کتاب کب لکھنی چاہیے؟ —- باسط حلیم

0

کتاب کب لکھنی چاہیے؟ آج کے دور میں اہم سوال ہے۔ آئس لینڈ ایک ایسا ملک ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہر دسواں فرد مصنف اور صاحبِ کتاب ہے۔ پاکستان میں بھی صاحبِ کتاب ہونا اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ اردو زبان میں صرف مذہب کے موضوع پر بات کریں تو ایک ایک عنوان پر سینکڑوں کتب دستیاب ہیں۔

برصغیر کی مختلف تحریکیوں کی بدولت اٹھاوہویں صدی کے دوسرے نصف سے مذہبی ادب اردو زبان میں منتقل ہونا شروع ہوا،مختلفمسالک کے علما نے بہت لکھا۔ اُس زمانہ میں اردو زبان میں مذہبی ادب بالخصوص تفسیر، حدیث اور تاریخ و سیر پر کتب تالیف کرنے کی بہت ضرورت تھی۔

آج مذہب کے کسی موضوع پر اردو میں کتاب تلاش کرنا چاہیں تو ایک ایک موضوع پر سینکڑوں کتب ملیں گی۔ مثال کے طور پر علوم القرآن کے کسی ایک موضوع کو لے لیں، اعجازالقرآن، بیسیوں بہترین کتب ملیں گی، اسی طرح دیگر موضوعات کا حال ہے۔ تین موضوعات پر ابھی بھی بہت کام ہو رہا ہے۔ تفساسیر، شروحاتِ حدیث اور فتاوی زیادہ لکھے جارہے ہیں۔ چونکہ مدارس کے مدرسین مستقل ان موضوعات کو پڑھاتے ہیں اس لیے وہ اپنے دروس کو کتابی شکل دے دیتے ہیں۔

گزشتہ چند سالوں میں شائع ہونے والی اردو تفاسیر کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ سابقہ تفاسیر کے مباحث اور آرا میں سے جس رائے کو مفسر نے درست اور موزوں جانا ہے یا پسند کیا ہے اسے اپنی تفسیر میں پیش کردیا ہے۔

اسلام آباد سے پروفیسر ڈاکٹر سفیر اختر کا کہنا ہے کہ میں آپ اساتذہ، مدرسنِ مدرسہ اور علما سے گزارش کرتا ہوں کہ نئی تفسیر نہ لکھیں آپ جہاں اختلاف کرتے ہیں یا سمجھتے ہیں کہ آپ کی رائے مفرد اور معتبر ہے اسے پیش کریں مکمل تفسیر نہ لکھیں۔ ان کا یہ کہنا بجا تھا کہ آپ کی تفسیر کے تفردات کو تلاش کرنے کے لیے محققین (پی ایچ ڈی سکالرز) بٹھانے پڑتے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ اہل علم کو اُن موضوعات پر کتاب لکھنی چاہیے جن پر موضوعات پر مستقل کتاب موجود نہیں ہے۔ بصورتِ دیگر وہ اپنی آرا، تفردات کو نوٹ کرتے جائیں بعدازیں ان کو کتابی شکل دے دیں۔ یعنی تفسیر لکھنے کی بجائے تفسیر کے حوالہ سے اپنے تفردات شائع کردیں۔ اسی طرح دیگر موضوعات پر لکھا جاسکتا ہے۔ مختلف موضوعات کو ایک ہی کتاب میں مرتب کرنے کا رواج بھی اہلِ علم کے ہاں رہا ہے، اس اسلوب کو اپنا لیا جائے۔ البتہ فتاوی کا معاملہ الگ ہے،ان کو کتابی شکل میں ترتیب دینا چاہیے تاکہ مستقبل میں نظائر(Precedents) موجود ہوں۔ ہر سائل اور سوال مریض کی طرح مختلف نوعیت کا ہوتا ہے، جس طرح ایک ہی مرض کے مریضوں کا علاج مختلف ہوتا ہے اسی طرح فتوی بھی مقتضائے احوال دیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ذکر پسندیدہ کتب کا -------- علی عبداللہ
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply