بَونے —- مریم عرفان

0

دو بونے اس کے ساتھ رہتے تھے، دونوں اس کے پلنگ کے نیچے چادر سے لٹکتے اور کھیلتے رہتے۔ اکثر ایک طرف کی دری اور چادر کا کونہ کھنچارہتا کیونکہ بونے اس پر اپنی پینگ ڈال چکے تھے۔ وہ سردیوں کی راتوں کو مونگ پھلی کے دانے چھیل کر انھیں پیش کرتی تو وہ اس کی وسیع و عریض ہتھیلی پر بیٹھ کر کترنے لگتے۔ نغمہ ان کے لیے نئے نئے کھلونے لاتی اور وہ کبھی جھولے والی گڑیا کو اکھاڑ کر اس پر بیٹھ جاتے تو کبھی باجے کی تھوتھنی سے گھسٹتے رہتے۔ رات گئے جب اس کا مرد گھر آتا اور کمرہ اس کے شور سے بھر جاتا تو بونے ڈر کے مارے پلنگ کے نیچے دبک جاتے۔

سلطان سے شادی کے بعد نغمہ اس ویران اور دو اندھیرے کمروں کے مکان میں آباد ہوئی تھی۔ صحن سے آگے اس کی حد فاصل شروع ہو جاتی تھی۔ باہر جانے سے ممانعت کے باعث وہ بس صحن سے کمرے اور کمرے سے صحن تک پھرتی رہتی۔ سلطان کا اپنا آرا تھا جہاں وہ بڑی بڑی لکڑیاں کاٹتا اور پھر انھیں کبھی چوکور، دائرے یا پھٹوں کی سیدھ میں چیرتا رہتا۔ وہ اپنے گلے میں فیتا اور کان کے پیچھے پین رکھے رندہ اور برما سنبھالے ماہر فنکار کی طرح برادہ چھیلتے ہوئے عمر گزار رہا تھا۔ اسے بس اپنے کسب سے مطلب تھا سارا دن وہ دکان پرگزارتا پھر رات کا کھانا کھا کر گلی کے باہر دوستوں کی بیٹھک سنبھال لیتا۔ نغمہ اندھیرے کمرے میں پیلے بلب کی روشنی تلے دیوار پر بننے والے سایوں سے چڑیاں طوطے بناتی رہتی۔ شادی ایک سماجی بندھن کی ڈور جیسے ان کے گلوں سے بندھی تھی اس ڈوری میں اس کے گھنے بال پھنس جاتے جنھیں سلطان نوچ کر اکھاڑتا تو وہ بنا سی کیے ہلتی رہتی۔

ایک دن اچانک اس کے پیٹ میں شدت کا درد اٹھا تو اس نے ہاتھ بڑھا کر سلطان کو اٹھا دیا۔ ’’ساری نیندردا سواد مار دتا ای۔ مرن لگی سئیں۔‘‘ وہ اسے بکتا جھکتا محلے کے کمپاؤنڈر کی دکان پر لے گیا۔ عطائی دوست کی نظریں نغمہ کے گورے چٹے کولھے پر ٹکی تھیں جس پر سے تھوڑی شلوار سرکا کر وہ انجکشن بناتے ہوئے اسے گھور رہا تھا۔ ’’سلطان، میرا ہاتھ پکڑنا۔‘‘ نغمہ نے درد کے تھپیڑوں سے لڑتے ہوئے اسے پکارا۔ سلطان نیند سے میچی آنکھیں کھول کر ذرا سا اس کے پاس ہوا۔ ’’آواز نیویں رکھ۔ تھاں مار دیاں گا۔ ڈرامے باز۔ ‘‘ سلطان گھر واپس آتے ہی دوبارہ خراٹے لینے لگا اور نغمہ دکھتے پیٹ اور انجکشن لگے کولھے کے ساتھ کروٹ بدل کر لیٹ گئی۔ اچانک اس کے پلنگ کے نیچے سے آواز آئی: ’’مٹھا مٹھا ہاؤ ہاؤ۔‘‘ اس نے سٹپٹا کر خالی دیواروں کی جانب دیکھا کہ دونوں بونے چھلانگ مار کر اس کے سینے پر سوار ہو گئے۔ وہ ان دو ننھے منے جسموں کو دیکھ کر پہلے تو خوفزدہ ہوئی لیکن پھر ان کے ساتھ کھیلنے لگی۔ یوں وہ بونے اس کی زندگی میں داخل ہو چکے تھے، وہ اس کے کمرے تک محدود تھے خاص کر پلنگ کے نیچے ان کا ٹھکانہ تھا۔ اگر کبھی وہ کافی دیر باہر نہ نکلتے تونغمہ گردن نیچے کیے انھیں تلاش کرتی۔ وہ چادر سے لٹک کر اس کے گلے میں پڑی کالی ڈوری سے جھولتے ہوئے اوپر آ جاتے۔

چھریرے جسم کی نغمہ سلطان کے قوی جثے کے آگے خود بونی بونی سی لگتی تھی۔ جب وہ تھوڑا بناؤ سنگھار کرتی، اپنا خیال رکھتی تو سلطان اسے دیکھ کر نظریں پھیر لیتا۔ وہ ریشمی شلوار قمیض پہنے، گردن میں ڈوپٹہ، آنکھوں میں کاجل ڈالے، اپنی چھوٹی انگلی سے گلابی سرخی رگڑ کر لگاتی تواسے ہونٹ پر ہونٹ مسلتے ہوئے دیکھ کر بونے تالیاں پیٹتے ہوئے کہتے: ’’ مٹھا مٹھا ہاؤ ہاؤ۔ ‘‘ نغمہ ان کی باریک آوازوں پر صدقے واری ہو جاتی۔ بونے اس کے پورے جسم پر پرسرایت کرتے چلے جاتے، ان کے لیے اس کا لباس پردوں میں تبدیل ہو جاتا۔ سلطان اپنی دنیا میں مگن تھا، نغمہ ٹال سے لائی ہوئی چھوٹی لکڑی کی طرح اس کے گھر کے کونے میں پڑی تھی۔ سلطان اتنی نازک سی بیوی کو کن اکھیوں سے دیکھتے ہوئے اپنی خالہ زاد کی باتیں کرنے لگتا جنھیں وہ کمال صبر اور دلچسپی سے سنتی رہتی۔ ’’ ابّا ٹھیک کہتا تھا ویسے، ، ، کہتا تھا کہ پتر یہ ویاہ نہ کر۔ دیسی ککڑ کی کڑاہی کے بجائے دال کی پلیٹ کھانا دل گردے کا کام ہے۔ ۔ ۔ آ ہو۔ ‘‘ نغمہ دونوں ٹانگیں پیٹ کے ساتھ جوڑ کر ان پر سر رکھ لیتی۔ ’’ بس ماں اور خالہ کی ضدیں میرے آگے آ گئیں۔ ۔ ۔ ۔ چلو جو نصیب ہمارے۔ ‘‘ خاندان کی کسی شادی یا سالگرہ کا موقع ہو سلطان کے قدم دو ہاتھ آگے ہی رہتے تھے۔ تابندہ اپنی ٹیڑھی ناک میں سجی کیل کے ساتھ، بالوں کی دو لٹیں چہرے پر گرائے ہنستی مسکراتی انھیں ملتی۔ اسے نغمہ سے تھوڑا جھک کر ملنا پڑتا، دھان پان سے وجود کو ایک بڑا کشادہ سا گھیرا اپنے اندر سمو لیتا۔ سلطان ہمیشہ تابندہ کے شوہر کو دیکھ کر دانت پیستا پھر کئی کئی دن نغمہ اس کی خوش قسمتی کے قصیدے سنتی۔

نغمہ نے اکیلے گھر کو بھرنے کے لیے میٹھی گولیاں اور ٹافیاں بنانا شروع کر دی تھیں۔ ساتھ والی ہمسائی اسے دو دن بعد میدے، چینی اور سونڈھ میں گوندھا ہوا مکسچر دے جاتی۔ نغمہ انھیں گوندھ کر سیدھی ٹکیاں بناتی اور پھر سانچے میں ڈال کر گولیاں پیک کر دیتی۔ اس کے پتلے پتلے ہاتھ چینی اور میدے کی خوشبو سے تر رہتے۔ بونے اس کے ہاتھوں کو چاٹ کر صاف کرتے تو وہ انھیں گدگدانے لگتی۔ ایک دن پلنگ کا پایہ ٹھیک کرتے ہوئے جیسے ہی سلطان نے جگہ بدلی تو پلنگ کے نیچے ڈھیر سارا کھانے پینے کا سامان دیکھ کر گنگ رہ گیا۔ روٹیوں، مونگ پھلیوں اور پھلوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے گول گول شکل میں بکھرے پڑے تھے۔ وہ سمجھا گھر میں گھسے کسی چوہے نے یہ گندگی پھیلا رکھی تھی۔ نغمہ کو محسوس ہوا جیسے بونے پکڑے گئے ہوں وہ سانس بند کیے اسے دیکھنے لگی۔ ’’ تو مجھے کیا سنبھالے گی، نغمہ، ایک کمرہ تیرے بس کی بات نہیں۔ سلطان اب کیا کیا کرے۔ ‘‘ وقت کے ساتھ ساتھ سلطان کی طبیعت میں غصہ بڑھتا جا رہا تھا، اب وہ بات بات پر اس سے جھگڑنے لگتا۔ دوستوں کی محفل میں بیٹھنے کے اوقات بھی بڑھ گئے تھے اور گھر کے اندھیروں میں بھٹکتی نغمہ بونوں کے ساتھ بولنا سیکھ گئی تھی۔ بعض دفعہ تو سلطان کام کے سلسلے میں گھر کے باہر تالہ ڈال کر کئی کئی دن غائب رہتا۔ نغمہ اپنے بونوں کے ساتھ ہاتھوں میں ہاتھ مار کر کھیلتی اور وہ اسے گدگداتے رہتے۔ اپنی تنہائی سے تنگ آ کر نغمہ گرتے پڑتے سلطان سے جلدی گھر آنے پر اصرار کرتی تو وہ چوٹیں کیے چلا جاتا۔

’’ تو چاہتی ہے تیرے چوتڑوں میں سر دے کر بیٹھا رہوں۔ ‘‘
’’ تیرا رج نئیں ہو سکتا کبھی۔ ‘‘
’’ تابندہ ہے دودھ جلیبی جیسی۔ تو بس ایسے ہی ہے جیسے کسی نے زردے پر رائتہ ڈال دیا ہو۔ ‘‘
نغمہ کو لگتا کہ بچے ہو جائیں گے تو سلطان بھی ٹھیک ہو جائے گا کیونکہ اس بار قسمت مہربان تھی۔ وہ انگلیوں پر دن گن گن کر کاٹنے لگی تھی، سلطان بھی اس کی طبیعت کے مطابق خود کو وقتی طور پر ڈھال چکا تھا۔ وہ حسبِ عادت سلطان سے آنے والے مہمان کی باتیں کرنا چاہتی تو وہ کاپی پنسل پکڑے دکان کا حساب کرنے لگتا۔ اس دن بادلوں نے آسمان کو گھیر رکھا تھا جب سلطان غصے سے گھر میں اسے آوازیں دیتا ہوا داخل ہوا : ’’ کہاں مر گئی۔ ۔ ۔ نغمہ، او نغمہ۔ ‘‘ وہ بونوں کو پلنگ کے نیچے سرکا کر باہر دوڑی۔ ’’ یہ کیا ہے آخر ؟‘‘ سلطان نے ایک تہہ کیا کپڑا اس کے منہ پر مارا۔
’’ یہ کیا ہے، مجھے کیا پتہ۔ ‘‘

’’ اگر پتہ نہیں تھا تو دکان پر بھیجنے کی کیا ضرورت تھی۔ ‘‘ سلطان نے اسے گدی سے پکڑ لیا۔ بونے ڈر کے مارے پلنگ کے پایے سے جھانک رہے تھے۔ ’’ میں تیری خوشبو تک باہر نکلنے نہیں دیتا اور تو نے یہ اپنے جھانگیے اور شلواریں بھیج دیں دکان پر۔ ‘‘ وہ صحن میں کھرے کے نزدیک پڑا ڈنڈا لے کر اس پر برسانے لگا۔ ’’ غلطی ہو گئی معاف کر دو۔ یہ تھیلا تم بنا پوچھے لے گئے تھے۔ قسم خدا کی میں نے نہیں بھیجا۔ ‘‘ نغمہ اس کے ہاتھ روکتے ہوئے رونے لگی۔ ’’ تو دَلی زنانی ہے۔ تیرا کام کیا ہے یہ کوڑا سنبھال کر رکھنے کا۔ میں اگر وقت پر نہ دیکھتا تو رشید چلا تھا تھیلے میں ہاتھ ڈالنے۔ ‘‘

’’ ہائے ربّا! اگر وہ لکڑی کی صفائی کے لیے اس میں سے کپڑا پکڑ لیتا تو کیا سوچتا۔ اس کے مالک کی بیوی نے اپنی پھٹی آسنیں بھیجی ہیں۔ پیغام بھجواتی ہے یار کو۔ ‘‘ سلطان کبھی نغمہ کو چارپائی پر بٹھا کر اس کے پیروں پر کھڑا ہو جاتا تو کبھی صحن میں پاگلوں کی طرح چکر کاٹنے لگتا۔ اس کا غصہ شانت ہی نہیں ہو رہا تھا۔ نغمہ مغرب کی نماز باندھ چکی تھی، اس کی ٹانگیں تھر تھر کانپے جا رہی تھیں۔ بونے کمرے کی دہلیز کی اوٹ سے اسے اداس نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ سجدے میں جانے سے پہلے ہی سلطان نے صحن میں دھڑام کی آواز سنی تو باہر کو بھاگا۔ نغمہ کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو ایک ٹھنڈے بستر پر چت پایا۔ اس کے حلق میں ریشے کی خرخر ہو رہی تھی اور ٹانگیں جیسے جسم کے ساتھ تھیں ہی نہیں۔ نرس نے اسے ہوش میں آتا دیکھ کر ماتھے سے بخار محسوس کرنے کی کوشش کی۔ نغمہ کے اردگرد بڑی کھسر پھسر ہو رہی تھی۔ ’’ شکر ہے تیری آنکھ تو کھلی۔ میں تو سمجھا تھا گئی کام سے۔ ‘‘
’’ تیری ماں کو فون کر دیا ہے میں نے۔ آدھے پونے گھنٹے تک آ جائے گی۔ ‘‘
’’ اور سن یہ بچہ وچہ پیدا کرنا تیرے بس کی بات نہیں ہے۔ جو تھا وہ اب رہا نہیں۔ پچاس ہزار بیٹھے بٹھائے لگا دیے میرے۔ اب میں دکان پر جا رہا ہوں۔ تیری مائی آئے گی تو ناشتہ واشتہ کرا دے گی۔ پھر اس کے ساتھ ہی گھر چلی جانا۔ مجھ سے نہیں ہوتیں تیری خدمتیں۔ ‘‘ سلطان تھکے ہوئے جسم کے ساتھ وارڈ سے نکل گیا۔ نغمہ نے پورای آنکھیں کھول کر سامنے دیکھا تو دو سفید بستر وں پر بھاری بھر کم عورتیں لیٹی کراہ رہی تھیں۔ کمرہ میں ہلکی پھلکی چہل پہل جاری تھی۔ اسے لگا جیسے وہ سمندر ہے اور درد لہروں میں بدل کر اس کے جسم کے کواڑ توڑ کر باہر آ جائے گا۔ اس سے پہلے کہ اس کے آنسو یہ گرداب توڑتے دو بونے پلنگ پر کود کر اس کے سینے پر سوار ہو چکے تھے۔ ایک بونا اس کی انگلیوں کی مٹھاس چاٹ رہا تھا اور دوسرا اس کے ہاتھ سہلاتے ہوئے دیوانہ وار چومنے لگا۔ نغمہ نے درد سے کراہنا چھوڑ کر انھیں گلے لگا لیا۔ بونے خوشی سے چلا اٹھے : ’’ مٹھا مٹھا ہاؤ ہاؤ۔ ‘‘

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply