کہانی —–  مریم عرفان کا نیا افسانہ

0

گمٹی بازار سے ذرا پیچھے کی طرف، پانی والے تالاب کے عقب میں مڑتی ایک گمنام گلی اس کے تین منزلہ مکان پر جا کر ختم ہوتی تھی۔ اس کے باپ دادا کا کاروبار نگینوں اور موتیوں سے وابستہ تھا اور اب اس خاندان کی آمدن بھی اسی موتی بازار سے قائم تھی۔ جب اس کے دادا کی پشتینی دکان سود کی مد میں بک گئی تو مجبوراً اس کے باپ کو اپنا صندوق نما کاؤنٹر اٹھا کر نگینہ مارکیٹ میں آنا پڑا۔ پرانا موتی بازار جوتوں اور چمڑے کی بو سے اٹ چکا تھا وہاں اب نگینوں کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ پرانے تالاب کے ساتھ واقع اس کاؤنٹر کے ساتھ بہت پرانی کتابوں کی دکان بھی تھی۔ تقسیم سے قبل اس کا مالک کوئی ہندو تھا لیکن اب وہ لالہ سراج الدین کے قبضے میں آ چکی تھی۔ اس کا بچپن ٹارزن اور عمرو عیار کی کہانیاں پڑھتے ہوئے گزرا۔ سلیم اپنے جیب خرچ کا روپیہ روپیہ جوڑ کر کہانیاں خریدتا اور ماں کے لوہے کے ٹرنک کی سائیڈ میں شاپر میں بند کر کے رکھ دیتا۔ کتابیں پڑھنے کے اس شوق نے اسے سنجیدہ مزاج بنا دیا تھا۔ گھرسے نکلتے ہی وہ دونوں بازوؤں کی کینچی مار لیتا اور اس کا اگلا ٹھکانہ لالہ سراج الدین کی دکان ہوتی۔ بوڑھا لالہ اپنے اس واحد شوقین گاہک کا پرستار تھا۔ وہ آگے بڑھ کر اسے بازوؤں کی کینچی سے آزاد کر کے اندر کھینچ لاتا اور سلیم گلا کھنکارتے ہوئے پاس پڑے سٹول پر بیٹھ جاتا۔ شام تک وہ کتنی ہی کتابوں کی ورق گردانی کرچکا ہوتا۔ مطالعے کی اس باقاعدگی نے اس کے اندر کہانی لکھنے کا بھی حوصلہ پیدا کر دیا تھا۔ لالہ سراج الدین کی دکان شہر بھر میں مشہور تھی، اکثر و بیشتر نامی گرامی لکھاری اور شاعر اس کتب گھرمیں جمع ہوتے۔ سلیم بازوؤں کی کینچی مارے ان کی باتیں بڑے غور سے سنتا۔ وہ دکان پر رکھی کسی پرانی کتاب کی طرح ایسے ہاتھ کا منتظر تھا جو اسے بھی پڑھ کر سنبھال لے۔ یہیں سے اس کی ملاقاتوں کا سلسلہ کہانی لکھنے والوں سے ہوا اور اس نے اپنی زندگی کی پہلی کہانی لکھ لی۔ لالہ جی کی وساطت سے اس کی کہانی مقامی رسالے میں بھی چھپ گئی تھی۔ اس دن لالہ جی نے پوچھا: ’’کاکا! باقی سب تو ٹھیک ہے پر یہ بتاؤ تم اپنا قلمی نام کیا رکھو گے۔‘‘

وہ بازوؤں کی کینچی مارے گہری سوچ میں ڈوب گیا اور جیسے کھائی میں سے بولا: ’’سلیم چنگیزی۔‘‘ بس تو پھر اس دن سے وہ خود کو کہانی کار کہلوانے کی مہم پر چل نکلا۔ اس کی اپنے گھر والوں سے رہی سہی سلام دعا بھی ختم ہو گئی تھی۔ وہ سارا دن کہانی کی تلاش میں مارا مارا پھرتا اور شام کے وقت لالہ جی کی دکان کے سٹول پر بیٹھ کر لوگوں کے چہرے پڑھنے لگتا۔ اس کی بنٹے جیسی آنکھوں پر عینک لگ چکی تھی، پیسہ بازار میں واقع ایک سستی شہرت والے اخبار میں پروف ریڈر کی نوکری ملنے پر گھر والوں کی زبانیں بند ہو گئیں لیکن اس کا باپ چاہتا تھا وہ اپنا پشتینی کام سنبھالے۔ وہ اسے پتھروں کی قسموں اور موتیوں کی اصل نقل کے بارے میں بتاتا اور وہ خالی دماغ لیے بٹر بٹر باپ کو دیکھے جاتا۔ ’’تو بھی میری انگلی میں پڑے فیروزے کی طرح ہے۔ نالائق، منحوس اور کالی رات جیسا۔‘‘ وہ باپ کے چہرے پر کہانی تلاش کرتا۔ ’’پکھراج بن جا۔ مان لے میری بات۔ جس کام میں ہاتھ ڈالے گا من کی مراد پائے گا۔ چھوڑ دے کہانیاں لکھنا۔ پتھر تراش۔ نگینے جوڑ۔‘‘ غصے سے ہانپتا کانپتا باپ کندھے پر صافہ رکھتے ہوئے اسے نصیحتیں کرتا رہ جاتا۔ اس دوران اس نے بہت سی کہانیاں لکھیں، جن میں گلیوں اور بازاروں میں پھرنے والوں کی زندہ تصویریں شامل تھیں۔ سب کہانیاں چھپ تو جاتیں لیکن جیسے کچھ کمی سی تھی جسے پورا کرنے کی خواہش نے اسے بے چین کر رکھا تھا۔ ’’لالہ جی! میں سوچتا ہوں کہ یہ انگریز لکھاری ہم سے آگے کیوں ہیں؟ آپ کیا کہتے ہو۔‘‘ وہ بازوؤں کی کینچی مزید کھینچ لیتا۔

’’بس سلیم پتر، اپنی اپنی پسند ہے نا۔ امیروں کے امیروں والے شونق ہیں۔ یاد رکھو، جو جتنی بڑی چیز کو آسانی سے بتانے کا ہنر رکھے گا وہی بڑا کہانی کار ہو گا۔ ‘‘ سلیم کی خاموشی مزید گہری ہو جاتی۔ اسے راہ چلتے کاغذ اٹھا کر پڑھنے کی عادت پڑچکی تھی۔ وہ ناصرف کاغذ اٹھاتا، انہیں پڑھتا بلکہ تہہ کر کے اپنے کمرے میں جمع کرنے لگتا جو، اب کاغذوں سے بھرنے لگا تھا، ایک چھوٹا سا ردی خانہ اس کے پلنگ کے نیچے سے جھانک رہا تھا۔ خاکی رنگ کے ڈبے دروازے کے پیچھے قطار در قطار دھرے تھے بلکہ گھر کی تنگ سیڑھیوں سے اوپر بھی اس نے لکڑی کا خانہ بنوا کر اپنی ردی ٹھونس رکھی تھی۔ گھر والے اس کے شوق سے پریشان تھے لیکن ان کے لیے پڑھائی کا یہ خبط نقصان دہ نہیں تھا اس لیے سب خاموش ہوگئے۔ اس دوران اس نے بہت سے فرضی کردار اخذ کیے، کئی تاریخی کرداروں پر مبالغے کی گرہ بھی لگائی۔ اسے لوگوں کا پیچھا کرنے میں مزہ آنے لگا تھا، اگر راہ چلتے کوئی مرد یا عورت غیر معمولی محسوس ہوتے تو وہ ان کے پیچھے چل پڑتا۔ کئی کئی میل چلتا، موسموں کی پرواہ کیے بنا، وہ ان کی چال ڈھال سے کہانیاں بننے لگتا۔ اسے اپنی کہانیوں کے کرداروں میں سب سے زیادہ انسیت ’’بلکی شاہ‘‘ سے تھی۔ وہ ایک ہندو سود خور تھا جو تقسیم کے بعد شاید لکیر پار کر گیا لیکن اس کی فرضی کہانی کا یہ کردار رسالوں کی دنیا میں مشہور ہو گیا۔

نگینہ فروش عبدالصمد اپنے اس چھوٹے بیٹے سے تنگ آ چکا تھا، میاں بیوی اس کی شادی کرنے کے درپے تھے۔ نوجوان لکھاری کو بیوی سے زیادہ کہانی گلے لگانے کی فکر تھی۔ پینتیس سال کی عمر میں اس کی یہ ٹال مٹول بھی کام نہ آئی اور شگفتہ اس کی زندگی میں زبردستی داخل کر دی گئی۔ زردی مائل قدرے چھوٹے قد کی شگفتہ اس کا موضوع نہ بن سکی اور نہ کہانی کا کوئی کردار اس سے مماثلت رکھ سکا۔ وہ پلنگ پر لیٹے ٹانگ پر ٹانگ رکھے بس اپنے کرداروں کو سوچتا رہتا۔ تیز تیز کام کرنے والی شگفتہ کو وہ جب بھی غور سے دیکھتا لگتا چھوٹا سا لٹو سارے گھرمیں پھرکی بن کر گھوم رہا ہے۔ لٹو کی رسی اس کے ہاتھ میں تھی جسے وہ اس کے گرد لپیٹے رہتا۔ اگر اسے عورت ذات سے دلچسپی ہوتی تو اس کی ایک کہانی کا موضوع بننے والی زیبا کسی سے کم نہیں تھی۔ ہوا یوں کہ ایک دن اسی کہانی کی تلاش میں ٹبی گلی کی طرف نکل گیا۔ وہ دن رات اس گلی کے چکر لگاتا پھر ایک دن ہمت کر کے چھ بائی پانچ کی کوٹھڑی میں گھس گیا۔ نائلون کی بڑے گلے والی بنیان اور ڈیڑھ فٹ کی نیکر پہنے بھاری بھر کم کالی لڑکی سگریٹ باہر تھوکتے ہوئے دھواں اس کے منہ پر پھینک کر بولی:’’ بول، کیا چہیے تیرے کو۔‘‘

’’ وہ۔۔۔ ایسا تھا کہ۔۔۔‘‘ لفظ اس کے گلے میں پھنس گئے۔ لڑکی چارپائی کے پائے پر ٹانگ رکھے اسے گھورنے لگی۔ ’’ کہانی سناؤ گی اپنی۔ منہ مانگے پیسے دوں گا۔۔۔بس تم۔۔۔‘‘ لڑکی نے اپنے کندھے سے کھسکنے والی بنیان کی پرواہ کیے بنا اسے شرٹ سے پکڑا اور لکڑی کا دروازہ کھول کر باہر چھلانگ لگادی۔ ’’سالا، یہ تو ایجنٹ نکلا، کہتا ہے کہانی بتا اپنی۔ او، جیدے، خورشید، کہاں مر گئے سب کے سب۔ پکڑو اس کنجری کے بچے کو۔‘‘ موٹی لڑکی گالیوں کی غلیل میں پتھر بھر کر داغنے لگی۔ سلیم بازوؤں کی کینچی لگائے تیزی سے باہر کو بھاگا۔ بڑی سڑک سے اندر آتی سانولی سلونی زیبا اسے گریبان سے پکڑکر ڈیوڑھی میں کھینچ چکی تھی۔ کہانی کے لالچ میں وہ کتنے ہی مہینے اس کی بیٹھک میں چھپ چھپ کر جاتا رہا۔ وہاں بھی سب کی طرح ایک ہی کہانی تھی ایک جیسے ہی کردار تھے اور پھر سلیم چنگیزی مایوس ہو کر راستہ بھول گیا۔ وہ گمنامی کے اندھیروں سے اکتانے لگا تھا، اسے اپنے حصے کی تھوڑی شہرت سے وحشت ہونے لگی تھی۔ شادی اور شگفتہ دونوں اسے راضی کرنے میں ناکام ہو چکے تھے۔ ماں باپ کے دل میں اس کی اولاد دیکھنے کا شوق اپنی موت مرنے لگا تھا۔ ’’ مجھے بچے پسند ہی نہیں تو کیوں کروں پیدا۔‘‘ وہ زیادہ سوال جواب پر اکتا کر کہتا۔ اسے دوست یار بچوں کی افادیت کے بارے میں درس دیتے، صاحب اولاد ہونے کی خوشی بتاتے اور وہ موٹے موٹے شیشوں سے انھیں دیکھتا رہتا۔ ان دنوں شاعر آفتاب اس کے اچھے دوستوں میں شمار ہوتا تھا اگرچہ وہ بھی کسی شہکار غزل کی تلاش میں تھا۔ سلیم جب کہانی نہ ملنے پر زیادہ پریشان ہوتا تو آفتاب کے فلیٹ کا کمرہ اس کا ٹھکانہ بن جاتا۔ آفتاب غزل کہنے کے بہانے روز ہی کسی نئی سواری کو موٹر سائیکل کی پشت پر بٹھائے غائب ہوتا۔ کمرہ دن سے رات تک سگریٹوں کی کسیلی بو سے بھرا رہتا جہاں وہ دونوں اپنے خیالات کو پکانے کے لیے خوب سگریٹ پیتے۔ ’’ بھیے، ہم تو ساغر بھی نہ بن سکے پیمانہ کیا بنتے۔‘‘ آفتاب ہونٹوں کو گولائی میں کر کے دھوئیں کے دائرے بناتا۔ پہلے پہل تو گھر والے سلیم کی تلاش میں مارے مارے پھرتے تھے لیکن پھر اس کی سیلانی طبیعت کے عادی ہو گئے۔ کئی مہینے گھر سے دور رہنے کے بعد ایک دن وہ تنگ بدبودار سیڑھیاں چڑھا تو شگفتہ لٹو بن کر گھومنے لگی۔ بوڑھے باپ کا کانپتا ہاتھ اس کے گال سرخ کرنا چاہتا تھا لیکن درمیان میں لٹو گھوم گیا۔

اولاد سے متنفر سلیم کو بچے کے لیے تخلیق کار بننا ہی پڑا اور شادی کے پانچ سال بعد اس کے گھر بیٹی ہوئی۔ اس دن بھی وہ سرکاری ہسپتال کی زچہ بچہ وارڈ کے باہر بینچ پر بیٹھا لوگوں کے چہرے پڑھ رہا تھا۔ اس نے سرسری سی نگاہ اپنی بیٹی کے سوئے ہوئے چہرے پر ڈالی، بے خبر نرس نے بچی اس کو تھما دی۔ اس نے بچی کے پھولے ہوئے گالوں کو انگلی سے دبایاجیسے وہ کاغذ پر کہانی لکھتے ہوئے قلم کی نوک دبا کر لفظ لکھتا تھا۔ اس کے چھوٹے سے وجود سے اٹھتی ماں کی کھوکھ کی خوشبو نے اسے لپیٹ میں لے لیا، کہانی کار ناراض نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ قدرت کی لکھی کہانی اپنی ننھی سی سرخ زبان نکال کر اس کا منہ چڑا رہی تھی اور وہ بازوؤں کی کینچی مارکر گھر کی طرف نکل گیا۔

کہانی کار کا آدھا سر سفید ہو گیا تھا، کہانی کی تلاش نے اس کی عینک کے شیشے موٹے کر دیے تھے۔ آبائی گھر مکینوں سے خالی ہونے لگا تھا جہاں اب بس اس کا باپ، بیوی اور بیٹی رہتے تھے۔ نیچے کے دونوں کمرے اس کی اکٹھی کی گئی ردی اور کتابوں سے بھرے ہوئے تھے۔ مکان کے تنگ کمروں میں سیلن کے باعث عجیب سی بو تھی جو اس کی ردی کی باس سے مل کر فینائل سے بھی زیادہ شدت اختیار کر چکی تھی۔ گلی کے مکین اس بو کے عادی ہو چکے تھے لیکن پھر بھی گلی میں پاؤں رکھتے ہی ان کے نتھنے گلنے لگتے۔ لالہ جی کی دکان بھی ان کی موت کے بعد آدھی رہ گئی۔ ادبی بیٹھکوں میں لکھاریوں کی محفل جمتی تو پچھلی نشستوں پر بیٹھے دو یا تین لوگ اسے دیکھ کر کھڑے ہو جاتے۔ اگلی کرسیوں پر براجمان مجمع اس کی چالیس سالہ ادبی خدمات سے فرضی لاعلم تھا۔ ’’او میاں! وہ کہتے ہیں نا کہ برگد کی چھاؤں کے نیچے کوئی اور پودا سر نہیں نکالتا۔ تو بس یہ سلیم چنگیزی جیسے ایف۔ اے پاس لوگ بھی اسی قابل ہیں۔‘‘ بڑے ادیب کی بات پر فلک شگاف قہقہہ لگتا اور ہنسی کی گرماہٹ اسے پگھلا کر لیمپ بنا دیتی۔ وہ رات بھر اپنی ہی روشنی کی تپش میں سلگتا رہتا اور سگریٹ پھونک پھونک کر ان کے ٹکڑے جمع کرتا۔ ’’پاپا یہ دیکھیں آپ کی بیٹی نے کیا لکھا ہے۔‘‘ وہ کتاب کے مطالعے میں غرق تھا جب اس کی بیٹی سر پر سوار ہو گئی۔ ’’ہوں! کیا لکھا ہے۔ مجھے کیا پتہ۔‘‘

’’بابا، آئی رائٹ اے ناول اینڈ اٹس نیم از اے ڈریم آف ان کانشیئس۔‘‘ کہانی کار نے گڑبڑا کر پہلی بار اپنی بیٹی کو غور سے دیکھا۔ وہ تو دروازے جتنی ہو چلی تھی۔ دھان پان سی لڑکی کی آنکھیں روشن تھیں اور اس کے چوڑے ماتھے کی رونق بتاتی تھی جیسے وہ کہانی کا سرا نکال چکی ہے۔ اس رات کہانی کار نے اپنی بیوی کو پہلی مرتبہ کسی غرض سے مخاطب کیا: ’’سنو، وہ جو تمہارے بھائی کا بیٹا ہے۔ کیا نام ہے اس کا۔۔۔خیر جو بھی نام ہے۔ تم نے ایک بار بات کی تھی کہ تمہارا بھائی اس کے لیے انو کا رشتہ مانگتاہے۔‘‘

’’ہاں لیکن انعم،تو پڑھنا چاہتی ہے، شادی کی ایسی بھی کیا جلدی۔‘‘

’’جلدی،،، ہم م م م م م۔۔۔ اچھے رشتے نہیں ملتے تم کل ہی انھیں ہاں میں جواب دو۔ مجھے زیادہ بحث نہیں چاہیے۔‘‘ کہانی کار بازوؤں لپیٹے بائیں کروٹ لیٹ گیا۔ بیٹی کے خواب ٹوٹ چکے تھے، اس نے بحث و تکرار ضروری نہیں سمجھی اور خالی آنکھیں لیے ڈولی میں بیٹھ گئی۔ ’’بابا، میں یہ ناول آپ کو پڑھانا چاہتی ہوں۔‘‘ شادی کے بعد اس نے اپنے باپ سے ملاقات کے دوران خواہش کا اظہار کیا۔’’ اسے تم ساتھ لے جاؤ، میں اتنی کچی تحریر کو پڑھ کر کیا کروں گا۔‘‘

’’آپ کی بیٹی ہوں، کیا اتنا سا بھی اعتبار نہیں کہ کچھ برا نہیں لکھا ہو گا۔‘‘

’’دیکھو بچے، وہ کیا ہے کہ کہانی سوچنا پڑتی ہے، پھر ذہن میں پکتی ہے اور پھر صفحے پر لکھی جاتی ہے۔ میں نے زندگی کے چالیس سال کتابوں کو دیے ہیں تب کچھ لکھنے کے قابل ہوا ہوں۔ یہاں تم سترہ سال کی عمر میں ناول لکھ بیٹھی ہو۔‘‘ کہانی کار نے موٹے شیشوں سے دھان پان سی لڑکی کو دیکھا۔ بیٹی کہانی کار سے ہار کر گھر کو لوٹ گئی۔ ’’ڈریم آف ان کانشیئس‘‘ اس کی ردی میں رکھ دیا گیا۔

سلیم چنگیزی نے اس دوران دو سو کہانیاں لکھ لی تھیںاور دو کتابی مجموعے بھی شائع ہو چکے تھے۔ اسے ایک ادبی ایوارڈ جیتنے کی طلب تھی جس کے ساتھ نتھی رقم کے بجائے فلیش بیک پر تالیوں کی گونج سنائی دیتی تو وہ سوتے میں بھی کروٹیں بدلتا۔ وہ گمٹی بازار کے دکانداروں کی طرح اپنے گاہکوں کا منتظر تھا جو اپنے بازوؤں پر ریشمی تھان ڈالے دیکھنے والوں کو ریجھاتے ہیں۔ کہانی کی تلاش میں وہ کئی شہروں کی خاک بھی چھان چکا تھا لیکن افسوس کے سوا اسے کبھی کچھ نہیں ملا۔ ’’ چنگیزی بھائی، ہر کہانی کے پیچھے معیشت کھڑی ہے، مان جاؤ۔‘‘ پان فروش ٹیپو کے سرخ رنگے ہوئے دانتوں سے پھسلی اس بات پر وہ استہزائی انداز میں غرایا: ’’ گویا اب ہمیں تم بتاؤ گے کہ کہانی کیا ہوتی ہے۔ واہ اللہ میاں! چڑیوں سے باز مروانے لگ گئے تم تو۔ ‘‘ ایک بار وین میں سفر کرتے ہوئے اس نے بارش کے بعد سخت حبس میں کنڈیکٹر کو کہتے سنا: ’’استاد جی ! قسمے اینوں کئی دا اے حبسِ بے جا۔‘‘ کہانی کارنے جیب میں رکھی ڈائری جھٹ پٹ نکالی اور یہ جملہ لکھ کر کہانی سوچنے لگا۔ ایسے بہت سے جملے اور ٹوٹی پھوٹی گفتگو سے اٹی تحریریں اس کی ڈائری کی سطروں کا حصہ تھیں جنہیں وہ گاہے گاہے استعمال کرتا رہتا تھا۔

کافی دنوں سے وہ ایک نئی کہانی کی تلاش میں تھا اس لیے رات گئے ویران سڑکوں پر نکل جاتا۔ اچانک اجنبی بن کر راستہ الگ کرنے کی اس عادت نے اس سے کئی دوست گم کر دیے تھے۔ ان دنوں بھی وہ تنہا ہی تھا، گھر سے نکلتے ہی وہ موری گیٹ سے باہر آیا تو اس کی نظر ایک خوش پوش جوڑے پر پڑی۔ نجانے اس جوڑے میں ایسی کیا بات تھی کہ وہ ان کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ وہ دونوں اردگرد سے بے نیاز ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے چلے جارہے تھے۔ مرد کی عمر پینتالیس کے قریب تھی اور عورت یہی کوئی پینتیس کے لگ بھگ ہو گی۔ مرد جب بھی عورت کے گالوں کو چھوتا وہ جھولتی ہوئی بائیں طرف کو ڈول جاتی اور تنگ کوٹ میں پھنسا ہاتھ اسے اپنی جانب کھینچ لیتا۔ کہانی کارکی موٹے شیشوں میں پھنسی آنکھوں میں امید جاگی جیسے آج کہانی ملنے والی ہو۔ چار ٹانگیں سینما کی سیڑھیاں پھلانگ چکی تھیں، کہانی کار بھی کود کر کھڑکی کے پاس کھڑا ٹکٹ لینے لگا۔ اسے اس جوڑی کے پیچھے بیٹھنے کی جلدی تھی۔ سردی کے باعث سینما میں رونق مفقود تھی، چند اوباش نوجوان سیٹیاں بجاتے شور و غوغا کرتے اور پھر چپ ہو جاتے۔ کہیں کہیں دو دو جوڑیاں سر نیہوڑائے بیٹھی تھیں کہ وہ جوڑی بھی گیلری سے نیچے شیڈ کی آڑ میں بیٹھ گئی۔ اس طرف اندھیرا کچھ زیادہ تھاکہ سلیم چنگیزی بھی دھپ سے پیچھے کھسک گیا۔ ’’نرے کتے ہو تم کتے۔ کیا ضرورت تھی جھوٹ بولنے کی۔ آپا بڑی سیانی ہے، پکڑے گئے نا تو مارے جاؤ گے۔‘‘

’’پکڑے کیسے جائیں گے، میری جان، کل ہم ننھی چلِتن کا گانا سن لیں گے تاکہ وہ تو ٹھنڈی ہو۔‘‘

کہانی کار کے ذہن میں فلم سی چل رہی تھی، نگوں اور پتھروں سے جڑاؤ انگوٹھیاں، نگینہ گلی کی تنگی اور اپناتین منزلہ کتابوں اور ردی کی بو سے بھرا مکان، ننھی چلِتن، موٹی ٹانگوں اور نائلون کی بنیان والی کالی لڑکی، زیبا کے چہرے کی زردی، شگفتہ کی سرمے سے خالی کوری کراری آنکھیں اور اپنی انو، کہانی تو یہیں کہیں اس کے آس پاس تھی۔ اس کے اندر تھی، جیسے کوئی پکارا ہو، اس نے بازوؤں کی کینچی کھول کر تھوڑی ورزش کی۔ سکرین پر کوئی طلسم ہو شربا قسم کی فلم چل رہی تھی۔ سیٹیوں کے شور میں جیسے کوئی بار بار کہہ رہا تھا:’’ اے ڈریم آف ان کانشیئس۔ ‘‘ اس نے ادھ بدا کر کروٹ بدلی کہ دھم کی آواز سے علاقہ گونج اٹھا۔ ہر طرف گرد و غبار تھا، ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ ’’ناز سینما کی چھت گر گئی۔‘‘
’’اللہ ایسی موت نہ دے کسی کو۔‘‘
’’پتہ نہیں کوئی بچا بھی ہے یا نہیں۔‘‘
بڑے عرصے سے کہتے تھے کہ بھائی، یہ سینما بند کر دو، بند کردو گرنے کا خطرہ ہے لیکن مجال ہے کسی کے کان پر جوں رینگی ہو۔ لو اب بھگتو۔‘‘

سینما سے باہر کھڑا مجمع تاسف بھرے جملے بول رہا تھا۔ ایمبولینس کی اوں آں جیسی آوازیں بڑھنے لگی تھیں۔ اب تک تین لاشیں نکالی گئی تھیں، باقی پندرہ لوگ زخمی تھے۔ زخمیوں میں مرد و عورت کی جوڑی بھی تھی جو شیڈ کے نیچے نہ ہونے کے باعث معجزانہ طور پر بچ گئے تھے۔ پینتالیس سالہ مرد کا سانس بحال ہوا تو وہ ہکا بکا عورت کو خود سے چمٹائے تیز تیز قدموں سے آگے نکل گیا۔ لوہے کے راڈ کے نیچے سے کہانی کار کو نکالا جا چکا تھا، اس کا ناک اور ہونٹ پچک گئے تھے۔ چہرہ پھول کر کپا ہو گیا تھا، موٹے شیشوں والی عینک غائب تھی بس دو ادھ کھلی آنکھیں سامنے دیکھ رہی تھیں۔ ایک ہاتھ اس کے سینے کی جانب بڑھا جس پر خون سے چپکی شرٹ کے ساتھ چھوٹا سا رنگین کاغذ چسپاں تھا۔ دو انجانے ہاتھ سمجھے اس پر مالک کا پتہ درج ہو گا، بڑی مشکل سے اس نے تحریر پڑھی۔ ’’دھت تیرے کی۔‘‘ پولیس والے نے تھوکتے ہوئے کاغذ پھاڑ دیا جس کے عین درمیان میںخون کی سرخی سے تحریر تھا: ’’کہانی‘‘۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply