غامدی صاحب: میری ملاقاتیں اور خط کتابت (تیسری قسط) — عبدالمجید گوندل

0

مولانا حمیدالدین فراہی رحمتہ الله علیہ کے اصول تفسیر ‘نظم قرآن‘ کے تحت قائم شدہ زاویہ فراہی۔ الموردنے سورہ قدر کی جو تفسیر پیش کی ہے، اسے آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں۔

یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے کی ایک قدیم، معتبر اور معروف و مقبول تفسیر ابن کثیر سے بھی استفادہ کیا جائے جو کہ اپنے سے ما قبل تفاسیر کی جامع اور ان کی خامیوں سے پاک تصور کی جاتی ہے۔ یہ اس لیے بھی ضروری اور اہم ہے کہ اس کا دور تالیف آج کے منطق و فلسفہ کی بحثوں سے ابھی آلودہ نہ ہوا تھا۔ قرآن سمجھنے کے لیے ساری توجہ فطری طور پر صرف اور صرف قرآن و حدیث پر مرکوز رہتی تھی۔ اس احتیاط کے باوجود اس تفسیر میں رطب و یابس‘ دانستہ یا نادانستہ کہیں نہ کہیں دیکھنے کو ضرور مل جاتی ہے۔ سورہ القد کی تفسیر میں دسیوں صفحات انتہائ غیرفطری محض افسانوی اور دیو مالائی واقعات اور قصص سے عبارت ہیں۔ کتنے ہی صفحے حشو و زوائد سے مزین کیے گئے ہیں۔

ابن کثیر میں سورہ القدر کی پانچوں آیات کی ہر طرح کے زوائد کو چھوڑ کر اصل تفسیر‘ جو ابتدا میں ہی بیان کر دی گئی ہے‘ مترجم کے الفاظ میں یہاں درج کی جاتی ہے

“مقصد یہ ہے کہ الله تعالی نے قرآن کریم کو لیلہ القدر میں نازل فرمایا ہے‘ اسی کا نام لیلتہ المبارکہ بھی ہے‘
اور جگہ ارشاد ہے انا انزلنہ فی لیلہ مبارکہ اور یہ بھی قرآن سے ثابت ہے کہ یہ رات رمضان المبارک کے مہینے میں ہے‘ جیسےفرمایا شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ابن عباس وغیرہ کا قول ہے کہ پورا قرآن پاک لوح محفوظ سے آسمان اول پر بیت العزت میں اس رات اترا‘ پھر تفصیل وار واقعات کے مطابق بتدریج تئیس سال میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر نازل ہوا۔ پھر الله تعالی لیلت القدر کی شان و شوکت کا اظہار فرماتا ہے کہ اس رات کی ایک زبردست برکت تو یہ ہے کہ قرآن کریم جیسی اعلی نعمت اسی رات اتری‘ تو فرماتا ہے کہ تمہیں کیا خبر لیلتہ القدر کیا ہے؟ پھر خود بتاتا ہے کہ یہ ایک رات ایک ہزار رات سے افضل ہے۔“ “نسائ شریف میں بھی یہ روایت ہے چونکہ اس رات کی عبادت ایک ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے۔“ (لیکن صحاح ستہ میں ایسی کوئ روایت موجود نہیں جس میں یہ بیان کیا گیا ہو کہ اس رات کی عبادت ایک ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے۔ دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس رات کے تعیین میں جتنی بھی روایات بیان کی گئی ہیں وہ اس کے تعین میں مختلف الرائے ہیں۔ راقم)

اس رات میں نزول قرآن کے علاوہ “ اس میں تمام کاموں کا فیصلہ کیا جاتا ہے ‘ عمر اور رزق مقدر کیا جاتا ہے‘ جیسے اور جگہ ہے فیھا یفرق کل امر حکیم۔
سورہ القدرکی کلھم پانچ آیات کی ابن کثیر رحمتہ الله علیہ نے جتنی اور جو تفسیر بیان کی ہے وہ مندرجہ بالا جملوں میں سمیٹ دی ہے۔ سوائے ایک موقع کے‘ اس میں ایک بات کم نہ ایک بات زیادہ کہی گئی ہے۔ ایک ایک آیت کا جو معنی و مطلب پہلی نظر میں قاری کے ذہن میں آتا ہے اسے سیدھے صاف لفظوں میں سادہ و سلیس پیرائے میں ادا کر دیا گیا۔ ان جملہ آیات میں البتہ یہ بات قرآن نے کہیں بیان نہیں کی ہے کہ اس رات کی عبادت ایک ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے۔ یہ ایک ایسی زائد بات ہے جس کی کوئی سند قرآن و حدیث سے پیش نہیں کی گئی ہے۔

‘نظم قرآن‘ کے تحت قائم شدہ زاویہ فراہی۔ المورد نے سورہ قدر کی جو تفسیر پیش کی ہے۔ آپ پہلے ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ میرے خیال میں اس تفسیری نوٹ میں مولانا حمیدالدین فراہی رحمتہ الله علیہ کے اصول تفسیر ‘نظم قرآن‘ کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا ہے۔
ایڈیٹر ماہنامہ اشراق کو خط کے ذریعے یہ سوال بھیجا تھا کہ:
سورہ القدر کی آیت نمبر ٣ ( لیلہ القدر خیر من الف شھر: ترجمہ‘ شب قدر ایک ہزار مہینوں سےبہتر ہے‘)
کے معنی عام طور پر یہ بیان کیے جاتے ہیں کہ ‘شب قدر کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے‘۔ حالانکہ اس آیت میں ایسا کوئ لفظ موجود نہیں جس کا ترجمہ لفظ عبادت سے کیا جائے۔ اگر قرآن کا یہی مدعا ہے جو بعض مترجمین ومفسرین بیان کرتے ہیں تو زبان و بیان کے کس اصول کے تحت یہاں عبادت کا مفہوم مراد لیا جا سکتا ہے۔
امید ہے آپ اشراق میں اس کا جواب ضرور عنایت فرمائیں گے۔
بہر کیف مجھے بذریعہ ڈاک جو جواب موصول ہوا اس کا پہلا جملہ اور اختتامی الفاظ پڑھ کر ہی زاویہ فراہی۔ ۔ المورد کا انداز تفسیر و تاویل سمجھ میں آ گیا تھا۔ اور یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ مولانا حمیدالدین فراہی رحمتہ الله علیہ کے لیے ایسا لکھنا تو در کنار ایسا سوچنا بھی ان کے لیے نا ممکن ہوتا۔

جواب کا آغاز ملاحظہ فرمایے :
“ آپ نے درست سمجھا ہے کہ سورہ القدر کی آیت ٣ میں بظاہر کوئ لفظ ایسا نہیں ہے جس کا ترجمہ عبادت ہو سکے۔ “ اس بظاہر و بباطن کی بحث چھیڑنے کے بجائے اگر یہ لکھا جاتا کہ آیت میں واقعی کوئ لفظ ایسا نہیں ہے جس کا معنی عبادت ہو‘ تو کیا یہ حقیقت بیانی زیادہ بہتر نہ ہوتی؟

اسی طرح بحث کو سمیٹتے ہوے آخر میں فرمایا گیا ہے :
“یہی معاملہ لیلتہ القدر کا ہے۔ یہ تقدیر امور اور تقسیم امور کی رات ہے۔ اس رات میں کائنات اور اس کے اندر بسنے والے انسانوں کے بارے میں اہم فیصلے ہوتے ہیں۔ اس لیے ایک بندہ مومن کے لیے دانش مندانہ رویہ یہی ہے کہ اتنے اہم موقعے پر وہ اپنے پروردگار کے حضور اس حال میں رہے کہ وہ عبادت میں مشغول ہو۔ الله کا قرب حاصل کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ اس کا ذکر ہے اور ذکر کی بہترین صورت نماز ہے۔ نماز اصل عبادت ہے جس کے ذریعے سے بندہ اپنے پروردگار کی رفاقت میں جینے کا سلیقہ سیکھتا ہے۔ اس لیے اس آیت کے ترجمے میں بعض مترجمین نے عبادت کا ذکر کر دیا ہے۔“

یہاں بھی کوئی اصولی سند پیش کیے بغیر غلط العام اور بے بنیاد بات کو بطور دلیل اور ثبوت قرار دے دیا گیا ہے۔ مندرجہ بالا پیراگراف کے فقرہ “یہی معاملہ لیلتہ القدر کا ہے۔“ کا تعلق نماز‘ رمضان‘ حج اور نفلی عبادت سے غیر منطقی طور پر محض زور تخیل سے جوڑ دیا گیا ہے۔ یہ تمام عبادتیں ایام و اوقات کے ساتھ الله تعالی نے مقرر کر رکھی ہیں۔ اور ان کی ادائیگی کے طریقے بھی تفصیل سے بتا دیے ہیں۔ لیکن لیلتہ القدر میں عبادت کرنے کا حکم قرآن مجید نے دیا نہ ہی اسے ادا کرنے کا طریقہ بتایا ہے۔ اور نہ سیاق و سباق کی رعایت سے‘ نہ ہی نظم کلام کی رو سے نہ ادب جاہلی کی سند و نظیر سے اور نہ ہی زبان کے نظائر وشواہد سے استنباط لغت اور اوراستخراج معنی کی کاوشوں سے بھی کسی طور شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے کے معنی و مراد ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے کے اخذ و کشید ہوتے ہیں۔ تو پھر آخر یہاں لفظ ‘عبادت‘ لکھنے کا مصدر و ماخذ کہاں ہے؟ سوائے اس کے کوئی چارا نہیں کہ محض طبعزاد خیال آرائی کو اس کا ماخذ قرار دیا جائے۔

اب جب کہ سورہ القدر کی تفسیر کے سب پہلو واضح ہو کر سامنے آ چکے ہیں ادارہ زاویہ فراہی۔ ۔ المورد سے جو جواب موصول ہوا تھا اس پر اپنے تاثرات بھی قلم بند کرنے کو جی چاہتا ہے۔

میرے سوال کے جواب میں ادارہ زاویہ فراہی۔ ۔ المورد سے جو جواب موصول ہوا تھا وہ ادب و انشا کا اعلی نمونہ تھا۔ اس پہلو سے واقعی قابل داد ہے۔ منطقی استدلال اپنے عروج کو چھو رہا ہے۔ اس پر مستزاد شاعرانہ سخن آرائیاں جنہیں دیکھ دیکھ کر شاعری سر دھنتی ہے۔ ایسی دور دور کی کوڑیاں زور بیان سے موتی بنا بنا کر زیب عبارت کی گئ ہیں جس پر ‘خامہ انگشت بدنداں گہ اسے کیا لکھیے‘۔ اور مولانا فراہی رح کی روح زبان حال سے کہہ رہی ہو گی‘ ‘ ناطقہ سر بہ گریباں کہ اسے کیا کہیے‘۔

یہاں جی چاہتا ہے کہ میر انیس کے یہ اشعار ادارہ زاویہ فراہی — المورد کی کاوش قلم پر بطور تحسین نذر کروں:
تعریف میں چشمے کو سمندر سے ملا دوں
قطرے کو جو دوں تاب تو گوہر سے ملا دوں
ذرے کی چمک مہر منور سے ملا دوں
کانٹوں کو نزاکت میں گل تر سے ملا دوں
گلدستہ معنی کو نئے ڈھنگ سے باندھوں
اک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں

زاویہ فراہی۔ المورد نے سورہ قدر کی جو تفسیر پیش کی ہے اور اس کے بارے میں جو ہمارے تاثرات ہیں وہ اوپر آپ نے ملاحظہ فرما لیے ہیں۔ اب خیال ہے کہ سورہ القدر پر اس تفسیر کی مدد سے ذاتی طور پر غوراور تدبر کیا جائے۔ سب سے پہلے سورہ القدر کے متن کو نیچے درج کیا گیا ہے اور پھر دو جید تفاسیر کے تراجم کی روشنی میں اس کے مدعا و مفہوم کو جاننے کی کوشش کی جائے گی۔

سورہ القدر:
انا انزلنہ فی لیلتہ القدر١وما ادرک ما لیلتہ القدر ٢ لیلتہ القدر خیر من الف شھر ٣ تنزل الملکتہ والروح فیھاباذن ربھم من کل امر ٤ سلم ھی حتی مطلغ الفجر

سورہ القدر کے دو معتبر تراجم ذیل میں درج کیے جاتے ہیں:
ہم نے اس ( قرآن ) کو شب قدر میں نازل کیا ہے۔ اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ فرشتے اور روح اس میں اپنے رب کے اذن سے ہر حکم لے کر اترتے ہیں۔ وہ رات سراسر سلامتی ہے طلوع فجر تک۔“ تفہیم القرآن۔

“ ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے ! شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس میں فرشتے اور روح اترتے ہیں‘ ہر امر میں‘ اپنے رب کی اجازت کےساتھ۔ ١- ٤
وہ یکسر امان ہے ! یہ صبح کے نمودار ہونے تک۔ ٥ تدبر قرآن۔

اس بحث کے بعد سورہ القدر کی مندرجہ بالا تاویلات کے مطالعہ کے بعد یہ مناسب موقع ہے کہ صاحب تفہیم القرآن سے بھی استفادہ کیا جائے۔ انہوں نے سورہ قدر کی آیات کی ترجمانی اور شرح و تفسیر وہ قبول کی ہے جن کی قرآن نے اپنے سیدھے صاف الفاظ میں اپنی بات بیان کی ہے۔ انہوں نے ذرہ برابر بھی جذبات کو اس تفسیر میں در آنے کی راہ باز نہیں ہونے دی۔ نہ ہی ما ورائے قرآن کسی بات کو جگہ دی ہے۔ بطور نمونہ موضوع سے متعلق تفہیم القرآن کے چند اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں جس سے معاملے کی اصل صورت کسی تکلف کے بغیر صاف نکھر کر سامنے آجاتی ہے:
“(سورہ القدر) کا موضوع لوگوں کو قرآن کی قدر و قیمت اور اہمیت سے آگاہ کرنا ہے۔ ۔ ۔ اس سورہ میں لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ وہ کس تقدیر ساز رات میں نازل ہوئی کیسی جلیل القدر کتاب ہے اور اس کا نزول کیا معنی رکھتا ہے۔

یہ کوئی معمولی رات عام راتوں جیسی نہیں بلکہ یہ قسمتوں کے بنانے اور بگاڑنے کی رات ہے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ یہ بڑی قدر و منزلت اور عظم و شرف رکھنے والی رات ہے۔ اس کی تشریح یہ کی گئی ہے کہ یہ ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ جس رات کو اس کے نزول کا فیصلہ کیا گیا وہ اتنی خیر و برکت کی رات تھی کہ کبھی انسانی تاریخ کے ہزار مہینوں میں بھی انسان کی بھلائی کے لیے وہ کام نہیں ہوا تھا جو اس رات میں کر دیا گیا۔ مفسرین نے بالعموم اس کے معنی یہ بیان کیے ہیں کہ اس کا عمل خیر ہزار مہینوں کےعمل خیر سے افضل ہے۔ اہل عرب کا قاعدہ تھا کہ بڑی کثیر تعداد کا تصور دلانےکے لیے وہ ہزار کا لفظ بولتے تھے۔ اس لیے آیت کا مطلب یہ ہے کہ اس ایک رات میں خیر اور بھلائی کا اتنا بڑا کام ہوا کہ کبھی انسانی تاریخ کے کسی طویل زمانے میں بھی ایسا کام نہ ہوا تھا۔ آیت کے الفاظ یہ نہیں ہیں کہ العمل فی لیلتہ القدر خیر من العمل فی الف شھر“

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply