اردو کی عقیدتی تنقید اور نیر مسعود —– معراج رعنا   

0

اردو میں عقیدتی تنقید کی ابتدا مولانا محمد حسین کے تذکرے “آب_حیات” سے ہوتی ہے۔ لیکن مولانا چونکہ خاصے پڑھے لکھے آدمی تھے اس لیے وہ خود پر ہونے والے اعتراضات کو مناسب سمجھ کر جلد ہی مائل بہ اصلاح ہو گئے۔ مطلب یہ کہ “ذوق پرستی” کی دھن میں آب حیات سے مومن کی بے دخلی کی جو شعوری کوشش ان سے سر زد ہوئی تھی اس کی اصلاح کر کے اپنی کشادہ قلبی کا مظاہرہ کیا تھا۔ ان کی یہ کشادہ قلبی ادبی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے۔

آب_حیات سے یوں تو کئی اقسام کی دروغ گوئی اور غلو آمیزی کی داغ بیل پڑتی ہے لیکن ان میں ایک سب سے بڑی بدعت مطالعے کی عدم موجودگی کی ہے جس کی بنیاد پر صنفی یکسانیت کے پیش نظر ذوق اور خاکانی والا تقابل استوار ہے۔ جب کہ سچائی یہ ہے کہ ان دونوں شاعروں کے یہاں اس قدر_مشترک کے کہ دونوں قصیدے کے شاعر تھے، کوئی دوسری فنی قدریں موجود نہیں۔ اب چونکہ مولانا نے یہ بات کہی کہ ذوق خاکانی_ہند ہیں، اس کو ہر خاص و عام اپنے سر پر مثال_تاج لیے پھرنے لگا۔ لیکن جب ہندوستان میں بڑی بڑی جامعات کے قیام کے بعد شعبئہ علوم میں مطالعات کی ایک نئی نہج قائم ہوئی تو بعض بت خود بہ خود ٹوٹنے لگے۔ رایوں کے انبوہ میں ایسی رائے قابل_قدر سمجھی جانے لگی جس کی بنیاد عقیدت کے علی الرغم علمیت پر قائم تھی۔ ظاہر ہے اس علمی شعور کی زد میں مولانا اور مولانا جیسے بہت سارے لوگوں کی تحریریں آئیں جن پر یہاں بحث مقصود نہیں بلکہ یہ بتانا مطلوب ہے کہ مولانا کی آب_حیات سے جو غیر مناسب روش عام ہو کر معدوم ہو ہو گئی تھی وہ اردو میں پھر سے عام ہونے لگی ہے۔ یعنی یہ کہ اردو تنقید میں گزشتہ بیس پچیس برسوں میں عقیدت کا ایک نیا رجحان عام ہوا ہے۔ اس رجحان کے مطابق اگر کسی شخص نے کسی ناول یا افسانے کو بڑا یا اہم کہہ دیا تو پوری اردو بیت العلمی اپنا قومی ترانہ متصور کر کے اسے گنگنانا اپنا علمی فرض سمجھتی ہے۔ یہاں یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا اطلاق ہر رائے پر ممکن ہے۔ بعض ناول یا افسانے واقعی اس فنی صفات کے حامل ہوتے ہیں کہ نقاد کی اس افسانے یا ناول پر دی گئی رائے کو حد درجہ عقیدت و احترام سے قبول کرنے پر ہم مجبور ہو جاتے ہیں۔ اور ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ یہاں نقاد پڑھ اور سمجھ کر ہمیں پڑھنے اور سمجھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس نوع کی رائے محض رائے نہیں ہوتی جو عالم_وجد میں دی گئی ہو بلکہ زیر_مطالعہ تخلیق پر دی گئی رائے کی بنیاد علمی حجت ہوتی ہے جو آج کے اردو نقادوں میں کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج کی تنقیدی تحریروں میں رایوں کے اتباع کا عمل دخل زیادہ نظر آتا ہے۔ اس لیے یہاں ایک نوع کی یکسانیت باذوق قاری کی پیدائش و افزائش میں متعدد موانعات کھڑے کرتی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نقاد نے جو فرما دیا اسے ہم مستند سمجھ کر مشتہر کرنے لگتے ہیں۔ اشتہار کی انتہا استناد قائم کرتا ہے لیکن یہ استناد اتنی کمزور ہوتی ہے کہ اس پر اگر علم و منطق کی ایک ہلکی سی ضرب لگائی جائے تو وہ فورا ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جاتی ہے۔

اردو میں یوں تو ایسے کئی فن کار ہیں جن کو غیر ضروری طور پر اہم سمجھا گیا ہے۔ نیر مسعود بھی اسی قبیل کے ایک افسانہ نگار ہیں۔ جن کے بارے میں بلا جواز ایک ایسی استناد سازی کی گئی جو تنقیدی بصیرت کے برعکس خالص مجذوبانہ نوعیت کی حامل ہے۔ نیر مسعود کے تخلیقی عروج کا زمانہ جدیدیت کے عروج کا زمانہ ہے اس لیے ان کے افسانے میں جدید میلانات کی نشاندہی کی دریافت کا عمل ایک حد تک فطری معلوم ہوتا ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ان کے افسانوں کی ابتدائی گفتگو میں جدید میلانات کی تلاش کی سعی نظر آتی ہے لیکن یہاں ایک مستحکم رائے ممکن العمل نہیں ہوتی۔ اور ایسا اس لیے ہوا کہ نیر مسعود کے یہاں کوئی مربوط قصہ یا فیبل لائین موجود نہیں تھی اور کم و بیش ان کے بعد کے افسانوں میں بھی یہ عنصر مفقود نظر آتا ہے۔ خط_قصہ کی اسی عدمیت نے جہاں ایک طرف مصنف کی کمیں گاہ بننے کا کام کیا وہیں اس نے اردو میں فکشن کے ایسے نقادوں کو بھی پیدا کیا جنھوں نے اپنی تنقید کی بنیاد علم کے برعکس وجدان پر رکھی۔ اس وجدانی تنقید کا خام اور مواد نیر مسعود کے افسانے تھے۔ کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ نیر مسعود کے اکثر و بیشتر افسانوں میں افہام و تفہیم ایک بڑے مسئلے کے طور پر موجود ہے۔ اور یہ مسئلہ مصنف کی لاشعوری کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ مصنف کی شعوری سعی کا ثمر معلوم ہوتی ہے۔ شبلی نے بھی اپنے موازنے میں اسی طریق_کار کو ملحوظ رکھا تھا کہ وہ نئے پن کی بنیاد پرخود کو حالی سے الگ رکھ سکیں۔ جس میں شبلی ایک بڑی حد تک کامیاب بھی رہے۔ لیکن نیر مسعود نے نئے پن کے نام پر فکشن کی کسی نئی شعریات کو وضع کرنے سے قاصر رہے۔ جس طرح منٹو، بیدی، کرشن چندر اور عصمت نے اپنے افسانوں کے وسیلے سے افسانے کی ایک نئی بوطیقا مرتب کی جس پر جدید افسانوں کی ایک بڑی اور صد رنگ دنیا آباد ہے۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نیر مسعود اپنے طرز کے واحد افسانہ نگار ہیں کیوں کہ انھوں نے اردو میں علامتوں اور استعاروں کے مابین ایک ایسے بیانیے کو متعارف کیا جس میں زبان کی حیثیت ایک نگار خانے کی سی ہے۔ لیکن جب یہ بات کہی جاتی ہے تو یہاں یہ سوال نہ چاہتے ہوئے بھی قائم ہو جاتا ہے کہ کیا محض زبان کی طلسم کاری کی وجہ سے کوئی افسانہ ان تمام صفات سے متصف ہو سکتا ہے جو کسی عمدہ افسانے کے طرہ امتیاز ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس سوال کا جواب بہت کوششوں کے باوجود بھی اثبات میں نہیں دیا جا سکتا کیوں محض زبان کی بنیاد پر افسانہ ہی کیا کسی بھی تخلیق کی عظمت و فضیلت متعین نہیں ہوتی۔ خود اردو میں غالب اور داغ کی مثال موجود ہے۔ داغ کے یہاں زبان کا جو طلسم ہے وہ غالب کے یہاں نہیں لیکن غالب کی شاعری میں جو معنوی ارتفاع ہے وہاں داغ پہنچ بھی نہیں سکتے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زبان کے علاوہ بھی کئی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو کسی تخلیق کو اس متاع_بیش بہا سے سرفراز کرتی ہیں جن سے تخلیق کے اندر معنی کی ایک لا محدود دنیا آباد ہو جاتی ہے۔ کیا منٹو یا قرہ العین حیدر یا سریندر پرکاش کے یہاں زبان کی سحر آفرینی موجود نہیں ؟ لیکن مذکورہ افسانہ نگاروں کو محض اس لیے فضیلت حاصل نہیں کہ ان کے یہاں دامن_دل می کشید والی زبان مستعمل ہے بلکہ زبان ایک خاص تخلیقی عمل سے گزر کے معنوی فشار کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس ہنر مندی میں انتظار حسین کا نام بھی خاص اہمیت کا حامل ہے۔ انھوں اردو و فارسی کی پیش پا افتادہ داستانوں اور جاتک کتھا وں کے قدیم قصوں کی باز سرائی کے دوران دو یا چار جملوں کے اضافے سے پرانے قصے کو اچانک جدید قصہ بنا دیتے ہیں۔ اور پھر وہ افسانوی قصہ کسی داستانی حوالوں کے بغیر ہمیں معاصر مسائل اور اس کی معنویت سے ہم آہنگ کر دیتا ہے۔ یہ محض بین المتونیت یا انٹر ٹکسٹوالیٹی نہیں بلکہ قدیم عہد کی خاک سے موجودہ عہد کا استعارہ خلق کرنا ہے۔ سرہندر پرکاش کے یہاں بھی ملکہ شبروزی ماضی کی وہ خاک ہے جس سے سریندر پرکاش موجودہ اقتدار کی علامت بناتے ہیں۔ یہی وجہ کہ “باز گوئی” کا یہ مرکزی کردار کئی اہم خواتین سیاسی رہنماوں کا نمائندہ بن جاتا ہے۔

یہاں یہ بات کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ نیر مسعود کے یہاں ایسے افسانے نہیں ملتے جنھیں ہم عصری آگہی سے منسلک کر کے دیکھ سکیں۔ حالانکہ ان کے یہاں ماحول اور جزیات کا وہی اہتمام ملتا ہے جو انتظار حسین اور سریندر پرکاش کے یہاں پایا جاتا ہے لیکن قصے کا غیر ارتباتی رویہ انھیں اسرار کی دنیا سے اظہار کی دنیا میں نہیں آنے دیتا۔ اس لیے ان افسانوی ماحول اور اس ماحول کا پروردہ کردار کسی بھی معاصر ماحول اور کردار کا حوالہ جات یا ریفرینٹ نہیں بنتا۔ بڑی کہانی کا ایک بڑا وصف دال کی بنیاد پر مدلول یا سگنیفایڈ کو پیدا کرنا ہے۔ نیر صاحب کا سب سے مشہور افسانوی مجموعہ “طاوس چمن کی مینا” ہے اور اسی مجموعے پر انھیں ساہتہ اکادمی ایواڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔ جب یہ ایواڈ ملا تو اردو بیت العلمی کے کچھ عقیدتی نقادوں نے ان کی اس کتاب کو بالعموم اور طاوس چمن کی مینا افسانے کو بالخصوص نیر صاحب کا شاہکار سمجھنے لگے۔ لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سمجھ صرف زبانی روایت تک محدود رہی۔ مطلب یہ کہ ہر مجذوبی فکر کا نقاد جھوم جھوم کر بڑا افسانہ نگار کہنے لگا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے ہی ایک ایسا نیریٹو قائم ہو گیا جس کی بناد صرف ایک تاثر پر قائم تھی۔ یہاں یہ بات بھی ملحوظ_خاطر رکھنے کی ہے کہ مجذوبی نقادوں میں کوئی بھی ایسا نہیں تھا (یا ہے) جس نے ایران و تہران کی بات کیے بغیر دو اور دو چار کی طرح ان کے افسانوں پر تفصیلی گفتگو کر کے اس معنوی عظمت متعین کی ہو۔ تاریخ کا سب سے خطرناک پہلو اس کی بدیعات یا ریٹرکس کا ہوتا ہے۔ جو کسی ایسے نیریٹو کو پیدا کرتا ہے جس کی بنیاد محض ایک غلط تصور پر قائم ہوتی ہے۔ ولیم ڈیلرمپل اپنی کتاب “دی لاسٹ مغل” میں 1857 کے حوالے سے اس نیریٹو کا قائم کرتا ہے کہ عالمی دہشت گردی کا جو موجودہ تصور ہے اس کے موجودہ تصور کا نقش_اول وہ اٹھارہ سو ستاون کی پہلی جنگ_عظیم میں تلاش کرتا ہے۔ کم و بیش یہی رویہ ہماری ادبی تاریخ میں بھی بعض جگہ نمایاں نظر آتا ہے۔ نیر مسعود اور نیر صاحب جیسے کئی ادیب بد یعات کی اس تیز رو موج کی زد میں آئے ہیں۔ یہاں تاریخی جبر پر گفتگو مقصود نہیں بلکہ نیر صاحب کے افسانوں میں موجود تفہیمی مسائل کو انگیز کرنا مطلوب ہے۔ نیر مسعود کے کسی بھی افسانے کو پڑھنے کے بعد قصے اور پلاٹ کے مابئین کوئی خط_ تفریق نظر نہیں آتا۔ اس لیے ان کے یہاں بیان کیے گئے موضوع میں زبان کی تمام تر حسن کاری کے باوجود کوئی ایک مربوط قصہ اپنے ہونے کا احساس نہیں دلاتا۔ ان کے یہاں قصے کی معدومیت پر بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہی ان کے افسانے کا اختصاص ہے۔ ایسے لوگ اس خیال کے بھی حامی ہیں کہ یہ اردو افسانے میں ایک نئی چیز ہے جو مشکل بھی ہے اور عدیم التفہیم بھی۔ اس کو پڑھنے اور سمجھنے کے لیے ایک نئی شعریات مطلوب ہے۔ مطلب یہ کہ نیر صاحب کو ہم اس شعریات کے حوالے سے پڑھ اور سمجھ نہیں سکتے جس شعریات کی رو سے ہم منٹو سے لے کر سید محمد اشرف اور خالد جاوید کے افسانوں کو پڑھتے اور سمجھتے ہیں۔ ارے بھئی یہ تو کمال کی بات ہے کہ کسی افسانے کے تعین_قدر کا سارا مبحث قصے کی بے نیازی پر استوار ہے۔ یا پھر یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ابھی اس شعریات کا ظہور ممکن العمل نہیں ہوسکا ہے جس کی روشنی میں نیر مسعود کے افسانوں کی معنوی فضیلت متعین ہو سکے۔ کم و بیش یہی واقعہ انگریزی کے ممتاز جدید نقاد و شاعر ٹی۔ ایس۔ الیٹ کی مشہور_زمانہ نظم “خرابہ” جب 1921 میں شائع ہوئی تو اس کی مشکل پسندی اور غیر مانوس طریق_اظہار پر وہی سوال اٹھائے گئے تھے جو آج نیر مسعود کے افسانوں پر اٹھائے جا رہے ہیں۔ لیکن دونوں میں ایک بڑا فرق ہے اور وہ یہ کہ الیٹ اپنی نظم کی عدیم التفہیم کے مسعلے کے حل کے لیے فیزر کی کتاب “گولڈن بگ” کے مطالعے پر اصرار کیا تھا جس کے بعد اس کی نظم کا تفہیمی مسعلہ حل ہو گیا۔ جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔ یعنی یہ کہ آج الیٹ کی “ویسٹ لینڈ” انگریزی ادب کی ایک اہم نظم تسلیم کی جاتی ہے۔ نیر مسعود کی افسانوی زندگی کے پچاس برسوں کے بعد بھی کوئی شعریات یا اصول وضع نہیں ہوئے جو ان کی افسانوی گتھی کو سلجھا سکے۔ یہاں ئہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ نیر صاحب اپنی پوری تخلیقی زندگی میں اپنی مشکل پسندی کی مدافعت میں کبھی بھی الیٹ یا اختر الایمان کی طرح گویا نہیں ہوئے۔ جب یہ بات کہی جاتی ہے تو اس یہ قطعی مقصد نہیں کہ ان کی (افسانوی) تحریر کی کوئی قدر و منزلت نہیں۔ بلا شبہ ان کے یہاں زبان اپنی تمام تر خوبصورتی کے ساتھ نمایاں ہے جس کی نظیر ان کے معاصرین کے یہاں کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ لیکن یہ سچائی بھی اپنی جگہ اٹل ہے کہ ان کے یہاں یہ زبان افسانہ خلق کرنے کے بر عکس خاکوں اور جزئیات کے بیان میں زیادہ فعال و متحرک نظر آتی ہے۔ جملوں کی ساختیاتی ندرت تو بعض وقت دشت_تحیر کی سیر کرا دیتی ہے۔ لیکن اس سے افسانے کی بنت میں کوئی معاونت نہیں ہوتی۔ مطلب یہ کہ ان زبانی طریق_کار سے افسانہ یا اس کا کوئی کردار اپنی نمو پزیری حاصل نہیں کرتا اس لیے ان کے یہاں اکثر اوقات بیچ میں ارتقا کی کونپل پھوٹتی نظر آتی ہے۔ شاید یہی سبب ہے کہ ان کے یہاں اس نوع کے تحیراتی جملے افسانوی تناظر میں ایک خود مکتفی اکائی کے طور قائم نہیں ہوتے۔ مطلب یہ کہ اس جملے سے کردار کے ذہنی کوایف معرض_ظہور میں نہیں آتے۔ انور سجاد کی ایک کہانی “سجوارے” کا یہ بیانیہ ملاحظہ کیا جا سکتا۔

“جن کنواریوں کے دل ڈھولک کی تھاپ پر ناچنے لگیں وہ اپنے پیروں میں پڑی پھولوں کی زنجیریں نہیں توڑ سکتیں” یہاں بھی قول_محال سے ایک ایسا بیانیہ خلق کیا گیا ہے جو قاری کو دیر تک متحیر رکھتا ہے۔ یہاں اس مثال سے نیر صاحب اور انور سجاد کا تقابل مقصود نہیں بلکہ یہ بتانا مطلوب ہے کہ اس نوع کا بیانہ اس وقت تک کارگر ثابت نہیں ہو سکتا جب تک اس کے وسیلے سے کردار کی ذہنی کیفیت متشکل نہ ہو جائے۔ انور سجاد کے یہاں اس بیانیے سے نہ صرف یہ کہ تحیر کی ایک فضا قائم ہوتی ہے بلکہ اس سے افسانے میں کرداروں کی ذہنی کشمکش بھی نمایاں ہوتی ہے۔ نیر صاحب کے زیادہ تر افسانوں کے پر اسرار بیانے پر داخلی دنیا کا اسرار نمایاں ہے جو مصنف کا ذاتی اسرار بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے ان کے یہاں کردار اور مصنف کے مابین کوئی فاصلہ نظر نہیں آتا۔ جس سے ایک بڑی خامی یہ پیدا ہو جاتی کہ نیر صاحب یہ بھول جاتے ہیں کہ افسانے کی ابتدا میں کسی کردار نے کیا بات کہی یا اس کے متعلق مصنف یا کسی دوسرے کردار نے کیا فرمایا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس نوع کے نسیانی عمل سے افسانے کی بافت تو متاثر ہو گی ہی۔ اور یہ بات بھی ہم جانتے ہیں کہ جب کسی افسانے کی ساخت ڈھیلی ہوگی، چاہے اس میں زبان کی طلسم کاری اپنے نقطئہ کمال پر کیوں نہ ہو، تو اس میں ابلاغی نظام تعطل کا پیدا ہونا عین فطری ہوگا۔ نیر مسعود کی کوئی بھی کہانی مثلا “شیشہ گھاٹ” یا “عطر_کافور” یا پھر “اہرام کا میر_محاسب” اٹھا لی جائے اس کی بنیادی ساخت کی منطق یہ ہے “فلاں آدمی نے فلاں لڑکی سے شادی کی، شادی کے دوسرے دن اس آدمی کو ملازمت سے بر طرف کر دیا جاتا ہے۔ تیسرے دن لڑکی بیمار ہو جاتی ہے، اس کی دوا لانے کی غرض سے جب اس کا شوہر حکیم صاحب کے مطب پہنچتا ہے تو حکیم صاحب کی خوبصورت لڑکی سے اسے عشق ہو جاتا ہے۔ نیر صاحب کے کسی افسانے میں شاید اس منطق قصے کی بافت تیار بھی کی گئی ہے۔ مصنف کا کام تھا لکھنا سو اس نے لکھ دیا اب آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ اس منطق کو کیسے سمجھتے اور دوسروں کو سمجھاتے ہیں۔ ایک بے ربط منطق کی وجہ سے نیر مسعود کے یہاں افسانہ یا تو ایک پہیلی یا پھر ایک معمہ بن جاتا ہے۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو ان کو اردو افسانے میں ایک طرز_نو کا موجد تسلیم کرتے ہیں۔ جب میں نے ان کی رائے پر غور کیا تو پہیلی یا معمے کا یہی عنصر نظر آیا جس کے سبب میں ان کی اس رائے کا حامی ہوا۔ لیکن حامی ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ میں ان کی تحریروں کے بارے میں اسی رائے کا قائل ہوگیا جو نیر صاحب کی افسانوی عظمت سے تعلق رکھتی ہے۔ کافکا بھی انگریزی افسانے میں ایک طرز_ نو کا مجد ہے لیکن “قلب_ماہئیت” میں گریگر سامسا کی کربناکی کسی پہیلی یا کسی معمے کو بیان نہیں کرتی بلکہ انسان کی ہئیتی تقلیب کی نوحہ خواں بن جاتی ہے۔ ذاتی کرب کو ایک عہد کے کرب کا استعارہ بنا دینا کافکا کے فن کی معراج ہے۔ اور یہ معراج اردو کے بہت کم افسانہ نگاروں کے یہاں نظر آتی ہے۔ نیر مسعود کی افسانہ نما نثر میں ہر وہ چیز موجود جو ایک اعلی درجے کی نثر میں ہوتی ہے لیکن وہ نثر ایک مربوط و مبسوط پلاٹ کے ظہور سے قاصر ہے۔ نیر مسود نے افسانے کی شکل میں اپنی زبان دانی اور جزئیات نگاری کا وہی خلاقانہ مظاہرہ کیا جو مظاہرہ مولانا آزاد نے مکتوب کی ہئیت میں کیا تھا۔ غبار_خاطر محض نام کا مکتوب ہے۔ اس کے سارے موضوعات تحقیقی مقالات کے موضوعات ہیں۔ اردو میں ایسے کئی اہم افسانہ نگار ہیں جن کے یہاں نیر مسعود ہی کی طرح پر اسرار فضا اور جزئیات کی طلسم کاری پائی جاتی ہے مگر ان چیزوں کے حوالے سے وہ لوگ محض معمے خلق نہیں کرتے بلکہ پلاٹ کی بافت سازی کرتے ہیں۔ اس ضمن خالدہ حسین اور زاہدہ حنا کی مثال بالکل سامنے کی ہے۔ خالدہ حسین کے تمام افسانوں سے قطع نظر صرف ان کی ایک کہانی “سواری” کو پیش_نظر رکھا جائے تو اس کی تعفن آمیز فضا بندی اور غلاف کے اندر کا اسرار کسی ذہنی پیچیدگی کے بر عکس خوف کا ایک ایسا منظر نامہ مرتب کرتا ہے جس تعلق انسان کی داخلی زندگی سے ہے۔ یہاں غلاف کے اندر کا غیر اظہاری منظر وہ سب بیان کر دیتا ہے جس کی پردہ پوشی قصے کے عقب میں موجود تو ہے لیکن منشائے مصنف سے ماورا نہیں۔ اس لیے یہاں وحدت_تاثر کی وہی کیفیت موجود ہے جو انگریزی اور جدید فرانسیسی افسانوں کا فنی طرہ امتیاز ہے۔ موپاساں کی قیامت انگیز کہانی “حمائل” یا نکلس کو کون فراموش کر سکتا ہے۔ عدق فلسفے کے بر عکس “وہم” اور سنس آف وسڈم کی بنیاد پر ایک ایسا قصہ گھڑھنا موپاساں کا وہ معجزہ ہے جو “مٹلڈا” کو محض ایک کردار نہیں بلکہ اذیت کی ایک تہہ دار علامت بنا دیتا ہے۔ زاہدہ حنا کی جزئیات نگاری دیکھنی ہو تو ان کی صرف ایک کہانی “رقص_ مقابر ” پڑھ لی جائے۔ یہاں بھی خارجی صورت_ حال سے کافکا ہی کی طرح ایک افغان بچے کی غیر فطری نفسیات کو فنی ہنر مندی کے ساتھ فطری بنایا گیا ہے۔

ایسا نہیں ہے نیر مسعود کو اردو کی سنجیدہ تنقید نے سمجھنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ اس ضمن میں شافع قدوائی اور ناصر عباس نیر کے مضامین کی مثال سامنے ہے جو نیر صاحب کےنثر پارے سے تعلق رکھتے ہیں۔ دونوں صاحبان کے مضمون اس اعتبار سے قابل_ صد رشک نہیں کہ یہ دونوں مضامین رد_تشکیل اور ساختیاتی نقطئہ نظر سے لکھے گئے ہیں بلکہ اس لے کہ ان میں ہمیں متن ورائے متن کی علمی اور منطقی دنیا کا سراغ ملتا ہے۔ اور جن سے نیر مسعود کے یہاں معنی ورائے معنی کی توثیق ہو تی ہے۔ ان مضامین کی منطقی حجت اپنی جگہ لیکن قصے کی گمشدگی کی دریافت یہاں بھی ممکن العمل نہیں ہوتی۔ اور یہ ممکن بھی نہیں تھا کیوں کہ یہاں ناقدین نے ایک تجزیاتی فلسفے کی رو سے نیر مسعود کی نثری دبازت کو نمایاں کرنے پر خود کو مامور رکھا ہے۔ لہذا ان مضامین سے نیر مسعود کے نثر پارے کی ساختیاتی فکر کو مدلل انداز میں خوب سمجھایا گیا ہے جو میرے نزدیک قابل_ تحسین عمل ہے ورنہ اردو میں تو ساختیات اور رد_ تشکیل کے فلسفے کی وہ حالت بنائی گئی ہے کہ اگر آج فوکو اور دریدا زندہ ہوتے تو وہ اپنے اپنے فلسفے پر ایک بار ضرور ماتم کرتے۔ اس مختصر گفتگو سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ نیر صاحب کے افسانوں میں مجموعی طور پر کوئی مکمل بافت نہیں نظر نہیں آتی ممکن ہے کہ یہ میری کم علمی ہو۔ ہو سکتا ہے کہ نیر مسعود کی افسانوی بافت ایک خاص قسم کی علمی بصیرت کی متحمل ہو، وہ بصیرت جو آکسفرڈ اور کیمبرج کے فارغ التحصیل کا طرہ امتیاز ہوتا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply