آہ! شمس الرحمان فاروقی بھی چل بسے —- خاور چودھری

0

یہ موت ہے، جو بہانے ڈھونڈتی ہے۔ بدل بدل کر راستے اختیار کرتی ہے اور ہمارے درمیان میں سے، ہماری آنکھوں کے سامنے، ہمارے پیاروں کو اُچک لیتی ہے اور ہم تکتے رہ جاتے ہیں۔ ابھی چند روز قبل اشعر نجمی (انڈیا۔ مدیر اثبات) نے اطلاع دی تھی، کہ شمس الرحمان فاروقی صاحب وبائی مرض کورونا کا شکار ہوگئے ہیں۔ اُن سے فون پر بات ہوئی ہے؛ وہ خود کو بہتر محسوس کررہے ہیں اور پھر 25۔ دسمبر کو یہ اطلاع آئی کہ وہ دائمی منزل کی طرف بڑھ گئے ہیں۔ ایک میں ہی کیا پُوری ادبی دُنیا اور سارا ادبی منظر نامہ اُن کی رحلت سے حزن آشنا ہے اور کیوں نہ ہو،کہ ایک شخص جہان سے نہیں اُٹھا ،بل کہ ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچا ہے۔ ایک دورِ زرّیں، جس نے اُردو ادب کو کئی نئی جہات سے روشناس کرایا اور کئی پُرانے مفروضوں پر خطِ استرداد کھینچا۔ روایت شکنی اور روایت سازی کے مرحلوں سے آشنا، فاروقی صاحب نے ادب کی کون سی منزل سر نہ کی؟ اور کون ساقرینہ اختیار نہ کیا؟ اُنھوں نے گھسے پٹے اور مروجہ ادبی سانچوں اور نظریوں میں سے نئی راہیں کھوجیں اور اُنھیں یُوں چمکا لشکا کر قاری کے سامنے پیش کیا، کہ ہر کوئی اَش اَش کر اُٹھا۔ میرتقی میر کی شاعری پر ”شعرِ شور انگیز“ جیسی نظریہ سازکتاب لکھی؛ جسے عالمی سطح پر پذیرائی ملی ۔ زمانوں سے اُس کے ایڈیشن شائع ہو رہے ہیں اور آج بھی اپنی حیثیت میں اہم کتاب سمجھی جاتی ہے۔

اِلہ آباد سے ادبی رسالہ ”شب خون“ جاری کیا تو اُسے چار دہائیاں کچھ ایسا رنگ اور طریق عطا کیا، کہ روایتی مدیر دیکھتے رہ گئے ۔ ایسے مباحث شروع کیے؛ جنھیں تحریک کی صورت نصیب ہوئی اور اُردو زبان واَدب کے عالمی اُفق رخشندہ تر ہو گئے ۔اُردو زبان کی تاریخ اور لسانی روابط اور فاصلوں پر کتاب لکھی تو ایک الگ سماں باندھ دیا۔ ثابت کیا کہ اپنی اصل سے کٹ کر کوئی بھی زبان زندہ نہیں رہ سکتی اور یہ گمراہ کُن بات ہو گی کہ اُردو اپنے کلاسیکی سرمایے سے دستبردار ہو کر اُسے ہندی کی جھولی میں ڈال دے ۔ عروض کے میدان میں اُترے تو وہ تیور دکھائے، جو کئی ایک کے لیے غیر منہضم تھے لیکن فاروقی صاحب نے دلائل و براہین سے پیش قدمی جاری رکھی اور علمِ عروض پرگراں قدر کارنامے انجام دیے ۔ نقد و نظر کے میدان میں اُن منطقوں تک رسائی حاصل کی؛ جہاں اُن سے پہلے پرجلنے کے خیال سے کوئی پھٹکتا نہ تھا ۔ قدیم وجدید مباحث سے اُردو زبان و اَدب کے بیش تر گوشوں کو یُوں تاب ناک کیا کہ لاکھوں ششدر ہوئے ۔ ہزاروں پیروی پر آئے اور سیکڑوں نے مخالفت کا راستہ بھی چُنا لیکن وہ ٹلنے والے کہاں تھے؟ اپنا سفر پوری طاقت اور توانائی کے ساتھ جاری رکھا۔ منزل آشنا ہوئے اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا اپنی فنی بصیرتوں کے بل پر منوایا۔ شہرہ آفاق تاریخی ناول ”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ لکھا تو اُس عہد کی زبان کو اس خوب صورتی کے ساتھ پیش کیا ،کہ رشک کی کئی منزلیں ہم ایسوں کا منھ تکاکیں ۔ اماکن، عہدے، ظروف، شخصیات، فکر و نظر اور امکانات کو یُوں مجسم کر کے پیش کیا؛ گویا وہ عہد ہماری آنکھوں کے سامنے ہو اور ہم اُسے محسوس کرتے ہوں ۔ مرزا خاں داغ کی والدہ وزیر بیگم کی ایسی زندہ کتھا؛ جسے کوئی لکھنا چاہے بھی تو فاروقی صاحب کے ڈھنگ اور معیار پر نہ لکھ سکے؛ بس حسرت سے دیکھ سکے ۔ تنقیدی دبستان کے علم بردار فاروقی صاحب فکشن کے میدان میں آئے تو کمال تک پہنچایا اور شعر کہا تو اپنا جداگانہ تشخص قائم کیا۔

ایک اچٹتی نظر ان کی کچھ کتابوں کے عنوانات پر ڈالیے ؛ جن سے اندازہ ہوگا ،کہ اُن کی فنی جہتوں کی وسعت کہاں تک ہے اور اُن کا آسمان کیسا ہشت رنگ ہے :”اثبات و نفی،اردو غزل کے اہم موڑ،اردو کا ابتدائی زمانہ: ادبی تہذیب و تاریخ کے پہلو، افسانے کی حمایت میں، انداز گفتگو کیاہے؟ تعبیر کی شرح، تفہیم غالب، شعر شور انگیز( چارجلدیں) شعر، غیر شعر اور نثر، خورشید کا سامان سفر، صورت و معنی سخن، غالب پر چار تحریریں، گنج سوختہ،لغات روزمرہ،ہمارے لیے منٹو صاحب، لفظ ومعنی، نئے نام،نغمات ِحریت، عروض آہنگ اور بیان،سوار اور دوسرے افسانے،کئی چاند تھے سر آسماں اور آسماں محراب“ وغیرہ۔ ان کی شخصیت پر ان کی زندگی میں سیکڑوں لوگوں نے لکھا۔ کچھ نے اسناد کے لیے اور کچھ نے خالصتاً اُن کی ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ۔ رسالوں کی بھی طویل فہرست ہے؛ جنھوںنے فاروقی صاحب کی شخصیت اور فن پر خصوصی نمبر شائع کیے ۔ کچھ سامنے کے کام دیکھیں ؛جن سے بالعموم اُردو اَدب کے اکثر قاری واقف ہیں: ڈاکٹر صفدر رشید نے ان پرپی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا ۔ کچھ اور کام ملاحظہ کیجیے: ”جدید اردو تنقید کا تجزیاتی مطالعہ (شمس الرحمن فاروقی کے خصوصی حوالے سے) ڈاکٹر نشاط فاطمہ، شمس الرحمن فاروقی کی تنقید نگاری: محمد منصور عالم، شمس الرحمن فاروقی، حیات نامہ: نجم فضلی، شمس الرحمن فاروقی ”شعر ، غیر شعر اور نثر“ کی روشنی میں: محمد سالم، شمس الرحمن فاروقی محو گفتگو: راحیل صدیقی، کئی چاند تھے سر آسماں: ایک تجزیاتی مطالعہ: رشید اشرف وغیرہ۔ (ماخذ وکی پیڈیا) اس ناول کا تجزیاتی مطالعہ تو درجنوں نے کیا اور بیسیوں کریں گے؛ کیوں کہ اس کی زبان، عہد، تشکیل و تعمیر اور پیش کش ایسی ہے؛ جسے نظر انداز کرنا آسان نہیں۔

فاروقی صاحب نے جس کی حمایت کی، ڈنکے کی چوٹ پر کی اور جس کی مخالفت پر اُترے تو ایسے اُترے کہ اُن کی للکار اُردو اَدب کے تمام رقبوں نے سُنی ۔ایسی نظیر بہت کم ملا کرتی ہے ۔نقد و نظر کے میدان میں اگرچہ کئی ایک نے پنجہ آزمائی کی لیکن فاروقی صاحب کے قدتک کوئی نہ آسکا ۔وہ مغربی نقدو نظرسے بہ خوبی آشنا تھے لیکن اُنھوں نے نری تقلید کبھی شعار نہ کی ۔ اس کے برعکس وہ اپنی مٹی میں پھول کھلاتے رہے۔ اُن کے مخالفین بھی معترف ہیں، کہ وہ نئے جہان شکار کرنے والے تھے اور ستاروں پر کمند ڈالنا اُن کا مشغلہ تھا۔

2006میں میرا پہلا شعری مجموعہ ”ٹھنڈا سورج“ چھپا توبہت کچھ احتیاط کے باوجود اُن کی خدمت میں پیش کردیا۔ جواباً اُنھوں نے جس شفقت اور محبت کے ساتھ حوصلہ افزائی کی ؛ میرے لیے حیران کن تو تھی مگراُس نے مجھے ایسی توانائی عطا کی ، پھر میں نے مڑ کر کبھی نہیں دیکھا اور ہر لمحے آگے بڑھتا گیا۔ ہمارے مرحوم دوست توقیرعلی زئی بیس پچیس سال پہلے فاروقی صاحب کے ضمن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کرتے تھے: ”اُن کا قد اتنا اونچا ہے، کہ آدمی دیکھے تو ٹوپی گر جاتی ہے۔“ اسی بلند قامت ادبی ستارے کے محبت بھرے برتاؤ نے مجھے اُن کا گرویدہ بنا لیا۔ یُوں کہنا چاہیے، مجھے اُن سے عشق ہوگیا ۔ اُن کا نام جب بھی سامنے آتا ہے؛ میرا دل احتراماً جھکتا چلا جاتا ہے۔ ایک سال قبل جب میرا دوسرا افسانوی مجموعہ ”چاند کی قاشیں“ شائع ہوا تو اُس کا انتساب میں نے اُن کے نام کیا ۔ جب اُن سے اس کا سرسری ذکر کیا تو بہت خوش ہوئے اور بہت سی دعائیں دیں۔

موت سب کو آنی ہے اورآکے رہے گی لیکن کورونا کے عفریت نے ایسا خوف پھیلا رکھا ہے، جس سے اکثریت حزن آشنا ہے۔ کورونا کی پہلی لہر کے دوران اپریل 2020 میں اس وبا کے تناظر میں عالمی سطح پر اوّلین میرا افسانوی مجموعہ ”طلسم کہن“ شائع ہوا تومیں خود اس کیفیت کا شکار تھا۔ اب اگلا مرحلہ ہے اور نہیں معلوم یہ کہاں تک محیط ہو لیکن اس وبا نے ہمارے کئی پیاروں کو ہمارے درمیان سے اُچک لیا ہے ۔ دوست فون پر پوچھتے ہیں؛ میسنجر اور واٹس ایپ پر تصدیق چاہتے ہیں اور پھر فاروقی صاحب کی جدائی پر رنجیدہ ہو جاتے ہیں ۔ وہ صحیح معنوں میں اُردو اَدب کے عالم تھے ۔ اُن پر یہ قول صادق آتا ہے کہ: ”عالِم کی موت ، عالَم کی موت ہے۔“ اللہ اُن کی مغفرت فرمائے۔ دل اداس ہے لیکن اداسی سے موت کا راستہ تو نہیں رُکتا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply