دکھوں کی متلاشی قوم‎ — علی عمر عمیر

0

ہم کب تک دکھ کے پیچھے بھاگتے پھریں گے؟

ہم دکھی نہیں ہوتے تو بھی فیشن کے طور پر بُوتھا سُجائے پھرتے ہیں، پُھکّڑ بنے پھرتے ہیں۔ جس طرح امیروں نے گھروں میں کُتے پالے ہوتے ہیں، ویسے ہی ہم نے دکھ پالے ہوتے ہیں۔ ہر شام دکھ زنجیر سے باندھ کر ہم اپنے ساتھ گھمانے کے لیے کسی پارک لے آتے ہیں، ٹہلتے جاتے ہیں، ٹھنڈی آہیں بھرتے جاتے ہیں اور پھر گھر واپس چلے جاتے ہیں۔

آج ایک بہت ہی مشہور شاعر کا انٹرویو سُن رہا تھا۔ فرماتے ہیں “دکھ آپ کو شاعر بناتا ہے”۔ سُن کر بہت دُکھ ہوا۔ یار خدا کے لیے!! یہ اُنیس سو چِروکڑاں والا دور نہیں ہے۔ آپ اس دھرتی پر ظلم کرتے ہوئے اگر آخر شاعر بن ہی گئے ہیں تو خدارا دکھ کی ماں بہن تو سلامت رہنے دیں۔ شکر ہے وہ شاعر مشہور شاعر تھے، اچھے شاعر نہیں تھے۔ ورنہ دُکھ کا انسانوں پر سے اعتماد اٹھ جاتا۔

یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر دکھی نہ رہیں تو پریشان ہو جاتے ہیں اور دکھی ہو کر اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ انہیں دُکھوں سے محبت ہے۔ اگر کہیں سے دکھ نہ مل رہے ہوں تو خود کو سوئی چبھو کر زور سے اُوئی کر کے دُکھی ہو جاتے ہیں۔

ہمارے کچھ دوستوں کو عجیب عجیب دکھ لاحق ہیں۔ مثلاً ساتھ والے احمد صاحب کا اے سی ہمیشہ خراب رہتا ہے۔ ہفتے میں دو بار بنواتے ہیں اور مہینے میں بنوانے پر اتنا خرچہ کر دیتے ہیں کہ آدھا نیا اے سی آ جائے، ہمیشہ اسی دکھ میں گُندھے نظر آتے ہیں لیکن تبدیل اس لیے نہیں کرتے کہ ان کی پچھلی مرحومہ بیوی کی نشانی ہے۔ بھئی بیوی نئی کر لی آپ نے تو اے سی بھی نیا ہی کر لیں۔۔ لیکن خیر۔

مجھے آج تک کوئی معقول دکھی انسان نظر نہیں آیا۔ مطلب جو معقول بھی ہو اور دکھی بھی ہو تو وہ دکھی ہوتا تو ہے، دکھی نظر نہیں آتا۔ لیکن کبھی کبھار لامعقول لوگ دکھوں کے معاملے میں معقول نظر آنے کی کوشش کرتے ہوئے دکھی نہ نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں اور یوں کھسیانی بلی کھمبا نوچے جیسی کہاوتیں وجود میں آتی ہیں۔ میں نے عاقب چوہدری پر ایک مضمون لکھا تھا۔ عاقب چوہدری کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں، اُس مضمون میں چرس پر عاقب چوہدری کے فلسفیانہ ردعمل کی بات کی گئی ہے جبکہ میں نے عاقب چوہدری جیسا دکھی انسان بھی نہیں دیکھا۔ وہ چار سال پہلے یونیورسٹی میں آیا تھا، اُس نے اپنے پہلے بیج والوں کو ڈگریاں لے کر پاس آؤٹ ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور ہر مرتبہ اپنے نئے کلاس فیلوز کو یونیورسٹی میں آنے والے چار سال کی مشکلات اور مراحل بتاتا ہے۔ “یہ کیا سیاپا ہے یار!!!!”۔ “سیاپا” اُس کا تکیہ کلام ہے۔ ہر کوئز اس کے لیے سیاپا ہے، اسائنمنٹ ہو یا پریزنٹیشن، اس کے لیے سب سیاپا ہے۔ سیاپے کا مطلب اس کی ڈائری میں دکھ ہے۔ جب بھی کوئی سیاپا پڑتا ہے تو اس کے پیشانی پہ تین چار لکیریں پڑ جاتی ہیں، ہونٹوں کو بھینچ کر منہ اور نتھنوں کو پھلا لیتا ہے، ہاتھ اٹھا کر اپنی گردن کو پیچھے سے پکڑ کر دباتا ہے اور کہتا ہے “یہ کیا سیاپا ہے یار”۔

ہمارے دوستوں کو عموماً کسی گہرے دُکھ نے جکڑا ہوتا ہے۔ انہیں کوئی لڑکی چھوڑ گئی ہوتی ہے، ان کے دوستوں نے انہیں دھوکے دیے ہوتے ہیں، ان کی زمانے میں وقعت نہیں ہوتی، ان کی آستینوں میں بٹن نہیں ہوتے سانپ ہوتے ہیں، انہیں اپنی غربت کا دکھ ہوتا ہے، انہیں اپنے آنسو خشک ہو جانے کا دکھ ہوتا ہے، یہ شربت کو شراب سمجھ کر پیتے ہیں اور دکھ مناتے ہیں۔

آپ اگر سچ مچ دکھی ہونا چاہتے ہوں اور کوئی معقول وجہ نہ مل رہی ہو تو کسی لامعقول وجہ سے دکھی ہو جایا کریں۔ دکھی ہونے پر کوئی ٹیکس نہیں۔ اُلٹا ہر وقت دکھی رہنے والا شخص لوگوں میں فلسفی اور بردبار(برباد نہیں) مشہور ہو جاتا ہے۔ ہر وقت ٹھنڈی ٹھنڈی آہیں بھرا کریں۔ بات کرتے ہوئے ایک ادا سے سر کو جھکا لیا کریں۔ مسکراتے ہوئے خیال رکھا کریں کہ آنکھوں میں ہلکی ہلکی نمی تیر رہی ہو۔ وصی شاہ کے “اداس راتوں میں تیز کافی کی تلخیوں” جیسے اشعار یاد کر لیں اور موقع بے موقع ہر مخاطب کے منہ پر زریون کی گلی کے بچوں والے مصرعے مارا کریں۔ اگر مزید دکھی ہونا ہو تو یاسرہ رضوی کی غزم پڑھ لیا کریں۔۔۔۔۔ افاقہ ہو گا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply