امید کی طاقت اور کرداری بحران —- قاسم یعقوب

0

انسان کو اپنے اندر اخلاقی(Moral) طاقت کا اندازہ اُس وقت ہوتا ہے، جب اُس کے سامنے مظاہرہ کرنی والی قوت بھی اخلاقی ہو۔ ایسے موقعوں پر طاقت کا روایتی تصور شکست کھا جاتا ہے۔ اخلاقی قوت کے انہدام کے بعد جسمانی قوت کا بُت ازخود گر جاتا ہے یا اس قوت کی فتح کے بعد جسمانی قوت ہیچ محسوس ہونے لگتی ہے۔ ایک وقت تھا جب اخلاقی قوت کو سب سے بڑی قوت تسلیم کیا جاتا تھا۔ اب چوں کہ اس قوت کا اپنی ہم جنس قوت سے سامنا ہونا تقریباً بند ہوچکا ہے، اس لیے یہ سمجھا جارہا ہے کہ اس قوت نام کی کوئی چیز انسان کے اندر اگر موجود ہے بھی تو کم از کم ایسی قوت نہیں، جس سے طاقت کے موجودہ (جسمانی, عسکری) تصور کو زیر کیا جا سکے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے، جب ہم بچپن میں نماز کے بعد دعا مانگتے تھے تواپنے دونوں ہاتھوں کو جوڑ کے رکھتے تھے۔ یہ میرے والد کی تلقین تھی کہ دعا کے لیے جب ہاتھ اٹھائو تو ان کو کھلامت رکھو، یہ تکبر کی علامت ہے۔ ہتھیلیاں ملی ہوئی ہوں تو خدا کے حضور انسان عاجز نظر آتا ہے۔ ہم نے خود ہی یہ تصور قائم کر لیا کہ جب خدا کسی کی دعا سن کے اُسے اجر دینے کا فیصلہ کرتا ہے تو اُس کے کھلے ہاتھوں سے اُس کا اجر گر جانے کا اندیشہ رہتا ہے۔ لہٰذا ہاتھ ایک پیالے کی شکل میں ہوں گے تو خدا کی رحمت سمیٹنے میں آسانی رہے گی۔ یقین کیجئے ہم ایک عرصے تک اس تیقن کے ساتھ دعا مانگتے رہے اور ان لوگوں پر افسوس کرتے رہے، جو کھلے ہاتھوں سے دعا مانگتے تھے۔ ہم سمجھتے کہ ان کے کھلے ہاتھوں کی وجہ سے ان کے ہاتھ تو کچھ نہیں لگتا ہوگا۔ سب نیچے گر کے ضائع ہو جاتا ہوگا۔ عموماً ایسی دعا کا تصور سیاست دانوں کی افتتاحیہ تقریبات میں دیکھنے کو ملتا۔ اصل میںیہ تیقن تھا جو اپنی نہاد میں بڑی چیز ہے۔ کیا آپ نے اُس بچے کی بات نہیں سن رکھی جو مسجد میں والد کے ساتھ بارش کی دعا کے لیے جاتا ہے تو ساتھ چھتری بھی لے کے جاتا ہے تاکہ واپسی پر بھیگنے کی زحمت سے بچا جا سکے۔ اصل میں یہ اخلاقی قوت کی معراج ہے جو تیقن اور امید سے انسان کے جسم میں جنم لیتی ہے۔ سعادت حسن منٹو کا ایک افسانہ ہے ’’منظور‘‘۔ اس میں ایک بچے کے تیقن کو اخلاقی قوت دکھایا گیا ہے، جو ہسپتال میں فالج کی وجہ سے اپنے آخری سانس پورے کر رہا ہے۔ اُس کے ساتھ والے بیڈ پر ایک دل کا سنگین مرض مبتلا ایک مریض داخل ہوتا ہے، جس کے بچنے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔ یہ بچہ منظور اسے امید اور تیقن کی قوت فراہم کرتا ہے، جو اُس مریض کے پاس نہیں تھی۔ مریض منظور سے کہتا ہے کہ تم میرے لیے دعا کیا کرو کیوں کہ تم نہایت پاک اور صاف روح ہو، خدا تم جیسوں کی سنتا ہے۔ منظور اس کی اس خواہش کو پورا کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ایک بار خدا سے کہہ دیا، بار بار نہیں کہہ سکتا۔ اصل میں اس کے پاس خدا سے انکار والا وہ تجربہ موجودہی نہیں، جو اسے امید اور تیقن جیسی طاقت سے محروم کر دے۔

سچ پوچھیے تو اس نئے انسان کے پیدا ہوتے ہی بہت بڑی پیمانے پر اخلاقی اقدار کی قتل و غارت گری ہوئی اور ان میں سب سے بڑا قتل اسی ’اُمید‘ کا ہے۔ حال ہی میں مارک مینسن (Mark Manson) کی ایک کتاب شائع ہوئی، جس نے مغرب میں زندگی کے بنیادی اصولوں کو زیرِ بحث لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ’’کتاب امید‘‘ یعنی The Book about Hope۔ زندگی کے اس بحران کا سب کچھ مصنف نے ایک گالی میں سمیٹ لیا ہے؛ Everything is Fucked۔ مارک مینسن مغرب میں کرداری بحران کا ذمہ دار اس امید کو قرار دیتا ہے جو اب دم توڑ چکی ہے۔ اس کرداری طاقت کا قتل ’صلہ‘ جیسی لالچ نے انجام دیا۔ وہ کہتا ہے: امید کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ کسی صلے سے منسلک رہتی ہے۔ یہ مت کھائو، جنت میں جائو گے۔ کسی کو قتل نہ کرو ورنہ سزا پائو گے۔ محنت کرو اور پیسہ کمائو گے تا کہ سکون پاسکو وغیرہ وغیرہ۔ امید کے اس چکر سے باہر نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر عمل غیر مشروط ہو جائے۔ تم محبت کرو مگر محبت کی (ردعمل میں) امید نہ رکھو، ورنہ یہ سچی محبت نہ ہوگی۔ تم کسی کا احترام کرو مگر صلہ نہ مانگو ورنہ تمھارا احترام سچا نہ ہوگا۔ دیانت داری سے بات کرو خواہ کوئی تسلی دے یا نہیں، ورنہ تم اصل میں میں دیانت دار نہیں۔

یہاں امید ایک منفی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اصل میں یہ امید نہیں بلکہ صلے کی اُس خواہش کا اظہار ہے جو کسی بھی عمل کو ردعمل کی شکل میں دیکھتا تھا۔ بچہ اس لیے تیقن کو مضبوط ارادہ بنانے میں کامیاب ہوجاتا ہے، کیوں کہ اسے صلے کی پروا نہیں، اس کا خدا سے رشتہ تیقن کی دولت سے مزیّن ہے۔ اس کے بیچ کوئی لالچ یا خود غرضانہ مفاد نہیں۔ اخلاقی سطح پر یہ سب سے بڑی طاقت ہے جو کردار کو کسی بحران سے بچاتی ہے۔ مگر ہوا یہ کہ امید نے اُس عمل کو جدید انسان کا مرکزی مسئلہ بنا دیا جو ردعمل کا ’صلہ‘ مانگتا ہے۔ مارک مینسن اس ضمن میں معروف فلسفی کانٹ کو زیرِ بحث لاتا ہے۔ اس کی زندگی کا نقشہ کھینچتا ہے اور بتاتا ہے کہ کس طرح امید نے اُسے اخلاقی طاقت مہیا کیے رکھی۔ اُس نے کسی صلے کی لالچ کو مرکز بنانے کی بجائے صرف اپنے کام سے امید رکھی۔ وہ اس قدر اپنے کام تک محدود تھا کہ اسے اپنے اردگرد تک کی خبر نہ ہوتی۔ مارک مینسن نے اس کی زندگی کو میکانکی قرار دیا یعنی اپنی ذات میں ایک مشین کی طرح۔ ایک مشین جس طرح صلے کے خود غرضانہ ردعمل سے ناواقف ہوتی ہے، انسان کو بھی اسی طرح صرف اپنے وجود کے تیقن پر کلی انحصار کرنا چاہیے۔ جس طرح ایک بچہ اپنے تصورِ کائنات میں بہت واضح ہوتا ہے اور اپنی فطرت کے میکانکی نظام کو کسی لالچ سے دیکھنے کی بجائے اپنے کام اور جذبے کی طاقت سے دیکھتا ہے، کچھ اسی قسم کا رویہ کانٹ کی حیات میں مضمر تھا۔

یوں مصنف کانٹ کے خیالات کی روشنی میں مفاد اورانسان کے اندر ہر وقت امید کی جلتی لَو میں فرق سمجھتا ہے۔ یہ کسی خبر سے کم نہیں ہے کہ مارک مینسن مغرب میں ایک کردار کے بحران کا اعلان کرتا ہے۔ جدید تہذیب نے کرداری بحران کو راستہ دیا ہے جو ہر چیز کو عمل کے ردعمل کی شکل میں دیکھتا ہے۔ ایک وقت تھا کہ جب دائیں اور بائیں فکریں کردار کی ضامن ہوا کرتی تھیں۔ اسی کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ اور اشتراکی نظام ہائے معاشیات پورے پورے سماج کی کرداری تقسیم کر سکتے تھے۔ مگر اکیسویں صدی میں معاملہ یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔ مارک مینسن کے مطابق ’یہ محض آزادی اور برابری کا بحران بھی نہیں ہے۔ یہ سنجیدگی سے اور مفاد پرستی کا مقصدیت سے تصادم ہے۔‘

شروع میں ذکر ہوا تھا اخلاقی قوت سب سے بڑی قوت ہے، مگراب اس کا ٹکرائو اپنی ہم جنس قوت یعنی کسی دوسرے شخص کی اخلاقی قوت سے نہیں ہوتا۔ یوں یہ ایک زنگ آلودہ انسانی رویہ بنتا جا رہا ہے۔ جب تیقن اور اُمید جیسی انسانی اخلاقی قوت کو اپنے سامنے لالچ اور مفاد جیسے خود غرضیانہ رویوں سے سامنا رہے گا تو ان کا اخلاقی قتل ہوجائے گا، یوں پورا معاشرہ ایک اخلاقی بحران کا شکار ہو جائے گا۔ اس وقت سب سے بڑا بحران، فرد کاکرداری بحران ہے جس کی زد میں پورے معاشرے کا اخلاق اور کردار آ چکا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply