طاقتور اور حاشیے پر رہنے والے —- قاسم یعقوب

0

مجھے بیس سال پرانا ایک واقعہ ابھی تک یاد ہے۔ ہم کالج کے طالب علم تھے۔ ایک دفعہ بائیک پر جاتے ہوئے ایک رکشے سے ٹکر ہوگئی۔ رکشے والا یوٹرن لینے کی بجائے ون وے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مخالف سمت سے  آرہا تھا۔ میں بائیک چلارہا تھا اور میرے ساتھ ایک دوست بھی تھا۔ رکشے والی کی غلطی کی وجہ سے ہم گر گئے۔ ہلکی سی چوٹیں بھی آئیں۔ میں نے اٹھتے ہی رکشے والے کو کھری کھری سنانا شروع کردیں۔ رکشہ والا ادھیڑ عمر تھا میری باتوں کو برداشت نہ کر سکا اور مجھے بھی ردعمل کے طور پر کھری کھری سنانے لگ گیا۔ میں نے دوست کے روکنے کے باوجود اس کے تھپڑ رسید کر دیا۔ کچھ لوگ کود پڑے، بیچ بچائو ہوا اور ہم اپنے اپنے گھرکی طرف چل پڑے۔

کچھ ہی دور گئے ہوں گے کہ میرے پیچھے بیٹھا میرا دوست مجھے افسوس سے کہنے لگا: ’’یار بہت دکھ ہو رہا ہے۔ تم نے اسے تھپڑ رسید کر دیا۔‘‘ میں نے کہا: ’’وہ اس کا مستحق تھا۔‘‘ اس نے ایک آہ بھری اور کہا: ’’یار تم سوچو اس کے گھر میں کوئی بیٹی بھی ہوگی۔ فرض کرو آج وہ جب گھر جائے اور اس کی بیٹی کو اس واقعے کی خبر ہو جائے۔ وہ کیا سوچے گی کہ اس کے باپ کے منہ پر آج کسی نے تھپڑ مارا ہے۔‘‘ یقین کریں، میں کتنی ہی دیر اس پہ سوچتا رہا۔ آج بیس سال سے زائد عرصہ ہونے کے باوجود میں یہ بات نہیں بھولا۔ میں نے پہلی دفعہ ان غریب چہروں کو ایک باپ ماں اور بھائی کے احساس کے ساتھ دیکھنا شروع کیا۔ مجھے پہلی دفعہ معلوم ہوا کہ یہ کتنے اہم لوگ ہوتے ہیں۔

کیا ہم نے اپنے اردگرد ایسے کتنے ہی محنت کش اور غریب لوگوں کو محسوس کیا ہے کہ ان کے بچے بھی ہوں گے؟ ان کے ماں باپ ہوں گے۔ ان کی بوڑھی دادیاں ہوں گی۔ ہمسائے ہوں گے۔ ان سے محبت کرنے والے بھی ہوں۔ یہ بے کار سے، غریب سے لوگ جو ہمیں اپنی راہ کا کانٹا دکھائی دیتے ہیں، کتنے ہی لوگوں کے لیے کتنی اہمیت رکھتے ہوں گے۔ اصل میں ہم سماج کو صرف ایک نظر سے جانچنے کے عادی بنائے ہوتے ہیں اور وہ نظر ہے ’’طاقت‘‘۔ جس کے پاس طاقت نہیں ہوتی وہ ہمیں اپیل ہی نہیں کرتا۔ ہم ان کے دکھ نہیں سمجھتے۔ ان کی خوشیاں ہمیں خوشیاں ہی نہیں لگتیں۔ ان کے مسائل صرف ان کے ذاتی مسئلے لگتے ہیں۔ طاقت کا یہ تصور ہمیں حاشیائی تصور دیتا ہے۔ سماج کا وہ حصہ جو مرکز کہلاتا ہے، طاقت کی مرہونِ منت ہوتاہے۔ جو اس طاقت سے محروم ہوتے ہیں، راندۂ درگاہ کہلاتے ہیں، ان کو متن کا حصہ نہیں بنایا جاتا۔ ان کے دکھ درد، خوشیاں، کامیابیاں اور ناکامیاں سماج کے لیے نہیں، ان کے اپنے لیے ہوتی ہیں۔ وہ سماج کے ہاتھوں تھپڑ کھاتے ہیں، گالیاں سنتے ہیں اور اسے اپنا مقدر سمجھ کے اپنی زندگی کا ناگزیر حصہ سمجھتے ہیں۔ دوسری طاقت اشرافیائی طبقہ ہوتا ہے۔ وہ طاقت کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ یوں وہ متن کا حصہ بن جاتاہے۔ متن مرکز تمام سرگرمیاں ان ہی کی مرہونِ منت وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ یوں سماج دو حصوں میں بتا ہوا نظر آتا ہے۔ ایک عام طبقہ جسے سبالٹرن بھی کہا جا سکتا ہے، جب کہ دوسرا اشرافیائی طبقہ۔

سماج کا سب سے اہم اور مددگار طبقہ طاقت ور نہیں بلکہ عام طبقہ ہوتا ہے۔ عام طبقہ عام نہیں سب سے خاص ہوتا ہے۔ وہ زندگی کو ریزہ ریزہ جوڑتا ہے، دھاگہ دھاگہ بُنتا ہے۔ اپنے ہاتھوں سے زندگی کی تعمیر کرتا ہے۔ اس کی لپائی کے لیے اپنے پائوں سے مٹی گوندھتا ہے۔ اپنے جسم پر فطرت کی سختیاں جھیلتا ہے۔ اپنے سینے پر موسموں کے جبر کو روکتا ہے۔ ادب وہ واحد فیکلٹی ہے جو عام آدمی کا مطالعہ کرتی ہے، اس میں عام طبقے کو موضوع بنایاجاتا ہے۔ عام آدمی ہی عام زندگی کے خواب لکھتا ہے۔ وہ کردار جو بظاہر حاشیوں پر ہوتے ہیں، جنھیں سماج درخورِ اعتنا ہی نہیں سمجھتا مگر ادب ہمیں بتاتاہے کہ وہ کتنے بڑے کردار ہیں۔ وہ خوردبینی تصورِ زندگی کو میکرو بنا کے دکھاتا ہے۔ عام لوگوں کی زندگیاں کامیابی کے روایتی تصورات سے ہٹ کے جدوجہد کا خون تھوکتی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ جو بظاہر کامیاب اور طاقت ور دکھائی دیتے ہیں، ان کی زندگیاں بھی سبالٹرن رویوں سے جنم لیتی ہیں اور طاقت کا حصہ بننے کے بعد اپنے سابقہ رویوں کو بھلا دیتی ہیں۔ اپنے اردگرد ایسے ہزاروں لوگ دیکھے جا سکتے ہیں، جو سماجی رویوں میں بظاہر کامیاب نہ ہو سکے (یعنی طاقت وروں کا حصہ نہ بن سکے) وہ حاشیہ پر ہی رہ گئے۔ مگر ان کی زندگیاں کسی بھی طاقت ور کی زندگی سے زیادہ جدو جہد سے مزین نظر آتی ہیں۔

یوں تو دنیا بھر میں طاقت کے حلقہ نشینوں نے سماج کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ ایک طبقہ دوسرے طبقے پر حکمرانی کرتا آرہا ہے۔ ضروری نہیں یہ حکمرانی ریاستی ہو، ذہنی اور طبقاتی حکمرانی کا تصور اس سے بھی طاقت ورہوتا ہے۔ سماج میں صدیوں سے اس تصور نے جڑیں پکڑی ہیں۔

برصغیر میں جب انگریزآئے تو یہ تصور زیادہ مضبوط ہوتا گیا۔ استعماری قوتوں کو اس تصور کی زیادہ ضرورت تھی۔ اشرافیائی اقدار کے نافذ ہونے سے وہ عوام سے ایک فاصلہ پیدا کرتے گئے۔ وہ ان کے ذرائع (Recourses) کا بھرپور استعمال کرنے کے باوجود ان سے ایک فاصلے پر رہتے تھے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ ہمارے دیہاتوں میں ہر طبقے کا مل جل رہنے کا تصور قائم تھا۔ طبقات کا گہرا شعور رائج ہونے کے باوجود طاقت ور غریب کو اپنے سماج کا اہم جزو سمجھتا تھا۔ دوسرے لفظوں میں اسے احساس تھا کہ اس کی بقا اسی طبقے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ طاقت ور (اشرافیائی طبقہ) عوامی طبقات سے مل کر ایک سماج میں ڈھلتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں غریب اور محنت کش طبقہ سماج میں حقیقی پیداواری قوتوں کا حامل ہوتا ہے۔ وہ مدد گار ہی نہیں، تخلیق کار بھی ہوتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک مکمل معاشرہ تعمیر کرتے ہیں۔ اسی لیے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ آج بھی دیہاتوں میں کسی چوھدری کی حویلی کے بالکل سامنے کسی غریب کسان کامکان ہو سکتا ہے۔ کسی کمھار کا کچاگھر ہو سکتا ہے۔ چوھدری کے گھر سے ملحقہ کسی مزارع کے گھر کے سامنے اس کا گدھا بندھا ہوا مل سکتا ہے۔ آج بھی گائوں میں ایک ہی گلی میں سب طبقے اور افراد رہتے ہیں۔ غریب، طاقت ور، خدمت گار اور سیاست دان۔ کچے پکے، چھوٹے بڑے گھر اور بڑی حویلیاں ایک ہی گلی، ایک ہی گائوں میں نظر آتی ہیں۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ طبقات ہونے کے باوجود دونوں ایک دوسرے کا سہارا ہیں۔

اب صورتِ حال یہ ہے کہ شہروں میں رفتہ رفتہ انگریزوں کی کالونیئل فکرکے اثرات گہرے ہو گئے ہیں۔ اب مکانات کو بھی طبقاتی تقسیم کے ساتھ بنایا جانے لگا۔ ایک طرف طاقت ور افراد کے تاحد نظر بنگلوں کی حدود، دوسری طرف طبقات میں تقسیم A, B , C , D کیٹگری کے گھروں کی قطاریں۔ یہ ڈیفنس، بحریہ اور ولاز کا سلسلہ جب کہ دوسری طرف غریب اور متوسط طبقے کی آبادیاں۔ یہ برصغیر میں پہلی دفعہ ہوا تھاکہ انگریزوں نے افراد کی خدمات کو گریڈوں میں تقسیم کر دیا۔ ہر طبقہ ایک مخصوص زاویہ نظر کی زندگی کا حامل دکھائی دینے لگا۔ اس کا چہرہ، اس کاسماجی رُتبہ اس کی کلاس کو ظاہر کرنے لگا۔

سماج کو طبقوں سے نہیں اقدار سے پہچاننے اور ازسرنَو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے اندر تعصب اور طاقت کے اشرافیائی رجحان کو ختم کریں۔ یہ ایسی عینک ہے کہ اسے اتار کر دیکھنے سے شاید ہم دیکھنے کے قابل ہی نہ رہنے دیے جائیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply