قصہ کچھ تذکیر و تانیث کا —– غزالہ خالد

0

سب سے پہلے تو قارئین کو یہ بتادوں کہ میرا یہ مضمون کسی علمی بحث کے حوالے سے نہیں ہے بلکہ میں نے سوچا کہ عام بول چال کے بارے میں کچھ مشاہدات آپ لوگوں سے بھی بانٹے جائیں اور وہ یہ کہ کبھی کبھار عجیب معاملہ پیش آجاتا ہے اور آپ تذبذب کا شکار ہوجاتے ہیں کہ کریں تو کیا کریں اور کہیں تو کیا کہیں؟ مثلاً اسکول کے زمانے میں ہماری ایک سہیلی “ناک” کو ہمیشہ مذکر بولتی اور ہمیں بہت برا لگتا کہ ہیں!! یہ کیا بات ہوئی؟ اسے بار ہا سمجھایا کہ بہن ناک “ہوتا” نہیں بلکہ “ہوتی” ہے لیکن اس کا یہی اسرار ہوتا کہ نہیں ‘ناک” مذکر ہے اور “آنکھ” مونث ہے۔ شاید اس کا مطلب یہ تھا کہ چونکہ آنکھ ناک ساتھ ساتھ ہوتے ہیں اس لئے ان میں سے ایک کا مؤنث اور ایک کا مذکر ہونا بہت ضروری ہے حالانکہ ہمارے خیال میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کیونکہ آنکھ ناک کو کونسا شادی کرکے انڈے بچے دینا تھے لیکن نہیں بھئی۔۔ وہ اللّٰہ کی بندی جب تک ہمارے ساتھ رہی ایسے ہی بولتی رہی اور ہمیں یقین ہے کہ اب بھی ایسے ہی بولتی ہوگی۔

خیر اسکول کا زمانہ ہمارے بچپن کا زمانہ تھا اسلئے بات “آنکھ ناک” تک ہی محدود رہی۔ اس زمانےمیں اردو بھی آج کے دور کے مقابلے میں بہت بہتر بولی جاتی تھی البتہ کچھ خاندانوں کے اردو بولنے کے اپنے کچھ قواعد و ضوابط تھے جو اس بات پر منحصر تھے کہ انہوں نے ہندوستان کے کس علاقے سے ہجرت کی ہے جیسا کہ ہمیں شادی کے بعد پتہ چلا کہ دہی “ہوتی” ہے اور پلاؤ بھی “ہوتی” ہے اور اس انکشاف کے ساتھ ہی ہمارے تصور کا مونچھوں والا “دہی” اور داڑھی والا “پلاؤ” گھونگھٹ میں شرمانے لگے کیونکہ ہمارے نکاح کے دو بولوں کے ساتھ ہی ان کی جنس تبدیل ہو چکی تھی۔ ان کے ہاں “میلاد” بھی ہوتی تھی جبکہ ہمارے ہاں میلاد “ہوتا” تھا۔

“برف’ کا ہمیں خود آج تک نہیں پتہ چل سکا کہ اسے کیا بولیں؟ کیونکہ ہمارے آباء و اجداد جس علاقے سے ہجرت کرکے آئے تھے وہاں برف کو حسب ضرورت “ہوتا” یا “ہوتی” دونوں طرح سے بولا جاتا تھا اس لیے اگر چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں ہو تو “ہوتی ہے” کہہ دیتے ہیں بڑا ٹکڑا ہو تو “برف آگیا” بھی بول دیتے ہیں البتہ “برف باری”، “برف کی ڈلی”، “برف کی قلفی” اور “برف کی سِل” کو ہمیشہ مؤنث ہی بولا ہے۔

بھلا ہو انگلش میڈیم تعلیم کا اب تو لگتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت سے الفاظ تیزی سے اپنی جنس تبدیل کرتے جارہے ہیں پہلے “درد” ہوتا تھا لیکن اب بےچارے “درد” کو “ہوتی ہے” بولا جانے لگا ہے کوئی ٹوکنے والا نہیں جو بتاسکے کہ بھئی “درد” ہوتا ہے اور “تکلیف” ہوتی ہے اگر درد کو ہوتی مان لیا تو شاعروں کے کتنے ہی درد بھرے اشعار بے وزن ہو جائیں گے مثلاً فیض احمد فیض کا
” درد اتنی تھی کہ اس رات دل وحشی نے۔۔
ہر رگ جاں سے گزرنا چاہا۔۔” کیسا لگے گا؟

یا پھر امیر مینائی کا مشہور زمانہ شعر کچھ یوں ہو جائے گا کہ
“خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کی درد ہمارے جگر میں ہے”

اب ہنسی کو ہی لے لیجئے پہلے ہنسی “آتی” تھی لیکن اب ہنسی “نکلنے” لگی ہے جبکہ ہمارے پختون بھائیوں کو ہنسی “آتا” بھی ہے ہمارے ملک میں ہمارے پختون بھائی مذکر کو مؤنث اور مؤنث کو مذکر بولنے کے لئے مشہور ہیں لیکن ظاہر ہے اردو ان کی مادری زبان نہیں وہ بول رہے ہیں، لکھ پڑھ رہے ہیں یہی قابل تعریف بے۔

یہاں وہ لوگ جن کی مادری زبان اردو ہے یا جن کے گھروں میں روز مرہ کی بات چیت اردو میں ہی ہوتی ہے ہم ان کی بات کررہے ہیں۔

پہلے پین ہوتا تھا اب پین “ہوتی” ہے بولا جانے لگا ہے بچوں کو بتانے والا کوئی نہیں کہ بچوں پین “ہوتا” ہے اور پینسل “ہوتی” ہے بالکل اسی طرح جیسے روزہ “ہوتا” ہے اور نماز “ہوتی” ہے۔ جھگڑا “وتا” ہے اور لڑائی “ہوتی” ہے، ٹرک “ہوتا” ہے اور بس “ہوتی” ہے البتہ رکشہ کے بارے میں ہم خود تذبذب کا شکار رہتے ہیں اس لئے اسے درمیانہ ہی سمجھ لیں۔

ہمارا خیال تھا کہ بے جان چیزوں کی تذکیر و تانیث ذرا مشکل ہوتی ہے جانداروں میں قدرت کی طرف سے ہی نر اور مادہ کا فرق ہوتا ہے تو شاید بچوں کو آسانی رہتی ہوگی لیکن ایک دن جب بیٹھ کر غور کیا تو خود ہی چکرا گئے کہ چھپکلی ہمیشہ ہوتی کیوں ہے؟ اور مچھر ہمیشہ ہوتا کیوں ہے؟ مادہ مچھر تو پھر بھی سننے کو مل جاتا ہے لیکن “چھپکلا” کبھی نہیں سنا اور ناں ہی کبھی نر چھپکلی کا نام سننے میں آیا اسی طرح ریچھ، زیبرا، زرافہ، چیتا، بارہ سنگھے جیسے مذاکروں کی مؤنثیں بھی تو ہوتی ہونگی اور نیل گائے اور چیل کا مذکر بھی ہوگا۔ ہمارا خیال ہے کہ لوگ کچھ چیزوں کو جیسا سالہا سال سے بولا جارہا ہے اسی طرح قبول کر چکے ہیں۔

ہمیں تذکیر و تانیث کے قواعد پڑھنے کا کچھ زیادہ شوق ہوا تو اردو گرامر کی کتابوں سے مدد حاصل کی لیکن جب فاعل، مفعول، علامت مفعول، مذکر، واحد مذکر، جمع مؤنث وغیرہ وغیرہ جیسے الفاظ پڑھنے میں آۓ تو دماغ گھوم گیا یہی حل سوچا کہ ہمارے جیسے کند ذہن کو اتنی گہرائی میں جانے سے پرہیز ہی کرنا چاہیے اور موٹی موٹی چیزیں یاد رکھ لینی چاہییں۔ قواعد کی رو سے ہفتے کے دنوں کے نام سواۓ جمعرات کے سب مذکر ہیں صرف ایک جمعرات بےچاری مؤنث ہے لیکن اب کیا کیا جائے کہ کچھ لوگ اتوار کو بھی مؤنث بولتے ہیں۔ سال کے مہینے سارے کے سارے مذکر ہیں، ملکوں کے نام بھی ہمارے خیال میں سب مذکر ہی ہیں اور شہروں کے نام بھی مذکر ہی ہیں، نظام شمسی کے سیاروں بھی سب کے سب مذکر ہیں صرف ایک زمین ان میں مؤنث کہلاتی ہے یعنی “رضیہ غنڈوں میں پھنسی ہوئی ہے”۔

خیر یہ ایک لمبی لسٹ ہے کس کس چیز کے بارے میں بات کریں۔ یہاں بتانے کا مقصد صرف یہ ہے اردو بگڑتی جارہی ہے قصوروار والدین بھی ہیں کہ جو اپنے بچوں کی انگلش ٹھیک کرنے میں اتنے مصروف ہوگیے ہیں کہ انہیں اردو غلط بولنے پر ٹوکنا ہی بھول جاتے ہیں نتیجتاً بچے اردو زبان صحیح بولنا بھولتے جا رہے ہیں۔ انگریزی سیکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ بدقسمتی سے ہم ایک کمزور قوم ہیں اور کمزور قومیں پا بہ زنجیر ہوتی ہیں انگریزی بھی ہمارے پیروں کی ایک زنجیر ہے یعنی ہم انگریزی سیکھیں گے تو اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے ترقی کرسکیں گے لیکن سوچیں کہ اگر ہمارے بچے اپنی زبان بھول گئے تو اپنی شناخت بھول جائیں گے اور یاد رہے کہ جب شناخت ختم تو سب کچھ ختم۔

(Visited 1 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply