ذرا ٹھہرئیے —- منزہ اکرام

0

چلیں ایسا کرتے ہیں تھوڑی دیر کے لئے خود کو روک لیتے ہیں اپنی اس بھاگ دوڑ سے جس کی کوئی منزل ہی نہیں۔ اور کچھ دیر کیلئے چپ بھی کراتے ہیں اپنے اندر کی اس بات چیت کو جس کا زیادہ تر نہ تو کوئی خاص معنی ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی ترتیب ہوتی ہے۔ کیونکہ میرا خیال ہے کہ ہماری زندگی کا وہ پہر ابھی ڈھلا نہیں جس کے بعد روشنی باقی نہیں رہتی۔ اور ویسے بھی میری اور آپ کی زندگی صرف میری یا آپ کی ہی نہیں ہے بلکہ ہم سے جڑے بہت سے رشتوں کی بھی ہے اور جب بات رشتوں کی آجائے تو بتائیے کہ بحیثیت والدین ہمارا سب سے گہرا اور اہم ترین رشتہ اولاد سے بڑھ کر بھلا اور کون ہو سکتا ہے۔ اور جب بات اولاد کی آجائے تو ہم صرف جانتے ہی نہیں بلکہ مانتے بھی ہیں کہ والدین ہونے کے ناطے ہماری زندگی صرف ہماری نہیں ہوتی بلکہ یہ تو ہمارے بچوں کے نام ہو جاتی ہے وہ جیون بن جاتا ہے جس کو جینے کا ایک بہت خوبصورت مقصد مل جاتا ہے اور ہماری منزل کا تعین ہو جاتا ہے۔

لیکن۔۔۔۔۔۔ ذرا ٹھہرئیے۔۔۔۔۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ معاشرتی بھاگ دوڑ،  سماجی رکھ رکھاؤ اور معاشی دباؤ کی بھاری گھٹڑی اُٹھائے اُٹھائے اس قدر ہانپ رہے ہیں کہ وہ بچے جن کو بظاہر تو آپ نے اپنے جینے کا مقصد بنا رکھا ہے مگر ان کے لیئے ہی آپکے پاس ٹائم نہیں بچتا کیونکہ ہم ان کو ڈرائیور کیساتھ بھیج کر ان کو ان کی پسند کی شاپنگ کروا کر اور کبھی میڈ سے ان کی پسند کے کھانے بنواکر ڈائننگ ٹیبل کو خوب سجا کر اور ان کے بیڈ روم کو ہر آسائش سے مزّین کر کے سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ہم نے آج بھی اپنے والدین ہونے کا پورا پورا حق ادا کر دیا ہے اور اس اطمینان کیساتھ پھر سے اپنی سرگرمیوں میں کھو جاتے ہیں؟ اگر آپ کا جواب نہیں میں ہے تو پھر خوش ہو جائیں کیونکہ آپ میرا موضوع نہیں ہیں۔۔۔۔۔ بلکہ میرا عنوان وہ والدین ہیں جن کا جواب بیان کردہ سچویشن کی ہاں میں ہے جی ہاں اگر آپ اپنے بچوں کے صرف جسمانی ماں باپ ہیں اور آج کے دن تک آپ اپنے بچوں کی روح میں اُتر کر ان کے روحانی ماں باپ نہیں بن پائے تو پھر سچ میں آپ تھوڑی دیر کے لیئے اپنی ہر مصروفیت کا سوئچ آف کر دیجئیے اور اپنی سوجھ بوجھ سے بھرپور سوچ کا سوئچ آن کر کے خود سے پوچھیئے کہ کیا بحیثیت ماں یا باپ میرا آج کا ہر عمل وہ نقش بنا رہا ہے جس پر قدم قدم چل کر میرا بچہ دنیا اور آخرت میں سُرخرو ہو جائے گا اور کیا جیتے جی وہ اپنے والدین کو اپنا رول ماڈل مان کر اس دعا سے اپنے لبوں کو سیراب کر پائے گا؟

رَبّ اَ رحَمࣿھُما کَمَارَبّیٰنی صَغ٘یرَا۔
“اے رب ان پر رحم کر جیسا کہ پالا انہوں نے مجھ کو چھوٹاسا”

آئیے خود کو موڑ لائیں اور اپنے بچوں کی روحانی بنیادی ضروتوں کو پورا کریں۔ ان سے اپنے محبت بھرے رشتے کو مضبوط بنایئں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply