وقت سے آگے گزرنے کی سزا — منیر نیازی پر یگانہ نجمی کی تحریر

0

وقت سے آگے گزرنے کی سزا
آدمی تنہا رہ جاتا ہے

کہا جاتا ہے کہ کوئی بھی شاعر یا ادیب اپنے عہد کا نباض ہوتا ہے اور سونے پرسہاگہ یہ کہ وہ اگر ایسے ماحول یا معاشرے سے تعلق رکھتا ہو جوکہ بے حسی اور سنگدلی کا مجموعہ ہو تو ایسی صورت میں شاعر یا ادیب معاشرے کے ان ان پہلووں کو اجاگر کرتے ہیں جو کہ عام طور پر نظر انداز ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے انسانی تہذیب کے کسی عہد کو سمجھنے کے لیے جو بہت سے معتبر ذرائع ہیں ان میں ادب سرفہرست ہے کسی بھی شاعر کے فنی و ادبی سفر کو اس وقت تک نہیں سمجھنا ممکن نہیں جب تک ہم اس کے گردوپیش کی دنیا کو اپنے دھیان سے نہ سمجھیں۔ بچپن کا ماحول وہ لوگ جن کے ساتھ بچپن گزرا، تاحیات فرد کی شخصیت پراثر انداز ہوتے ہیں اور وہ حوادث زمانہ جن سے گزر کر ایک تخلیق کار کی شخصیت مکمل ہوتی ہے۔ یہ بھی تخلیق کا لازمی حصہ ہیں۔

منیر نیازی کی فنی و تخلیقی شخصیت کو جاننے کے لیے ہمیں اس کے ابتدائی ماحول اور فضا کو اپنے سامنے رکھنا ہوگا۔ جس میں ان کا بچپن گزرا۔ منیر 19 اپریل 1928 کو مشرقی پنجاب کے شہر ہوشیار پور سے متعصل خان پور نام کی بستی میں پیدا ہوئے۔

کوہ شوالک سے اگر جنگل اس بے دردی سے نہ کاٹے جاتےتو یہاں بھی گھٹاوں کا وہی رنگ ہوتا جو شمالی کی گھٹاوں کا ہوتا ہے جس سے شمال سے اٹھتی گھٹائیں جا ٹکراتی ہیں اور وادی میں جل تھل ہوجاتا۔ مگر کوہ شوالک تو بے برگ وبار پہاڑ ہے اس کی چوٹیوں پر ٹھنڈک کہاں یہاں تو تبخیر کا عمل جاری ہے۔

یہ منیر نیازی کی بستی ہے جو اس کے ارد گرد کم اس ذہن کی گہرائیوں میں طلسماتی رنگ میں بھیگے ہوئےگھر بنا کر بستی جاتی ہے۔ جو کہ پوری آب وتاب سے ہمیں منیر نیازی کی شاعری میں آباد نظر آتی ہے۔

کون جانتا تھا کہ خانپور کی بستی میں پیدا ہونے والا یہ منیر اردو شاعری کا ماہ مینر بن کر چمکے گا اور جدید اردو ادب میں اپنی منفرد پہچان بنائے گا۔

ابتدائی سات سال خان پور میں گزارنے کے بعدمنیر اپنے اہل خانہ کے ساتھ ساہیوال آگئے اس کے بعد میٹرک کا امتحان ساہیوال سے ہی پا س کیا میٹرک کے بعد منیر نے آگے تعلیم کے لیے امرتسر کا رخت ِسفر باندھا۔ ان کی والدہ بھی یہ چاہتی تھیں لیکن چونکہ ان کے چچا فوج میں تھے اس لیے انکی خواہش تھی کہ منیر بھی انڈین نیوی میں شامل ہوں۔

چونکہ منیر کی متلون مزاج طبعیت ضابطے میں ڈاھلنے کے لئے نہیں تھی اس لیے وہاں سے بھاگ نکلےاور نکلتے ہوئے پکڑے گئے۔ جس کے نتیجے میں سزا ہوئی۔ لیکن اس سزا نے منیر نیازی کےاندر بغاوت کے جذبے کو مزید مضبوط کردیا۔

منیر نیازی نے اپنے بارے خود کہا ہے کہ انھوں نے ساری زندگی صرف شاعری کی ہے اور کچھ نہیں کیا۔ 1950میں منیر نیازی نے لاہور کا رخ کیا۔ لاہور میں ایک اشاعتی ادارہ “المثال” کے نام سے قائم کیا جس نے چند کتابیں نہایت اہتام سے دیدہ زیب انداز میں شائع کیں۔

ظاہری طور پر منیرنیازی ایک وجہیہ شخص تھے۔ لمبا قد، سرخ وسسفید رنگ تکھیے نقوش متناسب جسم اور پر تاثیر آواز یہ تمام عناصر مل کر منیر نیازی کی مسحورکن شخصیت بنا تے ہیں۔

منیر نیازی نے فلمی گیت بھی لکھے ان کے فلمی گیت مقبول بھی ہوئے۔ لیکن انھوں نے اپنے آپ کو شہرت عام میں گم رہنا پسند کیا۔ 1970 کی دہائی میں منیر نیازی نے پاکستان ٹیلی ویژن لیے پروگرام بھی کیئے۔ اسی طرح وہ پاکستان ٹیلی ویژن کے ایڈوائزر کے طور پر بھی کام کرتے رہے۔

منیرنیازی کو ان کی شاعرانہ خدمات پر بہت سے ادبی اور علمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انھیں بعض عالمی اداروں نے بھی اپنے اعزازات سے نوازا منیر نیازی کی اردو اور پنجابی شاعری کا دوسری زبانوں میں ترجمہ بھی کیا گیا با لخصوص انگریزی زبان میں۔ منیر کی انفرادیت ان کی پنجابی شاعری میں موجود ہے جدید تر ین پنجابی شاعری کی ابتدا منیر سے ہوتی ہے۔

کج انج وی راہواں اوکھیاں سن
کج گل وچ غم دا طوق وی سی

کج شہر دے لوک وی ظالم سن
کج سانوں مرن داشوق وی سی

منیر کی غزل ہو یا نظم ہو اردو یا پنجابی شاعری روایت پسند ہونے کے باوجود وہ یک وتنہا ایسی دنیا کا مسافر نظر آتاہے، جو محفل میں سہی تنہا ہے۔ پاکستان کی ادبی تاریخ میں کئی نام ہیں جنہوں نے انمٹ نقوش چھوڑے، ان میں نمایاں نام منیر کا بھی ہے۔

محبت اب نہیں ہو گی
ستارے جودمکتے ہیں
کسی کی چشم ِ حیراں میں
ملاقاتیں جو ہوتی ہیں
جمال ابر و باراں پر
یہ نآباد وقتوں میں
دلِ ناشاد میں ہوگی
گزر جائیں گےجب یہ دن
یہ ان کی یاد میں ہوگی

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply