شاعر اور مشاعرہ: کامیاب علاج ۔۔۔۔ حسن غزالی

0

مشاعرہ لوٹنے والے تو بہت سے شاعر ہیں مگر مشاعرے کی رونقیں لوٹنا صرف یکتا دہلوی کا کمالِ فن تھا۔ وہ جب پڑھنے بیٹھتے تھے تو باذوق افراد کو چپ لگ جاتی تھی، اور عوام النّاس آپس میں بات چیت شروع کردیتے تھے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ بہت سے شعرا نے اپنی غزلیں پھاڑ دیں۔ غالباً انھیں معلوم تھا کہ اب ہماری باری تو نہیں آئے گی، اور حقیقت بھی یہی تھی۔ ان کے بعد کسی کا چراغ نہیں جلتا تھا کیونکہ صبح ہوجاتی تھی، اور یہ قریب قریب روایت بن گئی تھی کہ مشاعرے کا آغاز کوئی بھی شاعر کرے____ اختتام یکتا ہی کرتے تھے۔ ان کے پڑھنے کا ایک مخصوص انداز تھا۔ وہ “الف” پر ختم ہونے والی غزل سے شروع کرتے اور “ے” پر ختم ہونے غزل پر ختم کرتے تھے۔ اس کا فائدہ یہ تھا کہ ہر مشاعرے میں ان کا ایک دیوان تیار ہوجاتا تھا۔ مشاعروں کا یہ سلسلہ یکتا کے نقطہء نظر سے کامیابی سے چل رہا تھا کہ ایک واقعے نے بزمی شعرا کو بھی رزمی بنادیا۔

ہوا یہ کہ ایک بزرگ شاعر جو بسترِ مرگ سے مشاعرہ گاہ میں لائے گئے تھے اور توقع یہی تھی کہ یہ ان کا آخری مشاعرہ ہوگا وہ بھی دیگر شعرا کی طرح یکتا کو سن ہی سکے____ کچھ سنا نہ سکے۔ اس مشاعرے کے فوراُ بعد مجروحینِ تیغِ غزلِ یکتا کا اجلاس ہوا، اور یہ قرارداد منظور کی گئی کہ ایک شاعر زندگی میں اوسطاً جتنا پڑھتا ہے یکتا اس سے کئی گنا زیادہ پڑھ چکے ہیں اس لیے کوٹہ سسٹم کے تحت اب ان کا کسی مشاعرے میں پڑھنا غیرقانونی ہے، اور اب تمام شاعروں کا یہ جمہوری حق ہے کہ آئندہ ہونے والے مشاعروں میں یکتا کی غیر موجودگی کو ممکن بنائیں۔

اس آزمائش کا وقت جلدی آگیا۔ پس مجروحین کا ایک گروہ منتظم سے ملا اور اسے یکتا کا نام مدعو شعرا کی فہرست سے خارج کرنے کا پہلے حکم دیا، پھر سمجھایا، اور آخر میں التجا کی۔ مجبور ہوکر اپنے نذرانوں میں نصف رعایت کا وعدہ بھی کیا، مگر منتظم کی گردن کو نفی میں ہلنے سے نہیں روکا جاسکا۔ اس نے بتایا، “کل یکتا آئے تھے اور کہ گئے تھے کہ اگر میرا نام فہرست میں نہ ہوا تو تم پر ایک قصیدہ لکھ کر شام کے اخبارات میں چھپوا دوں گا۔” مجروحین نے یہ سنا، ایک دوسرے کو دیکھا، اور پھر ضبط کا یارا نہیں رہا۔ اس مشاعرے میں بھی یکتا نے اشعار کی بارش کردی اور پھر صورتِ حال کچھ ایسی ہوئی کہ جو شعر جس پر پڑتا تھا اسے گھر یاد آتا تھا۔ اوّل اوّل تو یہ عالم تھا کہ ایک ایک شعر پر دو دو سامعین اٹھتے تھے اور آخر میں شعرا بھی اپنی بیاضوں کو سینے سے لگائے رخصت ہوئے۔

اس مشاعرے کے بعد مجروحینِ یکتا کا اجلاس باقاعدگی سے ہونے لگا۔ یہاں اجلاس پر اجلاس ہوتے رہے اور وہاں یکتا غزلوں کے پلازے تعمیر کرتے رہے۔ کئی مشاعرے گزر گئےاور کتنی ہی غزلیں لکھی کی لکھی رہ گئیں۔ مشاعرے میں ایک غزل سنانا تو دور کی بات ہے، بہت سے شاعر ایک شعر سنانے کو ترس گئے۔ اس مایوسی کے عالم میں ایک بزرگ شاعر نسیم لکھنوی کی ایک معصوم خواہش نے سب کو تڑپا دیا کہ میں مرنے سے پہلے کسی مشاعرے میں ایک غزل پڑھنا چاہتا ہوں۔ ایک دن اجلاس میں مجروحین شعرا ایک دوسرے کو اپنی غزلیں سنا کر اپنا غم غلط کر رہے تھے کہ ٹی وی کا نمائندہ آیا۔ جس سے پتا چلا کہ ٹی وی کو ایک عظیم الشّان مشاعرہ کرانے کا شوق ہوا ہے۔ کئی شاعروں کے دل کی کلیاں کِھل گئیں، مگر پھر ان کے تصور میں یکتا کا سایہ لہرا گیا، جس پر کئی شعرا نے دل گرفتہ ہوکر معذرت کرلی۔ مگر نسیم لکھنوی نے نمائندے کو بلایا اور تخلیے میں کچھ بات کی اور پھر سب کی طرف سے دعوت قبول کرلی۔

مشاعرے کا اہتمام ٹی وی نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر کیا تھا۔ ہال میں چارسمت رنگارنگ روشنی تھی۔ اسٹیج کے گرد اور مناسب جگہوں پر گملے رکھے ہوئے تھے۔ ڈیکورشن ٹی وی کے اندروں کے برعکس بےداغ اور ظاہر کی طرح شفاف اور روشن تھا۔ اس پر ستم یہ کہ ٹی وی کی بہت سی ستارہ جبیں اور گل پیرہن شریکِ محفل تھیں جس سے شاعروں کے دل منوّر اور دماغ معطّر ہوئے جارہے تھے۔ اس رنگ بکھیرتی، خوشبو برساتی شب میں کئی شاعر بہک گئے یعنی دو تین کی بجائے پانچ پانچ چھے چھے غزلیں پڑھ گئے۔ ایک ابھرتے ہوئے نوجوان شاعر نے تو کمال کردیا۔ اس نے ایک غزل ماحول اور موقعے کی رعایت سے فی الفور کہی اور کئی شوخ کلمات اور نازک مسکراہٹوں کی داد حاصل کی۔ یکتا یہ سب دیکھ رہے تھے اور ان کی زبان منہ سے، دل سینے سے، اور بیاض ہینڈ بیگ سے نکلی جارہی تھی۔

انھوں نے ایک آزمودہ طریقہ اختیار کیا۔ انھوں نے اسٹیج سیکرٹری کو پرچی بھجوائی کہ میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے اس لیے براہِ کرم مجھے پہلے پڑھوادیا جائے۔ کچھ دیر بعد ان کے پاس ایک لڑکی آئی اور بہت ادب سے عرض کی کہ آپ سے ایم ڈی کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں۔ یکتا ایم ڈی کے پاس پہنچے تو اس نے بڑی فکر اور تشویش سے انھیں دیکھا۔ کئی بار ان کی طبیعت معلوم کی اور پھر منع کرنے کے باوجود ڈاکٹر کو بلا لیا۔ ڈاکٹر نے ان کا خاصی دیر معائنہ کیا، پھر اعصابی کمزوری تشخیص کی اور کہا میں آپ کو ایک ہلکا سکون بخش انجکشن لگا دیتا ہوں جس سے آپ مشاعرہ پڑھنے کے لیے چند منٹ میں فٹ ہوجائیں گے۔ یکتا نے بچنے کی بہت کوشش کی مگر ڈاکٹر کے اصرار اور ایم ڈی کی درخواست کے سامنے بےبس ہوگئے۔ انجکشن لگنے کے چند منٹ بعد یکتا کے لیے قدم تو کیا پلکیں اٹھانا بھی مشکل ہوگیا۔

دو ڈھائی گھنٹے کی خوش گوار نیند کے بعد جب وہ مشاعرہ گاہ میں پہنچے تو نسیم لکھنوی مشاعرہ لوٹ رہے تھے اور ان کے دیکھتے ہی دیکھتے انھوں نے سارا مشاعرہ لوٹ لیا۔ ان کے فوراُ بعد ناظم نے یکتا کو دعوت دی تو چراغوں کی روشنی ختم ہوا چاہتی تھی اور محفل کی ویرانی کہے دیتی تھی کہ یکتا پڑھ چکے ہیں۔ انھوں نے دوتین شعر ہی پڑھے ہوں گے کہ ان کا دل بھر آیا اور پھر انھوں نے ناسازیء طبع کی بنا پر مزید پڑھنے سے معذرت کرلی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply