جدیدیت اور روایت : قدیم بحث، عصری تناظر ۔۔۔ تالیف: وحید مراد

0

جدیدیت (Modernization) کیا ہے؟

جدیدیت (ماڈرنائزیشن) کی ابتداء مغرب (یورپ) میں ہوئی اور پھر یہ دنیا کے دیگر خطوں میں پھیلتی چلی گئی۔ جدیدیت اصطلاح سے زیادہ ایک خاص رویے، طرز فکر، مزاج اور اسلوب کا نام ہے۔ اس میں عقل کو امام تصور کیا جاتا ہے اور تمام چیزوں کو عقل محض کی روشنی میں جانچا، پرکھا اور برتا جاتا ہے حتیٰ کہ وحی الہی، ذات خداوندی اور ذات پیغمبر بھی صرف اور صرف عقل کی کسوٹی پر پرکھے جاتے ہیں۔

جدیدیت میں عام رجحان سیکولرائزیشن کا ہی ہوتا ہے۔ جدیدیت کے بڑے مسلم مفکرین سرسید اور  مفتی عبدہ سیکولر نہیں تھے لیکن انکے شاگردوں، حامیوں اور معتقدوں کی دوسری نسل مصر اور ہندوستان میں سیکولر بن کر سامنے آئی۔  نیزخوارج سے لے کر آج تک جدیدیت پسند گروہان کی اکثریت ہمیشہ اسلامی روایت کے مدمقابل اور غیر دینی قوتوں کی فطری حلیف رہی ہے۔

مصر کے حسن العطار رفاع، محمد عبدہ، جمال الدین افغانی اور سرسید سے لیکر غلام احمد پرویز تک، سب کے نزدیک جدیدیت کی ایک ہی تعریف ہے کہ قرآن، سائنس اور فلسفے میں کوئی تضاد نہیں۔ مسلمانوں کے زوال کا سبب مادی ترقی میں انحطاط یعنی سائنس اور ایجادات سے محرومی ہے اورامت مسلمہ کا عروج اسی طرح ہوگا جس طرح مغرب میں ہوا۔ سائنس یونان سے عرب، عربوں سے اسپین اور وہاں سے یورپ منتقل ہوئی۔ یہ ثقافتی نفوذ تاحال قائم ہے۔ ان کے خیال میں قرآن طبیعاتی اور ریاضی علوم کے متعلق معلومات سے پر ہے۔

مسلم جدیدیت پسندوں کا تمام زور اس بات پر ہے کہ قرآن کے مفاہیم سمجھنے کیلئے  بیرونی و خارجی ذرائع کی ضرورت نہیں۔ اس استدلال کی بنیاد یہ ہے کہ قرآن کو صاحب قرآن کے بغیر بھی سمجھا جا سکتا ہے یعنی قرآن اور صاحب قران دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ اس نقطہ نظر کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اپنی تاریخ، روایات، اقدار اور اس طرز عمل سے رشتہ منقطع کر لیں جو تسلسل کے ساتھ امت کو مختلف ذرائع سے ملتا رہا۔ یہ بالکل وہی نقطہ نظر ہے جو مارٹن لوتھر نے پروٹسٹنٹ تحریک کیلئے اختیار کیا تھا اور جسکے نتیجے میں یہ عیسائیت کے لئے موت کا پیغام بنا۔ مسلم معاشروں کے تمام جدیدیت پسندوں کے افکار میں درجہ ذیل امور جزوی یا کلی طور پر پائے جاتے ہیں۔

  • جدیدیت ایک عالمگیر تہذیب، ثقافت و اقدار کا دعویٰ کرتی ہے جسکی بنیاد عقل پرستی پر ہے۔ یہ اپنے عہد کے غالب رجحانات سے مرعوب ہوکر فلسفہ و سائنس کو دین کا ہمسربلکہ اس سے بھی اعلیٰ سمجھتی ہے۔
  • جدیدیت کی دلچسپی کے خاص میدان تسخیر کائنات اور مادی ترقی ہے لیکن انسان کے اخلاقی و روحانی وجود، تبلیغ و دعوت دین سے اسے کوئی دلچسپی نہیں۔ اس کے  نزدیک روحانیت صرف چند رسوم و رواج مثلاً نکاح، طلاق، تجہیز و تکفین میں باقی رہ گئی ہے۔  یہ ایسی شخصیت کی تعمیر و تشکیل چاہتی ہے جسکا مقصد دنیا کی زندگی کو زیادہ سے زیادہ خوشگوار بنانا اور زیادہ سے زیادہ وسائل سمیٹنا ہے۔ یہ اس زمین کوجنت بنانے کی تگ و دو میں ہے اور آخرت کی جنت اسکے یہاں محض خیالی اور تمثالی ہے اس لئے موت اور قیامت کے موضوعات سے بھی اسے کوئی دلچسپی نہیں۔
  • جدیدیت قرآن کو مجرد کتاب تصور کرتے ہوئے لفظیت پر اصرار کرتی ہے۔ قرآن، سنت و حدیث کے الفاظ کو لغت، محاورہ عرب اور زمان و مکان میں محصور سمجھتی ہے اور اسوہ رسالت مآب ﷺ اور عمل صحابہ کرام (رض) کو اہمیت نہیں دیتی۔ جدیدیت کے خیال میں قرآن و سنت کی نئی تشریحات ضروری ہیں کیونکہ قدیم تشریحات صرف عرب کے معاشرتی تناظر میں کی گئی تھیں اورآج وہ قابل عمل نہیں۔ جدیدیت پسند اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ قرآن ایک خاص زمانے میں ایک خاص ہستی پر ایک خاص ترتیب کے ساتھ نازل ہوا۔ اگر قرآن، کتاب اللہ ہے تو مجسم کتاب رسول اللہ ﷺ ہیں۔
  • تمام جدیدیت پسند، مسلمہ عقائد اور حدیث کا مکمل یا اس حصے کا انکار کرتے ہیں جو ان کے نظریات کی توثیق نہ کرتا ہو اور ان احادیث کو قبول کرتے ہیں جو انکے افکار کی تائید، تصدیق و توثیق پر مبنی ہوں۔ بعض اوقات واضح انکار کے بجائے تحریف اور تاویل سے کام لیتے ہیں۔
  • جدیدیت کا خاص وصف اجتہاد کے نام پر اجماع اورسلف سے انحراف، تفکر و تدبر کے نام پر دینی اقدار، روایات،  مدارس، اورعلماء کی تضحیک۔ عروج و زوال کی بحثوں میں سائنس ، ٹیکنالوجی و عقل سے انحراف کو زوال کی وجہ قرار دینا، روحانیت اور تصوف کو مادی ترقی میں رکاوٹ قرار دینا ہے۔
  • جدیدیت کی ایک ایسی شکل بھی ہے جو قرآن وسنت کو ماخذ دین سمجھنے کے باوجود کمیونزم، سوشلزم، مغربی نظام فلاح میں اسلام کی پیوند کاری کرتی ہے اور اسکی بڑی وجہ مغربی فکر و فلسفے سے عدم واقفیت ہے۔
  • عہد حاضر کے جدیدیت پسند، مغربی تہذیب و افکار کی اسلام کاری میں مصروف ہیں۔ وہ ان اقدار کو اسلامی معاشروں میں عام کرنے اور انکی اجنبیت  ختم کرنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔ ان میں معذرت خواہی کے مختلف گروہ اور رنگ پائے جاتے ہیں جو مغربی طرز زندگی، طرز فکر، طرز تعلیم کو اسلامی علمیاتی فکر میں سمونے اور جواز پیش کرنے کی کوششیں  کر رہے ہیں۔

قرون اولیٰ کی جدیدیت:

قرن اول میں جدیدیت کا ظہور مذہبی و سیاسی فرقوں کی شکل میں ہوا۔ خوارج وہ پہلا فرقہ ہے جس نے عقل کی بنیاد پر اپنے نقطہ نظر کی اساس قائم کی اور پھر عقل کے سہارے مختلف قضایا قائم کرتے چلے گئے۔ ان عقلی موشگافیوں کے ذریعے شریعت اورعقائد میں اختراعات، بدعات و تنازعات کا ایک سلسلہ در آیا جس نے فلسفہ یونان کی آمیزش کے ساتھ ایک مجتہدانہ اور عالمانہ رنگ اختیار کر لیا۔ تفریق و افتراق کے اس سلسلےمیں رکاوٹ بننے والے کئی صحابہ کرام کو شہید کیا گیا۔ حضرت علی (رض) اور حضرت عثمان(رض) کی شہادت بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔

پہلی اور دوسری صدی ہجری میں عقلی موشگافیوں اور نسل پرستی کی بنیاد پر جو فرقے سامنے آئے ان کے فروغ کا سبب قرآن، حدیث، سنت اور اجماع سے احتراز، انکار اور انحراف تھا۔ انکی تفصیلات شہرستانی اور ابن حزم اندلسی کی کتب ‘الملل والنحل’ اورکئی دیگر کتب میں موجود ہے۔ ان میں سے چند اہم فرقے اور افراد درج ذیل تھے۔

  •  خوارج، معتزلہ، مرجیہ، قدریہ، جہیمیہ، اخوان الصفاء او ر انکے ذیلی فرقے۔
  • سرکردہ افراد میں معبد الجہنی، غیلان دمشقی، عطاء ابن السیار، واصل بن عطا، عمرو بن عبید، جہم بن صفوان، ابوہذیل بن حمدان علاف، ابراہیم بن سیار، ابوالحسن الخیاط و دیگر۔
  • فلاسفہ میں الکندی، ابوبکر رازی، ابولعلاء معریٰ، عمر خیام، فارابی، ابن سینا، مسکویہ، ابن باجہ، ابن طفیل، ابن رشد اور دیگر۔

قرون اولیٰ کی جدیدیت کا محاکمہ:

قرون اولیٰ کی جدیدیت کا علمی محاکمہ ازالہ کرنے میں تمام علماء کرام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا لیکن اس سلسلے میں سب سے زیادہ شہرت امام ابوالحسن الاشعری اور امام غزالی کو حاصل ہوئی۔ ابوالحسن الاشعری نے معتزلہ کو علمی بنیادوں پر شکست دی اور امام غزالی نے یونانی فلسفہ کی یلغار کو اس طرح روکا کہ پھر اٹھارویں صدی عیسوی تک عالم اسلام میں جدیدیت سر نہ اٹھا سکی۔

امام غزالی کے نزدیک علم کا مقصد محض خدا کی رضا، خوشنودی اور خوف خدا کا حصول ہے۔ علوم نقلی ہوتے ہیں اور فنون عقلی۔ علوم کی بنیاد وحی پر ہوتی ہے جسے عقل محض سے پرکھا نہیں جا سکتا۔ فنون عقلی موشگافیوں سے ترقی کرتے ہیں لیکن انہیں بھی لہو و لعب اور لغو نہیں ہونا چاہیے۔ جو فنون خدا کی خوشنودی، رضا، خوف خدا، معاد اورمعاش کے فروغ میں معاون ہونگے وہ فنون کہلائیں گے۔

جدیدیت پسند اجتماعی طور پر امام غزالی اور ابوالحسن الاشعری کو نظر انداز کرتے ہیں کیونکہ وہ مغرب کو قبول کرنے کی راہ میں سب سے بڑی علمی رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے اسلامی معاشروں میں الحاد، لادینیت، اور آزاد خیالی کے تمام راستے محدود و مسدود کرکے رکھ دئے۔ جدیدیت پسند معتزلہ، ابوبکررازی، کندی، فارابی، ابن سینا، اخوان الصفاء اور ابن رشد کو اسلامی تاریخ کے سنہرے دور کے طور پر پیش کرتے ہیں حالانکہ ان میں سے اکثر کے خیالات یہ تھے کہ زمین و آسمان ہر گز تباہ نہیں ہوسکتے، جنت و جہنم کی لذت و سزا جسمانی نہیں ہوگی۔ انکے نزدیک اہل علم اور اہل حکمت و فلاسفہ کو بھی نبیوں میں شمار کیا جا سکتا ہے، انسانوں میں سب سے افضل اصحاب عقل ہوتے ہیں، سقراط اور زرتشت پیغمبر تھے۔ سواد اعظم اہلسنت کی روایت کے مطابق ان فلاسفہ کے یہ افکار گمراہ کن ہیں۔

جن لوگوں نے جدیدیت کا علمی محاکمہ، مقابلہ اور ازالہ کیا ان میں سے چند مشہور علماء کرام درج ذیل ہیں۔

  • امام ابوحنیفہ(فقہ الاکبر)، امام شافعی(الرسالہ، کتاب الام) امام ابوالحسن الاشعری(مقالات الاسلامئین)، قاضی ابوبکر باقلانی۔
  •  امام غزالی (تہافۃ الفلاسفہ، المستصفیٰ)، امام فخر الدین رازی، امام نجم الدین نسفی (مقدمہ فی بیان المذاہب) ابن تیمیہ (الرد المنطقین، منہاج السنہ)۔
  • علامہ سعد الدین تفتازانی، امام الحرمین، امام طحاوی (عقیدہ طحاویہ)، امام سرخسی، شاہ ولی اللہ اور دیگر علماء کرام۔

اٹھارویں صدی کی جدیدیت:

مغرب میں یونانی فلسفہ ابن رشد کے ذریعے پہنچا اور پھر مغرب نے اس میں اضافے کرکےسترھویں صدی میں جدید فلسفہ مغرب، اور سائنس کی بنیاد رکھی۔ اسکے نتیجے میں یورپ نے مادی ترقی کے نئے مظاہر پیش کئے۔ عالم اسلام میں اس وقت انحطاط کے باعث کوئی بڑی علمی ہستی موجود نہ تھی لہذا مغربی فلسفیانہ یلغار اور مادی ترقیات نے عالم اسلام کو متاثر کیا۔ ترکی، مصراور ہندوستان اس فکری، علمی اور ثقافتی یلغار سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔  استعماری طاقتوں کے ذریعے جدیدیت کی لہر جب ان ممالک میں داخل ہوئی تو مسلم مفکرین نے اسے محض ایک اتفاقی حادثہ سمجھا۔  کچھ لوگوں نے مرعوب و مغلوب ہو کر اس یلغار کے تمام ثقافتی، فلسفیانہ اور علمیاتی پہلوئوں کو بغیر نقد و نظر، محاکمے و مباحثے کے، اسلام کے سنہری دور کا انعکاس و عکاس سمجھ کر من و عن قبول کر لیا۔ مسلمان مفکرین کی توجہ مغرب کی ترقی اور برتری پر مرکوز ہوگئی اور مسلمانوں کے زوال کا واحد سبب مادی علم، ہنر، فنون، ترقی اور تسخیر دنیا میں پسپائی کو قرار دیا گیا۔ عروج کیلئے طاقت، علم، قوت، سائنس، اقتدار کو اہداف ٹھہرایا گیا۔

اسلامی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ سلطنت روما اور ایران کو ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر شکست نہیں دی گئی تھی بلکہ فتح کرنے والے گدھوں پر سوار تھے اور انکی دعوت نے صرف زمین  ہی نہیں بلکہ قلوب بھی مسخر کر لئے تھے۔  ایمان ایک قلبی کیفیت ہے جو روحانی واردات سے متاثر ہوتی ہے۔ مادی مظاہر سے ایمان و عقیدے کی دولت نصیب نہیں ہوتی۔ اندلس میں مسلمانوں نے زبردست مادی ترقی کی لیکن روحانی طور پر وہ غیر مسلموں کو متاثر نہ کر سکے لہذا ہمیشہ اقلیت میں رہے۔ اندلس کی مادی ترقی، سائنس، فلسفہ اور فن تعمیرات نے یورپ میں اشاعت اسلام، اسکے اثر و نفوذ اور مسلمانوں کو بچانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ خلافت عثمانیہ اور مغل سلطنت  بھی اپنے زیر تسلط علاقوں میں اسلام کی  اشاعت پر توجہ نہ دی سکیں اس لئے مادی طور پر مستحکم ہونے کے باجود رعایا پر روحانی برتری قائم نہ کر سکیں۔ انہوں نے زمین مسخر کی لیکن دلوں کو مسخر نہ کر سکے۔

جدید مفکرین کے تجزیوں میں اشاعت اسلام اور روحانیت زیر بحث نہیں آتی، وہ یہ بتانےسے قاصر ہیں کہ سائنسی تمدن کی حامل خلافت عباسیہ غیر متمدن منگولوں سے شکست کیسے کھاگئی؟ پھر شکست خوردہ اسلامی تہذیب صرف پچاس سال کے عرصے میں مزید  مادی ترقی کئے بغیر دوبارہ کیسے غالب آگئی؟ وہ کونسا فلسفہ،سائنس یا ٹیکنالوجی تھی جس سےمتاثر ہو کر چنگیز خان کے پوتے نے اسلام قبول کیا؟

انیسویں صدی کی جدیدیت:

انیسویں صدی میں جدیدیت کا باقاعدہ آغاز مصر میں حسن العطار اور رفاع رافع  نے قوم پرستی اور  لبرل فکرکے ذریعہ کیا لیکن اس سے قبل محمد علی پاشا مملوکوں کے قتل عام سے شروعات کر چکے تھے ۔ ابراہیم شناسی اور ناسخ کمال نے اسے آگے بڑھایا۔ جمال الدین افغانی نے رفاع کی فکر میں توسیع کرتے ہوئے مسلم قومیت کے تصور کو پان اسلام ازم کے سانچے میں ڈھالا اور جدیدیت کے زیر اثر، امت کے تصور کو پس پشت ڈال کر قومیت کے فلسفے کو مذہبی وعلمی بنیاد مہیا کی جس کا کام   تحفظ ذات  اورقومی مفادات کے تحفظ کے سوا کچھ نہ رہا۔

انیسویں صدی کے وسط میں جب ترکی، مصر اور ہندوستان پر جدیدیت کا زبردست حملہ ہوا تو تین اہم مفکریں جمال الدین افغانی، مفتی عبدہ اور سرسید احمد خان سامنے آئے۔ تینوں حضرات مغربی فلسفے سے سرسری واقفیت اور سائنسی مباحث پر  برائے نام عبور رکھتے تھے۔ مغرب کی مابعد الطبیعات، وجودیات، کونیات، الہیات اور فلسفیانہ تحریکوں سے بھی پوری طرح واقفیت نہیں تھی۔ وہ تہذیب مغرب کو اسلام کا مظہر سمجھتے رہے حالانکہ تحریک تنویر اور تحریک رومانویت کی علمیات، عقل استقرائی و استخراجی اور وجدان کو حقیقت کلی تک پہنچنے کا اصل ذریعہ سمجھتے ہوئے کسی خارجی ذریعہ علم (وحی الہی) کی قائل نہ تھیں۔

مفتی عبدہ انگریز فلسفی ہربرٹ اسپنسر کے مداح تھے۔ انہوں نے تقلید کی مخالفت کی، اجتہاد پر زور دیا، اجماع کا براہ راست انکار کرنے کے بجائے پارلیمنٹ کو اجماع کا متبادل قرار دے کر جمہوریت کو اسلامی رنگ دینے کی کوشش کی اور مارٹن لوتھر کے نقطہ نظر کی توثیق کی۔ مفتی عبدہ نے لکھا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا عرفان جدلی معقولات سے نہیں بلکہ مطالعہ فطرت سے ممکن ہے۔ اللہ نے دو کتابیں نازل کیں ایک ‘مخلوق کتاب’ ہے جس کو ‘فطرت’ کہتے ہیں دوسری الہامی کتاب جو ‘قرآن حکیم’ ہے۔ سرسید نے اسی نقطہ نظر کو کلام الہی word of God اورکائنات work of God کے پیرائے میں بیان کیا اور اجماع کو ماخذ قانون تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ مفتی عبدہ کی بیس تصانیف میں سے کوئی بھی مغربی فلسفہ، تہذیب اور اقدار کا نہ احاطہ کرتی ہے نہ تنقید۔ یہی حال سرسید کا ہے جن کے یہاں فلسفہ مغرب کی مبادیات کے بارے میں کوئی آگہی نہیں ملتی۔ انہوں نے صرف کرامت علی جونپوری کے خیالات کو ہی اپنے انداز سے پیش کیا۔

جدیدیت پسند مفکرین  کی کتابوں میں بنیادی انسانی حقوق، جمہوریت اوردستوری ریاست کے مباحث  پر بھی گفتگو اور تجزیے نظر نہیں آتے ۔ انہوں نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا کہ بنیادی حقوق انسانی کا فلسفہ کہاں سے آیا؟ کن لوگوں نے تخلیق کیا؟ اسکے ذرائع اور ماخذات کیا ہیں؟ جن اصولوں، اقدار، روایات کو عالمی، مسلمہ، مستند اور ناقابل تغیر قرار دیا جا رہا ہے وہ کن ذرائع سے حاصل ہوئے؟ انہیں پوری دنیا سے منوانا کیوں ضروری ہے؟ انسان اگر عبد ہے تو اسکے پاس ‘جو چاہے اختیار کرے’ کا اختیار کیسے آسکتا ہے؟ کیا مطلق آزادی کا مطلب سرمائے کی غلامی اور شیطان کی بندگی ہے؟ کیادستوری ریاست کی حکمرانی کا مقصد سرمایہ دارانہ اقلیت کی حکمرانی ہے؟

مغرب کے تمام جدید علوم میں عقلیت(Rationalism) ہی وہ بنیادی عنصر ہے جس نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ اس نقطہ نظر کے مطابق انسان قائم بالذات ہے اپنی عقل،خواہش اور مرضی کے مطابق فیصلے کرنے میں بالکل آزاد اور حق بجانب ہے۔  جو چیز عقل  اور تجربیت کی گرفت میں نہ آئے اور انکے ذریعے جس کی تصدیق نہ ہو سکے وہ بے حقیقت اور اسکا انکار لازم ہے۔ یہ فکر بعد ازاں مربوط سائنسی فکر (Scientific Method) میں تبدیل ہوئی، جدید مسلم مفکرین اس سے متاثر ہوئے اورانہوں نے اسلام کو بھی اسی سائنٹفک میتھڈ سے سمجھنے کی کوشش کی۔ لیکن انہوں نے اس حقیقت کو پیش نظر نہیں رکھا کہ اس عقلیت کے پس منظر میں انسان پرستی کا فلسفہ کارفرما ہے جس میں کائنات کا مرکز اللہ تعالیٰ کے بجائے انسان کو ٹھہرا کر اسے مطلق اختیارات کا مالک قرار دیا گیا۔ انسان کو جس منصب پر فائز کیا گیا وہ عبد نہیں بلکہ معبود کا مقام ہے۔ انسان دوستی، حقوق انسانی اور انسان پرستی کے اس فلسفہ کی رو سے نفس انسانی نے وحی الہی اور عقل انسانی نے پیغمبروں کی جگہ لے لی۔ اسکے نتیجے میں جو انسان وجود پذیر ہوا وہ خواہشوں کا غلام، مطلق آزادی کا طلب گار ہے اور آزادی کی مادی شکل سرمائے کے سوا کچھ نہیں۔ اس حب دنیا و لذت پرستی کیلئے تسخیر دنیا ضر وری ہے تاکہ سرمایہ میں بڑھوتری ہو اور ہر خواہش پوری ہوتی رہے۔

جدیدیت پسندوں کا  دعویٰ ہے کہ جدید مغربی تمدن، اسلامی  تہذیب ہی کی توسیع ہے۔ عالم اسلام نے اپنی میراث یعنی سائنس، ترقی، ڈیولپمنٹ اور عقل کو چھوڑ دیا، مغرب نے اسے اختیار کرکے ترقی کی منازل طے کرلیں لہذا  مغرب سے ہمیں اپنا تاریخی ورثہ واپس لے کر ایک نئی دنیا کی تعمیر کرنی چاہیے۔ان مفکرین کے ہاں دعوت ایمان، قلوب کی تسخیر، دین کیلئے محنت، پیغام محبت، عمل صالح، اتحاد، اجماع، اور جہاد جیسے روحانی اعمال کی کوئی اہمیت نہیں۔ انکے نزدیک فتح کا واحد راستہ مادی ترقی، جنگ، پیسہ، اور مادی علم ہے۔ ان افکار کی وجہ سے امت سمٹ کر قوم پرستی کے دائرے میں مقید ہوگئی۔ قومیت آفاقیت کی نفی کرتی ہے اور زمان و مکان کے دائرے میں محصور ہوتی ہے جبکہ اسلام قومیت کی نفی کرتے ہوئے امت کی تشکیل کرتا ہے۔ قومیت کی بنیاد محبت نہیں نفرت پر ہوتی ہے اور اس  میں ذات رسالت مآبﷺ، آپ کے اسوہ حسنہ،مقام رسالت،سنت و حدیث سے فیض یاب ہونے کی بجائے اسے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہی وہ سرچشمے ہیں جہاں سے اسلامی تہذیب، تاریخ، حکومت اور تمدن کے سرچشمے پھوٹتے ہیں ،ان کو گدلا کئے بغیر جدیدیت عالم اسلام میں برگ و بار نہیں لا سکتی۔

مسلم دنیا میں جدیدیت کو فروغ دینے والے مفکرین:

  • مصر میں حسن العطار، رفاع رافع، مفتی عبدہ، علی عبد الرزاق(مفتی عبدہ کے شاگرد)، صبحی صحمصانی، عبدالحلیم محمود، ذکی نجیب محمد، محمد حسین ہیکل، ڈاکٹر احمد امین مصری، محمد ابورایہ، ڈاکٹر طہ حسین و دیگر۔
  • ترکی میں سلطان سلیم ثالث، محمود ثانی، غازی مختار احمد پاشا، مصفطیٰ کمال اتاترک، ضیاء گوگلپ، شیخ احمد آفندی و دیگر۔
  • ایران میں ڈاکٹر علی شریعتی، ڈاکٹر حسین دباغ، عبد الکریم سروش، ڈاکٹر حسن نصر، ڈاکٹر ولی رضا نصر و دیگر۔
  • عراق میں دائود محمد پاشا، محمد رشاد پاشا، مدحت پاشا اور حمدی البشاشی، شیخ محمد حسین نینی نے جدیدیت کو فروغ دیا۔
  • شام میں علامہ طاہرالجزائری، لیبیا کے کرنل معمر قذافی۔ لبنان کے امیر شکیب ارسلان۔
  • افغانستان میں جمال الدین افغانی، نیاز احمد زکریا۔ ملائیشیا میں مہاتیر محمد، انور ابراہیم۔
  • تیونس میں حسین بے، شاکر بے، احمد بے اور خیر الدین پاشا۔ مراکش میں عبداللہ لاروئی، سوڈان میں عبد اللھی احمد النعیم، ڈاکٹر حسن الترابی۔
  • فرانس کے یحیٰ نورالدین (رینے گینوں) اور انکا حلقہ جس میں شواں، گئے ایتیون، مارٹن لنگز وغیرہ شامل ہیں اس مکتبہ فکر نے وحدت ادیان کا تصور پیش کیا ہے۔ اس حلقے کے کچھ مفکرین نے مغرب اور فلسفہ مغرب پر تنقید بھی کی ہے لیکن بعض مقامات پر اسلامی علمیات اور عقائد سے متعلق بنیادی معاملات میں ٹھوکریں کھائیں۔
  • یورپ اور امریکہ میں جدیدیت کو فروغ دینے والے مسلم اسکالرز میں ڈاکٹر فضل الرحمن، ڈاکٹر سید نعمان الحق، ڈاکٹر اقبال احمد، ڈاکٹر ممتاز احمد، ڈاکٹر رفعت حسین، ضیاء الدین سردار، فرید زکریا، نیویارک سٹی کی مسجد الفرح کے امام فیصل عبد الرئوف، شیخ عبد الحکیم مراد و دیگر شامل ہیں۔

ہندو پاک کے جدیدیت پسند مفکرین:

ہندوستان میں جدیدیت کا آغاز کرامت علی جونپوری کے ذریعے ہوا۔ اس سے قبل جلال الدین اکبر کے ذریعے دین الہی کی کوشش کی گئی تھی جس میں ابو الفضل و فیضی کا اہم کردار تھا۔ بعد ازاں داراشکوہ بھی اسی جدیدیت کا نمائندہ تھا۔

  • کرامت علی جونپوری کے بعد سرسید احمد خان، غلام احمد قادیانی، چراغ علی، امیر علی، محسن الملک، وقار الملک، الطاف حسین حالی، اسلم جیراج پوری، محمد علی جوہر، برکت اللہ بھوپالی، حسرت موہانی، خواجہ احمد دین امرتسری، عرشی امرتسری، نیاز فتح پوری، عنایت اللہ مشرقی، تمنا عمادی، حبیب الرحمن کاندھلوی، جعفر شاہ پھلواری، عبداللہ چکڑالوی، غلام جیلانی برق اور غلام احمد پرویز مشہور ہوئے۔
  • ڈاکٹر قمر الزمان، ڈاکٹر رفیق زکریا، ڈاکٹر ذاکر حسین، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی، عقیل بلگرامی، اے اے فیضی، وحید الدین خان، طاہر مکی، پروفیسر محمد سرور، جسٹس قدیر الدین، رحمت اللہ طارق، عطااللہ پالوی، ڈاکٹر جاوید اقبال، پروفیسر علی حسن مظفر، رفیع اللہ شہاب، خلیفہ عبد الحکیم، اے کے بروہی، مستری محمد رمضان، رفیع اللہ ملتانی، حشمت علی لاہوری، جاوید احمد غامدی بھی جدیدیت پسندوں میں شامل ہیں۔
  • اسلام میں متشدد تحریکیں خارجیت ہی کی مختلف اقسام ہیں جن میں انقلاب کا تصور، خونی جدوجہد اور خود کش دھماکوں کو جائز سمجھا جاتا ہے۔ اسلام میں نہ خونی انقلاب کا تصور ہے نہ بنیاد پرستی جیسی کوئی چیز۔ ماڈرن ازم اور بنیاد پرستی میں دہشت گردی کا عنصر مشترک ہے۔ اسی طرح وحدت ادیان، بہائیت، قادیانیت، نیچریت، انکار حدیث، روشن خیالی، دہریت، اباحیت کی تحریکیں بھی جدیدیت کی ہی مختلف شکلیں ہیں۔
  • کیپٹن مسعود الدین عثمانی، ڈاکٹر کمال عثمانی(حز ب اللہ)، مسعود احمد بی اے(جماعت المسلمین)، مصر میں التکفیر و الہجرہ، القائدہ، داعش، حزب التحریر اور دیگر گروہ جو امت کی تکفیر کرتے ہیں وہ جدیدیت کی ہی مختلف شکلیں ہیں۔
  • روایت کے کچھ حلقے مولانا عبید اللہ سندھی، شبلی نعمانی، حمید الدین فراہی، اور امین احسن اصلاحی کو بھی متجددین میں شمار کرتے ہیں۔
  • بعض روایت پسند علماء کے نزدیک مولانا ابوالکلام آزاد کے کچھ خیالات بھی جدیدیت پر مبنی تھے مثلا ً یہ فتوی کہ اتاترک کی اصلاحات (جن کے تحت میراث اور گواہی میں مرد و عورت کی حیثیت برابر ہے) کو شریعت چھوڑے بغیر جاری کیا جا سکتا تھا۔ اسی طرح انہوں نے ایک انٹرویو میں عورت کے سربراہ مملکت بننے کو جائز قرار دیا تھا۔ مولانا مودودی نے اس وقت ان پر شدید تنقید کی تھی۔ لیکن بعد ازاں جب مولانا مودودی نے محترمہ فاطمہ جناح کی سیاسی حمایت کی تو ان پر بھی تنقید ہوئی۔ مولانا مودوی کے نظریہ سنت و احادیث پر بھی کچھ لوگوں نے اعتراضات کئے لیکن مولانا مودودی نے ‘سنت کی آئینی حیثیت’ لکھ کر ان شبہات، اعتراضات اورخدشات کا ازالہ کر دیا۔ مولانا مودودی سنت، حدیث،  اجماع  اوراسلاف کو روایتی علماء کی طرح ہی مانتے ہیں لیکن کچھ امور پر روایتی علماء سے انکے اختلافات ہیں۔ انہوں نے  اپنی کتب میں مغرب پر بھی شدید تنقید کی۔
  • کچھ لوگوں کا خیال ہے مفتی تقی عثمانی، ڈاکٹر زبیر اشرف عثمانی اور عمران اشرف عثمانی بھی جدیدیت سے جزوی طورپر متاثر ہیں یا انہوں نے مغربی فلسفے اورنظام سرمایہ داری کو پوری طرح سمجھے بغیر علم معاشیات اور بیکنگ سسٹم کو اسلامائیز کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسی طرح بریلوی عالم ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی تجارتی سود کو جائز قرار دیا۔ پیر کرم شاہ ازہری نے تین طلاقوں کو ایک قرار دیا۔ ڈاکٹر اسرار احمد کا علم الکلام بھی اسی زمرے میں آتا ہے جس کے تحت پورا مغرب مسلمان ہو چکا ہے لیکن صرف اسے کلمہ پڑھانے کی کمی رہ گئی ہے۔ یہ سب خیالات جدیدیت سے متاثر ہونے یا اسے پوری طرح نہ سمجھنے کا نتیجہ ہیں۔
  • حسن عسکری صاحب نے ‘مغربی کی گمراہیاں’ کتاب لکھی اور مفتی شفیع کے بہت قریب رہے لیکن اسکے باوجود اپنے آپ کو جدیدیت سے کلی طورپر الگ نہ کر سکے۔ وہ اسلامی سوشلزم کے قائل تھے اوربھٹو کو عالم اسلام کا نجات دہندہ تصور کرتے تھے، موسیقی کی محفلوں کا خصوصی اہتمام کرتے اور اس سے حظ اٹھاتے تھے۔

علامہ اقبال جدیدیت سے جزوی طور پر متاثر ہوئے لیکن بعد ازاں رجوع کر لیا:

بہت سے جدیدمسلم مفکرین اپنے مقاصد کے حصول کی خاطر مشاہیر اسلام کی قدآور شخصیات کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ لوگ علامہ اقبال کی آراء کو مسلمہ دینی آراء کے طور پر پیش کرتے ہوئے استدلال کرتے ہیں کہ اقبال نے مغربی تہذیب اور فکر مغرب کو اسلام کی توسیع ثابت کرنے کی کوشش کی۔ انکا خیال تھا کہ اسلام اور جدید مغربی فلسفہ و سائنس میں کوئی تضاد نہیں  بلکہ یہ ایک دوسرے سے  ہم آہنگ ہیں۔ علامہ اقبال کے حوالے سے یہ استدلال درست نہیں کیونکہ آپ نے عالم اسلام میں حریت، آزادی افکار، تقلید سے بیزاری، قدامت سے انکار اور اجتہاد کے نام پر آزادی اظہار کی تحریکوں میں پوشیدہ خطرات کا ادراک کرتے ہوئے اپنے خطبات میں کہا کہ ‘نسلیت اور قومیت کے تصورات جو اس وقت دنیائے اسلام میں کارفرما ہیں انکا رجحان تفرقہ اور انتشار کی طرف ہے۔ اسکے علاوہ یہ بھی خطرہ ہے کہ ہمارے مذہبی اور سیاسی رہنما حریت اور آزادی کے جوش میں اصلاح کی جائز حد سے تجاوز نہ کر جائیں’۔

علامہ اقبال نے  مفتی عبدہ کی طرح پارلیمان کو اجماع کا محدود نعم البدل ضرور سمجھا لیکن اس ضمن میں اپنے تحفظات اور خدشات بھی پیش کئے۔ اور عملاً اس تجویز کو خود ہی رد کر دیا جب  یہ تجویز دی کہ مجالس قانون ساز میں علماء کو بطور ایک جزو شامل کیا جائے۔  آپ ہر معاملے میں علماء کرام سے رجوع فرماتے  اور ان سے استفادہ اور تقلید کو باعث نجات سمجھتے تھے۔ خطبات کے ترجمے میں اصلاح کے لئے بھی علماء سے مدد لینے کی ہدایت کی تھی۔ آپ  نے سید سلیمان ندوی کو استاذ الکل لکھا اور یہ اعزاز کسی فلسفی یا جدیدت پسند مفکر کو نہیں دیا۔ اقبال شاعر اسلام ،مرد مومن اور عاشق رسولﷺ تھے اور رہیں گے۔ جدیدیت پسندوں کو اقبال بطور شاعر اسلام اور عاشق رسولﷺ پسند نہیں لیکن انکا وہ فلسفہ پسند ہے جس سے انہوں نے خود رجوع کر لیا تھا۔

ڈاکٹر ظفر الحسن نے سرسید اور اقبال کو جدید علم الکلام کا بانی قرار دیا۔ لیکن سرسید اور اقبال  نہ ایک اقلیم کے مسافر  ہیں اور نہ انکا ہر معاملہ ایک جیسا ہے۔ علامہ اقبال قرآن حکیم کو آسمان سے نازل ہونے والی کتاب اور رسالت مآبﷺ کو دنیا کی محبوب ترین ہستی مانتے ہیں۔ انکے سامنے جب رسول اللہﷺ کا نام لیا جاتا تھا تو انکے آنسوئوں کی جھڑی لگ جاتی تھی۔  علامہ اقبال کا زور اس بات پر ہے کہ وحی کے ذریعے حاصل ہونے والا علم بہترین انسانی دماغوں کے اکتسابی علم سے برتر ہے۔ وہ مذہب کی حقانیت کو اس بنیاد پر ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ سائنسی علم اور نصوص دین میں مطابقت پائی جاتی ہے۔ لیکن سرسید کے مباحث کے نتیجے میں دینی عقائد کمزور ہوئے یہی وجہ ہے کہ مولانا قاسم نانوتوی نے اپنی کتاب تصفیہ العقائد اور مولانا اشرف علی تھانوی نے ‘اسلام اور عقلیات’ میں سرسید کا نقد کیا۔

علامہ اقبال نے مغرب سے متاثر اذہان کو اسلام کے قریب لانے کیلئے ‘خطبات’ لکھے لیکن سید سلیمان ندوی، مولانا دریا آبادی اور ابوالحسن علی ندوی نے اشاروں کنایوں میں علامہ اقبال کے خطبات کا نقد کرتے ہوئے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ یہ کوشش انتہائی پرخطر اور دشوار ہے۔ یہ دو اقالیم کا معاملہ ہے جن کی علمیات، مابعدالطبیعات، وجودیات، منہاج اور ماخذات علم الگ الگ ہیں اور ان میں تطبیق ممکن نہیں۔ چنانچہ علامہ اقبال نے خطبات کے بعد مکتوبات، بیانات، تقاریر اور تصریحات میں خطبات سے متعلق امور پر ایسے خیالات کا متواتر اظہار کیا جن سے معلوم ہوتا ہے وہ خطبات کے بہت سے خیالات سے رجوع کر چکے تھے اور سید سلیمان ندوی بھی اس بات کی تصدیق کی۔

اس سلسلے میں سید نذیر نیازی سے کی گئی مراسلت میں خطبات پر نظر ثانی کرنے اور انہیں دوبارہ لکھنے کا اظہار بھی علامہ اقبال کی تشویش، اضطراب اور دردمندی کو واضح کرتاہے۔ آپ نے 1933 کو لاہور کے خطاب میں فرمایا کہ اسلام کو موجودہ تہذیب و تمدن کے مقابلے میں کمزور طاقت کے طور پر نہیں بلکہ اس طرح پیش کرنا چاہیے کہ اس تہذیب و تمدن کو اسلام کے قریب لایا جا سکے۔ علامہ اقبال نے کبھی عالم ہونے کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ صوفی غلام مصطیٰ تبسم کو لکھا کہ میری مذہبی معلومات کا دائرہ نہایت محدود ہے۔ فرصت کے اوقات میں ان میں ذاتی اطمینان کیلئے اضافہ کی کوشش کرتا ہوں نہ کہ تعلیم و تعلم کی غرض سے۔

ڈاکٹر برہان احمد فاروقی، سلیم احمد، مرزا منور، تحسین فراقی، پروفیسر عبد الحمید کمالی، ڈاکٹر فضل الرحمن، ڈاکٹر عشرت انور، ڈاکٹر منظور احمد، ڈاکٹر الطاف اعظمی، ڈاکٹر سلمان رشید اور سہیل عمر نے بھی خطبات کا تنقیدی جائزہ لیا اور یہ سوالات اٹھائے کہ اصل چیز اقبال کی شاعری ہے یا خطبات؟شاعری اور خطبات کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ کیا اقبال خطبات میں سوال اٹھاتے ہیں اور شاعری میں جواب دیتے ہیں؟خطبات کے بعد کی شاعری، خطبات کی ناسخ قرار پائے گی یا نہیں؟ شاعری خطبات کے تابع ہے یا متوازی؟ اگر خطبات اور شاعری کو متوازی تصور کیا جائے تو کیا اس سے اقبال کی شخصیت مجروح ہوگی؟ اس تضاد و اختلاف کی توجیہ و توضیح کیسے کی جائے؟ خطبات اور شاعری میں تطبیق کیسے پیدا کی جائے؟ یہ سب سوالات اس وقت اٹھائے جاتے ہیں جب علامہ اقبال کےرجوع کو اہمیت نہیں دی جاتی اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ اصل اقبال شاعر  اور عاشق رسول ﷺہے نہ کہ فلسفی۔

روایت کیا ہے؟

جدیدیت اور روایت ایک دوسرے کے متضاد رویے،اسلوب اور طرز فکر ہیں اور انکے درمیان چودہ صدیوں سے کشمکش جاری ہے۔ جدیدیت  کے مقاصد،عزائم اور اہداف کا فہم اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک روایت کا صحیح فہم حاصل نہ ہو ۔روایت میں اطاعت و محبت کو عقلیت پر برتری حاصل  ہوتی ہے۔ اسکی رو سے عقل کا مقام دل ہے کیونکہ دل سے محبت کا چشمہ پھوٹتا ہے اور محبت اطاعت پر آمادہ کرتی ہے۔ انبیاء کرام معصوم ہوتے ہیں، ان سے محبت ہمارا جزو ایمان ہے اور نبی آخر زماں حضرت محمدﷺ سے محبت دین کی پہلی سیڑھی ہے۔ انسان کے اخلاقی و روحانی وجود کی بنیاد خوف خدا، رضائے الہی اور فکر آخرت ہے۔

روایت ہر عہد کے مسلمان کو جذباتی اورروحانی طو رپر عہد رسالت مآبﷺ سے عملاً وابستہ کر دیتی ہے۔ یہ جذباتی تعلق اس روایت کا تسلسل ہے جو قرآن و سنت، عمل صحابہ اور امت کے تسلسل و متواتر عمل کے ذریعے ہم تک پہنچی۔ بقول اقبال ‘خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی’۔ مسلمان اگر اپنی تاریخ و تہذیب کے دور زریں سے جذباتی طور پر وابستہ نہ ہوں تو انکا وجود دنیا کی کسی قوم کیلئے ناگوار نہ رہے۔ مغربی جدیدیت اور استعمار تمام اقوام کو ماضی سے کاٹ کر مستقبل کے مادہ پرستانہ نظام سے جوڑنا چاہتے ہیں اور انکی اس خواہش میں شدید ترین عملی مزاحمت اسلامی روایت کی جانب سے ہو رہی ہے۔ روایت، رسول اللہ ﷺ سے اپنے جذباتی تعلق کو کسی قیمت پر ترک کرنے پر آمادہ نہیں۔ روایت کے ضروری عناصر درج ذیل ہیں:

  • روایت وہ طرز عمل ہے جس کی بنیاد قرآن، سنت، اسوہ حسنہﷺ، حدیث، عمل متواتر اور اجماع امت میں موجود ہے۔ روایت، ان ماخذات سے استفادہ کیلئے اسلام کے مسلمہ مکاتب فکر سے رجوع کرکے ان کے ذریعے دین اخذ کرتی ہے اور انفرادی آراء پر قائم کردہ مسالک و مکاتب فکر سے مکمل گریز کرتی ہے کیونکہ اس طرح دین کی محفوظ طریقے سے تحصیل و ترسیل مشکوک ہو جاتی ہے۔
  • روایت، تمام مسلمہ مکاتب فکر کو حق پر سمجھتی ہے لیکن دیگر مکاتب فکر کو کافر قرار نہیں دیتی۔ اسکے اصولوں کے تحت شیعہ اور خارجیوں کو بھی کافر نہیں قرار دیاگیا۔
  • ذات رسالت مآبﷺ سے عشق، روایت کے حاملین کے ضمیر و خمیر میں پیوست ہے۔ روایت اپنا رشتہ ماضی سے قائم رکھتی ہے اور مستقبل پر نظر رکھنے کیلئے ایسے اجتہا د کی قائل ہے جو تقلید کو ممکن بنا سکے۔
  • روایت کا تعلق محض باطن سے ہی نہیں ظاہر سے بھی ہے مگر اسکے ظہور زمانی کا تسلسل اپنے اصول حرکت کے ساتھ’اصول توحید’ سے متعین ہوتا ہے جسکا تعلق وحی اور رسالت کے ذریعے مابعد الطبیعاتی نظام سے قائم ہے۔ مذہب، قانون، اخلاق، معاشرت، علوم و فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے سارے اصول اس مابعد الطبیعاتی نظام سے اخذ ہوتے ہیں اور اسی کے تابع ہوتے ہیں۔ اسکی اصل جستجو، مقصد اور ہدف معاد میں کامیابی ہے لہذا تمام علوم و فنون اس جستجو کو ممکن بنانے کیلئے کارفرما رہتے ہیں۔ زندگی کا محور و مقصد اللہ کی عبادت کے سوا کچھ نہیں، جو علم و فن اس راستے میں رکاوٹ بنے اسے اہمیت نہیں دی جاتی۔
  • روایت میں خدا، انسان اور کائنات کے تین بنیادی رشتوں میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ اس میں نہ روح اور مادے میں دوئی ہے اور نہ شریعت و طریقت الگ ہیں بلکہ یہ ایک ہی حقیقت کے ظاہر و باطن ہیں۔ حقیقت کو جاننے کا واحد ذریعہ ایمان ہے۔ حواس ظاہری، حواس باطنی، علم الحواس اور عقلی و عملی تجربات حقیقت مطلق کو جاننے کے حتمی ذرائع تصور نہیں کیے جاتے۔ عقل قلبی کے ذریعے حقیقت مطلق تک رسائی، وحی اور رسالت مآبﷺ کے وسیلے کے بغیر ممکن نہیں۔ عاقل وہ ہے جواپنے آپ کو قرآن و سنت کے تابع رکھے۔ اتباع شریعت کے بغیر کسی قسم کی معرفت ممکن نہیں۔ وجدان کو وحی کے مقابل یا متوازی قرار دینا گمراہی اور جدیدیت ہے۔
  • روایت خدا مرکز ہے اوراسکے نزدیک صداقت اپنے جوہر کے اعتبار سے مقدس اورمستقل بالذات ہے۔ جدیدیت میں صداقت کوئی مستقل بالذات چیز نہیں بلکہ عارضی، اضافی، سیکولر اور طبیعاتی چیز ہے اور اس میں تقدس کی بھی کوئی اہمیت نہیں۔

پاک و ہند میں روایتی علماء کی حکمت عملی:

برصغیر میں برطانوی استعمار کے قبضے کے بعد مغل سلطنت کا خاتمہ ہوا اور یہ جدید سرمایہ دارانہ استعماری ریاست میں تبدیل ہوگئی۔ روایت پسند علماء کے ایک گروہ نے اس برطانوی استعماری ریاست کو دارالاسلام پر حملہ تصور کرتے ہوئے اعلان جہاد کیا اور انگریزی استعمار کو ہندوستان سے بےدخل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ ان علماء نے مغرب سے علمی، کلامی اور تحریری سطح پر جہاد کے بجائے صرف مسلح جہاد کو ترجیح دی۔ انکے مجاہدین نے عزیمت، قربانی، ایثار اور شہادت کی بے نظیر مثالیں قائم کیں اور مسلمانوں کے دلوں میں ایمان کی بجھتی ہوئی چنگاری کو شعلہ دینے میں مدد گار ثابت ہوئے۔ ان علماء کی علمی مساعی  صرف فتاویٰ تک محدود رہی اور ان میں شاہ عبدالعزیز اور شاہ عبدالحئی کے فتاویٰ مشہور ہوئے۔

جب انگریز سرکار نے شرعی قوانین کی اینگلو محمڈن قانون کی شکل میں ترمیم کی تو کبیرہ جرائم کو نجی جرائم کی بجائے سماجی جرم قرار دیا گیا، دیت متروک قرار دی گئی، قطع ید اور جسمانی ایذا رسانی کی سزا کی بجائے مشقت کی سزا رکھی گئی، زنا اور حرامکاری کی سزا کم کرکے تیس کوڑے اور قید کی سزا کر دی گئی غرض اسلام کو ریاست سے مکمل طورپر بے دخل کر دیا گیا۔ اس تبدیلی کے خلاف  روایتی علماء کے جس گروہ نے تحریک چلائی ان میں خانوادہ شاہ ولی اللہ، بخت خان، مولانا قاسم نانوتوی، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، رشید احمد گنگوہی، فضل حق خیر آبادی ودیگر شامل تھے۔

جمہور روایت پسند علماء کے تیسرے بڑے گروہ نے اپنے آپ کو انگریز سامراج کے سیاسی،معاشرتی اور ثقافتی نظام سے الگ کر لیا اور وہ حکمت عملی اپنائی جو تاتاریوں کے حملے کے وقت اپنائی گئی تھی۔ انہوں نے اسلام کو مدارس و مساجد میں محفوظ کرکے مغربی آدرشوں کے عمل دخل کا راستہ روکنے کی بھرپور کوشش کی۔ انہوں نے مغربی تہذیب کا مطالعہ، مشاہدہ اور محاکمہ کرنے کے بجا ئے اسلام کی حفاظت پر اپنی مکمل توجہ مرکوز رکھی اور  اولیں دور میں بہت حد کامیاب رہے۔  لیکن امام غزالی کی طرح علمیاتی محاکمہ کرنے کی کوشش نہیں کی گئی اس لئے  بتدریج اس حکمت عملی میں کمزوریاں پیدا ہوتی چلی گئیں۔

قیام پاکستان کے وقت  صرف چند بڑے مدرسے اور کچھ  بڑے روایتی علماء موجود تھے لیکن عوام سے انکا رابطہ اس قدر مضبوط تھا کہ ریاست ، اہم امور حکومت میں علماء کے تعاون کے بغیر کوئی کام خوش اسلوبی سے انجام نہیں دے سکتی تھی۔ پاکستان کے آئین میں قرآن و سنت کو سپریم لاء قرار دینے، قوانین کو شریعت کے مطابق ڈھالنے، اسلامی نظریاتی کونسل، شرعی عدالتیں ، قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے  اور بےشمار دیگر معاملات علماء کے مشورے سے ہی طے پاتے رہے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی اور کئی دیگر علماء مسلم لیگ کے رکن نہیں تھے لیکن تحریک پاکستان میں انکے نمایاں کردار کی وجہ سے انہیں مسلم لیگ کے عہدیداروں سے زیادہ عزت دی جاتی تھی۔ قیام پاکستان کے فوری بعد مسلم لیگ کا نام تبدیل کرنے کی تجویز پارٹی عہدیداروں کی طرف سے منظور ہو چکی تھی لیکن مولانا شبیر احمد عثمانی کی مخالفت کے باعث قائد اعظم نے اس تجویز کی منظوری نہیں دی۔

جدیدیت کے سامنے مضبوط عزم کے ساتھ کھڑے نہ ہونے اور عوام سے مضبوط دینی رشتے میں کمزوری آجانے  کے باعث آج پاکستان میں لاکھوں مساجد و طالب علم،ہزاروں مدرسے اورسینکڑوں علماء  موجود ہیں لیکن ان میں وہ طاقت نہیں جو قیام پاکستان کے وقت تھی۔ آج علماء کرام کو کسی اہم قومی ودینی  مسئلے پر وزیراعظم سے گفتگو کرنے  اور وقت مانگنے کیلئے درخواستیں کرنا پڑتی ہیں اوروہ مصروفیت کا بہانہ بنا کر ٹال دیتے ہیں۔ عوام دینی رہنمائی کیلئے مساجد اور مدرسوں کا رخ کرنے کی بجائے اخبارات،ٹی وی اور سوشل میڈیا پر انحصار کرتے ہیں جہاں جدیدیت کے نمائندے انہیں جدید دینی تعبیر و تشریح کے نام پر ذہنی ، نفسیاتی و ایمانی خلجان میں مبتلا کر رہے ہیں۔ جدیدیت  اور لادینیت کا گٹھ جوڑ کھلے عام الحاد، سیکولرازم، لبرل ازم،فیمنزم اور فحاشی کو فروغ دے رہا ہے لیکن روایت کے نمائندے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ اگر روایت کے نمائندوں نے اس نازک موقع پر اپنا بھرپور اور ہمہ جہت کردار ادا نہ کیا تو خدانخواستہ یہاں بھی جدیدیت  اور لادینیت اسی طرح ہر شعبہ زندگی میں چھا جائیں گے جس طرح ایک دو صدیاں پہلے مغرب میں ہوا۔

 

نوٹ: یہ مضمون مولف کی تخلیق  نہیں اور نہ ہی اس میں پیش کیا گیا مواد مولف کی تحقیق کا نتیجہ ہے۔ یہ مضمون چند دوستوں کی فرمائش پر تالیف کیا گیااور  یہ درجہ ذیل تحقیقی مقالہ جات سے ماخوذ ہے۔ ان مقالہ جات تک براہ راست رسائی کیلئے کسی لائبریری سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔یہ مضامین ،شعبہ تصنیف و تالیف،جامعہ کراچی نے  اپنے تحقیقی و تجزیاتی سلسلہ ‘جریدہ’ میں شائع کئے تھے جو اس وقت مارکیٹ میں دستیاب نہیں۔ امید ہے کہ  انکی دوبارہ اشاعت تک، جدیدیت اور روایت کے مباحث میں دلچسپی رکھنے والے افراد کیلئے یہ مختصر کاوش استفادے کا باعث بنے گی۔

ماخذات:

1۔ دہشت گردی: تاریخ و تحقیق کی روشنی میں:مہذب قوموں کے ہاتھوں پونے دو ارب لوگوں کا قتل ، سید خالد جامعی، عمر حمید ہاشمی،جریدہ نمبر 35، شعبہ تصنیف و تالیف، جامعہ کراچی۔

2۔معیشت اور سائنسی ترقی:جدیدیت و روایت کےتناظر میں، سید خالد جامعی،عمر حمید ہاشمی، جریدہ نمبر 35، شعبہ تصنیف و تالیف، جامعہ کراچی۔

3۔ معرکہ اسلام معرکہ ایمان و مادیت: جدیدیت و روایت قرن اول سے عہد حاضر تک، سید خالد جامعی،عمر حمید ہاشمی، جریدہ نمبر 35، شعبہ تصنیف و تالیف، جامعہ کراچی۔

4۔عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے خدوخال، ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری، جریدہ نمبر 37، شعبہ تصنیف و تالیف، جامعہ کراچی۔

5۔مغربی فکر ،فلسفہ و تہذیب کا مطالعہ کیسے کیا جائے؟ سید خالد جامعی،عمر حمید ہاشمی، جریدہ نمبر 37، شعبہ تصنیف و تالیف، جامعہ کراچی۔

6۔جدیدیت سے متعلق چند اہم ترین مباحث ، حفصہ صدیقی، جریدہ نمبر 37، شعبہ تصنیف و تالیف، جامعہ کراچی۔

7۔جدید سائنس کی روشنی میں مذہبی تعبیرات کا مسئلہ، زاہد صدیق مغل، جریدہ نمبر 37، شعبہ تصنیف و تالیف، جامعہ کراچی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply