فیمنزم/ جینڈر اسٹڈیز Feminism/ Gender-Studies: مغربی متبادل بیانیہ اور ہمارے ماہرین کا تقابل

0

پاکستان سمیت وہ تمام ترقی پذیر ممالک جو نوآبادیاتی طاقتوں کے چنگل سے سیاسی طور پر آزاد ہوئے، آج بھی ذہنی، نظری اور عملی طور پر انہی کے اسیر ہیں۔ انکے ہاں نہ صرف نوآبادیاتی نظام کا آئینی ڈھانچہ، قوانین، نظام تعلیم، سیاست، معیشت اور عدالتی نظام معمولی ترامیم کے ساتھ اپنایا گیا بلکہ ادب، زبان، شاعری، ثقافت، آرٹ، فیشن، نظریات، تحاریک اور آئیڈیالوجیز بھی بلا تنقیدوتجزیہ اپنا لی گئیں۔

کوئی بھی آئیڈیالوجی یا نظریہ مذہبی عقائد کی طرح غیر متبدل اور مستقل بالذات نہیں ہوتا کہ اس پر ایمان لایا جائے بلکہ یہ ایک وقتی حکمت عملی ہوتی ہے جسکے مخصوص حالات میں ہی جزوی طور پر مثبت نتائج نکلتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں اٹھنے والی ہر ادبی، سماجی، سیاسی اور فلسفیانہ تحریک پر کچھ عرصے کے بعد دانشوروں اور نقادوں کے مختلف حلقے تنقید کرتے ہیں اور ان کےنتیجے میں پیدا ہونے والے منفی اثرات، پیچیدگیوں اور بحران کو جانچتے ہوئے ریاست، حکومت اور عوام کو مشورہ دیتے ہیں کہ ان میں ناگزیر تبدیلیاں کی جائیں یا ناقص حکمت عملی کو ترک کیا جائے۔

لیکن پاکستان جیسے ممالک کے دانشور، ماہرین اور لیڈر یہاں کی حکومتوں اور عوام کو اس بات سے آگاہ نہیں کرتے کہ جو سائنس، ٹیکنالوجی، آلات، آئیڈیاز، حکمت عملی، نظریات اور آئیڈیالوجی وہ مغرب سے مستعار لے رہے ہیں وہ وہاں مسترد اور متروک ہو چکی ہے یا اسکی بنیادی خرابیاں واضح ہوجانے کے بعد عنقریب متروک ہو جائے گی۔ چنانچہ ہمارے اکثر ماہرین و لیڈران مغرب کے سابق و متروک تجربات، غیر مروج باقیات اور تلچھٹ کے خوشہ چیں نظر آتے ہیں۔ مغرب کے دانشور اور نقاد جس چیز کو، طویل تجربہ کے بعد اپنی قوم کیلئے عذاب قرار دینا شروع کردیتے ہیں، ہمارے ماہرین اسی چیز کے ذریعے قوم کو نجات کی نوید سنا رہے ہوتے ہیں۔

اسی مسئلے اور چیلنج کے پیش نظر ویب گاہ دانش https://daanish.pk نے کچھ عرصہ قبل اپنے ‘جینڈر سیکشن’ کے تحت مغرب کے ان تمام دانشوروں اور نقادوں کو اردو زبان میں متعارف کروانے کا سلسلہ شروع کیا جو ویسٹرن یورپ اور نارتھ امریکہ میں فیمنزم، صنفی مساوات، جینڈر پالیٹکس پر تنقید اور تجزیہ کر رہے ہیں۔ اسکا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہمارے ہاں کے پڑھے لکھے لوگ، سوشل سائنسز کے طالب علم، صحافی، تجزیہ کار اور سماجی کارکنان وغیرہ مغرب کے ان نقادوں اور تجزیہ کاروں کے ذریعے مغربی نظریات و افکار کے مثبت و منفی، دونوں پہلوئوں کو سمجھیں اور بھیڑ چال یا فیشن کے بجائے اس حوالہ سے متبادل فکر سے بھی آگاہ ہوں اور اگر اس میں کوئی چیز مفید نظر آئے تو اپنائیں ورنہ اس سے بلا وجہ متاثر نہ ہوں۔

امریکہ کی لائبریری آف کانگرس کے منتظمین نے اس مواد کو اپنے ذخیرے میں شامل کرتے ہوئے دنیا بھر کے محققین تک اسے باقاعدہ رسائی کے لئے شامل کیا ہے۔

دانش ویب گاہ پر شائع ہونے والے اس مواد کا خلاصہ و تعارف ہم یہاں لنکس کے ساتھ درج کر رہے ہیں تاکہ پاکستان کے میڈیا پرسنز، صحافی، دانشور، سیاسی و سماجی کارکنان، پالیسی ساز ادارے، طلباء و طالبات اور عام پڑھے لکھےقارئین اس سے مستفید ہو سکیں۔ یہ حوالہ جاتی تحریر اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے ہر فرد کے لئے کارآمد ہے۔

1۔ دانش جینڈر سیکشن کا لنک: The following URL has been selected by Library of Congress Web Archives:
https://daanish.pk/category/gender-sinf

2۔ انجیلا میکروبی Angela McRobbie لندن یونیورسٹی، گولڈ سمتھ کالج کی پروفیسر، معروف کلچرل تھیوریسٹ اور تجزیہ کار ہیں۔ انکا زیادہ تر تنقیدی و تجزیاتی کام پاپولر کلچر، معاصر میڈیا کے طرز عمل، صنف و جنسیت، فیشن انڈسٹری، معاشرتی و ثقافتی نظریات، کارپوریٹ کلچر، نئی جمالیاتی و تخلیقی معیشت اور نولبرل ازم پر ہے۔ میکروبی کے خیال میں پاپولر فیمنزم خواتین کے حقوق کی بات کرنے کے بجائے فیشن و سیکس انڈسٹری کیلئے آلہ کار کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اس پاپولر کلچر کا آغاز ماڈرن فیمنسٹ لیڈران و ماہرین کے ہاتھوں سے ہوا اور اب اسکے نتیجے میں فیمنزم کے غیر فعال اور مسترد ہونے کا عمل بھی انہی کے ہاتھوں سے انجام پا رہا ہے۔ وہ کئی مقالہ جات و کتب کی مصنف ہیں لیکن انکی سب سے زیادہ مشہور کتاب The Aftermath of Feminism ہے۔ https://daanish.pk/48530

3۔ کرسٹینا میری ہف سمرز (Christina Marie Hoff Sommers) امریکن انٹر پرائز انسٹیٹیوٹ میں اخلاقیات کی محقق ہیں۔ وہ کلارک یونیورسٹی میں فلسفے کی پروفیسر رہ چکی ہیں۔ وہ معاصر فیمنزم پر تنقید کے حوالے سے مشہور ہیں۔ انکا استدلال ہے کہ ماڈرن فیمنزم کی سوچ اکثر اوقات ‘مردوں سے غیر معقول دشمنی’ پر مشتمل ہوتی ہے۔ فیمنسٹ تحریک اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنے سے قاصر ہے کہ اصناف مساوی ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف بھی ہیں۔ ماڈرن فیمنزم معاشرے کے تمام افراد کے حقوق کی بات کرنے کے بجائےصرف جنس اور صنف کے چشمے لگا کر دیکھتا ہے اور اس نے معاشرے کو اصناف کی لڑائی کے ایک اکھاڑے میں تبدیل کر دیا۔ مرد اور عورت کی تفریق اس لئے ابھاری گئی کہ فیمنزم کے جھنڈے تلے زیادہ سے زیادہ عورتیں بھرتی ہوں اور انہیں ‘پدر سری’ کے انجانے دشمن کے خلاف مہم میں استعمال کیا جا سکے۔ امریکی معاشرے میں اس دعوے کی کوئی حقیقت اور بنیاد نظر نہیں آتی۔ کرسٹینا سومرز کی کتابوں میں Who Stole Feminism اور War Against Boys بہت مشہور ہیں۔ https://daanish.pk/48426

4۔ کمیل پالیہ (کیملی اینا پگلیہ Camille Anna Paglia) یونیورسٹی آف پنسلوینیا، امریکہ میں آرٹس کی پروفیسر اور مشہور نقاد ہیں۔ وہ فیمنزم اینڈ پوسٹ اسٹرکچرل ازم کے ساتھ ساتھ جدید امریکی ثقافت کے بہت سے پہلوئوں مثلاً وژول آرٹس، میوزک، فلمی تاریخ وغیرہ کا تنقیدی جائزہ لیتی ہیں۔ کمیل پالیہ کے مطابق جدید تہذیب و تمدن کی تشکیل مردوں کے خون پسینے سے ہوئی لیکن آج  خواتین بھی اس سے برابری کی سطح پر مستفید ہو رہی ہیں۔ اگر عورتیں، مرودں کو پیار، محبت کے بجائے صرف طعنے دیں گی تو مردوں کے پاس محنت کرنے کی کیا ترغیب ہوگی؟ عورت، جب مرد کی حوصلہ افزائی کرتی ہے توگویا وہ اپنے ہی تحفظ، آرام و آسائش کے دائرے کووسیع کرتی ہے۔ جنسی سرگرمی، آمادگی اورتحریک و ترغیب ہی ریپ کی بنیادی وجوہات ہیں۔ آپ بھی اس بات میں برابر کے ذمہ دار ہیں کہ لوگ آپ کے ساتھ کس قسم کا سلوک کرتے ہیں۔ انہوں نے کئی کتب تحریر کیں جن میں Sexual Personae۔ Sex, Art and American Culture۔ Free Women, Free Men اور Provocations زیادہ مشہور ہیں۔ https://daanish.pk/48203

5۔ مونا چیرن پارکر Mona Charen Parker امریکہ کی ایک مشہور کالم نویس، صحافی، اور سیاسی مبصر ہیں۔ وہ خارجہ پالیسی، دہشت گردی، سیاست، غربت، خاندانی ڈھانچے، عوامی اخلاقیات اور ثقافتی موضوعات پر لکھتی ہیں۔ انکا استدلال ہے کہ معاصر فیمنزم ‘خاندانی اقدار’ میں کمی کا ذمہ دار ہے۔ ترقی کے لبرل مفروضوں کو اپناتے ہوئے ماڈرن فیمنزم نے کئی ایسے غلط رخ اختیار کر لئے ہیں جن کی وجہ سے خواتین نے اپنی پیشہ ورانہ اور ذاتی اور خاندانی زندگی میں چھوٹی بڑی بے شمار خوشیوں کو اپنے ہی ہاتھوں سے قتل کر دیا ہے۔ 1972 کے بعد کے تمام سرویز کے مطابق امریکہ میں عورتوں کی خوشیاں مسلسل زوال کا شکار ہیں اور اب انسانوں کی خوشیوں کی خاطر ‘جنسی جنگ بندی’ کا اعلان کیا جانا چاہیے۔ وہ کئی آرٹیکلز، مقالہ جات و کتب کی مصنفہ ہیں لیکن انکی مشہور کتاب Sex Matters: How Modern Feminism Lost Touch with Science, Love, and Common Sense ہے۔ https://daanish.pk/47965

6۔ Phyllis Stewart Schlafly امریکی وکیل اور مشہور پولیٹیکل ایکٹوسٹ تھیں۔ انہوں نے فیمنزم، ہم جنس پرستی اور اسقاط حمل کے خلاف جدوجہد کی اور امریکی آئین میں مساوی حقوق کی ترمیم کی توثیق کے خلاف کامیابی کے ساتھ مہم چلائی۔ انکی کوششوں کی وجہ سے ستر کی دہائی سے لیکر 2018 (انکی وفات) تک امریکی آئین میں مساوی حقوق کی ترمیم نہ ہوسکی۔ وہ کئی آرٹیکلز اور مقالہ جات کی مصنفہ ہیں لیکن انکی کتاب A Choice Not an Echo بہت مشہور ہے۔ اس کتاب کی اشاعت کے پہلے سال اسکی تیس لاکھ سے زائد کاپیاں فروخت ہوئیں۔ https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=5632631873429437&id=100000480390643

7۔ Warren Farrell امریکہ کے مشہور پولیٹیکل سائنسٹسٹ اور معاصر فیمنزم کے نقاد ہیں۔ انہوں نے فیمنسٹ تحریک کی ایماء پر کی جانے والی قانون سازی کے منفی نتائج پر سخت تنقید کی ہے اور اسکی وجہ سے مردوں پہنچائے جانے والے نقصانات پر وہ سب سے زیادہ کھل کر بولتے ہیں اس لئے انہیں ‘فادر آف دی مینز موومنٹ Father of the Men’s Movement‘ بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کئی کتابیں لکھیں جن میں سے مندرجہ ذیل زیادہ مشہور ہیں۔ Why men are the way they are۔ The Myth of Male Power۔ Why Men Earn More اور Women Can’t hear what men don’t say۔ امریکہ میں 2009 میں ایک کمیشن بنایا گیا جسکی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ جس طرح عورتوں اور لڑکیوں کیلئے وائٹ ہائوس کونسل ہے اسی طرح کی ایک کونسل مردوں اور لڑکوں کیلئے بھی بنائی جائے۔ Warren Farrell کو اس کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ https://daanish.pk/45744

8۔ جورڈن پیٹرسن Jordan Peterson ٹورانٹو یونیورسٹی میں کلینیکل سائیکالوجی کے پروفیسر و محقق، یو ٹیوب کے اسٹار، آج کے دور میں مغرب کے سب سے زیادہ مقبول اور بااثر عوامی دانشور ہیں۔ انکی کتاب 12Rules for Life اس وقت سب سے زیادہ پڑھی اور پسند کی جانے والی کتاب ہے اوردو سال قبل اسکی دس لاکھ کاپیاں فروخت ہو چکی تھیں۔ جورڈن پیٹرسن مغرب میں صنفی مساوات کی وجہ سے پیدا ہونے والی بے چینی اور مردانگی کے بحران کے سب سے بڑے ناقد ہیں۔ انکا لیکچر سننے کیلئے سفیدفام مرد و خواتین پانچ سو سے ایک ہزار ڈالر میں ٹکٹ خریدنے کیلئے لائن لگا کر کھڑے ہوتے ہیں۔ انکی دیگر کتب میں Political Correctness اور Beyond Order بھی مشہور ہیں۔ https://daanish.pk/44563

9۔ جارڈن پیٹرسن کے علاوہ مغرب کے دانشور جو فیمنسٹ تحریک کی ایماء پر کی جانے والی سیاسی، معاشی، سماجی اور قانونی تبدیلیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران کی تصدیق کرتے ہوئے اسےموضوع بحث بناتے ہیں ان میں کارلا کلارک Carla Clark، ولکنسن Wilkinson، مائیکل سالٹر Michael Salter، گرانٹ میکسویل Grant Maxwell، Connell، Sam de Bois اور Louise Perrry قابل ذکر ہیں۔ https://daanish.pk/44693

10۔ سارہ بینت وائزر Banet Weiser Sarah لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس کے میڈیا اور کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ، کئی مضامین، تحقیقاتی مقالوں اورکتابوں کی مصنفہ ہیں۔ انکی ایک مشہور کتاب Empowered: Popular Feminism and Popular Misogyny ہے جس میں انہوں نے پاپولر فیمنزم اور اسکے مقابلے میں پاپولر مساجنی کو فروغ دینے والے معاشی، معاشرتی اور ثقافتی محرکات کا جائزہ لیا۔ وہ ایڈورٹائزنگ، سیاست، انٹرنیٹ فورمز اور مختلف کمپینز کی مثالیں دیتے ہوئے حقوق نسواں اور مردوں کی تحاریک کے مابین تعلقات کا جائزہ لیتی ہیں۔ انکی تحقیق کا خاص موضوع پاپولر فیمنزم اور میڈیاچینلز کا گٹھ جوڑ ہے جسکے تحت دکھائے جانے والے اشتہارات میں فیمنسٹ نظریات غصہ، ٖغیظ و غضب، نفرت اورجنس کا تڑکا لگا کر پیش کئے جاتے ہیں اور یوں صنفی سیاست کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ منافع کا حصول ممکن بنایا جاتا ہے۔     https://daanish.pk/48716

11۔مغربی ممالک جہاں کی اکثریتی آبادی جنسی اخلاقیات، قواعد و ضوابط اورحدود و قیود کو ترک کر چکی ہےوہاں جو لوگ اس اخلاق باختگی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے وہ اپنی قوم کو صنفی تحریک کے عزائم اورانکی ایماء پر ہونے والی قانون سازی کے منفی نتائج سے آگاہ کررہے ہیں۔ وہ خود پاکدامنی اور شائستگی کو اپنا کر نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت اسی انداز سے کرنےکیلئے کوشاں ہیں۔ ایسے دردمند دل رکھنے والے لوگوں میں پاکیزہ کردار اورشائستہ سوچ رکھنے والی نوجوان خاتون اسکالر وینڈی شالٹ (Wendy Shalit) بھی شامل ہے۔ وینڈی شالٹ صنفی تحریک کے جنسی ایجنڈے کو صرف بے نقاب ہی نہیں کرتی بلکہ اسکا ایک متبادل حل بھی پیش کرتی ہے۔  وہ اس عمل کو روایتی اخلاقی اصولوں، جنسی شائستگی اور پاکیزگی کی طرف مراجعت (return to modesty) سے تعبیر کرتی ہے۔1999 میں اسکی کتاب ‘A Return to Modesty: Discovering the Lost Virtue’ جب پہلی بار شائع ہوئی تو امریکہ کے بے شمار لوگوں نے اسے خطوط لکھ کر اپنی حمایت کا یقین دلایا اور اس بات پر زور دیا کہ وہ فیمنزم کے جنسی ایجنڈے کے خلاف تحریک چلائے۔  وہ اپنی اس کتاب کے بارے میں کہتی ہیں کہ  یہ جنسی انقلاب کی تباہ کاریوں سے غافل لوگوں کو آگاہ کرنے کیلئے ایک زور دار چیخ اور شور مچانے کی آواز ہے۔ اگر لوگ اس آواز پر جمع ہو جائیں تو وہ اسکے سامنے مضبوط دیوار بن سکتے ہیں۔  https://daanish.pk/48982

12۔جوزف مسعد کولمبیا یونیورسٹی میں  مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور افریقی مطالعات کے شعبہ میں جدید عرب سیاست اور فکری تاریخ کے پروفیسر ہیں۔ انکی تحقیق کا خاص  موضوع فلسطینی، اردن، اور اسرائیلی قوم پرستی  ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ وہ ان خطوں میں عالمی ہم جنس پرستی کے کردار پر بھی خصوصی نظر رکھتے ہیں۔انکی کتاب “Desiring Arabs” بہت  مشہور ہے۔انکا ایک تحقیقی مقالہ  The Gay International and The Arab World بہت مشہور ہے جس کا اردو ترجمہ  دانش کے صفحات پر شائع ہو چکا ہے۔ https://daanish.pk/44220

13۔ پروفیسر الیگزنڈر ڈوگن Professor Aleksandar Dugin روس کے سیاسی  و دفاعی تجزیہ کار، ماہر معاشیات، تاریخ اور فلسفے کے پروفیسر ہیں۔ انکی تحقیق کا اصل موضوع لبرل ازم اور فیمنزم پر تنقید اور روایت کی درست تفہیم ہے۔ وہ روس میں اہم سیاسی و فوجی شخصیات کے مشیر بھی ہیں اور انہیں ‘صدر پیوٹن کا دماغ’ بھی کہا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ امریکی مقتدر حلقے اورتھنک ٹینکس انہیں دنیا کا خطرناک ترین فلسفی و پولیٹیکل سائنٹسٹ  قرار دیتے ہیں ۔وہ تیس سے زائد کتب کے مصنف ہیں جن میں ‘جیو پالیٹکس کی فائونڈیشن’ اور ‘چوتھی سیاسی تھیوری’ زیادہ مشہور ہیں۔  https://daanish.pk/47646

14۔سیمون دی بووا Simone de Beauvoir فرانسیسی رائٹر، سوشل تھیوریسٹ، فیمنسٹ اسکالر اور لیڈر تھیں۔انہوں نے فیمنزم کی دوسری ویوو پر گہرے اثرات چھوڑے۔ انہوں نے فکشن، بائیوگرافی، سیاست اور سماجی ایشوز پر بہت کچھ لکھا ہے لیکن بطورفیمنسٹ اسکالر انکی شہرت کی اصل وجہ انکی کتاب The Second Sex ہے۔ 1970 کی دہائی میں انہوں نےفرانس میں عورتوں کی آزادی اور اسقاط حمل کی پابندیوں کے خلااف تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور انہی کی کوششوں سے 1974 میں اسقاط حمل کو فرانس میں جائز قرار دے دیا گیا۔ وہ شادی کرنے،گھر بسانے اور بچے پیدا کرنے کے سخت خلاف تھیں اور اپنی ذاتی زندگی میں بھی ایک ناخوش اور  انتہائی مایوس ، ذہنی دبائو کا شکار، منشیات کی عادی اور خودکشی کے رجحانات رکھنے والی شخصیت تھیں۔ بے شمار لوگوں نے ان پر تنقید کی ہے لیکن اس مضمون میں صرف Deirdre Bair ،Margaret Simons اور Jean Bethke Elshtainکی تنقید شامل ہے۔   https://daanish.pk/46492

15۔ کیا فیمنسٹ آئیڈیالوجی کے مفروضات سائنسی و علمی بنیاد رکھتے ہیں یا یہ محض توہمات اور اعتقادات ہیں؟ کیا ان مفروضات کو سائنسی منہاج پر جانچا اور پرکھا جاتا ہے یا انکی حیثیت محض دعوں پر مبنی ہے؟کیا کسی سائنسدان یا مورخ نے  آج تک پدرسری نظام معاشرت و دیگر فیمنسٹ مفروضوں کی تصدیق کی ہے یا نہیں؟ ان سوالات کے جوابات کیلئے مندرجہ ذیل دو مضامین کا مطالعہ کیجئے۔  https://daanish.pk/47387       ،    https://daanish.pk/45005

16۔ خواتین کی نسوانی شناخت مسخ کرنے کے سرمایہ دارنہ ہتھکنڈے۔ ‘الفاوومن’ اور’ سپر وومن’ جیسے افسانوی اور فلمی کردار، پیسہ بٹورنے کی خاطر پاپولر فیمنزم، کارپوریٹ کلچر اور فیشن انڈسٹری میں استعمال کئے جا رہے ہیں۔انکا آلہ کار بننے والی خواتین، دولت اور شہرت تو حاصل کر لیتی ہیں لیکن اپنی اصل حیثیت،فطرت اور نسوانی شناخت کھو دیتی ہیں۔     https://daanish.pk/48628

17۔پدرسری نظام معاشرت : فیمنزم کا فرضی دشمن۔۔پدرسری کا مفروضہ کیا ہے؟ اس مفروضے کے فیمنسٹ ناقدین، اسکا طبقاتی تقسیم سے موازنہ، پدرسری کے حامئین خاندانی نظام کو کیوں ختم کرنا چاہتے ہیں؟ کیا صدیوں سے خاندان کے ادارے میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی؟مغرب میں پدرسری کے مفروضے کی موت قرار دے کر متبادل تھیوری پیش کر دی گئی ہے لیکن مشرقی نسائی ماہرین اس مرے ہوئے سانپ کی لکیر کیوں پیٹ رہے ہیں؟    https://daanish.pk/48802

18۔ جینڈر  اینڈ وومن اسٹڈیز شعبہ جات : صنفی عقائد کے تبلیغی سینٹر۔۔۔مغرب کے نقاد ان شعبہ جات پر سخت تنقید کیوں کرتے ہیں؟ کیا یہ شعبہ جات صنفی تعصب پھیلا رہے ہیں؟ کیا انکا کوئی مصرف نہیں اس لئے مشرق یورپ کے کئی ممالک ہنگری،رومانیہ وغیرہ میں اسکی سرکاری معاونت ختم کر دی گئی؟ کیا ان شعبہ جات کا کام صرف فیمنسٹ آئیڈیالوجی کی تبلیغ ہے؟ انکا علم اور سائنس سے کوئی واسطہ نہیں؟          https://daanish.pk/48746

19۔ پاکستانی نصاب تعلیم : فیمنسٹ ماہرین کے نرغے میں۔فیمنسٹ اور لبرل ماہرین و این جی اوز پاکستان میں رائج نصاب تعلیم پر سخت تنقید کرتے ہوئے اپنی رپورٹوں میں یہ تجاویز پیش کرتے ہیں کہ اس نصاب میں اسلام ، اسلامی تاریخ، عقائد، قرآنی تعلیمات، جنگوں اور جنگی ہیروز کو بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے  اور اس سے دنیا میں پاکستان کا سافٹ امیج پیش کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔نیز انکا خیال ہے اس میں بہت سی باتیں ایسی شامل ہیں جو شاید یونیورسٹی کے طلباء، وار کالجز کے کیڈٹس، مذہبی ماہرین اور تاریخ کے طلباء کو پڑھائی جانی چاہیں لیکن جب ان لبرل و فیمنسٹ ماہرین کو نصاب تبدیل کرنے کا موقع دلوایا گیا تو انہوں نے وہ تمام فیمنسٹ نظریات، مفروضات، قوانین اور ایکٹ میٹرک اور انٹر میڈیٹ کےمطالعہ پاکستان کے نصاب میں شامل کر دئے جو یورپ اور امریکہ میں یونیورسٹی لاء کالجز کی سطح پر وومن اسٹڈیز ، جینڈر اسٹڈیز اورقانون کے آپشنل مضامین میں پڑھائے جاتے ہیں۔   https://daanish.pk/47951

20۔فیمنزم کی دوسری ویو کی کچھ سرکردہ خواتین رہنما جنسیت اور پورنو گرافی کے خلاف تھیں۔ وہ  ضبط و شائستگی پر زور دیتیں اور نسوانی انفرادیت ابھارنے کے بجائے اجتماعی حقوق کی بات کرتیں۔ انکا خیال تھا کہ عریانی، فحاشی اور جنس کا آزادانہ اظہار مردانہ بالادستی اور روایتی پاور اسٹرکچر کو تقویت فراہم کرتا ہے اور اس سے عورتوں کے خلاف استحصال اور جنسی تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن 1990 کے عشرے میں نوجوان نسائی پسندوں نےاس خیال کو مسترد کرتے ہوئے جنسی کشش و جاذبیت کو عورت کی آزادی، خودمختاری اور ایمپاورمنٹ کے حق میں استعمال کرنا شروع کر دیا۔نوجوان فیمنسٹ خواتین کا موقف ہے کہ لباس، فیشن اورجنسی آزادی کا اظہار خواتین کو زیادہ با اختیار، پراعتماد اور مضبوط بناتا ہے۔ فیمنزم اب خواتین کے معاشرتی حقوق کی تحریک کے طورپر ختم ہو چکی۔ اب یہ  پاپولر کلچر کی شکل میں لامحدودامکانات اور آزادی کا ایک خوبصورت سراب اور وہم فراہم کرتا ہے لیکن درحقیقت یہ خواتین پر عائد پرانی پابندیوں کو نئی پابندیوں سے بدل کر انہیں پہلے سے زیادہ محکوم بناتا ہے۔ نوجوان خواتین اس پاپولر کلچر کے گلیمر سے اس حد تک مرعوب ہیں کہ وہ  اسکے مرتب ہونے والے ثرات کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور اپنے گرداسکے کسے جانے والے شکنجے کے احساس سے عاری ہیں۔ یہ پاپولر کلچر لپ اسٹک فیمنزم کہلاتا ہے۔   https://daanish.pk/48851

21۔وزیر اعظم عمران خان نے جب اپنی ایک گفتگو میں کہا کہ ‘ جنسی جرائم اور زنا بالجبر و رضا سے متعلق جتنے بھی سخت قوانین بنا لیں لیکن ان پر اس وقت تک قابو نہیں پایا جاسکتا جب تک فحاشی کو عدالتی و قانونی نظام کے علاوہ افراد معاشرہ کی مزاحمت کے ذریعے کنٹرول نہ کیا جائے’  تو لبرل،سیکولر اور فیمنسٹ حلقوں کی طرف ان پر الزامات لگائے گئے کہ وہ وکٹم بلیمنگ کر رہے ہیں ۔ حالانکہ انہوں نے بحثیت مجموعی معاشرے میں فحش مواد تک بڑھتی ہوئی رسائی اور اسکے نتیجے میں ہونے والی ناقابل قبول جنسی سرگرمیوں اور اخلاقی گراوٹ کو اس کا ذمہ دار قرار دیا۔ مغرب کے بے شمار محققین نے فحاشی اوراسکے عوامل پر تحقیقات کیں اور تقریباً وہی نتائج اخذ کئے جو عمران خان نے اپنی گفتگو میں بیان کئے۔ ان تحقیقات کی تفصیل جاننے کیلئے اس مضمون ‘فحش مواد اور عریاں لباس: مغرب میں بھی ریپ کا سبب بنتا ہے’کا مطالعہ فرمائیں۔ https://daanish.pk/49040

22۔انجیل مقدس کے مطابق عیسائی عقیدہ ہے کہ حوا کو آدم کی پسلی سے پیدا کیا گیا،قرآن و سنت  میں اسکی تفصیلات ذرا مختلف انداز سے بیاں ہوئیں۔ اس عقیدے کو اگر انجیل کے مطابق بھی مانا جائے تو اس سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ نسوانی وجود کی ابتدائی تخلیق مرد سے ہوئی لیکن اس میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں کہ لفظ عورت(woman) بھی لفظ (man) سے نکلا ہے۔تمام مخلوقات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور زبان انسان کی تخلیق ۔ دونوں کی تخلیقات میں ایک ہی نسبت کا پایا جانا ضروری نہیں۔جس طرح حوا کا آدم کے وجود سے نکلنا یہ ثابت نہیں کرتا کہ عورت کا لفظ بھی لازمی طورپر مرد سے نکلا ہے اسی طرح کسی لفظ کا دوسرے لفظ سے مشتق ہونا بھی اس بات کا ثبوت فراہم نہیں کرتا کہ جس وجود کیلئے مشتق لفظ بولا جاتا ہے وہ لازمی طورپر اس وجود کا مرہون منت ہو جسکے لئے مصدر( روٹ ورڈ) استعمال کیا جاتا ہے۔کوئی بھی گروہ انسان جب علمی دیانتداری کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صرف نفرت،تعصب،غصہ اورضد کی بنیاد پرنظریہ سازی کرتا ہے تو زبردستی کے ثبوت فراہم کرنے کی کوشش میں انسانوں کی کوئی خدمت نہیں ہوتی صرف مغالطے اور غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ فیمنسٹ تحریک اور خاص طور پر لزبئین گروپ بھی اپنا الگ تشخص قائم کرنے کی خاطر پوری انسانی تاریخ،تہذیب،اقدار اور زبان کو تختہ مشق بناتا ہے اور اسکے’ مرد دشمنی ‘پر مبنی نظریات انسان دشمنی  اور زبان دشمنی کی شکل اختیار کر جاتے ہیں۔ تفصیلات ا س مضمون میں ملاحظہ فرمائیں https://daanish.pk/49223

23۔ فیمنزم ، نظریہ، تاریخ، مختلف ادوار، اقسام، تحریک ، اہداف اور دنیا بھر میں اس تحریک کے کردار کا جائزہ    https://daanish.pk/44506

24۔جنسی ہراسمنٹ، تاریخ، قوانین، پالیسی،اعداد و شمار اور نتائج کا تفصیلی جائزہ(امریکہ اور پاکستان کے تناظر میں)      https://daanish.pk/45574

25۔کیا فیمنسٹ تحریک  کے پیش کئے گئے طریقہ کار سے خواتین سے متعلق سماجی مسائل حل ہوسکتے ہیں؟ امریکہ ،پاکستان،بھارت اور مڈل ایسٹ کے تناظر میں ایک تفصیلی تجزیہ۔ https://daanish.pk/45301

26۔پاکستان میں فیمنزم کا کردار، مختلف ادوار،  مشرقی تہذیبی فریم ورک میں کام کرنے والی حقوق نسواں کی تحریک   ریڈیکل فیمنزم میں کس طرح تبدیل ہوئی؟ ایک تفصیلی تجزیہ  https://daanish.pk/45091

27۔ پاکستان میں این جی اوز، میڈیا اور فیمنسٹ تنظیمیں کس طرح ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہوئے اس آئیڈیالوجی کو پروموٹ کرتے ہیں اور مغربی ایجنڈے کو سماج میں رسوخ دلانے کیلئے کیا کردار ادا کرتے ہیں؟ موٹر وے ریپ واقعہ کے تناظر میں ایک تفصیلی تجزیہ۔   https://daanish.pk/46114

28۔امریکہ اور یورپ میں مسلم سیاستدانوں اور تحریکوں کا کردار۔ امریکہ کے حالیہ الیکشن اور یورپ میں سامنے آنی والی اسلامی تنظیموں اور انفرادی سیاستدانوں کے کردار کا تفصیلی تجزیہ۔ یہ سب  مسلم سیاستدان اپنی ذاتی اغراض کی خاطر کس طرح  بالوااسطہ طور پر ہم جنسی پرستی کے ایجنڈے کے فروغ میں استعمال ہو رہے ہیں۔    https://daanish.pk/46981

29۔پاکستان میں خواجہ سرائوں پر عالمی ایوارڈز کی بارش کیوں؟ ہندو پاک میں خواجہ سرائوں کا مسئلہ کس کا پیدا کیا ہوا ہے؟ تقسیم ہندوستاں کے بعد اس پر کیوں توجہ نہیں دی گئی؟ آجکل خواجہ سرائوں کو ہم جنس پرستی کی تحریک کے نمائندوں کے طور پر استعمال کرنے میں مغربی طاقتیں کس طرح نقب زنی کر رہی ہیں؟ چاہتا ہے؟ ایک تفصیلی جائزہ     https://daanish.pk/44220

30۔ ماں کی ترجیح ملازمت یا گھر؟ آج کے دور میں مشرق سے لیکر مغرب تک ہر جگہ یہ موضوع زیر بحث آتا ہے کہ بچے پیدا ہونے کے بعد ایک ماں کیلئے ترجیح کیا ہونی چاہیے؟ دنیا کی اکثر مائیں بچوں کی ابتدائی پرورش اور تعلیم و تربیت کے حوالے سے گھر کو ترجیح دیتی ہیں لیکن فیمنسٹ ماہرین کی کوشش ہے کہ مائیں یا تو بچے ہی پیدا نہ کریں یا پھر بچے کی پیدائش کے باجود اپنی جاب جاری رکھیں اور بچوں کو ڈے کئیر سینٹرز کے حوالے کریں۔ اس حوالے سے مائوں کو کیا مشکلات درپیش ہیں اسکا تفصیلی جائزہ ۔ https://daanish.pk/46294

31۔ایک لکھاری اگر قصے،کہانیاں،افسانے یا ناول لکھے۔ اداکاروں اورفنکاروں کے انٹرویو کرے۔ڈراموں،فلموں اور اشتہاروں کے اسکرپٹ لکھے۔ ناچ، گانوں، میلوں ٹھیلوں کی رپورٹنگ کرے۔ اخبارات ،رسالوں اور فحش میگزینوں میں فیچر لکھے۔فیس بک اور سوشل میڈیا پر جگتوں،لطیفوں اورپیروڈیز پر مبنی مضحکہ خیز پوسٹیں کرے۔ سیاسی کالموں میں کچھ سیاستدانوں کی تعریفوں میں آسمان و زمین کے قلابے ملائے اور کچھ کی کردار کشی کرے۔بے تکی ،بے وزن اوربے سری شاعری اور گلوکاری کے ویڈیوز جاری کرے تو کسی کو نہ کوئی شکایت ہوتی ہے اور نہ کوئی اعتراض ۔سب خوب مزے لیتے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ داد تحسین اور دعائوں سے بھی نوازتے ہیں۔

لیکن اگر مغربی سامراج کے کمزور اقوام پر ماضی میں ہونے والے ظلم و ستم ، حالیہ استحصالی عزائم اور ان نظریات ،افکار،تحریکوں اور آئیڈیالوجیز پر تنقید کی جائے جنہیں مغرب کے ہی بہت سے نقاد اپنی قوم پر ہونے والے ظلم سے تعبیر کرتے ہیں۔ یا مغربی سامراج کیلئے سہولت کاری کے فرائض سرانجام دینے والے دیسی لبرل،سیکولر،فیمنسٹ ماہرین و لیڈران ،میڈیا، سیاسی اشرافیہ، این جی اوز اور بیوروکریسی کے افرد پر تنقید کی جائے تو بہت سے لوگ  اعتراض کرتے ہیں کہ اس سے کیا حاصل ہوگا؟ اس تنقید سے بہتر ہے کہ ملک و قوم کے مقامی،سماجی و معاشرتی مسائل کے حق میں آواز بلند کی جائے۔اس مضمون میں ایسے ہی اعتراضات، سوالات  اور تجاویز پر سیر حاصل تبصرہ شامل ہے۔ تفصیلات دیکھئے اس مضمون میں’ ایک لکھاری کی اولیں ترجیح کیا ہونی چاہیے؟مقامی مسائل کے حل پر زور یا مغربی سامراجی عزائم و نظریات پر تنقید؟  https://daanish.pk/49096

32۔جب کہا جاتا ہے کہ موسیقی روح کی غذا ہے تو اس سے کونسی موسیقی مراد ہوتی ہے؟ کیا  آجکل کانوں پر ہتھوڑے برساتی ہوئی بے ہنگم آوازوں اور شور پر مبنی  موسیقی بھی روح کی تسکین کا باعث بنتی ہے یا یہ صرف قلب و ذہن کا روگ ہے؟ اگر کسی چیز سے انسان کو لطف حاصل ہو تو  کیا یہ ماننا ضروری ہے کہ وہ واقعتاً مفید بھی ہے؟ کیا واقعی  موسیقی سے بیماریوںکا علاج ہو سکتا ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو ہر ہسپتال میں علاج کی غرض سے موسیقی کا کوئی شعبہ نظر  آتا، ذہنی و نفسیاتی وارڈز میں بستروں پر پڑے ہوئے فنکار، مصور، شاعر اور موسیقار نظر نہ آتے؟ عام معاشرتی معیارات سے ہٹ کر سوچنے، مشاعروں میں بآواز بلند شاعری پڑھنے، اونچے سروں میں گانے، ریاض کرنے، رقص کیلئے بہت زور لگانے سے انکی صحت خراب ہوتی ہے یا کثرت مے نوشی و دیگر منشیات کے استعمال سے؟

آج کل امریکہ اور یورپ میں میوزیکل بینڈز انتہائی اونچے سروں میں گٹار و ڈرم بجاتے اور چیخ چیخ کر کیوں گاتے ہیں؟ گانے اور رقص کرنے والے فنکار بالوں کے مختلف رنگ، اسٹائیل و اسپائکس، اشتعال انگیز ٹی شرٹس، پھٹی ہوئی جینز، لیدر جیکٹس اور رنگ برنگے بیلٹ کیوں پہنتے ہیں؟ مرد اور عورتیں سب اپنے سر گنجے کر الیتے یا آدھے سر کے بال کٹوا کر بقیہ ویسے ہی  کیوںچھوڑ دیتے ہیں؟ ہیوی جنگی جوتوں کے ساتھ برہنہ جسم کے مختلف حصوں پرٹیٹوز، زیورات میں بڑے بڑے زنجیر ، شرٹس پر ننگی تصاویر، لباس کی مختلف جگہوں سے سوراخ  اور اسکرٹس کے آگےپیچھے چیرے  کیوں لگواتے ہیں؟ کیا یہ محض فن ہے یااس جنسی بدمعاشی وغنڈہ گردی کی کوئی تاریخ ہے؟

اس کلچر کو پنک کلچر(Punk Sub Culture) کا نام کیوں دیا جاتا ہے اور فیمنزم سے اس کا کیا تعلق ہے؟ تیسری ویو کی فیمنسٹ خواتین نے جنسی فساد  اور اودھم مچانے کیلئے ‘دنگل گرل تحریک Riot Girl’ اور ہم جنس پرستوں کی تحریک(Queercore)  کا آغاز کیوں اور کیسے کیا؟ اس میں شامل ہونے والے بینڈز اور فیشن ڈیزائنر ز عام  شریف لوگوں سے کس بات کا بدلہ  کیسے لیتے ہیں ؟ آجکل انکے بینڈز دنیا بھر کی خواتین، نوجوانوں اور بچوں کو کس طرح اپنے دام میں پھنساتے ہیں؟ تفصیلات جاننے کیلئے اس مضمون کا مطالعہ کیجئے۔   https://daanish.pk/49378

33۔میں امریکی شہری ہوں مگر فیمنسٹ ہر گز نہیں۔۔(ثانیہ صوفی)  فیمنسٹ تحریک سیاہ فام اور مسلم خواتین کے مسائل کی بات کیوں نہیں کرتی؟ کیا یہ تحریک مغرب سے باہر صرف نوآبادیاتی جنگ کی آلہ کار ہے؟ دین اسلام جو ہر جبر اور غلامی سے آزاد کراتا ہے،اسکے ہوتے ہوئے کیا ہمیں کسی اور تحریک کی ضرورت ہے؟     https://daanish.pk/48679

34۔جائے ملازمت، صنفی تعامل: مسائل ، نتائج اور انتباہ۔اس مضمون میں ایک تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے کہ کس طرح دنیا بھر میں سرمایہ دارانہ نظام کیلئے سستی ورک فورس مہیا کرنے کیلئے عورتوں کو بڑی تعداد میں ملازمت کیلئے ترغیب دی جاتی ہے۔ملازمت کے دوران خواتین کو کیا مشکلات پیش آتی ہیں اور کس طرح انکا استحصال کیا جاتا ہے۔    https://daanish.pk/42501

دانش جینڈر سیکشن میں ان کے علاوہ بھی بے شمار مضامین شائع ہو چکے ہیں۔ مطالعہ کیلئے اوپر دئے گئے لنک پر کلک کریں۔شکریہ

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply