قومی مسائل اور ادیب کی بے حسی — تاریخی مذاکراتی انٹرویو – 1

0

یہ تاریخی مذکراتی انٹرویو ’’قومی مسائل اور ادیب کی بے حسی‘‘ ۵ اگست ۱۹۸۳ کو کراچی میں جناب طاہر مسعود صاحب نے لیا۔ جسارت کے ادبی صفحے پر شایع ہونے والے اس مذاکرہ میں ملک گیر شہرت کے حامل ادباء نے موضوع کے ضمن میں کئی سوالات اٹھائے جیسے: جب ادب کسی بھی قوم کی اقدار اور معاشرتی صورتِ حال کا عکاس ہے تو پھر کیوں پاکستانی میں تخلیق ہونے والا ادب قومی مسائل سے عاری ہے؟ وہ کیا وجوہات ہیں جو ادیب کے بے حسی کا باعث ہیں؟ اقوام ِ عالم میں قومی مسائل سے ادباء کا کیا رشتہ رہا ہے؟ بہ حیثیت مصلح ادیب کیا کردار ادا کرسکتا ہے؟ ادب کو کسی نظریے کا پابند ہونا چاہیے یا نہیں؟ ترقی پسند تحریک، اسلامی ادب اور ماضی میں اٹھنے والی اس طرح کی دیگر تحریکیں یا رجحانات کے کیا محرکات رہے ہیں اور ان کے ادب پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟
موضوع کی اہمیت اور “تازگی” کے پیش نظر ماضی کے خزانے سے اس جوہر کو آج کے سنجیدہ قاری کے لئے دانش کے صفحات پہ پیش کیا جارہا ہے۔ ترتیب و تدوین: اسامہ صدیقی


اس مذاکرے کے انعقاد کے وقت ہمارے ذہن میں یہ تصور تھا کہ ادیبوں اور نقادوں کو اور ادب کے قارئین کے نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے اور اس سوال پر غور کیا جائے کہ ہماری قومی زندگی میں ادیب کا کردار غیر مؤثر کیوں ہوگیا ہے۔ اسی لیے ہم نے جہاں اس مذاکرے میں ممتاز دانشور، شاعر، نقّاد اور ڈرامہ نگار سلیم احمد، محقق، مترجم اور نقاد ڈاکٹر جمیل جالبی اور ۲+۲=۵ اور برش قلم کے مصنّف شمیم احمد کو دعوتِ فکر دی تھی، وہیں دوسری طرف انگریزی کے معروف کالم نگار اور پاکستان گلف اکنامکس کے ایڈیٹر میجر ابن الحسن شعبۂ صحافت جامعۂ کراچی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر متین الرحمن مرتضیٰ، قلم کار سجّاد میر اور نوجوان شاعر احمد جاوید کو بھی مذاکرے میں مدعو کیا تھا تاکہ یہ سب لوگ ’’قومی مسائل اور ادیب کی بے حسی‘‘ کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ اسے شومئی قسمت کہیے کہ مذاکرے کی ابتداء جتنی سنجیدہ اور فکر انگیز گفتگو سے ہوئی وہ آگے چل کر چند غیر ضروری مباحث میں اُلجھ کر رہ گئی۔ جس کی وجہ سے مذاکرے کی سنجیدگی اور افادیت متاثر ہوئی۔ تاہم یہ مذاکرہ اس اعتبار سے حیرت انگیز رہا کہ مذاکرے کے تمام ہی شرکاء اس امر پر متفق نظر آئے کہ آج کا ادیب واقعتاً بے حسی کا شکار ہے اور اس کا ذہنی اور جذباتی رشتہ قومی مسائل سے باقی نہیں رہا۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس کے اسباب بھی گنوائے گئے ہیں۔ آپ ان سے متفق ہوں یا نہ ہوں لیکن بہرحال یہ مسئلہ آج کا مسئلہ ہے جو سنگین بھی ہے اور سنجیدہ بھی۔ ہمیں اُمید ہے کہ دانشور، ادیب اور پڑھے لکھے لوگ اس موضوع پر غور و فکر کریں گے، شاید اس طرح مسئلے کے حل کی کوئی صورت نکل آئے۔ یہ مذاکرہ سلیم احمد صاحب کی قیام گاہ، پر منعقد ہوا جس کے لیے ہم ان کے مشکور ہیں۔
طاہر مسعود

طاہر مسعود: معزز حضرات ! ہمارے آج کے مذاکرے کا موضوع ’’قومی مسائل اور ادیب کی بے حسی‘‘ ہے۔ یہاں ایک سوال یہ کیا جاسکتا ہے کہ آخر ہم نے اِس مذاکرے کا موضوع ’’اُردو شاعری تقسیمِ ہند کے بعد‘‘ یا ’’اُردو افسانے میں خیر و شر کے تصوّرات‘‘ یا اس نوعیت کا کوئی اور خالص علمی یا ادبی موضوع کیوں نہ منتخب کیا۔ اس کی ایک سامنے کی وجہ تو یہی ہے کہ گزشتہ تیس بتیس برسوں میں خالص ادب اور شاعری کے مسائل پر تو بے تحاشا لکھا گیا ہے اور لاہور کے پاک ٹی ہاؤس سے لے کر کراچی کے ادبی حلقوں تک میں ایسے موضوعات پر سالہا سال سے گفتگوئیں جاری ہیں، لیکن اس عرصے میں بالخصوص ان سوالات پر اتنی سنجیدگی سے غور نہیں کیا گیا کہ ہمارے ادیب کا اپنے معاشرے سے کیا رشتہ ہے؟ اور بالخصوص ان تحریکات سے اس کا کیا رشتہ ہے جو موجودہ نظام کو بدل دینا چاہتی ہیں۔ کیا ادیبوں اور شاعروں کو معاشرے کے سلگتے ہوئے مسائل سے آنکھیں چار کرنی چاہئیں؟ یا آنکھیں چرالینی چاہئیں؟ اور ایسا ادب جس میں اپنے عہد کی سماجی، سیاسی، اقتصادی، تہذیبی اور اخلاقی مسائل کی عکاسی نہ ہوتی ہو، کیا ہم اسے سچا ادب کہیں گے؟ گویہ سوالات نئے نہیں ہیں لیکن موجودہ ادبی صورتِ حال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ان سوالات پر نئے سرے سے غور کیا جائے اورہم ان اسباب کا سراغ لگانے کی کوششیں کریں جس نے معاشرے پر سے ادب اور ادیب دونوں کے دائرئہ اثر کو محدود تر کردیا ہے۔ اور محسوس یوں ہونے لگا ہے کہ ادیب زندگی کے مرکزی دھارے سے کٹ کر چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بٹ گیا ہے اور اس نے اپنا ذہنی اور جذباتی رشتہ زندگی کی سچائیوں کے بجائے مجرّد تصورات سے قائم کرلیا ہے۔ جس کے اثرات ادب پر منفی طریقے سے مرتّب ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ ہمارے ادیبوں کی اکثریت آج جس قسم کا ادب تخلیق کر رہی ہے۔ ان میں ہمارے قومی تہذیبی اور سیاسی مسائل کی عکاسی نہیں ملتی۔ بلکہ اس قسم کے ادب کو ہم بلاجھجک ’’ذاتی مسائل کا ادب‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ یہ صورتِ حال شاعری سے زیادہ فکشن میں نظر آتی ہے حالاں کہ فکشن تو خارج سے رشتہ استوار کرنے کا نام ہے۔

اس معاملے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ادیبوں نے بحیثیت ادیب کے اپنی قومی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کی ہے۔ انہوں نے خود کو ملک کے سنجیدہ معاملات و مسائل سے بالکل الگ تھلگ کرلیا ہے۔ محمد حسن عسکری نے قیامِ پاکستان کے ایک سال بعد ہی پاکستانی ادیب کو اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہوئے لکھا تھا کہ عوام کے سیاسی شعور کی تربیت ادیبوں ہی کا کام ہے۔ لیکن ہمارے ادیبوں نے سیاسی شعور کی تربیت تو دور کی بات، شخصی آزادی اور آزادیٔ اظہارِ رائے کی جنگ تک لڑنا گوارا نہ کی۔ حالاں کہ ادیب سے زیادہ شخصی آزادی اور آزادیٔ رائے کی اہمیت کو اور کون سمجھ سکتا ہے۔ ملک پر آمریت کا تسلّط قائم رہا ہے لیکن ادیبوں نے کبھی اس جبر، کے خلاف آواز بلند نہیں کی، بلکہ جب بھی آمرانہ نظامِ حکومت کے خلاف عوامی تحریکیں چلیں، ان میں معاشرے کے تمام طبقوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ سوائے ادیبوں کے طبقے کے، جو خاموش تماشائی بنے رہے۔ برعکس اس کے مارشل لاء حکومتوں کے زیرِ سایہ جب بھی ادیبوں کی ’’ٹریڈیونین‘‘ قائم ہوئی، ادیب اس میں جوق در جوق شامل ہوئے، جب بھی رائٹرز کانفرنس منعقد ہوئیں وہ طیاروں میں بیٹھ کر ان کانفرنسوں میں پہنچے اور بنفسِ نفیس شرکت کی۔ قومی مسائل سے ان کی بے حسی اور لاتعلقی کا اندازِہ لگانا مقصود ہو تو ڈھاکہ کے عظیم المیہ کو سامنے رکھیے اور ذرا اس بات کا جائزہ لیجیے کہ اس موضوع پر ہمارے ادیبوں نے بارہ تیرہ برسوں میں مقدار اور معیار کے اعتبار سے کتنا اور کیسا ادب تخلیق کیا؟ انہی اسباب کی بناء پر ہم نے آج ’’قومی مسائل اور ادیب کی بے حسی‘‘ کے موضوع پر آپ حضرات کو دعوتِ فکر دی ہے تاکہ آپ اس کے مختلف پہلوؤں پر اپنے خیالات کا اظہار کرسکیں۔ عرصہ پہلے میں نے ابن الحسن صاحب سے انٹرویو کیا تھا، جس میں انہوں نے قومی ذمہ داریوں سے غفلت برتنے پر ادیبوں کو سخت سست کہا تھا اور ان پر سخت الزامات عائد کیے تھے، لہٰذا مناسب ہوگا کہ ان سے درخواست کی جائے کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار فرمائیں۔

ابن الحسن: میں نے الزامات نہیں لگائے تھے۔ اُس وقت انہوں نے کہا تھا کہ عام طور پر ادیبوں کا خیال ہے کہ صحافی ان سے کم تر درجے پر فائز ہوتے ہیں۔ اس پر میں نے کہا تھا کہ دوسرے طبقے اپنی ضروریات کے لحاظ سے معاشرے میں کچھ نہ کچھ۔ Conbribute کرتے ہیں لیکن ادیبوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ لوگوں کی تہذیب نفس کریں گے، ان کے ذوق کو سنواریں گے۔ ان کی شخصیت کو بنانے میں ادیبوں کا حصہ ہوگا کیوں کہ ادیب تخلیق کرتا ہے فکر، خیال اور کلچر کو ایکسپلائٹ کرتا ہے۔ یہ میرا خیال تھا اور جب پاکستان بنا تو اس وقت سب سے اہم بات یہ تھی کہ ہر شخص کو یہ شعور حاصل تھا کہ ایک نئی قوم کی تشکیل ہو رہی ہے۔ اس قوم کی تشکیل میں ادیبوں کا بھی ہاتھ تھا اور خصوصاً اقبال کی فکر کا یا حالی کی تحریک کا ان افراد کے کارناموں کو دیکھتے ہوئے یہ سوچا جاسکتا ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد نئی مملکت کی تعمیر میں ادیبوں کا کتنا بڑا کنٹری بیوشن درکار تھا جو میرے خیال میں ادیب نے عموماً نہیں کیا۔ مختلف اوقات میںضرورت پڑنے پر ادیبوں نے کچھ نہ کچھ کردار ادا کیا جیسا کہ آپ نے حسن عسکری صاحب کا حوالہ دیا۔ یا پاکستان اور اسلام کے تعلق کے حوالے سے اسلامی ادب کی بھی ایک زمانے میں بحث چلی خصوصاً ۵۰ء میں۔ اس وقت جس طرح کی بحث چلی۔ اس میں اسلام ہی کو ادب سے خارج کردیا گیا اور طے کرلیا گیا کہ یہ بحث بھی بیکار ہے اور اس قسم کی بات کو بیچ میں لانے میں فساد اور شر کا پہلو نکلتا ہے۔ ۳۵؍برس میں دیکھا کہ اس قوم کی اخلاقی قدروں میں اور ملک کے حکمراں طبقے کے اخلاقی قدروں میں آسمان زمین کا فرق ہے۔ اس عرصے میں آپ دیکھیں گے کہ پاکستان کے بیشتر سربراہانِ مملکت اور وزرائے اعظم، زانی اور شرابی تھے جبکہ عوام کی نوّے فیصد آبادی اِن عاداتِ قبیحہ کی بالکل عادی نہیں ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ادیبوں نے اخلاقی قدروں کی کس قدر ترویج کی۔ پہلے زمانے میں تو ادیب اخلاقیات کی بھی باتیں کرتے تھے لیکن اب کیا ادیب صرف ایک سطحی ادب پیش کریں گے؟ اورزندگی کے دوسرے موضوعات پر ان کا قلم ہی نہیں اُٹھے گا۔ یہ میں سوچ رہا تھا کہ سیاسی، اخلاقی، اقتصادی مسائل کو ادیبوں نے اپنی تحریروں میں پیش نہیںکیا، جیسا کہ ایک نئی قوم کے ادیب ہونے کی حیثیت سے انھیں پیش کرنا چاہیے تھا۔

طاہر مسعود: احمد جاوید صاحب! آپ نے ابن الحسن صاحب کے خیالات کو سنا، آپ کچھ فرمائیں؟

احمد جاوید: ادیب ہو یا معاشرہ ہو یا پوری قوم ہو، ان کا تعلق جو ہوتا ہے وہ ایک ایسی قدر پر ہوتا ہے جو مستقل ہوتی ہے، دائمی اور ناقابلِ تغیر ہوتی ہے تو جب تک وہ قدر ادب میں زندہ اور متحرک حالت میں موجود رہتی ہے۔ ادیب معاشرے کے مسائل کو اور معاشرہ ادیب کے مسائل کو شیئر کرتا ہے تو صورتِ حال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے اور ادب میں وہ قدر اب موجود نہیں رہی تو جب وہ قدر موجود نہیں رہی تو معاشرے کے تمام مسائل کو ادیب زندہ حالت میں محسوس نہیں کرسکتا۔ اگر وہ قدر موجود ہوتی تو شاید ادیب ان مسائل کو محسوس کرسکتا۔

طاہر مسعود: اگر قدر موجود نہیں تو کیا ادیب کا یہ کام نہیں کہ وہ اس قدر کی تلاش کرے۔

احمد جاوید: یہ کام ادیب کے بس سے باہر ہے۔ یہ کام اتنا بڑا ہے کہ وہ اس نظام یا قدر کی بنیاد پر جو معاشرہ قائم تھا، ان میں ادب کا درجہ اتنا بلند نہیں تھا لہٰذا اس قدر کی تلاش ادب کی استطاعت سے باہر ہے البتہ ادیبوں پر یہ الزام لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے ادیب اس قدر کے کھونے یا مردہ ہونے کا فہم تو کیا رکھیں۔ اس احساس سے بھی تقریباً عاری ہوچکے ہیں، جسے احساسِ زیاں کہتے ہیں۔

طاہر مسعود: سجاد میر صاحب! آپ جاوید کے خیال سے کس حد تک متفق ہیں؟

سجاد میر: میں جاوید کی بات کا جواب تو بعد میں دوں گا پہلے میں آپ کے اُٹھائے ہوئے سوال پر گفتگو کروں گا۔ آپ نے مشرقی پاکستان کے سانحے کا حوالہ دیا۔ اس سے مجھے اپنا ایک مضمون یاد آگیا۔ جو ’’سقوطِ ڈھاکہ اور ہمارے ادب‘‘ کے عنوان سے ایک سال بعد میں نے لکھا۔ آپ جو فرما رہے ہیں کہ ہمارا ادیب معاشرے اور اخلاقیات پر گفتگو نہیں کرتا۔ ذاتی مسائل پر گفتگو کرتا ہے۔ آپ ان موضوعات پر باتیں کرر ہے ہیں جو تخلیق کے بعد کا مرحلہ ہوتا ہے۔ یعنی یہ مسئلہ کہ ادیب معلم اخلاق یا سیاستدانوں کی طرح کیوں نہیں لکھتا دراصل یہ لٹریچر کی میتھاڈالوجی اور تخلیقی فعلیت کو نہ سمجھنے کا مسئلہ ہے۔ سچائی تک پہنچنے کا یہ بالکل الگ رستہ ہے۔ ادیبوں میں جو بے حسی پیدا ہوئی ہے وہ اسی طرح کے مطالبوں سے پیدا ہوئی ہے کیوں کہ آپ نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے سے اس پروسس سے گزر نے کے بجائے نظریہ سازی کا کام شروع کردیا۔ ہمارے ادب میں گذشتہ چالیس پینتالیس سال سے صرف نظریہ سازی کا کام ہوا ہے۔ آپ کو ایک نظریہ پسند ہے۔ دوسرے کو دوسرا نظریہ، مثلاً مشرقی پاکستان کے سقوطِ پر ادیبوں نے جو کچھ لکھاا۔ ان میں سب نے مختلف وجوہات گنوائیں لیکن اصل جو انسانی مسائل وہاں درپیش تھے ان پر کسی کی نظر نہیں گئی۔ انسانوں کے دکھ کو سمجھنے سے جو سچا ادب پیداہوتا ہے، وہ کام تو ہوا نہیں، صرف نظریہ سازی ہوتی رہی اس میں کوئی شک نہیں کہ نظریہ سازی نے لٹریچر کے اس پروسس کو ماردیا اور ادیب اتنا ہی بے حس ہوگیا ہے جتنا معاشرے کا کوئی اور فرد۔ ادیب کی بے حسی کا ثبوت اس سے بڑا کیا ہوگا کہ سلیم بھائی نے کہہ دیا کہ ادب مرگیا ہے۔ ادیب کے بے حس ہونے میں جتنی ذمہ داری ادیب کی ہے اتنی ہی آپ کی۔ آپ سے میری مراد معاشرہ ہے۔ ادیب وہی کام کر رہا ہے جس میں زیادہ مقبولیت ہے۔ شہرت ہے، عزت ہے۔ اسی روّیے نے ادیب کو مارا ہے۔

طاہر مسعود: متین الرحمن مرتضیٰ صاحب! میں آپ سے پوچھنا چاہوں گا کہ کیا ادیب پر بحیثیت معاشرے کے فرد کے یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ جو بھی ادب تخلیق کرتا ہے اس میں قومی، تہذیبی، سیاسی اور اقتصادی مسائل کا عکس جھلکتا ہو؟

متین الرحمن مرتضیٰ: ادب اگر زندگی کا ترجمان ہے تو وہ پوری زندگی کا احاطہ کرتا ہے اور زندگی کے جو بھی، جس نوعیت کے مسائل ہیں وہ سب اس کاموضوع ہیں لیکن ادب میں اگر کچھ خاص موضوعات پر اصرار بڑھ جائے گا مثلاً ادیب کا جنس، بھوک یا جرم کے موضوعات پر بہت زیادہ اصرار ہے اور تخلیق کے سارے دھارے انھی رُخوں پر بہہ رہے ہیں اور معاشرے کے جو اخلاقی مسائل ہیں، انسانی روابط کے ٹوٹنے کے یا انسانی شرف و احترام کی بحالی کے مسائل ہیں، انھیں نظر انداز کیا گیا ہے۔ میں ادیبوں پر الزام تراشی نہیں کر رہا۔ ہم میں یہ اسپرٹ نہیں ہونی چاہیے کہ ایک طبقہ ادیبوں پر الزامات عائد کرے اور ادیب اس کا دفاع کریں۔ سجاد میر صاحب نے بات کی کہ معاشرے کے مختلف طبقات نے ایسے حالات پیدا کیے جس کی وجہ سے ادیب مایوس یا بے حس ہوگیا۔ فرض کیجیے اگر ایسا ہے بھی تو ادیب اپنی ذمہ داری سے فرار حاصل نہیں کرسکتا۔ بہرحال اسے اپنی بے حسی کا اعتراف کرنا پڑے گا اور ان مسائل کو جسے اس نے نظرانداز کیا ہے اس طرف اسے متوجہ ہونا پڑے گا۔ ہمارے ہاں زندگی کو مکمل اکائی نہیں سمجھا جا رہا اور اس کے سارے مسائل کا احاطہ نہیں کیا جارہا، جس کی وجہ سے اس میں ایک خاص قسم کے پروپیگنڈے کا تاثر اُبھر رہا ہے اور کچھ خاص موضوعات پر اصرار ہی کی وجہ سے نظریہ سازی کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سجاد میر: جی ہاں یہ بہت بری بات ہے۔

متین الرحمن مرتضیٰ:اگر آپ ادب اور شاعری کو زندگی کا ترجمان بنانا چاہتے ہیں تو پھر آپ کی کاوشیں ہمہ جہت ہونی چاہئیں۔

طاہر مسعود: شمیم احمد صاحب! کیا یہ درست ہے کہ ایسی تخلیقات جن میں قومی مسائل کی عکاسی کی گئی ہو، وہ عموماً سطحی ادب ہوتا ہے؟

شمیم احمد: ایسا ہے طاہر مسعود کہ اب تک جو بحث ہوئی ہے اس میں اُلجھاؤ پیدا ہوگیا ہے؟ یہ سوال کہ تخلیقی عمل کے دوران کیا ہوتا ہے۔ اس کا معاشرے سے کیا تعلق ہے؟ ایک الگ بحث ہے؟ جہاں تک آپ کے موضوع کا تعلق ہے، میں اس سے متفق ہوں کہ ادیب بے حس ہوچکا ہے اور اس کے تین محرکات ہیں۔ میں پہلے اسے واضح کروں گا۔ باقی یہ مسئلہ کہ تخلیقی عمل میں معاشرہ شریک ہوتا ہے یا نہیں۔ یہ ایک ثانوی بحث ہے جسے آپ گفتگو کے دوسرے دور میں اُٹھا سکتے ہیں۔

ہمیں ادیب کی بے حسی کے اسباب جاننے کے لیے ماضی میں جانا پڑے گا مثال کے طور پر اگر آپ ہمارے ڈیڑھ سو یا دو سو سال کی تاریخ کو دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ جس پاکستان میں آپ بیٹھے ہیں اور جو اسلام کے نام پر حاصل ہوا ہے۔ اس کے پیچھے آپ کو دانش ہی کام کرتی نظر آئے گی۔ اہلِ قلم ہی کام کرتے نظر آئیں گے مثلاً شاہ ولی اللہ کی تحریک جو ایک طرف دارالعلوم دیوبند کی طرف جاتی ہے، پھر جدید افکار جو سرسید اور علی گڑھ کے زیرِاثر آئے اور پھر اس کے خلاف جو ردِّعمل ہوا، اس میں اکبر الہٰ آبادی، شبلیؔ اور دارالعلوم نُدوہ کا ذہن کارفرما نظر آئے گا۔ ان معنوں میں ادیبوں نے معاشرے کے لیے ایک بہت بڑا کام کرنا چاہا۔ ان ادیبوں کی نبضیں معاشرے کی روح میں دھڑک رہی تھیں۔ یہ سارے مذہبی لوگ تھے اور معاشرے کے اجتماعی عمل سے تعلق رکھتے تھے۔ اس میں آپ یہ دیکھتے ہیں کہ جب ان افکار اور تحریکات کے پسِ منظر میں خالص ادب پیدا ہونا شروع ہوا تو انہوں نے یہ قومی فریضہ اسی طرح ادا کیا جیسے علماء اداکر رہے تھے۔ اس وقت معاشرہ ان ادیبوں کے ہاتھ میں آگیا۔ کوئی بڑی سے بڑی طاقت ان سے زیادہ محترم اور اہم نہیں تھی وہ نبّاض تھے اور معاشرے کو بنا، یابگاڑ رہے تھے۔ وہ معاشرہ وہ تھا جس میں ہمارے ادیب دانش کی ایک ہی اکائی کا حصہ تھے اس کے بعد بیرونی اثرات کے تحت ہمارے ادب میں ایک تحریک شروع ہوتی ہے جسے آپ ترقی پسند تحریک کہہ لیں۔ کمیونسٹ افکار کے زیرِسایہ اُٹھنے والے افکار کی تحریک کہہ لیں، وہ بھی اسی نوعیت کا کام کرتے ہیں، نوعیت نہیں بدلتی، یہ بات دوسری ہے کہ ان کے افکار و نظریات قوم کے عمل سے متصادم ہوں اور آپ نے دیکھا کہ وہ ناکام اسی لیے ہوئے کہ ان کے افکار کا قوم سے کوئی رشتہ نہیں تھا۔ وہ کافی کی پیالیوں پر تصوراتی اور خیالی سطح پر انقلاب کا تصور رکھتے تھے لیکن یہ ادیب بھی وہی کام کررہے تھے جسے ان سے پہلے آنے والوں نے کیا۔ ۱۹۴۰ء سے وہ احساس غالب ہونا شروع ہوا جو تحریکِ پاکستان یا اسلام کے حوالے سے قومی تحریکات سے وابستہ ہوا۔ ادیبوں کا وہ حصہ جسے ہم تخلیقی حصہ کہتے ہیں۔ وہ قومی اُمنگوں سے الگ ہوگیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سمجھ نہیں آیا دھارے میں وہ افکار یا ادیب غالب ہوگئے تھے۔ جن کا اجتماع کے باطن سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ تخلیقِ پاکستان کے وقت صرف دو ادیبوں کے نام لیے جاسکتے ہیں جنہوں نے کمٹ کیا اور وہ کھل کر کیا کہ ہم تحریکِ پاکستان کے ساتھ ہیں۔ دہلی سے محمد حسن عسکری اور لاہور سے محمد دین تاثیر، اس کے علاوہ کوئی قابلِ ذکر ادیب اس تحریک میں شامل نہیں ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بے حسی جو شروع ہوتی ہے وہ اس عمل سے شروع ہوتی ہے کہ آپ ایک ملک بنا رہے ہیں۔ پوری قوم اس عمل میں مصروف ہے اور ادیبوں کی اکثریت اس سے لاتعلق ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد عسکری صاحب کے زیرِاثر کچھ ادیبوں کا روّیہ بدلا اور وہ ترقی پسند تحریک سے ٹوٹ کر علیحدہ ہوئے۔ ان میںممتاز شیریں اور قدرت اللہ شہاب کا حوالہ دوںگا لیکن آپ کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارے اجتماعی عمل میں (جب پاکستان کا قیام عمل میں آرہا تھا) ۸۰فیصدادیب قوم کے جذبات اور نظریات میں شریک نہیں تھے۔ لہٰذا پہلی مرتبہ یہیں سے قوم اور ادیبوں کے درمیان ایک مخاصمت، تصادم یا بے نیازی کی کیفیت پیدا ہوئی، اس میں استثناء موجود ہے اور گنتی کے ادیب موجود ہیں جنہوں نے تحریکِ پاکستان کے وقت کام کیا۔

قیامِ پاکستان کے بعد جن طبقات کے پاس حکومت آئی اور بالخصوص اُن رہنماؤں کے پاس جو اس ملک کے بانی تھے پہلا انحراف یہیں سے شروع ہوا۔ ان لوگوں نے قیامِ پاکستان سے قبل جو وعدے کیے تھے۔ اسے بعد میں الٹنے پلٹنے لگے، ان کے ہاتھ میں اقتدار آنے کے بعد ملک بدسے بدتر کی جانب بڑھا اور ایسے حالات پیدا ہوئے جن سے آج ۳۵سال کے بعد بھی ہماری جان نہیں چھوٹ سکی ہے۔ ان حالات میں تھوڑے سے ادیب جو ان مسائل پر لکھنا چاہتے تھے اور لکھ رہے تھے۔ آپ اس زمانے کا ’’نیادور‘‘ اُٹھا کر دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ پانچ سات سال تک ادیبوں نے معاشرے کے تضادات پر بدلتے ہوئے حالات پر اور بڑے مسائل پر لکھا ہے۔

ان ادیبوں پر نظر رکھیے۔ وہ ہمارے پہلے ادیب تھے، جنہوں نے ماضی کے حوالے سے ان مسائل کو ٹچ کیا، کرب سے اُٹھایا لیکن اس کے جواب میں انھیں کیا ملا؟ انھیں نظرانداز کیا گیا اور ایسا لگا کہ معاشرے کو ان سوالات کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ نتیجے میں مایوس ہوکر ادیبوں نے لکھنا ہی بند کردیا۔ اس میں بھی استثناء باقی ہے حسن عسکری صاحب اپنا کام کر رہے تھے یا انتظار حسین یا اور بہت سے نام۔ یہ دوسرا نکتہ ہے۔ جب برسرِاقتدار طبقہ نے ادیبوں کو جتایا کہ تمہارا معاشرے میں کوئی حصہ نہیں ہے اور تمہاری آوازوں کی کوئی شنوائی نہیں ہے۔

تیسرا روّیہ یہ ہے کہ معاشرے میں ادیبوں اور شاعروں نے معاشرے کے اجتماعی عمل سے اپنے تخلیقی عمل کے کاٹنے کو زیادہ انٹلیکچوئل تصور کیا ہے۔ وہ معاشرے کے ان سوالات میں پناہ ڈھونڈنے لگے جن کا معاشرے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ خواہ یہ جدیدیت کے نام پر ہو یا علامت نگاری کے نام پر۔ اوپر اور نیچے کے طبقے جو تضادآج آپ کو نظر آ رہا ہے، وہ ۱۹۴۷ء سے پہلے نہیں تھا۔ ادب اپنے ان بنیادی تقاضوں سے کٹ گیا، جن سے وہ گزشتہ ڈیرھ دو سو سال سے وابستہ تھا۔ اس کے دو نتائج برآمد ہوئے۔ ایک تو وہ طبقہ تھا جو معاشرے کے دکھ میں شریک تھا، جو تحریک میں شامل تھا اور اس کی زبان اور دھڑکن بنا تھا۔ اس کے اور معاشرے کے دوسرے طبقات کے درمیان ان معنوں میں خلاء پیدا ہوا کہ وہ اپنے اس خیر کے عمل سے کٹ گیا۔ جن معنوں میں ہم ترقی پسند کو بھی مطعون نہیں کرسکتے۔ ان کے یہ سوالات کہ قیامِ پاکستان کے بعد کیا ہوگا؟ تحریکِ آزادی کے بعد معاشرہ کس سمت میں سفر کرے گا؟ یعنی یہ وہی سوالات تھے جو قومی ادب پیدا کر رہے تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد یہ سارا ادب غائب ہوگیا۔ ادیبوں کے سوچنے آئیڈیل تلاش کرنے کا عمل رُک گیا۔ ادیبوں نے اس کے لیے سعی کی یا ہیں آپ اسے جتنا مطعون کریں گے۔ سیاست یا صحافت کی طرف سے، میں اس میں آپ کے ساتھ ہوں گا اور اس کوتاہی پر ادیبوں کو آپ سے زیادہ جوتے ماروں گا لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ان تمام عوامل میں ادیبوں کے اندر باطنی طور پر یہ احساس پیدا ہوا کہ معاشرہ زرگری میں نفس پروری اور خواہشات میں اتنا ملوث ہوگیا ہے کہ اب ہمیں وہ عزت حاصل نہیں جو پہلے حاصل ہوتی تھی۔ اسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ادیب خود بھی دولت، عزّت اور شہرت کی دوڑ میں شریک ہوگیا۔ حالاں کہ وہ علامت تھا ان اقدار کی جو منفعت بخش نہیں تھیں۔ بلکہ قربانی اور ایثار کو جنم دیتی تھیں، اپنا سب کچھ گنوا کر کچھ کرنے کاجذبہ رکھتی تھیں۔ ادیب ان سے مایوس ہوکر ان طبقات میں شامل ہوگیا اور اس کا نتیجہ ظاہر ہے ادیب کی بے حسی کی صورت میں نہ نکلتا اور کس صورت میں نکلتا۔ اب رہ گیا دوسرا سوال تو جب بات آگے چلے گی تو میں جواب دوں گا۔

متین الرحمن مرتضیٰ: شمیم صاحب نے تجزیہ کیا ہے کہ ادیب جن نامساعد حالات سے گزرا ہے جو تکلیف دہ صورتِ حال اسے پیش آئی ہے۔ ان سے وہ بجھ گیا، مایوس ہوگیا، خاموش ہوگیا اور معاشرے کے عام طبقات میں شامل ہوگیا۔ میں ادب کا ایک ایسا قاری ہوں جس نے مایوس ہو کر ادب پڑھنا چھوڑ دیا ہے، میرا ادب کا مطالعہ اپ ٹو ڈیٹ نہیں ہے لیکن میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ادیب نے خود سے ابلاغ کا رشتہ کیوں توڑا؟ ادیب کس کے لیے لکھتا ہے؟ وہ اگر اپنی بات کنوے نہیں کرنا چاہتا تو پڑھنے والا مایوس نہیں ہوگا؟ کیا ادب میں تجریدیت کی تحریک مایوسی کی علامت نہیں ہے؟ میں افسانہ پڑھنا چاہتا ہوں۔ میں خود ادیب یا انٹلیکچوئل نہیں ہوں لیکن ادب میں زندگی کی عکاسی دیکھنا چاہتا ہوں۔ جب میں افسانہ اُٹھا کر پڑھتا ہوں تو وہاں مجھے تجریدیت، علامت اور اشاریت نظر آتی ہے، شاعری کی بھی یہی کیفیت ہے، نتیجے میں، میں کتاب بندکردیتا ہوں۔ عام قاری بھی یہی محسوس کرتا ہے کہ ادب کے نام پر جو لکھا جا رہا ہے، اس کا مخاطب تو وہ نہیں ہے۔ پھر دوسری طرف شکایت یہ ہوتی ہے کہ ادب پڑھا نہیں جا رہا، کتابیں بکتی نہیں ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ابلاغ کا رشتہ کس نے توڑا؟

میجر ابن الحسن: آپ کا یہ سوال اصل میں مسئلے کی ہائی پروڈکٹ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ادیبوں کا عام ایشو وہی ہے، جسے شمیم احمد صاحب نے مربوط طریقے سے تھیسیس بنا کر پیش کیا ہے۔ یہ مسئلہ وہی ہے جسے ڈاکٹر جمیل جالبی صاحب نے اپنی کتاب ’’پاکستان کلچر‘‘ میں اُٹھایا ہے اور جس پر سلیم احمد صاحب نے بھی کئی کالم لکھے ہیں۔

جاری ہے——-

دوسرا حصہ پڑھنے کے لئے اس لنک پہ کلک کیجئے

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply