ذِکراُس پری وَش کا، یونس جاوید کے تحریر کردہ زندہ جاوید خاکے —- نعیم الرحمٰن

0

یونس جاویدہمہ جہت ادیب ہیں۔ انہوں نے ڈرامے لکھے تو ’’رگوں میں اندھیرا‘‘، ’’کانچ کا پل‘‘ طویل دورانیے کے ڈرامے ’’اندھیرا اجالا ‘‘جیسی پی ٹی وی کی بے مثال اور یادگار سیریز اور ’’رنجش‘‘ سیریل تحریر کی۔ جنہیں آج بھی ذوق و شوق سے دیکھا جاتا ہے۔ کئی اور عمدہ ڈرامے بھی ان کے کریڈٹ پر ہیں۔ افسانوں کے پانچ مجموعے ’’تیز ہوا کا شور‘‘، ’’میں ایک زندہ عورت ہوں‘‘، ’’ربا سچیا ربِ قدیر‘‘، ’’آوازیں‘‘، ’’آخر جینا بھی تو ہے‘‘ ناول ’’کنجری کا پل‘‘، ’’دل کا دروازہ کھلا ہے‘‘ اور ’’ستونت سنگھ کا کالا دن‘‘ لکھے۔ شخصی خاکوں کا پہلا مجموعہ ’’ایک چہرہ یہ بھی ہے‘‘ سب اپنی جگہ بے مثال ہیں۔ ان کے علاوہ حلقہ ارباب ذوق کے اجلاسوں کا احوال، تین جلدوں میں کلیاتِ ناسخ مرتب کی۔ صحیفہء اقبال، اقبالیات کی مختلف جہتیں ان کے مختلف کاموں میں شامل ہیں۔ زیرِ تبصرہ یونس جاوید کے خاکوں کی دوسری کتاب ’’ذِکر اُس پری وَش کا‘‘ اٹھائیس زندہ جاوید شخصیات کے خاکوں اور مضامین پر مبنی ہے۔ جن میں آخری ’’ایک ادھورا خواب‘‘ اپنی فوج میں جانے کی خواہش کا بیان ہے۔ کتاب کو جمہوری پبلیکشنز بہت خوبصورت انداز اور عمدہ کاغذ پر شائع کیا ہے۔ چار سو صفحات کی دیدہ زیب کتاب کی نو سو پچاس روپے قیمت بھی مناسب ہے۔

بلوچستان کے مشہور افسانہ و ناول نگار آغا گل بیک پیچ پر یونس جاوید کے بارے میں لکھتے ہیں۔

’’ظالم تحریر سے دل نکال لیتے ہو، سُرچھایا کا سفر تو گویا نگینوں کی ریزہ کاری ہے۔ کیا تحریر ہے۔ اور ہاں میں جذباتی نہیں ہو رہا۔ مصر کی اولین تحریری کہانی ’’غرقاب سفینہ‘‘ گویا چار ہزار دو سو سال پرانی سے موجودہ دورتک کہانیاں پڑھنے والا انسان یہ لکھ رہا ہے۔ اس کا بے ساختہ انداز امراء القیس کی مانند الفاظ مکڑیوں کی مانند گر رہے ہیں۔ حسبِ حال مقامی الفاظ کا استعمال۔ جیسے گواچا ہوا! کیا بات ہے! برادرم تم ہو بڑے ستمگر، کلیجہ نکال دیتے ہو۔ ہمارے دورکے سب سے بڑے تخلیق کار ہو۔ پشتو محاورہ کے مطابق دونوں ہاتھوں سے سلام پیش کرتا ہوں۔ علاوہ ازیں کچھ اس سے ملتاجلتا واقعہ شراب پہ پابندی کے بعد شعراء کی حالتِ زار پہ لکھنا تھا۔ مگر اب مجھے ماڈل مل گیا، ’’سُر چھایا کا سفر‘‘، پہ ہاتھ صاف کروں گا۔ چوں کہ شریف تو خیر نہیں مگر شریف النفس ضرور ہوں۔ امید ہے اس گمشدہ بھائی پہ Plagriarism کا الزام نہیں لگاؤ گے۔ وکھرے انداز کی تحریر ہے۔ بہت ہی پراثر ایک وسیع ذخیرہ الفاظ کے ساتھ۔ نئی تراکیب اور اظہار و اسلوب کے من موہنے انداز کے ساتھ۔ مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ دل تو چاہتا ہے کہ اپنے گرو موپساں کے ساتھ ہی بٹھا کر تخت نشینی کا اعلان کردوں۔ مگر بھیا کبھی چاہ ِ کوئٹہ کی خبر بھی لیا کرو۔‘‘

نقاد طاہراصغر کا کہنا ہے۔

’’بیدی نے کامیاب افسانے کا معیار، مواد کا مقامی اور تکینیک کا بین الاقوامی ہونا قرار دیا ہے۔ یونس جاوید کا افسانہ بیدی کے معیار کی پاسداری کرتاہے۔ ان کے افسانوں کے ٹھیٹھ کرداروں سے سچ، تو خود سے جھوٹ بولنے والے وہ عامتہ الناس ہوتے ہیں۔ جنہیں جینے کاسلیقہ نہیں ہے تو مرنے کاقرینہ بھی نہیں۔ محبتوں سے آبادبیلے، کہانیاں سناتی ہوئی چوپالیں، شہروں کے آباد جنگل میں گم صم، سہمے مکان و مکین، دلنشین صورتوں والے جھروکے، روشن طاقچے، جذبوں اور خواہشوں سے بوجھل مردوزن، عداوتیں اور مروتیں۔ یونس جاوید کے افسانے کا منظر نامہ ہیں حرف پیما، حرف آشنا، ٹیڑھے کرداروں کی سیدھی کہانی لکھنے والے یونس جاوید کو اپنے عہد کا مزاج داں کہا گیا ہے۔ یونس جاوید کی ہر کہانی لہو میں تر ٹوٹے کانچ کا ایک ٹکڑا ہے جو زندگی کے کسی پہلو اور اسکے مکمل عکس سے آشنا کرتا ہے یہ تمام ٹکڑے جوڑ دیے جائیں تو اس خطے کے انسانوں کے خوابوں اور عذابوں کی تصویر اجاگر ہوتی ہے۔ ادبی گروہ بندیوں سے بے نیاز، معتدل مزاج، سرتاپا خلوص و شرافت اور وضع داری لیے ہوئے ادارت، تحقیق، ترتیب، تنقید، افسانے ڈرامے اور خاکوں کی تخلیق میں ہمہ تن مشغول یونس جاوید جب لکھتے ہیں تو ایک بہاؤ کی کیفیت کے ساتھ لکھتے ہیں اور جب بولتے ہیں تو قلم کی روانی کے ساتھ بولتے چلے جاتے ہیں ان کافن اور شخصیت اس بات کا اثبات ہے کہ تحریر و تقریر میں معنی ہو تو زندگی خود اپنے معنی ڈھونڈ لیتی ہے اور یہ جنون عاشقی کادرجہ رکھتا ہے۔‘‘

کتاب کا طویل دیباچہ انور سدید مرحوم نے ’’یونس جاوید اور اس کے خاکے‘‘ کے عنوان سے لکھاہے۔

’’کسی ادبی موضوع پر سوچتے ہوئے جب میں یونس جاوید کا تصور کرتا ہوں تو وہ مجھے بنیادی طور پر ایک افسانہ نگار نظر آتاہے۔ یونس جاوید کا مجموعہ ’’تیز ہوا کا شور‘‘ پڑھا تو اسے بیدی کے قرب و جوار میں محسوس کیا، علامتی اور تجریدی افسانے نقاب پوش دور میں وہ حقیقت کو اپنی مخصوص عینک سے دیکھ کر اسے نہ صرف اصلی رنگوں میں پیش کر رہا تھا بلکہ اپنی بصارت سے ایسے کرداروں کا مشاہدہ بھی کر رہا تھا جو زندگی کی صادق اقدار سے دانستہ انحراف کرتے اور معاشرے کو روبہ زوال کر رہے تھے۔ یونس جاوید کی کتاب ’’میں ایک زندہ عورت ہوں‘‘ کی بامعنی داد انیس ناگی نے بھی دی جو کسی کو تسلیم نہ کرنے اور ہر کسی کو مسترد کرکے صرف اپنا پرچم لہرانے کی شہرت رکھتا ہے۔ افسانہ نگارہونے اور زندگی کی بہت سی حقیقتوں کا شناسا ہونے کے ناتے یونس جاوید کردار سازی اور کردار نگاری پربے پایاں دسترس رکھتا ہے اورخاکہ نگاری بھی کردار نگاری کی ہی ایک شاخ ہے جس کی فنی تکمیل پرایک افسانہ نگار زیادہ دسترس رکھتا ہے تاہم واضح رہے کہ اس صنف ادب کے لیے یونس جاوید نے اپنی بوطیقا وضع کر رکھی ہے جومیں نے اس کے خاکوں کی کتاب ’’ایک چہرہ یہ بھی ہے‘‘ سے حسب ذیل اخذکی ہے۔ ’’خاکہ لکھنا، لکھنے والے کی عمر بھر کی کمائی ہے۔ اس لیے دوسرے کی پرتیں کھولنے کی شرطیں بہت کڑی ہیں جس میں ہم نوالہ وہم پیالہ ہونا پہلی شرط ہے۔ پیالے میں مشروبِ مغرب ہو تو راقم خود اپنی پرتیں بھی گن سکتا ہے۔ دوسری شرط سچ بولنا ہے۔ سو ہرخاکہ نگارسچ ہی بولتا ہے مگر زیادہ تر دوسرے کے بارے میں۔ لہٰذاجب میرا دل دوسروں کے بارے میں سچ بولنے کو دھڑکتا ہے تو میں خاکہ لکھنے یا اڑانے بیٹھ جاتا ہوں۔‘‘ یونس جاوید فطری طور پر خیالِ خاطرِ احباب رکھنے والا ادیب ہے اور سچ لکھنے کے مرض میں گرفتار ہونے کے باوجود وہ پوری کوشش کرتاہے کہ احساس کے نازک آبگینوں کو ٹھیس نہ لگے اور اپنی بات بالواسطہ معنی کے لفافے میں اس طرح لپیٹ کر پیش کرے کہ ذی ہوش قاری سے کوئی بات پوشیدہ نہ رہے اور کم کوش قاری الفاظ کی ملائم اور نرم سطح پرسے ہی حیرتیں سمیٹتا رہے۔ اے جی جوش کے خاکے میں بھی سطح پر چند حیرتیں یوں پیش کی گئی ہیں۔

’’عجیب بات یہ ہے کہ جوش صاحب نے اپنے ماضی کو کبھی نہیں چھپایا۔ وہ اب بھی سائیکل چلاتے ہوئے گوالمنڈی میں تانگے والے سے لڑ پڑنے کا واقعہ سنا دیتے ہیں۔ وہ سیف الدین سیف سے ’امبرسر‘ کی ملاقاتوں کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ جس طرح وہ اپنے حال میں خوش ہیں اسی طرح وہ اپنے ماضی میں بھی خوش تھے اورہیں۔ انہیں فخر ہے کہ انہوں نے شاعری میں بڑے بڑے استادانِ فن سے تلمذ اور تلذذ دونوں حاصل کیے ہیں۔ تلذذسے تووہ اب تائب ہوچکے ہیں اور تائب ہونے کی وجہ وہی مصرع ہے جو چیلنج بن کر ان کے دن میں اُترگیا۔ ’چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی‘ انہوں نے چیلنج قبول کیا اور حج پر جانے سے پہلے ہی کافر کو منہ لگانا چھوڑ دیا۔ حج کے بعد اتنا فرق پڑا کہ دوسروں کے منہ کو بھی اس کافر کے کناروں تک نہیں پہنچایا۔‘‘

دیکھئے اس مشکل مقام کو جس میں تلمذ اور تلذذ باہم آمیختہ ہوجاتے ہیں اورجسے زبیر رضوی اور جاوید شاہین جیسے منجھے ہوئے ادبا بھی عبور نہ کر سکے تھے، یونس جاوید کس کامیابی سے سر کر گیا ہے کہ استاد کی عزت پرکوئی حرف نہیں آیا اور شاگرد کا پیمانِ وفا بھی قائم رہاہے۔‘‘

یونس جاوید نے اپنے پڑھنے والوں سے کیا وعدہ کہ ’تھوڑا سچ چھپالوں گا مگرجھوٹ نہیں لکھوں گا‘ پورا کر دیا ہے۔ ان کے خاکے شاہد ہیں کہ وہ زندگی کے بیحد زیرک ناظر ہیں۔ واقعات کی باریک ترین جزئیات ان کی مشاہدہ بین آنکھ سے اوجھل نہیں رہتیں۔ اکثر مقامات پر محسوس ہوتا ہے کہ ان کی متحرک آنکھ کیمرے کا عدسہ ہے جو ہمہ وقت گردش میں رہتا ہے اور شخصیات کو فوکس میں لے کران کے پورٹریٹ تیارکرتا رہتاہے۔

افسانہ و ناول نگار اور دانش ور اشفاق احمد کے خاکے کا عنوان ’’شجرسایہ دار‘‘ ہے۔ اشفاق صاحب کتے کے نجس ہونے کا ایک عجیب جواز پیش کرتے ہیں۔

’’باتیں شروع ہوئیں تو انسانی تکبر، غرور اور رعونت تک پھیلتی چلی گئیں اور وہاں سے دوستی، محبت اور وفا تک پہنچیں۔ دوستی اور وفاکے حوالے سے جانوروں کا ذکر بھی آیا۔ انہوں نے گھوڑے کو انسان کا بہترین دوست قراردیا۔ وفا اور دوستی میں یکتا کہا۔ میرا سوال تھا کہ وفا، دوستی محبت میں کتا بھی تو ہے، اسے ہم ناپاک اور نجس قرار کیوں دیتے ہیں جبکہ گھوڑے کوضرورت کے تحت حلال بھی۔ اشفاق صاحب نے کہا، گھوڑے میں وفاکے ساتھ انا بھی ہے۔ وہ مالک کی غلط حرکت پرناراض بھی ہوجاتا ہے، اسے غلطی کا احسا س بھی دلاتاہے جبکہ کتے کو ٹھوکریں مارو، سو مرتبہ درسے اٹھادو، وہ پاؤں پرہی لوٹتا ہے۔ دہلیز چھوڑتا ہے نہ ساتھ، نہ ہی در کو بھولتا ہے، اسی لیے نجس ہے۔ وہ اپنی ذات کی نفی کرکے بندے کی انا کو رعونت کی حدتک پہنچا دیتا ہے، اسی سبب سے نجس کہلاتا ہے کہ رعونت اور غرور خدا کو سخت ناپسند ہے۔‘‘

سعادت حسن منٹو سے یونس جاوید کبھی نہیں ملے۔ ان کا خوبصورت خاکہ ’’منٹو صاحب‘‘ کتاب میں شامل ہے۔

’’میرے حافظے میں تین نام ایسے ہیں جنہیں جب بھی میں نے لکھا، ’صاحب‘ ضرور لکھا۔ منٹوصاحب۔ فیض صاحب۔ دلیپ صاحب۔ مگر منٹو صاحب ہمیشہ میری ذہنی اسکرین پر جگمگاتے جاگتے رہتے تھے حالانکہ میں ان سے کبھی ملا نہ انہیں دیکھا۔ سوچتا ہوں، منٹو صاحب پاکستان میں جیے ہی کتنے سال؟ بلکہ اگر میں کہوں کہ دنیامیں جیے ہی کتنے سال۔ تو زیادہ درست ہوگا۔ منٹو صاحب نے لگ بھگ بیالیس سال سات مہینے اورسات دن کی زندگی میں اتناکام کیاجوان کے ہم عصروں میں دگنی عمر سے بھی زیادہ جینے والوں سے نہ ہوا۔ فلم ڈائریکٹر ولی صاحب نے ان کا واقعہ سنایا۔ ’’منٹو صاحب بلا کا متحرک تھا، لکھنے میں بھی سوچ میں بھی۔ عملی طورپربھی معاشرتی زندگی میںبہت فعال تھا اور بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا تھا۔ مجھ سے دوستی تھی، لین دین نہ تھا۔ تاہم ایک رات جب میں سونے کی تیاری میں تھا، منٹو اطلاع کے بغیر وارد ہوا۔ اس نے بے دھڑک کہا، تین سوروپے چاہئیں، فوراً چالیس کی دہائی میں یہ رقم آج کے پچیس ہزار سے کم نہ تھی، سو لمحہ بھر کو سوچا، لیکن منٹو کی بے چینی۔ میں نے سوال کر نامناسب نہ سمجھا الماری سے روپے نکال کراس کے حوالے کر دیے۔ منٹو جس تیزی سے آیا تھا، اسی تیزی سے نکل گیا۔ میرا تجسس میں نے نوکر چنی کو اس کا پیچھا کرنے کو کہا۔ دو بج گئے۔ چنی نے بتایا’ بہت تیز مافک چلتا ہے، بمبے بازار میں ایک بندہوتی بیکری میں گھس گیا۔ ڈبل روٹی، مکھن، بسکٹ۔ سب کچھ کاغذکے تھیلے میں بھروا لیا، ایک اندھیری کھولی کا ٹاٹ اٹھا کر مانٹو صاحب اندر چلا گیا۔ سخت سردی میں سامنے فرش پر کوئی بیمار عورت لیٹی کراہ رہی تھی۔ صاحب سیدھا اس کے پاس گیا، اسے ایک نظر دیکھا اور کھانے پینے کاسامان اور بہت سارے نوٹ بھی نکال کراس کے گندے بستر پر رکھ دیے اور واپس مڑ آیا۔ ولی صاحب مسکرائے اور منٹو کی شخصیت کو دیر تک سراہتے رہے پھر بتایا، منٹو تیسرے دن دوپہر بعد میرے دفتر آیا اور نوٹوں سے بھرا لفافہ میرے سامنے رکھ کر بولا، ویل ڈن۔ ویل ڈن۔ اور تیزی سے نکل گیا۔‘‘

اس واقعے سے یونس جاوید نے منٹو کی شخصیت کا ایک نیا اور روشن پہلو اجاگر کیا ہے۔ ’’ذِکر اُس پری وَش کا‘‘ اٹھائیس خاکے شامل ہیں۔ جن کے عنوان مذکورہ شخصیت کا کوئی پہلو اجاگر کرتا ہے۔ اشفاق احمد کا خاکہ ’’شجرِ سایہ دار‘‘ سعادت حسن منٹوکا ’’منٹو صاحب‘‘ انتظار حسین ’’وہ ہجر کی رات کاستارہ‘‘ سید وقار عظیم’’ کیوں ترا راہ گزر یاد آیا‘‘ اسرار زیدی ’’کبھی یہاں طوفان تھا‘‘یوسف کامران کاخاکہ جو کتاب کابھی نام ہے’’ذِکر اُس پری وَش کا‘‘ منیرنیازی ’’انا اور عجز کا مسافر‘‘ اپنی پرانی یادیں ’’بیتے ہوئے دن یادآتے ہیں‘‘ کے نام سے شامل ہیں۔ انیس ناگی کاخاکہ ’’بین السطور‘‘ مرزا ادیب ’’صحرا نورد‘‘ قرۃ العین حیدر ’’ہجرتوں کے درمیان‘‘ سلیم شاہد ’’گمشدہ ادھا‘‘ قتیل شفائی ’’تہذیبی انسان کے آس پاس‘‘ حبیب جالب ’’جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے‘‘ امانت علی خان ’’سُر چھایا کا سفر‘‘ منوبھائی’’آتما، پرماتما‘‘ اظہر جاوید، زندگی میں ’’Moreover‘‘ اور اظہر جاوید، موت کے بعد ’’کبھی نہیں۔ کبھی نہیں!‘‘ سہیل احمدخان ’’آس پاس کی روشنی‘‘ احمد راہی ’’اچے برج لہور دے‘‘ وسیم گوہر ’’درد اولڑا سائیں‘‘ میں اور میرا پاکستان’’۔ ۔ دودِ چراغِ محفل‘‘ احمد ہمیش ’’میں احمدہمیش ہوں‘‘ ناصر زیدی ’’گرم ہوا کا جھونکا‘‘ اے جی جوش ’’چہکتا مہکتا شخص‘‘ خان پرویز ’’کومٹ منٹ سے سرخروئی‘‘ شہر لاہور  کے بارے میں ’’لاہور کی گواہی‘‘ اور اپنے حوالے سے ’’ایک ادھوراخواب‘‘ کتاب میں شامل ہیں۔

انتظار حسین کے خاکے میں بہت سے بچھڑنے والوں کا ذکر کس دردمندی سے کیاہے۔

’’اب کس کس کے غم کا شمار کرتا جاؤں۔ کیسا کیسا نابغہ دیکھتے دیکھتے یوں سرکتا چلا گیا جیسے بند مٹھی میں دبی ریت سرک  جاتی ہے۔ ہرذرہ خود بہ خود نگاہوں کے سامنے رزق خاک ہوتا چلا جاتا ہے۔ ناصر کاظمی کے جنازے کوکندھا میں نے دیا اور انتظار حسین کوبے حدغم زدہ پایا۔ سجاد باقر رضوی کو دور دراز کے قبرستان کی لحدمیں اتار کر لوٹا تو ایک گاڑی مجھے کراس کرکے ریورس ہو کر دوبارہ میرے برابر آئی اور کھڑی ہوگئی۔ سیف الدین سیف مجھے دیکھ کر اترے تھے۔ لزرتی آواز میں پوچھا، ’کسے چھوڑنے آئے تھے؟‘ میں نے بتایا، ’استادگرامی سجادباقر رضوی کو‘ بے حد افسوس کے ساتھ چونکے۔ کہا، ’پچھتاوا عمر بھر رہے گا، روز ارادہ باندھتا تھا کہ سجاد کو دیکھنے ملنے جاؤں گا مگر کوئی نہ کوئی مسئلہ آڑے آجاتا۔ دکھ سے دہرا ہو رہا ہوں مگر عمر بھر کا پچھتاوا بھی کس کام کا۔ بقایاکتنے دن میں زندہ رہوں گا۔ ‘ڈرائیور گاڑی چلاتا رہا، وہ میرے ساتھ پیدل چلتے رہے، جیسے کوئی جنازے کے ساتھ چالیس چلتاہے پھر وہ بھی چلے گئے اور پھردنیاسے ہی چلے گئے۔ پھر صفدر میر اوجھل ہوئے، صلاح الدین محمود، مظفر علی سید، قتیل شفائی، حبیب جالب، افتخارجالب، اسرار زیدی، انیس ناگی، سہیل احمد خان۔۔ یہ سب پاک ٹی ہاؤس کا زیور تھے۔ منظر تیزی سے بدلتا جارہا تھا مگرڈھا رس بندھی تھی کہ انتظار حسین ہم سب کے درمیان موجود تھے۔ پھرسلیم شاہد بھی گیا، اعجازحسین بٹالوی بھی، اشفاق احمد بھی، سجاد رضوی بھی، انجم رومانی بھی۔ ۔ ہاں مگر انجم رومانی زندہ تھے تو چار لوگوں نے پروگرام بنایا کہ ایسے ادبا، جواب خود کو محدود کر بیٹھے ہیں، انہیں گھر جا کر ملا جا ئے۔ ہرماہ کسی ایک کے ہاں۔ سو جس میں، انتظار حسین، اشفاق احمد اور حسین مجروح، انجم صاحب کے گھر پہنچے تب وہ بہت بیمارتھے، مگر اٹھ کر بیٹھ گئے خوشی ان کی آنکھوں سے چھلک گئی۔ کیاکیا باتیں ہوئیں۔ کیسا کیسا منظر پینٹ ہوا۔ یادوں کا غبار اور قہقہے بھی اچھلے، مسکراہٹیں اجلی ہوگئیں۔ سب ہنستے مسکراتے لوٹے تھے کہ مجلسی آدمی کے لیے اتنی مروت، اس کی زندگی تھی۔ زندگی کی امنگ تھی۔‘‘

’’ذِکراُس پری وَش کا‘‘ کاسب سے طویل خاکہ یوسف کامران کا باون صفحات پرمبنی ہے۔ اسی خاکے پر کتاب کا نام بھی ہے۔ خاکے میں یوسف کامران کاذکر یونس جاوید نے بہت محبت اور اپنائیت سے کیاہے۔

’’یوسف کامران لاہورکے ماتھے کا جھومر تھا۔ ہر چند میرے لاہور کا فریم بھی اتنا ہی تھاجس قدر میری نگاہ میں آسکتا تھا۔ اسی فریم میں یوسف زیور کی طرح سجا رہتا۔ بے حدشگفتہ، خوش لباس، تروتازہ اور مسکرا ہٹوں سے مزین کہ دوسرے کی آنکھوں کے راستے دل میں اتر کر ہلچل مچا دیتا۔ کوئی جملہ کوئی مختصر واقعہ، شگفتہ بیان کا ٹکڑا اس کے لبوں سے پھسل پڑتا۔ وہ سڑک کراس کر رہا ہوتا تو سڑک خوبصورت دکھائی دیتی۔ فٹ پاتھ پر رکتا تو فٹ پاتھ دمکنے لگتا۔ ویسپا چلارہا ہوتا تو لگتا دونوں ایک دوجے کے لیے بنے ہیں اوریہ مال روڈ دونوں کے لیے اورمال روڈ آج کانہیں۔ ۔ وہ مال روڈ جوبالی ووڈ کی فلم لاہور میں شوٹ ہوا تھا۔ صاف ستھرا، دھیما، پرسکون۔ یوسف کامران اورکشور ناہید مجھے حلقہ ارباب ذوق میں دکھائی دیے۔ کشور کی غزل ہفتہ وار پروگرام میں شامل تھی۔ جسے حلقے میں بے حد سراہا گیا۔ جو خود چنچل، شوخ اور پراعتماد تھی۔ محفل آرائی اورہرچھوٹے بڑے کو اپنے گرد جمع کرکے پھلجھڑیاں چھوڑنا یوسف کامران کا خاصہ تھا۔ گفتگو میں گرہیں ڈال کر گرم چائے اور کیک پیس کا آرڈر دے کر وہ اکثر شاعر لوگوں سے تازہ کلام کی فرما ئش کیاکرتا۔ یوسف کامران کی پرورش کھلے ڈلے ماحول میں ہوئی تھی اوراس کی فراخ دلی نے اس کی شخصیت میں کئی ستارے ٹانک دیے تھے۔ سولاہورکی ہواؤں اور فضاؤں میں اس کے اور کشور ناہید کے جوڑے کے چرچے تھے۔ ان کی مانوسیت، قربت میں ڈھلی اور پھر محبت کی ساری منزلیں طے ہوتی گئیں۔ کشور ناہید کی خود اعتمادی نے اس کی شاعری کو جلا بخشی۔ سفر تیزی سے طے ہوا، بڑے بڑے جریدے میں کشور ناہید معتبر شاعرہ کے طور پر نمایاں کرکے اشاعت پذیر ہونے لگی۔ اور پھر ایک روزہم سب نے خوشگوار خبر سن لی کہ یوسف اور کشور کی شادی ہوگئی ہے۔ حاسدین کا برا حال تھا۔ انہوں نے یوسف کے خاندان میں خوب آگ لگائی۔ یوسف کے والد خالص بٹ ہونے کے ناتے سخت غصے میں تھے۔ جہاں لاہورکے ادیبوں نے اس شادی کاخیر مقدم کیاتھا، لیکن یوسف کے خاندان کی خواتین نے کشورکواون نہیں کیا۔ ان کے نزدیک فن، لیاقت، علم اورذہانت کے بجائے گورا چٹارنگ، درازقد اور مورنی کی چال والی کشمیرن ہی یوسف کی دلہن بننے کی اہل ہوسکتی ہے۔ کشور نے سب سنا، سہا۔ یوسف نے بھی اپنے گھروالوں کو قائل کرنے کی کوشش کی۔ مگر کہاں صاحب۔ یوسف الجھنوں سے بچنے کے لیے لکشمی چوک کے ایک چھوٹے سے گھر میں کرایہ دارکی حییثت سے منتقل ہوگیا۔ یوسف اور کشور کا یہ گھروندا ادیبوں شاعروں کے جنکشن کا روپ دھار گیا۔ دونوں کے کھلے دلوں کی طرح اس گھر کا دروازہ بھی دوستوں کے لیے وا رہتا۔ یوسف کامران کا سعودی عرب میں انتقال ہوگیا۔ جب یہ خبرآئی پورا لاہور اقبال ٹاؤن والے گھر پر امنڈ پڑا تھا۔ میں نے لاہور میں چاربڑے جنازے جو دیکھے ہیں۔ فیض صاحب کا جنازہ، امتیاز علی تاج صاحب کا جنازہ، یوسف کامران کاجنازہ اور دلدار پرویز بھٹی کا جنازہ، کس کاجنازہ کس سے بڑا تھا، کہا نہیں جاسکتا۔ مگر لوگوں کا، پیار کرنے والوں کا، دکھ میں لپٹے لاہوریوں کا، جم غفیر ان چاروں جنازوں میں دیکھا اور کہیں نہ دیکھا۔ لوگ روئے بھی، سسکے بھی، دکھوں کے پٹارے بھی بنے مگر یہ سب ہوا اور لاہور کے سینے کے عین درمیان، یہ جنازے مہکتے ہوئے اپنی اپنی منزل پہ پہنچ گئے۔ یوسف کا ہمیشہ کے لیے ساتھ چھوڑے کا منظردل خراش تو تھا ہی مگر صبر اور حوصلہ بھی دیتا تھا کہ سب ہی تو مسافر ہیں۔ یوسف کے جانے کے بعد محفلیں ویران ہوگئیں۔ کشور کی زندگی، زندہ دلی اور محبتوں کا دوسرا نام ہے اور ابھی تک ہے۔ اس کے کالم میں ساری قوم کے لیے ایک خواب، ایک تمنا، ایک ایسی آرزو جس میں وطن کا چہرہ سجا سجا دکھائی دے۔ بین السطور بھی وہی خواب، وہی خواہش یا حسرت جو ہر بڑا ادیب اور دانشور دیکھتا ہے اس کی شاعری، اس کا کالم، یہی اس کا الہ دین کاچراغ ہے۔‘‘

کس خوبصورتی سے یونس جاوید نے یوسف کامران اور کشور ناہید کی زندگی کا نچوڑ پیش کردیاہے۔ کتاب میں ایک تحریر ’’بیتے ہوئے دن یاد آتے ہیں‘‘ کے عنوان سے ہے۔ جس میں اپنے حافظ قرآن بننے اور تعلیم کے حصول کا ذکر کیاہے۔

’’دن اچھے ہوں یابرے یاد تو اس لیے آتے ہیں کہ یادیں ہمیں زندگی کا احساس دلاتی ہیں۔ سو بچپن کے کچے ذہن میں، پرجوش اور فساداتی نعروں نے ذراسے بچے کو مجسم، سہم میں بدل دیاتھا۔ بڑوں کی اونچی آواز میں تبصرے، ڈرکی علامت تھے۔ کرپانوں کا ذکر، لہولہان اعضا کا تذکرہ، لاشیں، ریل گاڑیوں میں لہو میں ڈوبا سفر اور ان کی کہانیاں، ماتم۔ کرفیو، اور آزادی؟ سب گڈمڈ تھا۔ بچہ، تحیر میں لپٹاتھا۔ آنکھ حیران تھی کہ آواز آئی ’یہ ریڈیو پاکستان ہے‘ چھ سات سال کی عمرمیں انگلش اسکول میں نیکر والی یونیفارم پہن کر اچھلتے کودتے شور مچاتے اسکول جانا، خوشی اور خوبصورتی کے معنی سمجھ میں آنے لگے تھے کہ اچانک قاری مقبول ہماری دکان انارکلی آگئے۔ انہوں نے اباجی کو اپنا وعدہ یاد دلایا۔ اپنا بیٹا اللہ کی راہ میں دان کرنے کا۔ ابا جی نے اسی روزمجھے اسکول سے بلوا کر قاری صاحب کے سامنے پیش کردیا۔ میں دوسری مرتبہ خوف میں لپٹاتھا۔ دوسرے دن شلوار قمیض، پھندنے والی ٹوپی اور چپل پہنا کر والد صاحب بہ نفس نفیس چینیانوالی مسجد چھوڑنے گئے۔ قاری فضل کریم منتظر تھے۔ جنہوں نے کشمیری بازار سے الٹا چھپا ہوا تیسواں سیپارہ منگوا رکھا تھا۔ سب سے پہلے سورۃ الناس پھر سورۃ فلق۔ فضل کریم صاحب نابیناتھے۔ میں حیرت سے انہیں دیکھ رہاتھا انہوں نے زیر زبر پیش، جزم اور تشدید سمجھا دی اور ایک لفظ پڑھایا ال زبرال۔ ح م زبرحم۔ دال پیش دو ’الحمد‘ یہ آج کاسبق تھا۔ مٹھائی کا ٹوکرا تقسیم ہوا اور ابا جی فرض سے سبکدوش ہوکر مجھے چھوڑ کر چلے آئے۔ اس غیرمانوس ماحول میں مجھے برسوں رہناتھا۔ دوپہر کو دکھ، تنہائی اورگھرسے اتنی دیرتک دور رہنے کے کرب کو کم کرنے کے لیے آنہ لائبریری نے بڑا سہارا دیا۔ اس سے پہلے توکتاب کا داخلہ ہمارے گھر میں ممنوع تھا، کچھ پلے پڑنے لگا کچھ کتابیں سرسے گزرجاتیں مگر میں نے بار بار کوشش سے انہیں پڑھ لیا۔ بہت برس گزر گئے۔ بڑوں کے جبرکے خلاف ایک غبار اندر جمع ہوگیا تھا وہ سر اٹھا اٹھا کر سوال کرتا۔ اسی احتجاج کو میں کاپی میں لکھنے لگا۔ یہی لکھنے کی ابتداتھی اور پھر قرآن پاک کے خاتمے کے ساتھ ہی میں نے ایک ایک جملہ جوڑ کر جو ناول لکھا اس کانام ’آخرشب‘ تھا جو فوراً چھپ بھی گیا۔ چودھری اکیڈمی اس کا ناشر تھا۔ مسجد مبارک میں پہلی مرتبہ رمضان میں تراویح پڑھائیں۔ میٹرک کرچکا تھا۔ تب امان عاصم مجھے امتیازعلی تاج کے پاس لے گئے۔ وہ مجلس ترقی ادب کے ناظم تھے۔ پروف پڑھنے کا امتحان ہوا، پاس ہوا، پچھہتر روپے تنخواہ مقرر ہوئی۔ میں نے تاج صاحب سے کہا ’سرمجھے ایک کہانی کے پچاس روپے ملے ہیں۔ دو کہانیاں لکھوں تو سو روپے ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے سینئر پروف ریڈر کی تنخواہ اوکے کردی۔ ایجوکیشن میں بی اے لک چھپ کرکیا۔ بی اے کی تیاری کے لیے ٹیوٹر رکھا۔ امتحان دیا، اور پاس ہوگیا۔ اس اثناء میں امتیاز صاحب قتل کردیے گئے تھے ان کی جگہ پروفیسر حمید احمدخان کو بورڈ آف گورنر نے منتخب کرلیا۔ میں نے ان سے درخواست کی ’سرمیں ایم اے کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا، آپ موٹر بائیک خریدلیجئے۔ انہوں نے ہیڈ کلرک سے کہا، یونس جاوید آٹھ بجے آئیں گے دفتر۔ نو بجے یونیورسٹی جائیں گے۔ بارہ بجے واپس۔ اور یہ تین گھنٹے بعد تک دفتر کا کام سرانجام دیں گے۔ ہر روز۔ ایم اے کارزلٹ آیا۔ فرسٹ کلاس سیکنڈ تھا۔ یعنی فرسٹ ڈویژن اور پنجاب میں دوسری پوزیشن تھی۔ خان صاحب نے مجھے گلے لگایا اور کہا۔ آپ نے جس محنت اور جدو جہدسے یہ مرحلہ طے کیاہے مجھے خوشی ہوئی۔ سناہے کہ ایک غبی شخص کوٹاپ کرایاگیاہے۔ میرے آنسو بہہ نکلے۔ مگر ابھی اختتام کہاں تھا۔ ابھی تو مجھے ڈاکٹریٹ کرنا تھا۔ جو کئی برس کی محنت کے بعدمیں نے کرلیا مگر اب حمید احمد خاں صاحب نہیں تھے۔‘‘

’’ذِکراُ س پری وَش کا‘‘ ایسے دلچسپ خاکوں اورسبق آموز مضامین پرمبنی ہے۔ جس کی ہر تحریر میں قاری کے لیے کوئی نئی اور انوکھی بات ضرور ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply