عربی ——— علی عبداللہ

0

میرے سامنے دیوار پر ایک لوح معلق تھی، جس پر عربی کے چند حروف نقش تھے۔ یہ وہ حروف تھے جنہیں “مقطعات” کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کے معنی سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا۔ میں اسی لوح پر غور کرتے کرتے اچانک خواب سی حالت میں چلا گیا۔ مجھے محسوس ہوا جسے میں وقت میں تحلیل ہو کر ماضی میں سفر کر رہا ہوں۔ اس لوح نے مجھے “زبان عربی” کے بارے غور کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس زبان کی شان و شوکت اور اس کی فصاحت و بلاغت کی کھوج میں، میں صحرا، ریگستان اور پہاڑ عبور کرتے کرتے “وادی غیر ذی زرع” میں آن رکا۔ خیالوں کی بہت سی فاختائیں میرے گرد منڈلانے لگیں۔ میں سوچنے لگا کہ عربی کی شان کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ ایسا کیا ہے جو اس زبان کی شان و شوکت کو عروج پر پہنچاتا ہو اور مزید کی گنجائش باقی نہ رہے؟ یہ سوچتے ہوئے پہلا خیال مجھے “سبعہ معلقات” کا آیا۔ اچانک امراءالقیس پر نظر پڑی جو کہہ رہا تھا “قفانبک من ذکری حبیب و منزل”۔۔ دوسری جانب دیکھا تو طرفہ بن عبد صدا لگا رہا تھا، “لخولۃ اطلال ببرقۃ ثھمد“۔ پھر زہیر بن ابی سلمہ کی آواز آئی، “امن ام او فی دمنہ لم تکلم”۔ اچانک دور سے عنترہ بن شداد بولا، “ھل غادر الشعراء من متردم”۔ میں حیران و پریشان یہ سب سن ہی رہا تھا کہ عمرو بن کلثوم کہنے لگا، “الا ھبی بصحنک فاصبحینا” اور اس کے ساتھ حارث بن حلزہ نے آواز لگائی، “آذنتنا بینھا اسماء”۔ اور پھر لبید بن ربیعہ آگے بڑھا اور کہنے لگا، “عفت الدیار محلھا فمقامھا”۔ یہ قصائد نہ ہوتے تو شاید عربی کی اتنی شان و شوکت ہی نہ ہوتی۔ یہ ایسا فصیح و بلیغ کلام کہ سونے کے پانی سے لکھ کر کعبہ کی دیوار پر لٹکائے گئے۔ واللہ، داد تو دینی پڑے گی ان کے لکھنے والوں کو کہ جن میں ہر ایک اپنے فن میں یکتا تھا۔

پھر خیال آیا کہ قس بن ساعدہ الایادی کو بھول رہا ہوں، کیا وہ عربی کی شان نہیں بڑھاتا؟جی ہاں، عکاظ کے بین الاقوامی میلے میں خاکستری اونٹ پر بیٹھے ہوئے اسے دیکھ رہا ہوں جو کہتا ہے،

“أَيُّهَا النَّاسُ، اسْمَعُوا وَعُوا، إنَّهُ مَنْ عَاشَ مَات، وَمَنْ مَاتَ فَات، وَكُلُّ مَا هُوَ آتٍ آت، لَيْلٌ دَاج، وَنَهَارٌ سَاْج، وَسَماءٌ ذَاتُ أبْرَاجٍ، وَنُجُومٌ تَزْهَر، وَبِحَارٌ تَزْخَر ..، إِنَّ فِي السَّمَاءِ لَخَبَرا، وإِنَّ فِي الأرضِ لَعِبَرا

اے لوگو! سنو اور یاد رکھو، جو زندہ ہے وہ مرے گا جو مرے گا وہ دنیا سے چلا جائے گا، جو کچھ ہونے والا ہے وہ ہو کر رہے گا، یہ تاریک رات، یہ روشن دن، یہ برجوں والا آسمان، یہ چمکنے والے تارے، یہ موجیں مارنے والے سمندر، یقینا ً آسمان میں کوئی خاص قوت ہے اور زمین میں عبرتیں ہیں”

میں بہت دیر تک اس میلے میں گم سم کھڑا رہا جو صدیوں پہلے ختم ہو چکا تھا، مگر مجھے اس کا شور اور اس افراتفری میں قس بن ساعدہ کی آواز اب بھی محسوس ہو رہی تھی۔ بڑی مشکل سے یہاں سے نکلا تو سوچا کہ کیا عربی کی شان اس سے اور زیادہ بھی ہو سکتی ہے؟ ابھی سوچا ہی تھا کہ ایک غمگین اور بے چین نسوانی آواز نے مجھے اپنی جانب متوجہ کر لیا۔

یہ “خنساء” تھی، مشفق اور غمگین صورت جو ایک طرف کھڑی کہہ رہی تھی،
“الا مالعینی ,الا مالھا
وقد اخضل الدمع سربالہا
فخر الشوامخ من قتلہ
وزلزلت الارض زلزالھا
یہ میری آنکھ کو کیا ہو گیا ہے؟کیا ہو گیا ہے میری آنکھ کو کہ اس کا دامن آنسوؤں سے تر بتر ہے
(معاویہ کی موت سے) یوں لگتا ہے جیسے کوہسار اوندھے گر پڑے ہوں اور زمین کو ایک زلزلے نے آن لیا ہو۔”

یہ سن کر میں لرز سا گیا اور اس اداس چہرے کو تکنے لگا، وہ بولتی رہی اور پھر اس نے کہا،
“فلا واللہ لا انساک حتی
افارق مہجتی ویشق رمسی
فقد ودعت یوم فراق صخر
ابی حسان لذاتی وانسی
فیالہفی علیہ ولہف امی
ایصبح فی الضریع و فیہ یمسی
خدا کی قسم! جب تک جسم میں جان ہے,اور جب تک میری اپنی قبر نہیں کھودی جاتی میں تمہاری یاد سے غافل نہیں ہوں گی.میں نے صخر کے وداع کے دن سے زندگی کی تمام دلچسپیوں سے کنارہ کر لیا ہےاور ہا ئے افسوس میرے بھائی پروائے افسوس!کیا اس کی صبح بھی اور شام بھی اب قبر کے اندھیرے غار میں ہوا کرے گی؟”

یہ کہہ کر وہ تو خاموش ہو گئی مگر میری آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں، دل ڈوبا جا رہا تھا۔ پھر یاد آیا کہ یہ تو وہی اداس خنساء ہے جس نے اپنے پانچ بیٹے جنگ میں شہادت کے رتبے پر فائز کروائے مگر ایک آنسو بھی نہیں گرنے دیا، بخدا یہ بہادری، ہمت اور طاقت کسی عام انسان میں نہیں ہو سکتی تھی۔ میں فیصلہ دینے ہی والا تھا کہ عربی کی شان اس عورت سے زیادہ کوئی اور نہیں بڑھا سکتا۔ لیکن کچھ فاصلے پر ایک ہجوم پر نظر پڑی۔ میں مزید آگے بڑھا اور دیکھا کہ ایک نوجوان کے تعارف میں ابو فراس فرزدق نامی شخص کہہ رہا ہے،

“هَذا الَّذي تَعرِفُ البَطحاءُ وَطأَتَهُ
وَالبَيتُ يَعرِفُهُ وَالحِلُّ وَالحَرَمُ
(یہ وہ مقدس شخصیت ہے کہ جس کے نقش قدم کو وادیٔ بطحا پہچانتی ہے، اور بیت اللہ اور حل وحرم سب ان کو جانتے پہچانتے ہیں۔)
هَذا اِبنُ خَيرِ عِبادِ اللَهِ كُلِّهِمُ
هَذا التَقِيُّ النَقِيُّ الطاهِرُ العَلَمُ
(یہ تو اس ذات گرامی کے لخت جگر ہیں جو اللہ کے تمام بندوں میں سب سے بہتر ہیں ( یعنی حضور اکرم ﷺ) یہ پرہیز گار، تقویٰ والے، پاکیزہ، صاف ستھرے اور قوم (قریش) کے سردار ہیں)۔
هذا ابنُ فاطمَةٍ، إنْ كُنْتَ جاهِلَهُ،
بِجَدّهِ أنْبِيَاءُ الله قد ختموا
(یہ خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کے لخت جگر ہیں، اگر تو ان کو نہیں جانتا (تو سن لے کہ) ان کے محترم نانا (حضور اکرمﷺ) پرانبیائے کرام کے سلسلے کا اختتام ہواہے)۔
ما قالَ لا قَطُّ إِلّا في تَشَهُّدِهِ
لَولا التَشَهُّدُ كانَت لاءَهُ نَعَمُ
آ پ نے تشہد میں ’’ اشہد ان لا الٰہ الا اللہ ‘‘کہنے کے علاوہ کبھی ’’لا‘‘ (نہیں) نہیں فرمایا، اگر تشہد نہ ہوتا تو آپ کا یہ لا (نہیں) بھی ’’نعم‘‘ (ہاں) ہوتا۔ یعنی کسی مانگنے والے کے جواب میں آپ کی زبان سے کبھی ’’نہیں‘‘ نہ نکلا۔
إِذا رَأَتهُ قُرَيشٌ قالَ قائِلُها
إِلى مَكارِمِ هَذا يَنتَهي الكَرَمُ
یہ وہ شخص ہے جس کو دیکھ کر قریش کہہ اٹھتے ہیں کہ اسی کے مکارم اخلاق پر کرم کی انتہا ہوئی ہے۔

بس! اب میری ہمت جواب دے چکی تھی اس سے زیادہ اعلی و ارفع کلام میں نے کبھی نہ سنا تھا۔ میں نے طے کر لیا کہ عربی کی شان اس سے بڑھ کر اور نہیں ہو سکتی۔ میں واپس مڑنے ہی والا تھا کہ ایک کونے سے مترنم سی آواز آئی،
واحسن منک لم ترقط عینی
واجمل منک لم تلد النساء
خلقت مبرامن کل عیب
کانک قد خلقت کما تشاء
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے حسین میری آنکھوں نے کبھی نہیں دیکھا
اور آپ سے زیادہ خوبصورت کسی عورت نے نہیں جنا
آپ ہر قسم کے ظاہری وباطنی عیب سے پاک پیدا ہوئے
گویا آپ اپنی مرضی سے پیداہوئے ہیں۔

یہ سنتے زبان گنگ اور آنکھیں حیرت سے پھٹنے لگیں۔ کیا اس سے بھی زیادہ عربی کو کوئی شان بخش سکتا تھا؟ کیا عربی ان الفاظ سے بھی زیادہ خوبصورت ہو سکتی تھی؟ میں نے فیصلہ کر لیا کہ اب مزید آگے بڑھنے کی بجائے واپس مڑا جائے کہ بہت دیر سے تخیل کی پگڈنڈی پر چلتے چلتے میں تھکنے لگا تھا۔ لیکن پھر باب العلم، حضرت علی رض کا خطبہ سنائی دیا جو حرف “الف” کے بغیر تھا اور اپنی مثال آپ تھا، “حمدت حمدہ و عظمت منہہ و سبقتہ نعمتہ وسبقت غضبہ رحمۃ وتمت کلمۃ ونفذت مشیۃ و بلغت حجتہ و عدلت قضیۃ حمدتہ حمد مقر بر بوبیتہ متخفیع بعبودیہ منفعد من خطیتہ معترف بتوحیدہ مستعید من و عیدہ مومل من ربہ مغفرتہ تنجیہ یوم یشغل عن فضیلتہ دینیہ ہ وتستعینہ و نستر شدُہ و نستھدیتہ و نومن بہ ونتوکل علیہ” یعنی، حمد کر تا ہوں میں اس کی جس کا احسان عظیم ہے اس کی نعمت وسیع و کامل ہے اور اس کے غضب پر سبقت رکھتی ہے اس کی حجت پہنچ چکی ہے اور اس کا فیصلہ مبنی بر عدل ہے۔

اس کی حمد اس طرح کرتا ہوں جس طرح اس کی ربوبیت کا اقرار کرنے وال اس کی عبودیت میں فروتنی کرنے وال خطاؤں سے پرہیز کرنے والا اس کی توحید کا اعتراف کرنے والا اور اس کے قہر سے پناہ مانگنے والا کرتا ہے۔

بس۔ ۔ ۔ اب اور نہیں! اب اس کے سامنے سب ختم۔ عربی اپنے مکمل عروج پر پہنچ چکی ہے۔ ہمت جواب دے چکی تھی، کچھ دیر سستانے کو میں ایک درخت کے نیچے ٹھہرا تو کسی غیبی آواز نے مجھے مخاطب کیا، جیسے جنوں کی ایک جماعت نے کلام الہی پر متوجہ ہو کر کہا تھا “انا سمعنا قران عجبا”۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ کیا کیا نہیں سنتا آیا تھا اب تک، شان و شوکت دیکھ چکا تھا اس عربی کی، تسلیم بھی کر لیا تھا کہ عربی کی شان اب اس سے زیادہ اور نہیں بڑھائی جا سکتی، اس سے زیادہ بہترین اور کامل کلام نہیں کیا جا سکتا۔ مگر یہ ان سب سے کچھ بڑھ کر عجیب، دلکش، قلب میں پیوست ہو جانے والا اور کانوں میں رس گھولنے والا تھا۔ آواز کہیں دور سے آ رہی تھی کہ بولنے والا دکھائی نہ دیتا تھا۔

اَلرَّحۡمٰنُۙ وہ رحمن ہی ہے، عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَؕ جس نے قرآن کی تعلیم دی، خَلَقَ الۡاِنۡسَانَۙ
اسی نے انسان کو پیدا کیا، عَلَّمَهُ الۡبَيَانَ
اسی نے اس کو واضح کرنا سکھایا۔ کیا ہی خوبصورت، چھا جانے والے الفاظ تھے کہ میں مدہوش ہوتا چلا گیا۔ کہنے والے نے پھر کہا، هَلۡ اَتٰى عَلَى الۡاِنۡسَانِ حِيۡنٌ مِّنَ الدَّهۡرِ لَمۡ يَكُنۡ شَيۡـٴً۬ـا مَّذۡكُوۡرًا، انسان پر کبھی ایسا وقت آیا ہے کہ نہیں جب وہ کوئی قابل ذکر چیز نہیں تھا؟ اِنَّا خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطۡفَةٍ اَمۡشَاجٍۖ نَّبۡتَلِيۡهِ فَجَعَلۡنٰهُ سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرا، ہم نے انسان کو ایک ملے جلے نطفے سے اس طرح پیدا کیا کہ اسے آزمائیں۔ پھر اسے ایسا بنایا کہ وہ سنتا بھی ہے، دیکھتا بھی ہے۔ میں اس کی گہرائی میں ڈوبتا چلا جا رہا تھا۔ یوں محسوس ہو رہا تھا مجھ سے قوت گویائی چھین لی گئی ہو اور میں بہت ہی قدیم اور لازوال الفاظ کو اپنے اندر حلول ہوتے ہوئے محسوس کر رہا تھا۔

کیا سبع معلقات، کیا قس بن ساعدہ، کیا قصیدہ احسان بن ثابت، کیا خطبہ باب العلم کرم اللہ وجہہ، اس کے سامنے وہ سب سر بسجود دکھائی دینے لگے تھے۔ یہ کون تھا، یہ کس کے الفاظ تھے,کہاں سے آئے تھے؟ زبان تو یہ بھی وہی تھی جو پہلے سنتا آ رہا تھا، لیکن ایسی حکمت، دانائی اور فکر ان میں محسوس نہ ہوئی تھی جو اس مرتبہ ہو رہی تھی۔ فصاحت و بلاغت تو ان سابقہ کلاموں میں بھی تھی، دانائی کا رنگ بھی تھا مگر یہ کلام تو میری روح تک اتر گیا تھا۔ اس کے سامنے تو سب کچھ ہیچ لگنے لگا تھا۔ اور پھر وہی آواز سنائی دی،

يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الۡكَرِيۡمِ، اے انسان ! تجھے کس چیز نے اپنے اس پروردگار کے معاملے میں دھوکا لگا دیا ہے جو بڑا کرم والا ہے۔ الَّذِىۡ خَلَقَكَ فَسَوّٰٮكَ فَعَدَلَـكَ، جس نے تجھے پیدا کیا پھر تجھے ٹھیک ٹھیک بنایا، پھر تیرے اندر اعتدال پیدا کیا؟

اب اس سے زیادہ عروج، شان وشوکت، فصاحت و بلاغت، بے عیبی اور دلکشی بھلا اس زبان عربی کو اور کون بخش سکتا تھا؟ جبکہ اسی آواز نے دوبارہ کہا، “وھذا لسان عربی مبین” اور یہ (قران کی زبان) روشن عربی زبان ہے”۔ یہ اتنی بارعب آواز تھی کہ میرا خواب ٹوٹ گیا، آنکھ کھلی تو میرے سامنے وہی لازوال، پراسرار اور دلکش حروف مقطعات تھے جنہیں میں بے ساختہ تلاوت کرنے لگا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دو دریاؤں اور سلطان باہو کے شہر جھنگ سے تعلق رکھنے والے علی عبداللہ پیشے کے لحاظ سے ہیلتھ اینڈ سیفٹی پروفیشنل ہیں- کتب بینی اور لکھنے لکھانے کا شوق رکھتے ہیں اور مختلف مجلوں، ویب سائٹس اور اخبارات میں ان کی تحاریر شائع ہوچکی ہیں۔ ادب، تاریخ، مذہب اور ٹیکنالوجی ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں جن پر گفتگو اور تحقیق کرنا پسند ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply