کمیل پالیہ Camille Paglia : انٹی فیمنسٹ، فیمنسٹ اسکالر —- وحید مراد

0

University of the Arts rejects calls to fire Camille Paglia٭  جدید تہذیب و تمدن  کی تشکیل کس کے خون پسینے سے ہوئی ۔ مرد یا عورت؟
٭  اگر عورتیں، مرودں کو  پیار، محبت کے بجائے صرف طعنے دیں گی تو مردوں کے پاس محنت کرنے کی کیا ترغیب ہوگی؟
٭  عورت، جب مرد کی حوصلہ افزائی کرتی ہے تو گویا وہ اپنے ہی تحفظ، آرام و آسائش کے دائرے کو وسیع کرتی ہے۔
٭  ہم جنسی پرستی ایک ایسا سیاسی ایجنڈا ہے جو آب و ہوا کی تبدیلی کی خاطر وسعت اختیار کر رہا ہے۔

کمیل پالیہ(کیملی اینا پگلیہ Camille Anna Paglia) ایک مشہور نقاد اور یونیورسٹی آف پنسلوینیا، امریکہ میں آرٹس کی پروفیسر ہیں۔ وہ فیمنزم اینڈ پوسٹ اسٹرکچرل ازم کے ساتھ ساتھ جدید امریکی ثقافت کے بہت سے پہلوئوں مثلاً وژول آرٹس، میوزک، فلمی تاریخ وغیرہ کا تنقیدی جائزہ لیتی ہیں۔ انہوں نے کئی کتب تحریر کی  جن میں Sexual Personae۔ Sex, Art and American Culture۔ Free Women, Free Men اور Provocations زیادہ مشہور ہیں۔

پالیہ کا اسلوب و طرز استدلال:
2005 میں انہیں فارن پالیسی جرنل کی طرف سے دنیا کے سو عظیم عوامی دانشوروں کی لسٹ میں شامل کیا گیا۔ 2012 میں نیویارک ٹائمز نے انکے بارے میں لکھا کہ کئی دہائیوں سے جاری ثقافتی جنگوں کے بارے میں معمولی معلومات رکھنے والے لوگ بھی پگلیہ کو ضرور جانتے ہیں۔ پگلیہ کی تنقید انتہائی موثر، دلائل بہت واضح، لطیف، اسٹائلش اور دھماکے دار ہوتے ہیں۔ اسکا استدلال بہت کنونسنگ ہوتا ہے اور خاص طور پر آرٹ، تاریخ، سیاست وغیرہ کے بارے میں وہ بہت تفریح کراتی ہیں۔ انہیں پڑھ کر ایک عجیب خوشی اور طمانیت ملتی ہے۔ وہ دیگر نقادوں کی طرح تجریدی و دانشورانہ اسلوب اختیار کرتے ہوئے اصل حقائق سے راہ فرار اختیار نہیں کرتیں۔ ایلائن شوالٹر Elaine Showalter کا کہنا ہے کہ ہم عصر فیمنسٹ اسکالرز، لیڈران، عوامی شخصیات، مصنفین، اور کارکنان کو عبرت ناک شکست سے دوچار کرنے میں پگلیہ منفرد حیثیت کی مالک ہیں۔ فیمنسٹ ماہرین بھی پگلیہ پر تنقید کے خوب نشتر چلاتے ہیں۔ کچھ ماہرین نے انکی کتاب Sexual Personae کو فیمنزم کے خلاف جنگ اور انکے بنیادی مفروضات پر کھلا حملہ قرار دیا۔

پالیہ بتاتی ہیں کہ نیویارک اسٹیٹ یونیورسٹی میں وومن اسٹڈیز پروگرام کے بانی ممبران نے جب اس بات سے انکار کیا کہ ہارمونز کا انسانی طرز عمل اور رویوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا تو انکے ساتھ جھگڑا ہوتے ہوتے بچا۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ عجیب ستم ظریقی ہے کہ لبرل اسکالرز گلوبل وارمنگ کے ایشو پر تو اتنے جذباتی ہیں کہ انہیں سائنسی ثبوتوں کی پرواہ نہیں لیکن مرد و عورت کے جنسی امتیازات  کو حیاتیات کے واضح ثبوت ہونے کے باوجود بھی تسلیم نہیں کرتے ۔ 1979 میں ایسے ہی ایک مسئلے پر فیمنسٹ ماہرین تعلیم کے ساتھ گرما گرم مباحثے بالآخر پگلیہ کے استعفیٰ پر منتج ہوئے۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ انہوں نے ایک ایسا جملہ لکھا ہے جو شاید ان کے لئے سب سے زیادہ اہم ہے۔ اس کی خاطر انہیں اپنا پورا کئیرئیر بھی دائو پر لگانا پڑے تو وہ تیار ہیں اور وہ جملہ یہ ہے کہ “خدا۔۔ اگر تخیل بھی ہے تو انسان کے تخیلات میں سے سب سے بڑا تخیل ہے”۔ وہ مذہب کے آفاقی کردار کو بہت فروغ دیتی ہیں لیکن خود کوئی مذہبی خاتون نہیں۔ وہ مذہب کو اسکے عالمگیر اصولوں اور علامتوں کی حیثیت سے دیکھتی ہیں لیکن وہ عیسائیت یا کسی خاص مذہب کی ہر علامت اورعقیدے پر یقین نہیں رکھتیں۔

امریکی معاشرہ فیمنسٹ تحریک کے اس قدر زیر اثر ہے کہ مختلف ادارے اسکے خلاف کوئی قدم اٹھانے سے گھبراتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پگلیہ کی کتاب Sexual Personae، سات مختلف پبلشرز سے مسترد ہوئی۔ بالآخر جب یہ ژیل یونیورسٹی پریس Yale University Press سے شائع ہوئی تو ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوئی۔ اسے دنیا کی بہترین کتاب کا اعزاز حاصل ہوا اور یہ زیادہ فروخت ہونے والی کتابوں کی فہرست میں ساتویں نمبر پر پہنچ گئی۔ اس کتاب میں پگلیہ کا استدلال ہے کہ انسانی فطرت موروثی طور پر جنسیت کے حوالے سے ایک خطرناک پہلو رکھتی ہے۔ مذہب، تہذیب، ثقافت، خاندان اور شادی کی رسومات کے ذریعے اس قوت پر قابوپانے کی کوشش کی گئی ہے۔

مردانگی کا جشن:
پالیہ نہ صرف مضبوط مردوں کا دفاع کرتی ہے بلکہ مردانگی کےجشن بھی مناتی ہے۔ اسکا استدلال ہے کہ جدید معاشی ترقی اورسائنٹفک تمدن کی تشکیل میں مردوں کا خون پسینہ شامل ہے۔ آج عورتیں بھی اس میں برابر کی حصہ دار بن گئی ہیں لیکن یہ حقیقت  پیش نظر رہنی چاہیے کہ وہ اس تہذیب و تمدن کی خالق نہیں۔ جدید تمدن کی تعمیر میں جو پہاڑ توڑے گئے، جنگل و درخت کاٹے گئے، سرنگیں کھودی گئیں، ناہموار جگہوں پر بلڈوزر چلائے گئے وہ سب کام مردوں کے ہاتھوں انجام پائے۔ تمام سڑکیں، پل، کنکریٹ و اینٹوں کی عمارتیں، کارخانے، دفاتر اور پلازے مردوں نے تعمیر کئے۔ ریلوے لائنیں اور بجلی کی تاریں بچھائی گئیں، پول لگائے گئے، وسیع پیمانے پر معاشی پیداوار اور اسکی تقسیم کے نیٹ ورک تعمیر ہوئے۔ الغرض تمام خطرناک اور مشکل کاموں میں صرف مردانگی کام آئی، اس میں نسوانی طاقت کا براہ راست کوئی عمل دخل نہیں۔

جدید تمدن کی تعمیر کے مشکل مراحل طے ہونے کے بعد جب خوبصورت، دلکش، ٹھنڈے و گرم، تمام سہولتوں سے آراستہ دفاتر کی آرام دہ کرسیوں پر بیٹھنے کا وقت آیا تو خواتین کو بھی نتیجہ خیز کردار مل گیا اور مردوں نے اسے کھلے دل سے قبول کیا۔ یہ کوئی داستان، قصہ یاکہانی نہیں بلکہ ایک کھلی حقیقت ہے۔ یا تو اسکا صاف انکار کر دیا جائے یا پھر اس میں کام آنے والی مردانگی کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہوئے اس کا جشن منایا جائے۔ یہ جشن صرف مردوں کیلئے نہیں، عورتوں کو بھی مردوں کے شانے کے ساتھ شانہ ملا کر اس میں شریک ہونا چاہیے۔ جب عورت مرد کی حوصلہ افزائی کرتی ہے تو وہ اپنے تحفظ، آرام و آسائش کے دائرے کی ہی توسیع کر رہی ہوتی ہے۔ اگر عورتیں تعلیم یافتہ ہونے کے بعد مرودں کے ساتھ پیار اور محبت سے پیش آنے کی بجائے انہیں صرف طعنے اور کوسنے دیں گی یا انکی مذمت کریں گی تو آنے والی نسل کے مردوں کے پاس محنت کرنے اور آگے بڑھنے کی کیا ترغیب ہوگی؟

وہ کہتی ہیں کہ یہ کائنات مرد اور عورت سے مل کر  بنی ہے۔ اس میں آسمان مرد ہے اور زمین عورت۔ زمین کو کھاد باہر سے ملتی ہے اور وہ فصل اپنے پیٹ کے اندر سے پیدا کرتی ہے۔ کسان کی پیداواری علامت کا ارتکاز باہر کی طرف ہے اور وہ واضح طور پردکھائی دیتی ہے۔ کھیتی کی پیداواری علامت کا ارتکاز اندر کی جانب ہے اس لئے وہ پوشیدہ ہے۔ اول الذکر ہم آہنگی و نظم و ضبط رکھنے والا، مضبوط، طاقتور اورسخت گیر کردار کا حامل ہے۔ موخر الذکر زرخیز، لبھانے والی، مسحور کرنے والی، افراتفری، انتشار و گڑبڑ کا شکار، مخفی قوت رکھنے والی اور آکاس بیل کی طرح لپٹنے والے طفیلی کردار کی حامل ہے۔ مذکر سیدھی لائن میں ہمیشہ آگے کی طرف بڑھتا ہے اور مونث گول دائرے کی شکل میں چکر کاٹتی ہے اور اسکا آغاز اور انجام ایک ہی مقام پر ہوتا ہے۔

عورت مظلوم ہے یا مرد؟
جورڈن پیٹرسن کی طرح پالیہ کا خیال ہے کہ مرد مظلوم ہیں۔ مرد، مراعات کی پرواہ کئے بغیر سخت مقابلے کے ماحول میں زندگی گزارتے ہیں اور اپنے وابستگان کو بھی زندگی کا سامان مہیا کرتے ہیں۔ خواتین اور بچوں کو کھلانے پلانے، انہیں گھر اور تحفظ فراہم کرنے کی خاطر مرد اپنا جسم اور جذبات قربان کرتے ہیں لیکن حقوق نسواں کے کسی بیانیے میں انکی تکالیف اور کارناموں کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ اس بیانیے میں مردوں کو صرف جابر، ظالم اور استحصال کرنے والے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ خواتین مظلوم کیسے ہوسکتی ہیں؟ انہیں تو ہر جگہ مراعات اور اسپیشل ٹریٹمنٹ حاصل ہوتا ہے۔ اگر انکی سہولیات میں کوئی کمی ہو تو وہ مختلف فیشنز کے ذریعے اپنے لباس، بالوں، چہرے کے  خوبصورت روپ  دھارتے ہوئے، مردوں کے دل میں جگہ بناکر مراعات حاصل کر لیتی ہیں۔ لیکن تفریحی صنعت سے باہر کارپوریٹ دنیا میں مرد، لمبے بالوں، میک اپ، مور کے لباس اور مخملی سوٹ کے ذریعے کوئی اعلیٰ مقام حاصل نہیں کر سکتے۔ وہ ترقی کی سب منازل ان تھک محنت کے بل بوتے پر ہی طےکرتے ہیں۔

کام کی جگہوں اور کیمپس میں ریپ کی وجوہات:
پالیہ کے خیال میں ‘جنسی سرگرمی، آمادگی اور تحریک و ترغیب ہی ریپ کی بنیادی وجوہات ہیں’۔ ماہرین نفسیات رینڈی تھورن ہیل Randy Thornhill اور کریگ ٹی پالمر Craig T. Palmer بھی اس خیال کی توثیق کرتے ہیں۔ پگلیہ فیمنسٹ خواتین کو اس بات کی تاکید کرتی ہیں کہ وہ اپنی پارٹی لائن کی اندھا دھند پیروی کرنے کے بجائے اپنی عزت و عصمت کی حفاظتی معلومات حاصل کریں تاکہ انہیں کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔

وہ کام کی جگہوں پر خواتین کو زیادہ سنجیدہ نہ لئے جانے کی وجہ انکے لباس اور گیٹ اپ کو قرار دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ جب آپ کام کی جگہ پر برہنہ ٹانگوں اور اسٹیلیٹو ہیلز Stiletto heels کے اوپر شارٹ اسکرٹ زیب تن کرتے ہوئے یہ کہہ رہی ہونگی کہ میری جنسیت ہی میری طاقت ہے۔۔۔ تو آپکی دیگر صلاحیتوں کی قدر کون جانے گا؟ وہ کہتی ہیں کہ مجھے بھی سیکسی لباس پسند ہے اور میرا مطلب یہ نہیں کہ آپ پر کشش لباس پہننا چھوڑ دیں، میرا کہنا ہے کہ اپنے آپ کو خوبصورت زیور کے طور پر پیش کرکے دیگر صلاحیتوں کا لوہا نہیں منوایا جا سکتا۔

یونیورسٹی کیمپسز میں جنسی حملوں کے بارے میں پگلیہ کہتی ہیں کہ مردوں کی یہ فطرت ہے کہ وہ ہمیشہ جنسی تجربے کی تلاش میں ہوتے ہیں اور خواتین کو اس بات کا یقین نہیں ہوتا کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟۔ ۔ ۔ اگر انڈر گریجوئیٹس کی کسی پارٹی میں سب لڑکیاں، لڑکے نشے کی حالت میں ہوں۔ اس پارٹی میں شریک کسی لڑکی سے کوئی نوجوان یہ پوچھے کہ کیا آپ میرے کمرے میں جانا پسند کریں گی۔ ۔ ۔ اگر لڑکی کا جواب ہاں میں ہو تو یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ وہ سیکس کیلئے رضامند ہے۔

اسقاط حمل و ہم جنس پرستی:
پالیہ فیمنزم کے اندھے معیار کو ناپسند کرتی ہیں اور انہیں اسقاط حمل کے ان استعماری اثرات پر سخت تشویش ہے جن کی وجہ سے بدکاری کو الگ شناخت دے کر ایک فرقہ بنا دیا گیا۔ وہ ہم جنسی پرستی کے ڈسکورس کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسے ایک ایسا سیاسی ایجنڈا قرار دیتی ہیں جو آب و ہوا کی تبدیلی کی خاطر وسعت اختیار کر رہا ہے۔ انہوں نے 1960 کے عشرے میں ہم جنس پرستوں کی شناخت اور جینڈر پالیٹکس کو چیلنج کیا تھا اور ابھی تک اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی  ہیں۔

پالیہ کا استدلال ہے کہ جنس کی متعصب اور دقیانوسی تعریف کے ذریعے خواتین کے کردار اور خودمختاری کا تعین کسی طور درست نہیں۔ اسکا مطلب ان غریب خواتین کی خوداعتمادی اور عزت نفس کو نقصان پہنچانا ہے جو سلیبرٹیز کی طرح امیر، مشہور اور پرکشش نہیں یا جو فیمنسٹ گروہ میں شامل نہیں ہو سکتیں۔ خواتین کو بااختیار بنانے کا صحیح مطلب  یہ ہے کہ غریب اور نچلے طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین کی تربیت و رہنمائی ہو تاکہ انہیں اپنی صلاحیتوں کا ادراک ہو سکے۔

وومن اسٹڈیز و جینڈر پالیٹکس:
وہ اپنی کتاب Provocations میں حیاتیات کے مطابق صنف کی وضاحت کرتے ہوئے ،مردانگی کے کچھ روایتی اصولوں کا دفاع کرتی ہیں۔ وہ یونیورسٹی نصاب میں مذہبی مرکزیت کو فروغ دینے پر زور دیتی ہیں۔ وہ عام فہم رائے (کامن سینس) کے آئیڈیا کو چیلنج کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ یہ محض معاشرتی اتفاق ہوتا ہے۔ کسی خاص خطے میں پایا جانے والا نظریاتی اتفاق رائے ہر عہد میں بدلتا رہتا ہے اس لئے اسے تمام انسانوں کا عام فہم تصور نہیں کہا جاسکتا۔

وہ وومن اسٹڈیز اور پالیٹکس پر تنقید کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ‘وومن اسٹڈیز کے مضامین ایسے گروہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جو پہلے سے آرام دہ اور پرسکون ماحول میں رہنے کا عادی ہے۔ اس گروہ کی سیاست رومانوی، جذباتی اور زبانی جمع خرچ پر مبنی ہے اور ہر روز تبدیل ہونے والے رجحانات کے ساتھ فیشن کی طرح  بدلتی رہتی ہے۔ یہ خواتین کا ایک ایسا مراعات یافتہ طبقہ ہے جو اپنے ضمیر پر مراعات کے بوجھ کو تو محسوس کرتا ہے۔ لیکن اسکے نتیجے میں پیدا ہونے والا احساس ندامت و شرمندگی، محروم طبقات کو گلے لگانے کےبجائے انکا مقابلہ کرکے تشفی پاتا ہے۔

وومن اسٹڈیز کی تعلیم کا ارتکاز صرف سیکسزم اور صنفی تعصب پر ہے۔ فیمزم میں کام کرنے والی خواتین نہ عام خواتین کی نمائندگی کرتی ہیں اور نہ ہی قومی اور عالمی جذبات و احساسات کی ۔ اکیڈیمک فیمنسٹ ماہرین یہ سوچتی ہیں کہ انکے معصوم اور کتابی کیڑے نما شوہر ہی دنیا بھر میں پائی جانی والی مردانگی کا مثالی نمونہ ہیں۔ فیمنسٹ ماہرین کا یہ مسلسل دعویٰ ہے کہ تاریخ مردوں نے رقم کی اور اس میں عورت ہر جگہ مظلوم  نظر آتی ہے کیونکہ ذہین اور تخلیقی صلاحیتیں رکھنی والے عورتوں کو اس میں شامل نہیں کیا گیا۔ عصری فیمنزم کی یہ بنیاد ابتدا سے ہی ایک جذباتی وہم پر مبنی ہے۔

جینڈر اسٹڈیز کے ڈیپارٹمنٹ میں خدمت پیش کرنے والے لوگ  منظم اجارہ داری Cartel پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اسکا واحد مقصد یہ ہوتا ہے کہ یونیورسٹیوں میں خواتین فیکلٹی ممبرز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے۔ زیادہ تر یونیورسٹیز میں بائیں بازو کے مستند لوگوں کا وجود ہی نہیں لیکن بوژوا چیئرز پر ہر جگہ ماہرین تعلیم براجمان ہیں اور انکے زیر نگرانی کیپمس ‘نرسری اسکول’ کا سماں پیش کرتے ہیں۔ یہاں کے طالب علموں کی مثال انکوبیٹر سے پیدا ہونے والے بطخ کے بچوں کی سی ہے جو ویکیوم کلینر کو بھی دیکھ کر اپنی ماں تصور کرتے ہیں۔

پگلیہ کا دعویٰ ہے کہ وومن اسٹڈیز میں پڑھانے والوں کی اکثریت بیہودہ، اناڑی، لکیر کے فقیر، خوشامدی، پائی ان دی اسکائی یوٹوپئین، رونے رلانے والے، شکوے شکائتیں کرنے والے، پارٹی کے جیالے اورخفیہ ایجنسی کے کارندوں کی طرح ہوتی ہے۔ اعتدال پسند اور معقول فیمنسٹ اسکالر اس پاپولر فیمنزم سے اب پیچھے ہٹ گئے ہیں اور وہ اچھے جرمنوں کی طرح فاشزم کے سامنے خاموشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ جتنی بھی عظیم خواتین اسکالرز پیدا ہوئیں وہ سب مردانہ کلاسیکی روایت کے دانشورانہ نظم و ضط کا نتیجہ ہیں نہ کہ موجودہ فیمنزم  کا ۔ یہ پاپولر فیمنزم تو خواہشات اور جذبات سے مغلوب، معافی تلافی کرنے والی آپا ہے جس سے اول درجے کی کوئی تخلیق سامنے نہیں آئی۔

ماڈرن نوجوان خواتین کومشورہ:
پالیہ کا مشورہ ہے کہ نوجوان خواتین  کیلئے 1960 کے عشرے کی متحرک خواتین کا کردار ایک  نمونہ ہے۔ وہ کردار یہ ہے کہ ‘آپ بھی اس بات میں برابر کے ذمہ دار ہیں کہ لوگ آپ کے ساتھ کس قسم کا سلوک کرتے ہیں’۔ آپ کوہر وقت یہ راگ نہیں الاپنا چاہیے کہ میں اس طرح ہوں کیونکہ میرے والدین اور خاندان نے مجھے اس طرح بنایا ہے۔ میں ایسی ہوں کیونکہ میرے شوہر نے مجھے اس طرح بننے پر مجبور کیا ہے۔۔۔ ہاں ہم ان حادثات اور ممکنات کے ذریعہ ہی بنتے ہیں جو آئے روز ہمارے ساتھ پیش آتے ہیں لیکن اگر یہ سب کچھ آپ کو قبول نہیں تو پھر ہر طرح کی ذمہ داری آپ کو قبول کرنی ہوگی۔۔۔۔ کیا آپ اپنی سب چیزوں کی ذمہ داری  اپنے سر لینے کو تیار ہیں؟؟

ایک عورت وہی رہتی ہے جو وہ ہوتی ہے جبکہ ایک مرد کو مرد بننا ہوتا ہے۔ مردانگی خطرناک اور انوکھی چیز ہے۔ یہ کردار، نسوانی سطح سے اوپر اٹھنے، جدوجہد و مشقت کرنے، جرات و حوصلہ سے کام لینے، ذمہ داری اور عہد نبھانے، اپنے آپ کو قربان کرنے اور خطرات موہ لینے سے حاصل ہوتا ہے۔ اس کردار کی تصدیق صرف دوسرے ‘رجال’  ہی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: فیمنزم کے غیر سائنسی مفروضے اور اعتقاد -------- وحید مراد

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply