالت زار پر شور مچاتے ہیں۔

نائن الیون کے بعد امریکہ جن قبائلی سرداروں، جنگجوئوں، اور مسلح گروہوں کو وہاں کی عورتوں کے لئے ظالم اور بے رحم قرار دے رہا تھا، سرد جنگ کے زمانے میں انکی مالی اور جنگی امداد کرتے ہوئے خود ان کو موقع فراہم کر رہا تھا کہ وہ افغانستان میں ایسے حالات پیدا کریں جو معصوم عورتوں اور بچوں کے رہنے کے قابل نہ ہو۔ مثال کے طور پر سرد جنگ کے زمانے میں امریکی امداد وصول کرنے والے ایک گروپ کے سرکردہ فرد نے ایک عورت پر اس لئے تیزاب پھینکا کہ اس نے پردہ کرنےسے انکار کیا تھا۔ جب امریکی افسر سے سوال کیا گیا کہ امریکہ ایسے ظالم لوگوں کی امداد کیوں کر رہا ہے؟ تو اس پر سی آئی اے کے افسر نے جواب دیا کہ ‘انتہا پسند مقابلہ اچھا کرتے ہیں’۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ امریکی فوج نے مسلح دہشت گرد گروپوں کی امداد کرکے نہ صرف افغانستان کا امن تباہ کیا اسے عدم تحفظ اور سلامتی کے مسئلے سے دوچار کیا بلکہ وہاں ایسے حالات پیدا کئے جو خواتین کیلئے مشکلات کا باعث بنے۔

مسلمان خواتین کو آزاد کرانے اور مسلم دنیا میں مغربی اقدار کے پھیلائو کے پس پردہ محرکات میں فیمنزم کے دلائل دو مفروضات پر مبنی ہیں: مغرب کی اقدار مشرق سے اعلیٰ ہیں اس لئے انکا پرچار اور حمایت کرنے والوں کے پاس اختیار ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا حکم (استبدداد) چلائیں اور ڈکٹیٹ کریں۔ تیسری دنیا کے معاشرے اتنے پسماندہ، غیر مہذب اور غیر و اخلاقی اور غیر منطقی ہیں کہ اگر انہیں ڈکٹیٹ نہ کیا جائے تو وہ صنفی تعصب کے مخالف بیانیے کو بصورت دیگر اہمیت ہی نہیں دیتے۔ یہ مفروضات بلا شک و شبہ غلط اور مضحکہ خیز ہیں۔ ہر وہ تنظیم اور تحریک جو حقوق نسواں کو فوجی محکومی کے سائے میں پھیلانے کا ارادہ و حکمت عملی رکھتی ہو اور بڑے پیمانے پر تشدد، قتل و غارت، نوآبادیاتی ورثے کے ساتھ منسلک ہو وہ ایسی مثالی تحریک نہیں ہوتی کہ جس کے ساتھ منسلک ہونے میں کوئی فخر محسوس ہو۔

فیمنزم کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل اور پریشانیوں سے مجھے لگتا ہے کہ بحثیت عورت کسی ایسی تنظیم یا تحریک میں شامل ہونے کی کوئی ضرورت نہیں جو میرے حقوق کیلئے مجھے ڈکٹیٹ کرے۔ میرے لئے میرا دین اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے اور اسکے ذریعے مجھے میرے خالق نے عزت اور تکریم بخشی ہے۔ میں اس پر بخوشی قناعت کرنے کو تیار ہوں۔ جب رسول اللہﷺ اسلام کے پیغام کو متعارف کرانے کیلئے ایک قصبے میں تشرف لائے تو آپ نے فرمایا کہ ‘میں تمہیں انسانوں کی غلامی کے طوق سے آزاد کرانے آیا ہوں اورتمہیں صرف اللہ کی بندگی کی طرف لیجانا چاہتا ہوں”۔ میرے نزدیک اس بیان کا مطلب یہ ہے کہ اسلام ہماری روح کو ہر قسم کی غلامی اور جبر سے آزاد کراتا ہے۔ اور یہ خوبصورت بات جان کر کتنی خوشی ہوتی ہے کہ ہمیں صرف اپنے مالک اور خالق کی غلامی کرنا ہے۔ جب ہم اسکی غلامی کرتے ہیں تو ہم حق اور سچ کیلئے کھڑے ہوتے ہیں اور ہر ظلم و جبر کو مسترد کرتے ہیں۔ ہمارے دین میں سب سے زیادہ قابل تکریم وہ لوگ ہیں جو سب سے زیادہ متقی ہیں (49:13) نہ کہ وہ لوگ جو گھر میں زیادہ کمائی کرکے لاتے ہیں یا وہ جو جسمانی طور پر بہت مضبوط یا بہت خوبصورت ہیں۔

مسلم خواتین کو جب کہیں صنفی امتیاز کا سامنا ہو تو وہ رسول کریمﷺ کےاسوہ حسنہ کو مشعل راہ بناتی ہیں۔ اسی طرح آپ ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ(رض) کی زندگی، قربانیاں اور اسلام کیلئے سچی محبت اور ایثار بھی ہمارے لئے قابل تقلید ہے جنہوں نے اسلام کی تقویت کیلئے اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا۔ اسلامی تاریخ میں بے شمار خواتین گزری ہیں جو پڑھی لکھی، دانشور اورمعزز تھیں اور اسکے ساتھ ساتھ خدمت خلق اور تعلیم و تربیت کے کام بھی کرتی تھیں۔ نفیسہ الطاہرہ بھی ایک ایسی ہی خاتون تھیں جنکا سلسلہ حضرت فاطمہ(رض) کی وساطت سے نبی کریم ﷺ تک پہنچتا ہے۔ وہ نہ صرف علم اور تقویٰ کے اعلیٰ مقام پر فائز تھیں بلکہ حافظہ قرآن تھیں، اسلامی فقہ میں مہارت رکھتی تھیں اور انکے نام سے انکےفتاویٰ بھی مشہور ہیں۔ انکے تبحر علمی سے فیض پانے کی خاطر، قاہرہ میں انکے گھر کے اندر ہمیشہ علماء کرام کا ہجوم جمع رہتا جن میں امام شافعی بھی شامل ہوتے۔ امام شافعی (رح) کے کام سے تو پوری دنیا واقف ہیں لیکن بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہیں وہ حضرت نفیسہ الطاہرہ کے شاگرد رشید تھے۔ آج کے دور میں بھی ایسی کئی مسلم خواتین موجود ہیں جو نوجوان خواتین کو متاثر کرتی ہیں۔

میرا دین اسلام مجھے ہر طرح کے جبر سے آزاد کراتا ہے، میرے لئے اللہ کافی ہے:

مونا التحاوی کے جواب میں گیلپ سینٹر فار مسلم اسٹڈیزکی ایگزیکٹو ڈاریکٹر دالیا موگاہاد (Dalia Mogahed) نے کہا کہ التحاوی کا دقیانوسی اور نوآبادیاتی نقطہ نظر عرب خواتین کیلئے نہایت تکلیف کا باعث بنا۔ عرب دنیا میں مذہب ایک غالب سماجی قدر ہے اور عرب خواتین اس کے مطابق مثبت تبدیلی کی خواہاں ہیں۔ مستشرقین کون ہیں جو مسلم خواتین کی اس خواہش کی تکمیل کے راستے میں رکاوٹ ڈالیں۔ آخر التحاوی کو یہ ضد اور اصرار کیوں ہے کہ عرب خواتین اسکے غیر ملکی، نوآبادیاتی، مستعار اور فیمنسٹ خیالات کی ضرور پیروی کریں۔

دالیہ کی بہن یاسمین موگاہدن (اسلامی اسکالر) نے اسلامی نقطہ نظر سے خواتین کی فلاح و بہود اور تعلیم و تربیت پر زبردست تقریر کرتے ہوئے کہا کہ کچھ خواتین، مردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے خود مختاری، برابری اور مساوات چاہتی ہیں لیکن مسلم خواتین (اور مردوں) کیلئے اصل معیار اللہ تعالیٰ کے احکامات کے تابع ہوتے ہیں۔ کسی چیز کو مردوں کی نقالی کے طور پر بطور معیار قبول کرنا اسکی قدرو منزلت کو کم کردیتا ہے اور خاتون ہونے کے مقام سے بھی نیچے گرا دیتا ہے۔ بحثیت مسلم خواتین، ہماری آزادی کا تصور اس حقیقت میں مضمر ہے کہ ہم صرف اور صرف اللہ کے سامنے جوابدہ ہیں اور ہمیں اسی کے حضور سجدہ ریز ہونا ہے۔

مجھے یہ بات جان کر بے حد تقویت ملتی ہے کہ میرے علاوہ دیگر خطوں سے تعلق رکھنے والی بہت سی مسلم خواتین بھی اپنی تعلیم و تربیت پر توجہ دے رہی ہیں اور ظلم کے خطرات کے خلاف باتیں کر رہی ہیں۔ مجھے زیادہ تقویت اپنے مذہب، روایات اور ثقافت سے ملتی ہے کیونکہ یہ ہمارے علم، راحت، سکون اور ایمپاورمنٹ کے ذرائع ہیں۔ مجھے اپنے اردگرد، اپنے خاندان، اپنے ملک اور دنیا بھر کی ان خواتین سے تقویت ملتی ہے جو اچھی مائیں، اچھی بہنیں، اچھی بیٹیاں اور اچھی بیویاں ہیں۔ یہ خواتین اپنے خاندان کا خیال کرتی ہیں، ضعیف، لاچار اور بزرگوں کی خدمت کرتی ہیں، گھر کے کام خوش اسلوبی سے سرانجام دیتی ہیں اوربچوں کی تربیت کرکے انہیں اچھا انسان بناتی ہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ یہ نوآبادیاتی نظریات، آئیڈیالوجیز، نسل پرستی اور صنفی تعصب کا دبائو بھی برداشت کرتی ہیں۔ میری طاقت اور انسپائریشن اتحاد اور یکجہتی ہے۔ بطور عورت، ماں اور بیٹی میرا سر فخر سے بلند ہے اور میں انسانیت کے ہر دشمن کے خلاف اپنے بلند عزم اور ہمت کے ساتھ کھڑی ہوں۔

مذکورہ بالاحکایتیں اور واقعات بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اسلام نہ صرف روزمرہ زندگی میں بیانیے کی سطح پر بلکہ عملی طور پر بھی جنسی و صنفی تعصب کے خلاف اپنی تعلیمات پیش کرتا ہے۔ مجھے اس بات کی ضرورت نہیں کہ کوئی مجھے یہ سکھائے یا ترغیب دے کہ جنسی اور صنفی تعصب کیا ہوتا ہے اور اس سے کیسے نبٹا جاتا ہے۔ میرا دین اسلام ہے اور یہ وہ طرز زندگی ہے جو پہلے سے ہی مجھے ہر طرح کے جبر سے آزاد کراتا ہے۔ میرے لئے میرا اللہ ہی کافی ہے اور وہ تمام معاملات کا بہترین امانتدار ہے۔ (173:3)

حقیقت یہ ہے کہ میں ایک امریکن پاکستانی مسلم خاتون ہوں اور اپنے خالق و مالک (جو ہم سب کا نجات دہندہ ہے) کے توسط سے، اسکی طرف سے عطاکی گئی آزادی کے توسط سے میں یقیناً ایک ایسا پیغام دے رہی ہوں جو بہت کھلا، واضح اور قول سدید ہے۔ اہل مغرب! آپ کا بہت شکریہ، لیکن مجھے آپ کے قانون، آپکی ثقافت، آپکی روایات، آپکی اقدار، آپکے طرز زندگی، آپ کی تہذیب اور آپ کے تمدن کی قطعی طورپر ضرورت نہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply