ماں بولی، جدیدیت اور مقامیت: استحصال کے نئے مظاہر —- ظہور احمد

0

لسانی نقطۂ نظر پہ گفتگو کرنے سے پہلے دو نظریات سے واقف ہونا ضروری ہے۔

اول، جدیدیت ہے جس کا تعلق عالمگیریت یا آفاقیت سے ہے۔ اس نظریے کو بہ ظاہر دیکھا جائے تو اس سے انسانی معاشرے کی وحدت کا تأثر پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اہلِ ادب نے اسے مزید گہرائی سے دیکھنے کی کوشش کی تو نتائج اس کے برعکس سامنے آئے۔ جدیدیت کے ماننے والوں اپنے نظریے کو بین الاقوامی باور کرایا۔ اس میں مقامیت (Localization) کو کلی طور پر نظر انداز کردیا گیا۔ اس کے پیچھے میرے خیال میں ظالمانہ فکر شامل تھا، جسے فطری بنا کر پیش کیا گیا۔ اس سے عوام غلط فہمی کا شکار ہوگئے اور جدیدیت کو ہی اپنا غم خوار سمجھ بیٹھے۔ جدیدیت نے انگلش کو پوری دنیا میں حاکم زبان بنانے کی کوشش کی۔ ناصر عباس نیر صاحب نے اسے قاتل زبان کہا ہے۔ اس کا مقصد مقامی زبانوں کو موت کے گھاٹ اتارنا ہے۔ ظاہر ہے اس سے مقامی زبانوں اور تہذیبوں کا خاتمہ ممکن تھا۔ ادریس آزاد صاحب نے بھی درست فرمایا کہ آنے والا دور لسانیات کا دور ہے۔ لسانیات کی مدد سے لوگوں کے نظریات تبدیل کیے جاسکتے ہیں۔ اس کا اثر زراعت اور صحت پر بھی پڑا۔ اس کے پیچھے صارفی مقاصد تھے۔ تجارتی حاکمیت قائم کرنے کے لیے لوگوں کے ذہنوں میں بٹھایا گیا کہ مغرب کی زرعی ادویات ہوں یا انسانی صحت کے لیے استعمال ہونے والی دوائیں۔۔۔ شفا بخش ہیں۔ درحقیقت جدیدیت کا تصور ذاتی مفادات کے حصول کا ہمہ جہتی نظریہ تھا۔

دوم، مابعد جدیدیت کا نظریہ ہے۔ یہ معقول ہے۔ اس کے پرزور مبلغ مشل فوکو ہیں۔ انھوں نے مقامیت کو اہمیت دی ہے۔ وہ آفاقی تجربات کی بجائے انفرادی تجربات کو اہمیت دیتے ہیں۔ اس کے تحت مقامی زبانوں کی اہمیت اجاگر کی گئی۔ یوں مغرب کے جھوٹ کا پردہ چاک ہوگیا۔ پھر حقیقت لوگوں پہ واضح ہوگئی۔ خود ناؤم چومسکی جو لسانیات کے حوالے سے مستند نام ہے، مقامی زبانوں اور ثقافتوں کو اہمیت دیتے ہیں۔ وہ امریکا کی اجارہ دارانہ سوچ کے مخالف نظر آتے ہیں۔ ورلڈ آرڈر کے پیچھے انھیں امریکا کی مفاد پرستانہ سوچ نظر آتی ہے، جو پوری دنیا پہ حاکمیت کی مذموم کوشش میں تادمِ تحریر مصروف ہے۔ یہ مغربی لوگوں کی باتیں میں پیش کررہا ہوں، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ میں سچ کو پسند کرتا ہوں اور یہ باتیں انھوں نے سچ کہی ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ میں اپنی دھرتی سے تعلق توڑ بیٹھا ہوں۔ میں نے اپنی دھرتی کے علمی سرمائے سے فائدہ حاصل نہیں کیا۔ یہ بات آپ کے لیے شاید حیران کن ہو کہ آج سے کم و بیش چارہزار سال قبل پانینی نے لسانیات کے اصول وضع کیے تھے، جنھیں ”استادھائی” کہا جاتا ہے۔ اس کا تعلق موجودہ چارسدہ سے تھا۔ مگر اس طرح کے علمی ذخائر تک ہم نہیں پہنچ پائے۔ گوپی چند نارنگ نے ایک جگہ فرمایا کہ لفظ اور معانی (شبد اور ارتھ) کے تعلق پہ سب سے پہلے جس نے گفتگو کی تھی وہ ہندوستان کا گوتم رشی تھا۔ بعدازاں گوتم رشی کا یہی نکتہ دورِ جدید میں ساختیات (Structuralism) کی بنیاد بنا۔ ہم نے کس حد تک گوتم رشی تک رسائی حاصل کی ہے؛سوالیہ نشان ہے۔

المختصر میرا فوکس مقامیت کی جانب ہے۔ اجتماعی طور پر ہمیں ہندوستانی اساطیر اور ہندوستانی جمالیات تک رسائی حاصل کرنی چاہیے۔ اور انفرادی طور پرمادری زبان کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے۔ یہی مابعد جدیدیت کا نقطۂ نظر بھی ہے۔ ماں بولی سے لاتعلق ہونا یا اسے بھول جانادرحقیقت اپنی ماں کو بھول جانا ہے۔ زبان کا تعلق سماج سے اس طرح ہے جس طرح خون کا تعلق زندگی سے ہے۔ زبان ایک نامیاتی چیز ہے، اس لیے اس پہ سائنسی اصول لاگو نہیں ہوتے، نہ اس پہ آمرانہ سوچ مسلط کی جاسکتی ہے۔ یہ ضرور ہے کہ عصری تقاضے زبان پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ زبان عصر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش کرتی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا تعلق روایت سے بالکل ختم ہوجائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہم لامحالہ طور پہ زمین و آسمان کے درمیان معلق ہو کر رہ جائیں گے۔ ہمارا تعلق نہ دھرتی سے رہے گا، نہ عصر سے۔ اس لیے اعتدال ہی زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح زبان کے لیے اہم ہے۔ آمرانہ اندازِ نظر سے یہ بات بھی آجاتی ہے کہ کوئی زبان، دوسری زبان سے لفظ لیتی ہے تو اسے جوں کا توں لے لے۔ اس جگہ مجھے تو ان شاءاللہ خاں انشا کا نقطۂ نظر پسند ہے۔ ان کے بہ قول کوئی زبان کسی غیر زبان سے ایک لفظ لیتی ہے تو اسے اپنے مزاج کے مطابق ڈھال لیتی ہے اور اسے ہی درست سمجھا جائے گا۔ شروع شروع میں مجھے یہ بات بڑی عجیب محسوس ہوئی تو میں نے اسے سرائیکی زبان پہ لاگو کرنے کی کوشش کی۔ ان کی یہ بات مجھے درست لگی۔ اب دیکھتے ہیں کہ سرائیکی زبان نے کس طرح دوسری زبان کے الفاظ کو مقامیایا (localized)۔

1-خفتن (سونا) فارسی زبان کا مصدر ہے۔ سرائیکی میں کفتاں/خفتاں رائج ہے۔ یہ کتنا خوب صورت تصرف ہے۔
2۔ سرائیکی لفظ ”شِنا” فارسی لفظ آشنا کی مختصر صورت ہوسکتی ہے۔
3۔ عربی کے لفظ ”فوم” کو سرائیکی میں تھوم کہا گیا۔ لیکن کچھ عربی الفاظ جوں کے توں استعمال ہوئے جیسے خمیس، کُس(فرج/اندام نہانی)؛ ایاک(صرف آپ کا) عربی میں استعمال ہوتا ہے اور سرائیکی میں ”اِیَّا” (صرف یہی) استعمال ہوتا ہے۔
4۔ انگلش لفظ sigh سرائیکی میں سائی کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ انگلش میں اس کے معانی سکون کاسانس لینا یا آہ بھرناکے ہیں۔ سرائیکی میں اول الذکر معنیٰ ہی مراد لیا جاتا ہے۔ hurry انگلش میں اگرچہ تیزی کے معانی میں استعمال ہوتا ہے، لیکن سرائیکی میں گدھے کو ہانکنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

مطلب یہ ہوا کہ دوسری زبانوں کے الفاظ میں نہ صرف تلفظ کے حوالے سے تصرّف ہوتا ہے بلکہ معانی کے حوالے سے بھی ہوتا ہے۔ مندرجہ بالا امثال میری ذاتی آرا ہیں جنھیں مفروضہ کہا سکتا ہے، لہذا حرفِ آخر نہیں ہیں۔ ان پہ تحقیق کا امکان بہ ہرحال موجود ہے۔

بات چوں کہ مقامیت کے حوالے سے شروع ہوئی تھی، تو اس سلسلے میں مقامی دانش کا تذکرہ بھی کیا جاتا ہے۔ یہ صدیوں سے چلنے والی اساطیری روایات کا نچوڑ ہوتی ہے۔ اس کا تعلق انسان، کائنات، خدا اور ماورائی تخیلات سے ہوتا ہے، جنھیں دیومالا (مائیتھالوجی) کہتے ہیں۔ اس سلسلے میں جاوید آصف نے ایک کتاب ”سرائیکی متھالوجی” لکھی ہےجو اپنی تمام تر خوب صورتیوں کے ساتھ قاری کے لیے دل چسپی کا باعث ہے۔ دو مثالیں دیکھیے:

”گرمی دی موسم جڈاں حد توں زیادہ گرمی اتے حبس ہووے اتے لوک ہوادی لوڑھ محسوس کرن تاں اوں اے منتر پڑھدن، جیندے دے نال ہوا چل پوندی اے:
گُھلڑی، ڈکھن گھل۔۔۔۔۔۔ تیڈی ڈاڑھی وچ پُھل
تیڈے چونڑئیں وچ تیل۔۔۔۔۔ توں گھل کھڑی سویل”

”حبس اتے گرمی دے برعکس جیکراندھاری گُھلی کھڑی ہووے تاں اوں کوں روکن سانگھے دیہات دیاں تریمتیں بُوہاری کو کھٹڑے دے پاوے تلے ڈیندین۔ ایں دے نال اندھاری دا زورترٹ ویندے اتے موسم اپڑیں معمول تے آویندے۔
گھل پئی تیز اندھاری، رکھڑیں پئے گئی اے
پاوے ہیٹھ بوہاری رکھڑیں پئے گئی اے”

ان باتوں کو اگرچہ توہمات کے زُمرے میں رکھاجاتا ہے لیکن بغیرتجربات کے ان کو رد کرنا اچھی روایت نہیں ہے۔ اس لیے سائنس اور اساطیر کو ایک دوسرے کے قریب آنا پڑے گا۔

فلسفے کی کچھ باتیں سرائیکی میں بڑے دل چسپ اندازمیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ مثلاً Circular Motion کو ہم یوں کہ سکتے ہیں:جتھوں دی کھوتی اتھائیں آنڑ کھلوتی۔ Utilitarianism کو یوں بیان کیا جاسکتا ہے:پیٹ نہ پیاں روٹیاں تے ہبو گلھاں کھوٹیاں۔ Edipus Complex جس میں ایک فرد اپنی ماں کی طرف جنسی کشش محسوس کرتا ہے، اس کے لیے سرائیکی میں ایک جامع لفظ موجود ہے”گابھا”۔

یہ نکات بھی ذاتی فکرکا نتیجہ ہیں۔ البتہ پیٹ نہ پیاں روٹیاں۔۔۔ کا ذکر پروفیسراحمد رفیق اختر صاحب نے اپنے ایک لیکچر ”تصادمِ نظریات” میں کیا تھا۔ باقی کے بارے میں ماہرین مجھ سے بہتر رائے دے سکتے ہیں۔

آخر میں عرض کرتاچلوں کی زبان کے روایتی پن اور جدت اختیار کرنے والوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے، جو میرے خیال میں نامناسب ہے۔ ہمارے استادِ محترم ڈاکٹر ظہیرالدین خان زبان کے روایتی پہلو کو اہمیت دیتے ہیں۔ اس لیے آپ کو ان کی سرائیکی میں چاشنی محسوس ہوگی (میانوالی کی سرائیکی کے تناظر میں)۔ جیسے وہ ”امید”کی بجائے ”اُمَیند” کہتے ہیں۔ یا ایک دفعہ ان کے ساتھ گفتگو کا شرف حاصل ہوا تو انھوں نے فرمایا: ”مِٹھا کَسا گَھتیں”۔ مجھے بڑا لطف آیا۔ بٹن، برف، اور قبرستان کے لیے ”بٹنڑ” (ب کی سرائیکی متقارب آواز کے ساتھ)، ورف اور غستان استعمال ہوتے ہیں تو روایت کے حسن کا احساس ہوتا ہے۔ لیکن جو ان الفاظ کا مذاق اڑاتے ہیں مجھے لگتا ہے کہ اپنی ماں کا مذاق اڑا رہے ہوں۔

مآخذات
1۔ ناؤم چومسکی، ورلڈ آرڈر کی حقیقت، جمہوری پبلی کیشنزلاہور، 2012
2۔ ناصر عباس نیر، لسانیات اور تنقید، پورب اکیڈمی اسلام آباد، 2008
3۔ جاوید آصف، سرائیکی مِتھالوجی، ق پبلی کیشنز ڈی آئی خان، 2018

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply