مورکھ ——- نجمہ ثاقب کا افسانہ

0

جب بھری برسات میں دونوں میاں بیوی ’’چک لدھا‘‘ سے روانہ ہوئے تو دوپہر ڈھل چکی تھی اور کالے سیاہ بادلوں نے آسمان پہ تنبو تان کے پانیوں سے بھرے سمندر کے آگے پرنالا باندھ دیا تھا۔ دونوں نے لانگڑ کھینچ کے تَہبند پنڈلیوں سے اوپر تک اُڑسے اور ایڑیوں کی پھٹی بوائیاں کمائے چمڑے کی گہری برائون گرگابیوں میں یوں پھنسا لیں۔ جیسے بدصورت دلھن گھونگھٹ کی اوٹ میں وقتی طور پر اپنا چہرہ چھپا لیتی ہے۔

جب وہ پنڈ سے باہر نلکے والے موڑ پہ پہنچے تو کچی پکی اینٹوں کے سولنگ سے ٹخنوں برابر پانی شڑاپ شڑاپ گزر رہا تھا اور اس کے کیچڑ زدہ گدلے رنگ میں گھسی اینٹوں کی رَہند کھُوند بھی نظر نہ آتی تھی۔

سرداراں اور غلام علی پچھلے تیس سال سے میاں بیوی تھے۔ دونوں ساتھ ساتھ اُگے درختوں کی طرح دھوپ چھائوں، سردی، گرمی اور نیکی بدی میں ایک دوجے کے حصہ دار تھے۔ ان کی خوشی غمی، دکھ سکھ اولاد کی طرح سانجھے تھے۔ اتنے عرصے کے ساتھ کا اعجاز تھا کہ توأم بچوں کی طرح دونوں کی عادتیں بھی ملنے جلنے لگی تھیں۔ دونوں ایک دوسرے کے دل کی بات بن کہے یوں سمجھ جاتے تھے۔ جیسے شیشے کے جگ میں پانی ڈالو تو دونوں اک مک ہو جاتے ہیں۔ پر رہتے الگ الگ ہیں۔

ہاں تو دونوں جب پنڈ سے باہر نلکے والے موڑ پہ پہنچے تو پانی سڑک کے اوپر سے شڑاپ شڑاپ گزر رہا تھا اور یوں آس پاس کھڑی فصلوں والے کھیتوں میں ننھے منے پودے کلّر کے ناگوں کی طرح جھوم رہے تھے۔

کھیتوں کے مشرقی سِرے پر صدیق کا خچر آنکھوں پہ پوپٹ جمائے کھڑا تھا اور اس کے صحت مند جثے کے پیچھے جتے تانگے کی پلاسٹک مڑھی پھسلواں سیٹ کے کونے میں دبکا صدیق کھل بنولے کی مُڑی تڑی بوری کی طرح دھرا تھا۔ اس نے خاکستری چادر سے اپنا وجود لپیٹ رکھا تھا۔ اوپر کے دَھڑ کو سر سمیت گھٹنوں میں میخا ہوا تھا۔

غلام علی نے اللہ کا نام لے کر پائیدان پہ قدم رکھا اور سرداراں سے مخاطب ہو کے بولا، ’’میں نہ کہتا تھا! کوئی نہ کوئی سفر کا آسرا ملے گا ضرور۔ گھر سے نکل پڑو تو اللہ راستے کھول دیتا ہے۔‘‘

سرداراں نے دونوں ہاتھوں سے فاختہ کے پروں جیسی سلیٹی چادر کی بُکل سمیٹی اور تانگے کے پچھلے حصے پر چڑھتے ہوئے بولی، ’’اس صدیقے نمانے کو دیکھو! وے نکڑ میاں اس کالی گھور رُت میں ٹپ ٹپ تلے بیٹھے ہو؟ پانی نے پنڈا پکڑ لیا تو چار دن چارپائی سے نہ اٹھ سکو گے۔‘‘

صدیق نے کندھوں سے چادر پرے سرکائی اور چابک سیدھی کرتے ہوئے خچر کی بانچھوں میں گڑے فولادی چھلّوں میں پروئی چرمی باگ کو کھینچا۔ مالک کی حرکت سے اس کے جھوٹے پڑتے وجود نے بجلی کی سی پھریری لی۔ اس نے ایک جھٹکے سے قدم اٹھائے اور پانی میں رہوار چلنے لگی۔

صدیق نے اپنے جھکورے کھاتے جسم کو سیٹ پر ٹکایا اور بولا، ’’میں یہاں نہ بیٹھا ہوتا تو تُو سفر کیسے کرتی ماسی؟ اور میں اپنے پیسے کیسے کھرے کرتا؟ سب روزی روٹی کے وسیلے ہیں۔‘‘ غلام علی سڑک کے دائیں بائیں دور دور تک پھیلے کھیتوں کو دیکھ رہا تھا۔ جہاں بارانی پانیوں نے کھیتوں کو بھر دیا تھا اور تواتر سے اترتی بوندوں نے نظروں کے سامنے جالا سا باندھ دیا تھا۔ بڑی ظالم بارش ہے۔ آگے ایک دو پہر تک نہ رکی تو فصلیں لیٹ جائیں گی۔

غلام علی نے کہا، جمعرات کی جھڑی ہے چودھریا! صدیق نے ایک ہاتھ سے باگ کھینچتے اور دوسرے سے منہ سر لپیٹتے ہوئے کہا۔ ہفتہ دس دن سے پہلے نہیں رکنے والی۔ اللہ بخشے میری بے بے کہا کرتی تھی، جمعرات کی جھڑی ہو یا قتل کی آندھی، دونوں آسمان کو اوندھا دیتی ہیں او تیری خیر ہو۔ خچر کا پائوں پانی میں چھپے کسی اجنبی گڑھے میں پڑا تھا۔

تانگہ ایک ثانیے کے لیے ڈگمگایا۔ پھر اپنی گزشتہ پوزیشن میں آ گیا۔ تانگے کی ڈگمگاہٹ سے نیچے سرکتے وجود کو نشست پر جماتے ہوئے سرداراں بولی: تمہاری بے بے بھی حقی سچی ہے۔ تقسیم کا بلَوہ اس نے دیکھا ہے۔ پنڈاروں کے منڈوے پہ ہونے والے فسادوں کی وہ گواہ ہے اورمُنڈی کٹے افضل کے ہاتھوں نمبر داروں کی عورت کا قتل تو اس کے سامنے ہوا تھا۔

غلام علی نے خچر کی کمانچہ بنی گردن کی سیدھ میں دیکھتے صدیق کے کندھے پہ ہاتھ مارا اور کہا: افضل کے سے جی دار بھی مائوں نے کم کم جنے ہیں۔ تقسیم کی رات جب جتھہ داروں نے افضل کے پردے میں برچھا مارا تو اس کی مُنڈی کٹ کر اس کے کندھے پہ لٹک گئی اور لہو نے اُبل اُبل کر اس کے کپڑے اور زمین ایک رنگ کے کر دئیے۔

صدیق نے اپنے منہ پر ہلکا سا چانٹا رسید کرتے ہوئے کہا: اللہ نے اس کی سانسیں رکھی تھیں۔ ورنہ پریوں نے اسے مارنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ غلام علی نے افضل پہ گزری خونی رات کے تصور کو جرعہ جرعہ پیتے ہوئے کہا:

جب سِکھ مردہ جان کر چھوڑ گئے تو اس نے ہمت پکڑی اور قطرہ قطرہ موت ٹپکاتی گردن کو سپید پڑتے ہاتھوں سے تھام کر کندھے پہ رکھا اور لہو رنگی چادر سے کس کے باندھ دیا۔ پھر وہ ڈگ مگ کرتے قدموں پہ چلتا جوگندر سنگھ کی چوکھٹ پہ جا کے گرا تو جوگندر سیّاں نے اسے بھڑولے میں ڈال کر دروازہ بھیڑدیا۔ خود لہو میں ڈوبی کرپان لے کر دروازے پہ بیٹھ کے بڑھکیں مارنے لگا۔

تانگہ اب پانی کے تالاب سے نکل کر گیلی سڑک پہ آگیا تھا۔ تیز بارش معمولی رم جھم میں بدل گئی تھی۔ غلام علی بولا: ’’پورا ایک مہینا افضل نے اپنے بیلی کے گھر چکنی مرہم لگواتے کڑوی پھیکی معجونیں چاٹتے اور چینی ہر دل کی دھونیاں لیتے گزارا۔ جب ملٹری کے ٹرک پہ عورتوں، بچوں اور زخمیوں کے جمگھٹے میں سوار ہو کے وہ والٹن کیمپ اُترا تو اس کی موڈھی صحیح سلامت کندھے پہ دھری تھی۔ اس کی موٹی گردن پہ ہاتھ برابر زخم کا نشان ابھی کچا پکا تھا۔

صدیق نے بے اختیار ہو کر جھرجھری لی اور خچر کے جانگھوں پہ چابک رسید کرتے ہوئے بولا: ’’اللہ بخشے میری بے بے کہا کرتی تھی۔ گردن کا نشان ساری زندگی افضل کی شناخت بنا رہا۔ جب اس نے نمبرداروں کی عورت پہ ہاتھ ڈالا تو اسی نشان کو دیکھ کر اس نے دہائی دی۔ جب افضل نے طیش میں آکر اس کا گلا گھونٹ ڈالا۔‘‘ سرداراں بولی: ’’نمبر داروں کی اس عورت کا نام سلمیٰ تھا۔

غلام علی نے کہا: ’’ایسی ہی برسات تھی۔ ایسے ہی پانی نے زمین آسمان ایک کر رکھا تھا۔ دن کی روشنی کو اندھیرے نے نگل لیا تھا۔ جب سلمیٰ اپنے ڈیرے سے نکلی۔ اس کا معذور باپ آخری دموں پہ تھا۔ اس کے پاس سلمیٰ کی ضعیف ماں کے علاوہ اور کوئی نہ تھا۔ اس نے کمر کسی اور بن پہ بن پھلانگتی وہاں پہنچ گئی۔ جہاں بانس کے درختوں نے جنگل سا بنا دیا ہے۔ اُدھر افضل اپنے نوروں کے لیے بھوسہ لاد کے لے جا رہا تھا۔ اس نے سلمیٰ کا پیچھا کیا اور اسے بیچ کھیت کے دھر لیا۔

توبہ! توبہ!… پچھلی سیٹ پر سرداراں نے اپنے کلّے پیٹ ڈالے۔ غلام علی پھر بولا: ’’خیر سلمیٰ بھی اُکل کھری زنانی تھی۔ مُکہ مار کے اگلے کا جبڑا توڑ دیتی تھی۔ اس نے افضل کی گردن پہ اپنے دانت گاڑ دیے۔ جب وہ بلبلا کر پیچھے ہٹا تو سلمیٰ نے جھپٹ مار کر اس کا ڈھاٹا ہٹا دیا۔ اللہ جانے اب اُدھر سے کوئی گزر رہا تھا۔ یا سلمیٰ کی دہائیاں سن کر آسے پاسے سے لوگ جمع ہوئے۔ ان کے آتے ہی افضل بھاگ گیا اور سلمیٰ نے دو چار منٹوں میں جان دے دی۔

ماحول پہ عجیب دم گھونٹتی افسردگی چھا گئی اور سڑک خچر کے سموں کی ٹخ ٹخ سے گونجنے لگی۔ خیر افضل پکڑا تو گیا تھا۔ صدیق نے خاموشی کو توڑا۔ غلام علی نے کہا، ’’پکڑا بھی گیا تھا اور اسے سزا بھی ہو گئی۔ مگر پھر دونوں پارٹیوں نے صلح کر لی۔ افضل کے چچا نے اپنی دو بیٹیاں مخالف پارٹی کو بیاہ دیں۔ افضل چھوٹ کے گھر آ گیا اور ٹھیک پانچ سال بعد ایک روز اپنی ہی چارپائی پہ لیٹا لیٹا مر گیا۔

تانگہ ایک جھٹکے سے رک گیا۔ سرداراں نے اللہ کا نام لے کر پائیدان پہ پائوں رکھا اور بولی: ’’اگر دیکھو تو یہ بھی ایک زیادتی تھی۔ افضل کی دونوں چچا زاد بہنیں ایک مدت تک دشمنوں کے گھر میں پستی رہیں۔ ان کی زندگی مُردوں سے بھی بدتر تھی۔ ان کی ماں اکثر ان کے غم میں روتی ملتی تھی۔ مگر اسے ان سے ملنے کی اجازت نہ تھی۔

غلام علی نے چادر کے اندر ہاتھ ڈال کے داہنے پہلو میں بنی جیب سے کرایہ نکال کر صدیق کو تھمایا اور بولا، ’’زیادتی خیر ہوئی تھی۔ مگر یہ ہمارے وڈکوں، پرکھوں سے ہوتا آیا ہے۔ بھائیوں کی گرتی پگڑیوں کو بہنیں ہی سہارتی ہیں۔‘‘

یہ تو ہے… یہ تو ہے… صدیق نے سر ہلا کر مانی ہوئی حقیقت کی طرح اسے قبول کیا اور تانگہ واپس اسی سڑک پہ موڑ لیا۔ جدھر سے آیا تھا۔ غلام علی اور سرداراں دس، پندرہ منٹ تک آگے پیچھے پیدل چلے۔ پھر کتھئی روغن اور روپہلے کوکوں والے لکڑی کے اونچی چوکھٹ والے دروازے سے اندر داخل ہو گئے۔ اندر لمبوترے صحن میں پانی کا خود کار نل کھلا تھا اور گدلا گدلا پانی تیل وانس جیسی تنگ موری سے بہہ بہہ کر صحن میں کیچڑ بنا رہا تھا۔ اسی کیچڑ کے بیچوں بیچ بچھی الانی چارپائی پہ سرداراں کی اماں دونوں پائوں اوپر دَھر کے بیٹھی تھی۔ سراہندی پواندی مٹر کے دانوںکی طرح بکھری مرغیوں کو ہشت ہشت بھگا رہی تھی۔

بیٹی اور اس کے پیچھے داماد کو دیکھ کر اس کا دل بھیگی روئی کی طرح بوجھل ہو گیا۔ مگر اندر مچتی کھڑ دنبی پہ مسکراہٹ کا جھانپڑ مار کے بولی، ’’جی آیا نوں! خیر نال آئے ہو؟‘‘

پھر ٹھنڈے ٹھار لہجے میں دانستہ بھپارہ دیتی چائے کی سی گرمی پیدا کرتے ہوئے بولی، مینہ اور ہوا نے اتھری سے اتھری مخلوق کو اندر باندھ رکھا ہے۔ تم دونوں کیسے نکل آئے؟

سرداراں نے غلام علی کو دیکھا۔ دونوں کی نگاہوں نے چقمقاق رگڑا اور غلام علی کے لہجے کو چنگاری چنگاری کر ڈالا۔ میں نے بھا انور کو بتایا تھا کہ ہم جمعرات کو آئیں گے اور اس پھیرے میں مُک مُکا کرکے ہی جائیں گے۔

سرداراں کی ماں کے اندر پریشر ککر کی سیٹی بجنے لگی۔ وہ خوف اور اندیشوں کے درمیان یوں گھِر گئی، جیسے جنگلی چوپایہ شکاری کتوں کے نرغے میں پھنس جاتا ہے۔ غلام علی پتر! اس نے بھپ بھپ کرتی بھاپ کو دھیرے دھیرے نکلنے کا راستہ دیتے ہوئے کہا، کیوں آگ کے شعلوں کو ہوا دیتے ہو؟ اچھا یہی ہے کہ بھڑکنے سے پہلے اس پہ پانی ڈال دو۔ ورنہ سب سواہ ہو جائے گا۔

تو ٹھیک ہے اماں! آپ انور سے کہیں سرداراں کا حصہ سیدھے ہاتھ میرے حوالے کر دے۔ ہمارا اس کا جھگڑا ختم… سامنے پلیٹ فارم کی طرح لمبے اور صحن کی سطح سے اونچے برآمدے میں تازہ وارنش پھرے دروازے سے انور شرمن ٹینک کی طرح نمودار ہوا۔ سالے کے تیور دیکھ کے غلام علی نے امڈتے اشتعال کا گھونٹ ایک ہی ڈیک میں اندر اتارا اور سواگت کو آگے بڑھا۔ انور نے جھٹک کر اس کا ہاتھ پرے کیا۔ دیدے باہر کو ڈھلکاتے ہوئے بولا، ’’میں نے تمھیں کہا تھا لالہ! سو بار آئو! جم جم آئو! پر اس واسطے دوبارہ نہ آنا۔‘‘

واجی واہ! غلام علی بولا، ’’اس واسطے کیسے نہ آئوں؟ اپنا حق چھوڑ دوں؟ ہاں! دونوں کی تُو تُو میں میں گرم ہوئی۔ تو اماں کا وجود بیٹھے بیٹھے بے جڑ کے پودے کی طرح ڈولا۔ وہ سینے پر دو ہتڑجما کے بولی: ’’ہائے میں کیا دیکھ رہی ہوں۔ شیر علی کی اولاد انچ انچ زمین پیچھے مر رہی ہے۔ اے سرداراں تم ہی کچھ بولو، کھڑی کیا تک رہی ہو۔‘‘ سرداراں کے وجود میں خفیف سی حرکت ہوئی۔ مگر وہ منہ میٹی کھڑی رہی۔

انور نے ماں کا واویلا نظر انداز کر دیا اور بولا: ’’کونسا حق اور کیسا حق؟ بہن کا حق بیاہتے وقت جہیز کی صورت میں بیاج سمیت دے دیا تھا۔ اب کس حق کی بات کرتے ہو؟‘‘ تت تت! غلام علی چمک کے بولے، ’’وہی حق جو سرداراں کا باپ کی وراثت میں بنتا ہے۔‘‘

انور ایک لمحے کے لیے ٹھٹکا۔ اس نے غور سے سرداراں کو دیکھا۔ مڑا اور نپے تلے قدموں پر چلتا اندر کمرے میں چلا گیا۔ یک ثانیے بعد اسی رفتار سے واپس آیا تو اس کا چہرہ چٹان بنا ہوا تھا اور دانت آپس میں لپٹی دوسانگیوں کی طرح بھینچے ہوئے تھے۔ حق اس کے ہونے سے ہے ناں؟ اس نے بائیں ہاتھ کی دوسری انگلی سرداراں کی طرف اٹھائی۔ اور دائیں ہاتھ میں پکڑے پسٹل سے ٹھائیں ٹھائیں فائر کھول دیا۔

سرداراں شکستہ برتن کی طرح چٹخی اور کھڑے پیر سیدھی نیچے جاگری۔ مرغیاں پھڑ پھڑ دروازے سے باہر بھاگیں۔ نیچے بکھرا گدلا پانی کچ لہو بن کے کیچڑ میں پھیل گیا۔ فضا میں عاشورہ محرم کی سوگواریت چھا گئی اور سرداراں کا ٹھنڈا پڑتا وجود ایک دم ساکت ہو گیا۔

کسی انہونی کے وہم میں گم صم غلام علی ڈرائونے خواب سے جاگے بچے کی طرح اس کی طرف بڑھا، بے بے نے پچھاڑ کھا کر ایک نظر پیلے پڑتے انور کو دیکھا اور دوسری نگاہ غلام علی پر ڈال کے بولی! ’’مورکھا! کبھی بہنوں نے بھی حصے مانگے ہیں۔‘‘

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply