تہتر سال سے اسرئیلی مظالم کا شکار، نہتے فلسطینی عوام ۔۔۔۔ وحید مراد

0

کسی قوم پر مظالم ڈھانےکی ایک صورت تو یہ ہوتی ہے کہ اس پر جنگ مسلط کی جائے، نوجوانوں کو مار دیا جائے یا پابند سلاسل کر دیا جائے، عورتوں کو بیوہ اور بچوں کو یتیم و بے آسرا کر دیا جائے۔ لیکن دیگر صورتیں یہ بھی ہوتی ہیں کہ کسی قوم کواس علاقے سے بے دخل کر دیا جائے جہاں وہ صدیوں سے آباد ہو اور اسکے تمام وسائل پر قبضہ کر لیا جائے۔ اسکی بستیوں کو مسمار کر کے وہاں جارح قوم کے لوگوں کو آباد کیا جائے اور انہیں کسی ایسے علاقے میں دھکیل دیا جائے جہاں زندگی کی کوئی بنیادی سہولت میسر نہ ہو۔ اور پھر چاروں طرف سے اس قوم کا محاصرہ کرکے دنیا بھر سے رابطہ منقطع کر دیا جائے تاکہ انہیں خوراک اور علاج کی امداد بھی میسر نہ آ سکے۔ فلسطینی وہ مظلوم قوم ہیں جن پر اسرائیل کی ناجائزریاست، تہتر سال سے یہ سارے مظالم ڈھا رہی ہے۔ ہر آنے والی رات کو فلسطینی عوام کے ساتھ ظلم و بربریت کا نیا کھیل کھیلا جاتا ہے اور ہر طلوع ہونے والی صبح کو ان پر قتل و غارت کا نیا حربہ آزمایا جاتا ہے۔ فلسطین کی سرزمین پر رہنے والوں نے ظم و ستم کی جو داستانیں دیکھی ہیں وہ اس کرہ ارض پرشاید ہی کسی اور قوم نے دیکھی ہونگی۔ اب تک معصوم بچوں، جوانوں، عورتوں، اور بوڑھوں سمیت نہ جانے کتنے افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں لیکن عالمی ضمیر پھر بھی بے حس اورخاموش ہے۔ سامراجی طاقتیں ایک طرف اسرائیل کو مالی اور فوجی امداد مہیا کرکے موقع فراہم کرتی ہیں کہ وہ فلسطینیوں پر نہ ختم ہونے والی جنگ مسلط کرے، انکی آبادیاں مسمار کرکے وہاں یہودی بستیاں بسائے اور دوسری طرف دنیا کو بیوقوف بنانے کیلئے آئے روز مذاکرات و امن معاہدات کا ڈھونگ رچاتی ہیں۔

برطانوی اور فرانسیسی سامراج نے پہلی جنگ عظیم میں سلطنت عثمانیہ کی شکست کے بعد اسکےعلاقوں پر تسلط قائم رکھتے ہوئےلیگ آف نیشنز کے ذریعے اس کےصوبوں کو قومی ریاستوں کی شکل دے دی تھی جو آج عراق، شام اور لبنان کی شکل میں موجود ہیں۔ برطانیہ نے فلسطین اور دریائے اردن کے علاقے پر اپنا قبضہ برقرار رکھنا ضروری سمجھا کیونکہ نہر سویز اور فلسطینی ساحل ایشیاء اور افریقہ کو مغربی دنیا سے جوڑتے ہیں اور مشرقی اقوام کے سستے خام مال کی مغربی دنیا کی صنعتوں تک ترسیل کیلئے اہم گزرگاہ ہیں۔ اسی زمانے میں یورپ میں یہودیوں سے کی جانے والی نفرت اورمظالم اپنے عروج پر پہنچے اور ان کی اکثریت قتل و غارت سے تنگ آکر امریکہ کی طرف نقل مکانی کرنے لگی۔ اس سلسلے کو روکنے کیلئے انہیں فلسطین کی سرزمین پر بسانے اور یہودی ریاست کے قیام کا منصوبہ بنایا گیا۔ اسکا ایک مقصد یہ بھی تھاکہ یہ ریاست ہمیشہ مقامی باشندوں کے ساتھ حالت جنگ میں رہتے ہوئے مغربی طاقتوں کی محتاج رہے اورمغربی طاقتیں یہاں کےوسائل سے اپنے مفادات حاصل کرتی رہیں۔

پہلی جنگ عظیم کے موقع پر ڈاکٹر وائز مین (یہودیوں کی قومی وطن تحریک کا روح رواں) نے لارڈ آرتھر جیمز بالفور سے ‘بالفور پروانہ’ حاصل کیا تھا جس کے تحت انہیں فلسطیں کی سرزمین پر فلسطینی عوام سے پوچھے بغیر آباد ہونے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس وقت یہودیوں کی جو آبادی فلسطین میں بسائی گئی اسکی تعداد کل آبادی کا پانچ فیصد بھی نہیں تھی۔ 1917 میں یہودی آبادی 25 ہزار سے بڑھ کر 38 ہزار اور 1922 سے 1939تک یہ تعداد ساڑھے چار لاکھ تک پہنچ گئی۔ جنگ عظیم دوم کے زمانے میں ہٹلر کے مظالم سے بھاگنے والے لاکھوں یہودی فلسطین میں داخل ہوئے۔ صیہونی ایجنسی کے ذریعے قائم کی گئی مسلح تنظیموں نے مار دھاڑ سے عربوں کو بھگانے اور انکی جگہ یہودیوں کو بسانے میں جو مظالم ڈھائے وہ ان مظالم سے کم نہ تھے جو نازیوں نے یہودیوں پر کیے تھے۔

1947ء میں برطانوی حکومت نے فلسطین کا مسئلہ اقوام متحدہ میں پیش کیا اور نومبر 1947ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کو یہودیوں اور عربوں کے درمیان تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ تقسیم کی جو تجویز امریکی ہتھکنڈوں سے پاس کرائی گئی اس کی رو سے فلسطین کا 55 فیصد رقبہ 33 فیصد یہودی آبادی کو اور 45 فیصد رقبہ 67 فیصد عرب آبادی کو دیا گیا اور بیت المقدس کو بین الاقوامی حیثیت دی گئی۔ لیکن یہودی اس تقسیم سے راضی نہ ہوئے اور قتل و غارت گری کے ذریعےعربوں کو نکالنا اور ملک کے زیادہ سے زیادہ حصے پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ صیہونی قیادت کو اسرائیل کے ایک کمزور ریاست ہونے کا خوف تھا جسکی اکثریت فلسطینیوں اور اقلیت یہودیوں پر مشتمل تھی۔ اس ریاست کے شمالی اور جنوبی حصوں کا رابطہ دس کلومیٹر چوڑی پٹی پر مشتمل تھا۔ کسی بھی جنگ کی صورت میں اس ریاست کو مغربی امداد پہنچنے سے قبل ہی تباہ و برباد ہونے کا خطرہ موجود تھا۔ اس لئے صیہونی قیادت نے 1948 میں اس ریاست میں توسیع کی غرض سے فلسطینیوں پر جنگ مسلط کی جس کو عرب اسرائیل جنگ کا نام دیا جاتا ہے۔ اس جنگ میں اسرائیل نے فلسطینیوں پر ظلم کےپہاڑ توڑ ڈالے، ہزاروں معصوم فلسطینیوں کی جان لی، لاکھوں کو بے دخل کیا اور انکی زمینوں پر یہودی ریاست تعمیر کی۔

14 مئی 1948 کو عین اس وقت جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی فلسطین کے مسئلہ پر بحث کر رہی تھی، یہودی ایجنسی (یہودیوں کی مرکزی تنظیم) نے رات کے دس بجے تل ابیب میں اسرائیلی ریاست کے قیام کااعلان کیا۔ سب سے پہلے امریکہ اور روس نے اس ریاست کو تسلیم کیا حالانکہ اس وقت تک اقوام متحدہ نے یہودیوں کو فلسطین میں اپنی قومی ریاست قائم کرنے کی باقاعدہ اجازت نہیں دی تھی۔ اس اعلان کے وقت تک 6 لاکھ سے زیادہ عرب بے گھر کیے جا چکے تھے اور اقوام متحدہ کی تجویز کے بالکل خلاف بیت المقدس کے آدھے سے زیادہ حصے پر اسرائیل قبضہ کر چکا تھا۔ عرب ممالک نےاس ریاست کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور مصر، شام، اردن، لبنان اور عراق کی افواج نے اسرائیل پر حملہ کر دیا۔ یہ جنگ 1949 کے امن معاہدوں کے تحت ختم ہو ئی اور 11 مئی 1949 کو اسرائیل اقوام متحدہ کا رکن بنا لیا گیا۔ اسرائیل نے اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے مزید دس لاکھ یہودی تارکین وطن کو آباد کیا اورایک سریع الحرکت فوج تیار کرتے ہوئے نئے آنے والوں کے لیے فوجی خدمات دینا لازمی شرط قرار دیا۔

مذکورہ یہودی ایجنسی سے اردن کے شاہ حسین کے دادا شاہ عبداللہ کے خفیہ روابط تھے۔ انھوں نے 1948 میں پہلے سے طے شدہ برطانوی انخلاء کے بعد زمین کو آپس میں بانٹ لینے کیلئے گٹھ جوڑ کر رکھا تھا۔ 1951 میں ایک فلسطینی قوم پرست نے شاہ عبداللہ کو بیت المقدس کی الاقصیٰ مسجد میں ہلاک کر دیا۔ اسکے ایک سال بعد شاہ حسین بادشاہ بنے۔ اس وقت غرب اردن کی اکثریتی آبادی فلسطینی پناہ گزینوں پر مشتمل تھی۔ 1955 میں اسرائیل نے غزہ اور اردن کی آبادیوں پر چھاپہ مار حملے کئے جس سے بے شمار فلسطینی مسلمان شہید ہوئے۔ اسرائیلی فوجی کارروائی پر فلسطینیوں میں خوب شور شرابہ ہوا۔ شاہ حسین کافی عرصےتک اسرائیل سے خفیہ مذاکرات کرتے رہے لیکن اسرائیل اپنی کاروائیوں سے باز نہیں آیا۔ جب شاہ حسین کو یقین ہو گیا کہ غم اور غصے کا شکار فلسطینی ان کا تخت الٹ دیں گے تو انہوں نے غرب اردن میں مارشل لاء نافذ کر دیا جس سے فلسطینی عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔

بعد ازاں 1970 میں بھی اردن کے شاہ نےپاکستانی برگیڈئیر ضیاء الحق کی قیادت میں فلسطینی مہاجرین کا قتل عام کروایا جواس وقت تربیتی مشن پر اردن میں تعینات تھے۔ شام نے اس میں مداخلت کی لیکن مغربی طاقتوں کے ڈر کی وجہ سے اردن سے جنگ نہیں کی۔ ستمبر 1975ء میں اردن کی شاہی افواج نے یہاں پر مقیم فلسطینیوں کا قتل عام کیا اور انہیں لبنان میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔

1956 میں اسرائیل نے برطانیہ اور فرانس کے ساتھ ایک خفیہ معاہدہ کر کے مصر پر حملہ کیا اور کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ روس اور امریکہ کی وجہ سے اقوام متحدہ نے نہ صرف اسرائیل کو جارح ملک قرار دیا بلکہ اسے ان علاقوں سے نکل جانے پر مجبور کر دیا جن پر یہ قبضہ کر چکا تھا۔ اسی دوران سویت یونین نے مصر کو جدید فضائی طیارے فراہم کیے۔ اسکے مقابلے میں اسرائیل نے بھی جدید اسلحہ و جنگی ٹیکنالوجی کےحصول کا منصوبہ بنایا۔ اسرائیل کے امریکہ کے ساتھ قریبی دوستی تھی لیکن اس وقت تک یہ امریکی دفاعی امداد حاصل کرنے والا سب سے بڑا ملک نہیں بنا تھا۔ 1960 میں اسرائیل نے فرانس سے طیارے اور برطانیہ سے ٹینک حاصل کیے اور 1967 میں جوہری ہتھیاروں کے حصول کی بھی کوشش کی۔

5 جون 1967 کو اسرائیل نے امریکہ اور کئی دیگر ممالک کی پشت پناہی سے مصر، اردن اور شام پر حملہ کیا اور غزہ، صحرائے سینا، مشرقی بیت المقدّس، گولان کی پہاڑیوں اور دریائے اُردن کے مغربی علاقہ پر قبضہ کر لیا۔ اسرائیلی ہوائی جہازوں نے مصر کے ہوائی جہازوں کو زمین پر ہی تباہ کر دیا۔ 10 جون 1967 کو اقوام متحدہ نے ایک قرار داد 242 کے ذریعہ اسرائیل کو تمام مفتوحہ علاقہ خالی کرنے کو کہا جس پر آج تک مکمل طور پر عمل نہیں کیا گیا۔ اس جنگ کے بعد مزید پانچ لاکھ فلسطینیوں کو اپنے ملک فلسطین سے مصر، شام، لبنان اور اُردن کی طرف دھکیل دیا گیا، اور ان کا جانی، مالی اور اقتصادی استحصال کیا گیا۔

اس جنگ میں عرب افواج کے 21 ہزار فوجی ہلاک، 45 ہزار زخمی اور 6 ہزار قیدی بنالئے گئے اور 400 سے زائد طیارے تباہ ہوئے۔ جبکہ اس کے مقابلے اسرائیل کے 779 فوجی ہلاک، 2563 زخمی اور 15 قیدی بنالئے گئے۔ اسرائیل نے بیت المقدس پر قبضہ کر لیا، عالمی صیہونی تنظیم نے مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل تعمیر کرنے کیلئے خصوصی فنڈ کا اجراء کیااور اس کے ساتھ ہی مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مسجد اقصیٰ کے دروازے یہودیوں کے لئے کھولے گئے، وہ اپنے کتوں کو ساتھ لے کرمسجد اقصیٰ میں جوتوں سمیت گھومنے لگے۔

اس جنگ کے بعد اسرئیل، مصر اور شام کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے لیکن بے نتیجہ ثابت ہونے پر مصر اور شام نے 6 اکتوبر 1973 میں اسرائیل پر حملہ کر دیا۔ یہ حملہ کامیاب رہا، شام نے گولان کی پہاڑیوں پر اور مصر نے صحرائے سینا میں پیش قدمی کی۔ اگر امریکہ اسرائیل کی بھر پور امداد نہ کرتا تو شاید اس جنگ کے نتیجے میں فلسطین کامسئلہ حل ہو چکا ہوتا۔ امریکہ بظاہر جنگ میں حصہ نہیں لے رہا تھا مگر اس کا طیارہ بردار بحری جہاز سینائی کے شمالی سمندر میں ہر طرح سے لیس موجود تھا اس کے راڈاروں اور ہوائی جہازوں نے اسرائیل کے دفاع کے علاوہ مصر میں پورٹ سعید کے پاس ہزاروں اسرائیلی کمانڈو اتارنے میں بھی رہنمائی اور مدد کی۔ اسی زمانے میں پاکستانی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے شامی فضائیہ کی مدد کیلئے پاکستانی پائلٹوں کا دستہ بھیجا تھا۔ 24 اکتوبر 1973ء کو امریکہ اور روس نے جنگ بندی کرادی اور اقوام متحدہ کی امن فوج نے چارج سنبھال لیا۔ 18 جنوری 1974ء کو اسرائیل نہر سویز کے مغربی کنارے سے واپس چلا گیا۔ مذاکرات میں اسرئیل کا پلڑا بھاری رہا اور امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کی وجہ سے انور سادات اپنے تمام اصولوی موقف سے جن میں فلسطینی علاقوں کی آزادی بھی شامل تھی، پیچھے ہٹ گئے اور صحرائے سینا کی واپسی کی شرط پر امن معاہدہ تسلیم کر لیا۔ انور سادات نے نہر سویز کے حوالے سے اضافی مراعات بھی دے دیں۔ اس پر حافظ الاسد ناراض ہو گئے اور مصر سے تعلقات ختم کرلئے۔

نومبر 1977ء میں مصر کے صدر انور السادات نے اسرائیل کا دورہ کیا اور 26 مارچ 1979 کو مصر اور اسرائیل نے امن معاہدے پر دستخط کئے۔ دونوں ممالک میں سفارتی تعلقات قائم ہونے کے تین سال بعد اسرائیل نے مصر کو صحرائے سینا کا علاقہ واپس کر دیا۔ جولائی 1980 میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم سمیت پورے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیدیا۔ 1981 میں اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں کو بھی اسرائیل کا حصہ قرار دیا حالانکہ بین الاقوامی طور پر اس فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ 7 جون 1981 کو اسرائیلی جہازوں نے بغداد کے قریب عراق کا ایک ایٹمی ری ایکٹر تباہ کیا۔ 6 جون 1982 کو اسرائیلی فوج نے تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) کی مرکزیت کو تباہ کرنے کے لئے لبنان پر حملہ کیا اور مغربی بیروت پر تباہ کن بمباری کے بعد پی ایل او نے شہرخالی کر دیا۔

9 اپریل 1980کو یہودی راہبوں کے ایک گروپ نے معبد کوہ(ٹیمپل ماؤنٹ) پر قبضہ کرنے کے لئے ایک کانفرنس کی۔ 30 مارچ 1982 میں مسلم اوقاف کے ذمہ داروں نے اسرائیل کو خطوط لکھ کر ان حرکتوں سے باز رہنے کا کہا۔ 11 اپریل 1982 ایلن گڈ نامی ظالم اسرائیلی فوجی نے اپنے ایم۔ 16 ایزالٹ رائفل سے فائرنگ کرکے بیشمار لوگوں کو قتل اور زخمی کیا۔ مارچ 1983 میں یروشلم کا اندرونی دروازہ کھدائی کرکے منہدم کیا گیا۔ اگست 1986 میں یہودی راہبوں نے حرم میں عبادت کرنے اور وہاں ایک صومعہ بنانے کا مطالبہ کیا بعد ازاں اسرائیلی ہائی کورٹ نے اسکی اجازت دے دی جس سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی اور پوری دنیا میں احتجاج ہوئے۔ 12 مئی 1988 کواسرائیلی سپاہیوں نے مسلمانوں کے پر امن احتجاج پر حرم کے سامنے فائرنگ کر دی جس سے 100 کے لگ بھگ فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے۔ 8 اگست 1990کو اسرائیلی فوجیوں نے مسجد اقصی میں قتل عام کیا جس سے بے شمار نمازی شہید اور زخمی ہوئے۔

16ستمبر 1982میں لبنان کے عیسائی شدت پسندوں نے اسرائیل کی مدد سے دو مہاجر کیمپوں میں گھس کر سینکڑوں فلسطینیوں کو ہلاک کیا۔ اس سفاکانہ کارروائی پر اسرائیل کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے ہوئے۔ 1980تا 1988 عراق ایران جنگ سے فلسطینی مزاحمتی تحریک کو نقصان پہنچا۔ اس طویل جنگ سے نہ صرف دونوں ملک تباہ ہوئے بلکہ عرب ملکوں کے سامنے بھی ایک سے زیادہ سیاسی مسائل کھڑے ہو گئے اور دوسری طرف تحریک مزاحمت فلسطین کی مالی اعانت میں بھی کمی واقع ہوئی۔

1988 میں اسرائیل نے جنوبی لبنان میں کارروائی کی اور اسی سال نومبرمیں فلسطینی نوجوانوں نے اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمتی مہم “پہلی انتفادہ” کا آغاز کیا۔ حماس بھی اس مزاحمتی تحریک میں شامل تھی اور غزہ و غربی کنارے میں مظاہرے ہوئے۔ اگلے چھ سال میں اس تحریکی سلسلے کو زیادہ مربوط بنایا گیا، اس تحریک نےعرب ریاستوں کے علاوہ بین الاقوامی طور پر توجہ حاصل کی اور مسئلہ فلسطین ایک مرتبہ پھر بین لاقوامی سطح پر نمایاں ہو ا۔ اسی سال اقوام متحدہ نے اپنی قرار دادنمبر 181کے ذریعے فلسطین کی تقسیم کا اعلان کیا۔ اس قرار داد کے مطابق فلسطین کے ایک حصے پر عرب اور دوسرے پر یہودیوں کا حق تسلیم کیا گیا۔ اس قرار داد میں مہاجر فلسطینیوں کی وطن واپسی کے علاوہ تمام اہم مطالبات کو نظر انداز کر دیا گیا۔

1991 کے اوائل میں، جنگ خلیج کے دوران عراق نے اسرائیل کو کئی سکڈ میزائلوں کا نشانہ بنایا مگر کویت پر عراقی قبضہ، فلسطینی تحریک مزاحمت کیلئے نقصان دہ ثابت ہوا۔ بعد ازاں سویت یونین کے بکھرنے سے مغرب کی توجہ اپنے مخصوص مسلم دشمن اہداف پر مرکوز ہوگئی۔ مغرب کے پریشر کی وجہ سے فلسطینی قیادت بتدریج مزاحمت سے دست بردار ہوتے ہوئے ایک پر امن مگر بے اثر سیاسی حل پر مجبور ہو گئی۔ 1991ءمیں پہلی مرتبہ میڈرڈ کے شہر میں عرب ریاستوں نے اسرائیل سے مذاکرات کا آغاز کیا۔ میڈریڈ مذاکرات کے دو برس بعدتک عرب نمائندے اسرائیل سے کوئی قابل ذکر مطالبہ نہ منوا سکے سوائے ان خفیہ مذاکرات کے جو بالآخر اوسلو معاہدے کی بنیاد بنے۔

ستمبر 1993ءمیں امریکہ اور روس کی ثالثی میں، شمعون پیریز اور پی ایل او کےمحمود عباس نے اوسلو معاہدے پر دستخط کئے۔ اوسلو معاہدے میں عرب قیادت نے اسرائیل کو ایک جائز ملک تسلیم کرلیا تھا۔ فلسطینی اراضی کے 77فیصد حصے پر اسرائیل کا حق تسلیم کر لیاگیا اور تحریک انتفاضہ کو کالعدم تنظیم اوراسرائیل کے خلاف مسلح کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔ اسی طرح عرب قیادت ہر قسم کے مسائل کا حل پر امن مذاکرات میں تلاش کرنے اور اسرائیل کی سلامتی کو نقصان نہ پہنچانے پر متفق ہونے کے ساتھ پورے فلسطین کی آزادی کے متفقہ مطالبے سے دست بردار ہو گئی۔ عرب قیادت نے اوسلو معاہدے پر دستخط کرکے عملاً تحریک آزادی فلسطین اور دوسرے مطالبات کا گلہ گھونٹ دیا۔ دوسری طرف اسرائیل نے صرف اتنا تسلیم کیا تھا کہ عرب قیادت(الفتح)کو فلسطین کے مسئلے کی قیادت کا حق حاصل ہے اور یہ کہ اسرائیل غزہ اور مغربی کنارے کے بعض حصوں میں فلسطینی قیادت کو محدود سطح پر آزاد ی دینے کا پابند ہو گا اور دوسرے اہم نوعیت کے مسائل اگلے پانچ برسوں میں طے کیے جائیں گے۔

فلسطینی اتھارٹی کے نام پر فلسطینی انتظامیہ نے 5 جولائی 1994 کو دستوری حلف اٹھایا۔ اس فلسطینی انتظامیہ کے سامنے چند بڑے مسائل تھے جن میں اسرائیلی مطالبے پر اسرائیل اور غرب اردن میں حماس اور اسلامی جہاد کی مسلح کارروائیوں کا خاتمہ، اپنے علاقے میں امن برقرار رکھنا، مجرموں کو سزائیں دینا، حکومتی اخراجات پورے کرنے کیلئے ٹیکس وغیرہ جمع کرنا تھا۔ فلسطینی اتھارٹی کے پاس ان مسائل پر قابون پانے کی طاقت اوروسائل نہیں تھے چنانچہ اسرائیل نے اسے اوسلو معاہدے پر عمل درآمد کی سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ دوسری طرف امن و امان قائم نہ کر سکنے کی وجہ سے فلسطینی اتھارٹی کی مقبولیت میں کمی آتی گئی اور عوام نے اسکے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ اس اتھارٹی کی بین الاقوامی اور اندرونی پوزیشن بہت خراب ہو گئی اور اسرائیل کو یہ موقع مل گیا کہ وہ اس صورت حال کو اپنے حق میں استعمال کرے۔ صورت حال سے اسرائیل کی انتہاپسند لیکوڈ پارٹی نے فائدہ اٹھا ہوئے 1996 کے نتخابات جیت کر فلسطینیوں کے راستے میں مزید مشکلات پیدا کردیں۔ اسی دوران 1994 میں اسرائیل اور اردن کے درمیان میں امن معاہدہ ہوا جس سے اردن اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے والا دوسرا ملک بن گیا۔

1999 میں ایہود باراک وزیرِ اعظم منتخب ہوئے اور نئے ملینیم کے آغاز پر اسرائیلی افواج جنوبی لبنان سے نکل گئیں اور فلسطینی اتھارٹی کے چیئرمین یاسر عرفات اور ایہود باراک کے درمیان کیمپ ڈیوڈ میں امریکی صدر بل کلنٹن کی ثالثی میں مذاکرات ہوئے۔ ان مذاکرات میں ایہود باراک نے ایک بے اثر فلسطینی ریاست کے قیام کی پیشکش کی لیکن ان چھ لاکھ فلسطینی مہاجرین کو واپس لینے سے انکار کر دیا جو 1948 کی عرب اسرائیل جنگ میں بے گھر ہو گئے تھے۔ صدرکلنٹن نے تجویز پیش کی کہ فلسطینی مہاجرین کو فلسطینی ریاست میں آباد کیا جائے اور آبادکاری کے اخراجات میں امریکہ مدد کرے گا۔ ایہود بارک نے یہ فارمولا منظور کر لیا لیکن یاسر عرفات نے اسے مسترد کر دیا۔

ان مذاکرات کی ناکامی سے وزیراعظم ایہود بارک کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی کیونکہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ معاہدے کے وعدے پر برسراقتدار آیا تھا۔ اس کے حریف لیکوڈ پارٹی کے لیڈر ایرل شیرون نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھایا اور فلسطینیوں کے خلاف سخت گیر موقف اختیار کرتے ہوئے دسمبر 2000 میں قبۃ الصخرا (مسجد اقصیٰ میں ایک چٹان کے اوپر گنبد)کا دورہ کرکے فلسطینی عوام کو اشتعال دلایا۔ اسکے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے اوران میں سینکڑوں فلسطینیوں کو قتل کیا گیا جسکے نتیجے میں ایک نیا انتفاضہ شروع ہو گیا۔ بالآخر ایہود بارک کو نئے انتخابات کا اعلان کر نا پڑا جس میں شیرون نے کامیابی حاصل کی۔

29ستمبر 2000 کو شروع ہونی والی دوسری تحریک انتفاضہ نے ایک مرتبہ پھر اس بات کو ثابت کیا کہ فلسطین پر فلسطینیوں کا حق ہے۔ تحریک انتقاضہ بہت جلد نہ صرف فلسطینی عوام کی ہر دل عزیز تحریک بن گئی بلکہ عرب ممالک کے ساتھ ساتھ دوسرے اسلامی ممالک میں بھی انتقاضہ کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی اورفرامو ش شدہ فلسطینی مسئلہ دوبارہ زندہ ہو گیا۔ انتفاضہ نے صہیونی عزائم سے پردہ ہٹا تے ہوئے انکے امن مذاکرات کا پول کھو لا اور ثابت کیا کہ ان معاہدوں میں فلسطینیوں کے جائز حقوق سلب کیے گئے ہیں۔ تحریک انتفاضہ کے سرگرم ہوتے ہی فلسطینی عوام پر اسرائیلی دہشت گردی مزید بڑھ گئی۔ فلسطینی نوجوانوں سے جیلیں بھر دی گئیں اور فلسطین کی بیشتر اراضی پر قبضہ کرلیا گیا۔ صرف پانچ برسوں میں فلسطینی شہداءکی تعداد 4160تک پہنچ گئی جبکہ 45ہزار فلسطینی اسرائیلی بمباری سے زخمی ہو ئے۔ برسر روزگار فلسطینیوں میں سے 58فیصد بے روزگار کردیئے گئے۔

شیرون نے وزیر اعظم بننے کے بعد دوسرے انتفادہ کو بے کار کرنے کیلئے فلسطینیوں کی طرف سے کی جانے والی ہر کاروائی کا دس گنا زیادہ ردعمل دے کر ظلم وبربریت کے نئے دور کا آغاز کیا۔ کئی کئی دن تک یاسر عرفات کے دفتر کا محاصرہ کرکے دفتر کی بجلی، پانی اور خوراک کی فراہمی بند کر کر دی گئی۔ بلڈوزروں کے ذریعے مشتبہ افراد کے گھر مسمار کئے گئے۔ 25 جنوری 2006 کو منعقدہ ’’فلسطینی قانون ساز کونسل‘‘ کے انتخابات میں حماس نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے 132میں سے 74 نشستیں حاصل کی مگر جمہوریت کے دعویدار امریکا اور اسرائیل نے حماس کی جمہوری حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ اسرائیلی حکومت نے اس انتخابات میں حماس کو جتانے والی غزہ کی عوام کو سزا کے طور پر 2007 کے بعد سے مسلسل محاصرہ میں رکھا۔ انکی خوراک، پانی، بیرونی امداد بند کئے رکھی اورجب اس سے بھی دل نہیں بھرا تو کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کرکے غزہ پر مسلح حملے کئے۔

جولائی 2006ء میں حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر حملہ کرتے ہوئے دو اسرائیلی فوجی اغوا کر لیے جس کے نتیجے میں لبنان سے ایک ماہ تک جنگ ہوتی رہی۔ 6 ستمبر 2007 کو اسرائیلی فضائیہ نے شام کے نیوکلئیر ری ایکٹر کو تباہ کیا۔ دسمبر 2008 میں اسرائیل نے آپریشن کاسٹ لڈ بائیس روز تک جاری رکھا اور اس میں 1400 فلسطینی جاں بحق ہوئے۔ 2009 میں غزہ قدرتی آفات کا شکار ہو گیا اور گندھک کی بارش ہوئی اور پھر اسرائیلی بلڈوزروں نے غزہ کےگھروں کو کھنڈرات میں بدل دیا۔

14 نومبر2012 میں آپریشن پلر آف ڈیفنس کیا گیا جو 8 روز تک جاری رہا۔ پھر جولائی 2014 میں آپریشن پروٹیکٹیو ایج شروع کیا گیااور کئی روز تک غزہ پر بمباری ہوتی رہی۔ اس میں 337 فلسطینی شہید اور 2,300 سے زائد زخمی ہوئے۔ اس آپریشن میں 1200 سے زائد گھروں کو منہدم کیاگیااور تقریبا 14,000 گھروں کو نقصان پہنچا۔ ایک امریکن تنظیم’’اِف امریکین نیو” کے اعداد و شمار کے مطابق 29 ستمبر 2000 سے 17 جولائی 2014 تک 7112 فلسطینی شہید ہو ئے جن میں 1523 معصوم بچے شامل تھےاور زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 59025 تھی۔ 5271 فلسطینی اسرائیل کے ہاتھوں قید ہوئے جن میں خواتین بھی شامل تھیں۔ 1967 سے لیکر 2014 تک اسرائیل نے 28,000 سے زائد فلسطینیوں کے گھروں کو منہدم کیا اور فلسطین میں بیروزگار ی کا تناسب مغربی کنارے میں 22.6 اور غزہ میں 27.9 فیصد تھا۔ امریکا کی جانب سے اسرائیل کو روزانہ 8.5 ملیون ڈالر کی فوجی امداد دی جاتی رہی جبکہ فلسطینیوں کو کوئی فوجی امداد نہیں دی گئی۔

ان آپریشنز کے دوران اسرائیلی پارلیمنٹ کی ممبر آئیلیٹ سیکڈ Ayelet Shaked نےکہا کہ “صرف بچوںکو مارنا کافی نہیں بلکہ عورتوں اور آنے والی نسلوں کو بھی نشانہ بنایا جائے” اسی طرح پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر موشی فیلن Moshe Deiglin نے کہا کہ ‘ہمیں چاہیے کہ ان کو خیموں میں یکجا کرکے انکا قلع قمع کر دیں’۔ اس موقع پر نیتن یاہو نے ہر قسم کی تباہی، جانوں کے ضیاع اورمصائب و آلام کا ذمہ دار حماس اور غزہ کے لوگوں کو ٹھہرایا جسکا واضح مطلب یہ تھا کہ اسرائیل، فلسطینیوں کے حق خود ارادیت، خود مختاری اور انکی حاکمیت کو کبھی قبول نہیں کرے گا۔ وہ چاہتا ہے کہ فلسطینی انکے زیر رہیں اور صرف ایسی ریاست کا مطالبہ کریں جسکی سیکورٹی، سرحدیں، فضائی حدود، سمندری حدود، تعلقات، وسائل حتیٰ کہ انکی حاکمیت بھی اسرائیل کے پاس ہو۔

اسرائیلی جب حماس پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ اسرائیل پر راکٹ برساتے ہیں یا محاصرےسے بچنے کیلئے سرنگیں کھودتے ہیں تو یہ محض ایک دھوکا اور بہانہ ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے

کہ امن کے عوض زمین واپسی کے اصول کے تحت فلسطینی سربراہ یاسر عرفات نے اسرائیل کو تسلیم کر کے امن کا سمجھوتہ طے کیا تھا مگر اسرائیل نے مقبوضہ فلسطین کی ایک انچ زمین بھی فلسطینیوں کو واپس نہیں کی بلکہ ارض فلسطین پر مستقل تسلط جمانے کے لئے بڑے پیمانہ پر یہودی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ شروع کیا۔ اقوام متحدہ نے ان بستیوں کی تعمیر غیرقانونی قرار دی لیکن امریکا کی حمایت اور مدد سے بستیوں کی تعمیر برابر جاری رکھی گئی۔

اسرائیلی حکومت نے کئی حملوں میں غزہ کے مظلوم عوام کے خلاف غیر روایتی اور غیر قانونی ہتھیاروں کا استعمال بھی کیا۔ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ریچرڈ گولڈ اسٹون کی رپورٹ میں بھی اس مسئلہ کی تائید کی گئی تھی کہ اسرائیل نے غزہ کے عوام کے خلاف سفید فاسفورس کے بموں کا استعمال کرتے ہوئے پناہ گزینوں کو امداد پہنچانے والی ایجنسیوں اور القدس و الوفا ہسپتالوں پر بھی حملے کئے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی ان جارحانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ غزہ کا بحران ایک انسانی المیہ ہے، اس علاقے کی بنیادی تنصیبات کے تباہ کرنے بچوں اور عورتوں کے قتل عام سے یہ بحران ایک دردناک ٹریجڈی میں تبدیل ہوگیا ہے۔

دنیا کے نقشے پر پانچویں صدی سے بحیرہ روم اور دریائے اردن کے درمیان موجود علاقہ، مستقل بنیادوں پر فلسطین کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مگر 25 جولائی 2016 کو گوگل نے فلسطین کی تاریخی اور جغرافیائی حیثیت کو پس پشت ڈالتے ہوئے نیا نقشہ جاری کیا جس میں فلسطین کا وجود سرے سے غائب کرتے ہوئے غزہ اور فلسطین کی حدود کو اسرائیل کا حصہ دکھایا۔ امریکہ نےآج تک نہ فلسطین کو بطور ملک تسلیم کیا اور نہ وہاں اپنا سفارتخانہ کھولا، امریکی سفارتخانہ صرف اسرائیل میں موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گوگل نے فلسطین کو دنیا کے نقشے سے ہٹا کر اس کو متنازع علاقے کے طور پر دکھایا جس طرح پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے علاقے کو دکھایا گیا۔ گوگل کی اس حرکت پر مسلم ممالک میں شدید غم و غصےکے جذبات کا اظہار کیا گیا۔ اس طرح کے سازشی ہتھکنڈے استعمال کرنے کیلئے اسرائیل نے ایک نیشنل انفارمیشن ڈاریکٹوریٹ قائم کر رکھا ہے جس کا رابطہ دنیا بھر کے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں تک پھیلا دیا گیا ہے۔ جونہی اسرائیل کسی علاقے میں حملہ کرتا ہے تو اسکے سفارتکاروں، صحافیوں، کالم نگاروں، بلاگرز اور حامیوں کے ذریعے ایسی خبریں پھیلائی جاتی ہیں کہ اسرائیل مظلوم دکھائی دینے لگے۔ مغرب کے تمام بڑےٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا، اسرائیل کے اس نظام کا حصہ ہیں اورسفارتی سطح پر بھی اسرائیل اور امریکہ اکھٹے کام کرتے ہیں تاکہ اسرائیل کو فوجی اور مالی امداد جاری ر ہے۔

دسمبر 2017 میں امریکی صدر نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کیا۔ اس اعلان کو دنیا بھر میں سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا اورقوام متحدہ میں امریکا کے اس اقدام کے خلاف قرار داد بھی منظور ہوئی۔ دوسری جانب امریکی سفارتخانے کی یروشلم منتقلی اور اس کے افتتاح کے لیے خاص طور پر 15 مئی کا دن مخصوص کیا گیا، کیونکہ اس دن اسرائیل کے قیام کو 70 برس مکمل ہورہے تھے اور اس تقریب میں شرکت کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صاحبزادی ایوانکا ٹرمپ خصوصی طور پر اپنے خاوند جیرڈ کشنر کے ہمراہ اسرائیل پہنچیں تھیں۔ انکے وہاں پہنچنے سے قبل 14 مئی کو اسرائیلی سرحد سے ملحقہ غزہ پٹی پر 6 ہفتوں سے جاری احتجاج میں شدت آگئی تھی اور ہزاروں فلسطینی پر امن احتجاج کے لیے غزہ پٹی پر موجود تھے۔ اس پر امن احتجاج پر اسرائیلی فوج نے وحشیانہ فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں 62 فلسطینی جاں بحق اور 2700 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

اسرائیلی فوج کی نہتے فلسطینیوں پر وحشیانیہ فائرنگ کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی تھی اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں احتجاج کیا گیا۔ اس کے علاوہ ترکی سمیت دیگر ممالک نے امریکا اور اسرائیل سے اپنے سفیروں کو احتجاجاً واپس بلا لیا جبکہ اقوام متحدہ کی جانب سے اس معاملے کی آزاد اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ تاہم امریکی مداخلت پر اس مطالبے کو روک دیا گیا، امریکا نے موقف اپنایا کہ اسرائیلی فوج نے اپنے دفاع کے لیے فائرنگ کی تھی۔
2018 میں اسرائیلی فورسز نے تین سو تیرہ فلسطینوں کی جان لی جن میں آٹھ ماہ کے بچے سے لے کر 74 سالہ بزرگ شامل تھے۔ 26اکتوبر 2018 کو پرامن مظاہرین پر فائرنگ کرکےصہیونی افواج نے کئی افراد کو غزہ اور مغربی کنارے میں شہید کیا اور 100 سے زیادہ افراد کو زخمی کر ڈالا۔ اس کے جواب میں جب حماس نےاسرائیلی علاقے میں چند راکٹ داغے تو صہیونی افواج نے ٹینکوں سے پیش قدمی کی اور جنگی طیارے اور گن شپ ہیلی کوارپٹر نے دو گھنٹے سے زیادہ تک غزہ میں متعدد مقامات پر بم برسائے اور کئی عمارتوں کو نقصان پہنچایا جن میں حماس کی جنرل سیکورٹی کا چار منزلہ ہیڈکوارٹر اور شمالی غزہ میں واقع انڈونیشین ہسپتال بھی شامل تھا۔ اس پر عالمی عدالت نے اسرائیل کو متنبہ کیا کہ وہ مشرقی بیت المقدس کے نواحی قصبے خان الاحمر کو مسمار کرنے اور وہاں فلسطینی شہریوں کو ہجرت پر مجبور کرنے سے باز آئے لیکن صہیونی فوج اور پولیس نے اس تنبیہ کو بالائے رکھتے ہوئے مسلمان آبادی والے مقامات جیسےجبل المکبر، الخلیل، خان الاحمر وغیرہ میں لوگوں کو گھر وں سے باہر نکال کر بلڈوزرسے ایک ایک گھر کو مسمار کیا۔

اسرائیلی مظالم سے تنگ آئے کچھ فلسطینی نوجوانوں نے اگست 2020 میں غزہ سے کچھ غبارے ہوا میں چھوڑے جن میں آتشگیر مادہ نصب تھا، ان سے جنوبی اسرائیل میں کچھ مقامات آگ کی لپیٹ میں آئے۔ سرائیل نے اس کے جواب میں بمباری کرکے غزہ میں حماس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، ماہی گیر کشتیوں کے سمندر میں جانے پر بھی پابندی عائد کی اور غزہ کے لیے تجارتی کراسنگ پر انسانی ہمدردی کے امدادی سامان کو لے جانے سے بھی روک دیا۔ ایندھن کی فراہمی کے بغیر غزہ کا واحد پاور پلانٹ بھی بند ہو گیا جس سے اس علاقے کی 19 لاکھ آبادی آٹھ گھنٹے فراہم ہونے والی بجلی سے بھی محروم ہو گئی۔

فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی مظالم اب نئی بات نہیں رہی۔ 1948 سے لیکر آج تک تہتر سالوں میں کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جس دن اسرائیلی حکومت نے نہتے فلسطینیوں پر کوئی حملہ نہ کیا ہو یا کسی کی جان نہ لی ہو۔ ہر روز کئی فلسطینی ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہیں۔ اسرائیل نے فلسطینی مسلمانوں پر زندگی تنگ کردی ہے۔ آئے دن ان کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جاتا ہے اور نوجوان لڑکوں اورلڑکیوں کو جیلوں میں ڈال کر ان پربدترین تشدد کیا جاتا ہے۔ اسرائیل کے اس تشدد سے یروشلم میں بیت المقدس بھی محفوظ نہیں ہے۔ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بیت المقدس میں مسلمانوں کی آمد کو روکا جاتا ہے، وہاں پر عبادت کرنے والے مسلمانوں پر اسرائیلی پولیس اور یہودی شہری مل کر تشدد کرتے ہیں اور احتجاج کرنے پر مسلمانوں کو گرفتار کرلیا جاتا ہے۔

دنیا بھر سے یہودی مسلسل آر ہے ہیں اور فلسطینیوں کی زمینوں پر انکی  آبادکاری سے فلسطین کا علاقہ سکڑتا چلا جا رہا ہے۔ غزہ کی پٹی کا کل رقبہ 400 مربع کلومیٹر ہے اور انیس لاکھ فلسطینی  اس کھلی جیل میں قید ہیں جن میں نصف سے زائد تعداد بچوں اور بوڑھوں کی ہے۔ ڈھائی لاکھ کے قریب لوگ پناہ گاہوں اور کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک طرف کھلےآسمان کے نیچے سائبانوں میں رہنے والے فلسطینی کرونا وبا سے جاں بحق ہو رہے ہیں اور دوسری طرف عالمی ادارہ خورک نے لاکھوں افراد کو بھوکا مرنے پر چھوڑ دیا ہے۔ علاج کی سہولتیں میسر نہ ہونے سے فلسطین کی کئی اہم شخصیات بھی کرونا سے ہلاک ہوچکی ہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ اسرائیلی مظالم ہیں کہ ختم ہونے میں ہی نہیں آتے۔ رات، دن فلسطینی بچوں اور عورتوں کے کانوں میں جیٹ طیاروں اور ڈرونز کی آوازیں گونجتی ہیں۔ ان لوگوں کو نہ اپنی سرحدوں پر کوئی اختیار ہے اور نہ ماہی گیری کیلئے سمندر تک رسائی حاصل ہے۔ وہ سرنگیں اور سڑکیں بھی تباہ کر دی گئی ہیں جن کے ذریعے مصر اور دوسرے ممالک سے اہلیان غزہ کو کھانے پینے کی اشیاء، ادویات اور ضروریات زندگی بھجوائی جاتی تھیں۔ اسرائیل کھلے عام انسانی حقوق کو پامال کر رہا ہے لیکن عرب و مسلم ممالک کے حکمران خاموش تماشائی ہیں اورعالمی ضمیر سو رہا ہے۔

امریکی صدور کی طرف سے  اسرائیل اور فلسطینوں کے درمیاں امن سمجھوتوں کی تمام کوششیں محض دکھاوا تھیں کیونکہ  یہ بات انکے علم میں تھی کہ اسرائیل ان میں سے کسی  بھی سمجھوتے پر آمادہ نہیں تھا۔ اسرائیل کسی صورت میں فلسطین پر اپنا تسلط ختم کرنا نہیں چاہتا۔ خاص طور پر جولان کی پہاڑیوں پر جو دریائے اردن کے پانی کا منبع ہے۔ کچھ عرصہ قبل صدر ٹرمپ بھی ریاض میں ہونے والی سربراہ کانفرنس کے بعد اسرائیل تشریف لے گئے لیکن انکی یہ کوشش پہلے کی طرح  بے سوداوربے نتیجہ ثابت ہوئی  اس لئے انہیں بھی اس دورے کے بعد خاموشی اختیار کرنا پڑی۔

اکثر یورپی ممالک بھی اسرائیل کے بارے میں خاموش رویہ رکھتے ہوئے درپردہ یہ چاہتے ہیں کہ مغرب میں باقی رہ جانے والے  یہودی بھی اسرائیل جا کر آباد ہو جائیں۔ نیز یورپی ممالک مشرق وسطیٰ کو اپنی نوآبادیات کی طرح  اثر و رسوخ میں رکھتے ہوئے توانائی کے ذرائع پر قابض رہنا چاہتے ہیں۔ غزہ کے قریب دریافت ہونے والے قدرتی گیس کے نئے ذخائر کی وجہ سے مغربی ممالک، اسرائیل کو غزہ کی پٹی پر غاصبانہ قبضے کو مضبوط بنانے کا جواز فراہم کر رہے ہیں۔ اسرائیل نے پہلے سے ہی فلسطینی اتھارٹی کی زمین، پانی، ساحل، سمندر، ہائیڈروکاربن، غرض تمام قدرتی وسائل کو اپنے اختیار میں رکھا ہوا ہے اور بین الاقوامی قوانین کو پیروں تلے روند رہا ہے۔ یہ ظلم کی انتہاہے کہ غاصب صہیونی ریاست تمام حدوں کو پارکرتے ہوئےجبر اور دہشت گردی کے ہر حربے اورہتھکنڈے کو بے آسرا فلسطینیوں پر آزما رہی ہے۔ مگر حقوق انسانی کے نام نہاد علمبرداروں کی زبانیں نہیں کھل رہی ہیں کہ وہ غاصب اسرائیلی ریاست سے پوچھیں کہ اس کے پاس اس ظلم وبربریت اور قتل اوردہشت گردی کا کیا جواز ہے؟

اسی موضوع پر مزید مطالعہ کیجئے:

٭ عرب اسرائیل تعلقات، صدی کا سب سے بڑا دھوکہ

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply