اور جب مرزا غالب بھی سی اے اے CAA مخالف احتجاج میں آتے ہیں‎ — فہد ہاشمی

0

27 دسمبر 2019 کو غالب کی ولادت کی سالگرہ کے موقع پر ان کو خراج عقیدت پیش کرنے میں اپنی مادر علمی، جامعہ ملیہ اسلامیہ ذرا تاخیر سے پہنچا۔ ’گلستان غالب‘ میں سارے دوست پہلے سے موجود ہیں۔ یہ تمام لوگ غالب کے مداح ہیں۔

دہلی کی شام، اور اس کی سخت ٹھنڈ میں جامعہ کا چھوٹا سا خوبصورت کیمپس افسردگی اور قنوطیت اوڑھے کھڑا ہے۔ چرخ نیلی فام پر نظر پڑی تو ایسا محسوس ہوا کہ وہ آشوب چشم سے پریشان ہے۔

بہرحال، مرزا نوشہ کا برتھ ڈے منانے کو سارے احباب جمع ہیں۔
ادبی نشست شروع ہو چکی ہے۔
مصطفی ٰ ذرا دیر سے آیا۔ دیر سے آنے کی وجہ نہ بتائی۔ اپنی شگفتہ مزاجی کا ثبوت دیتے ہوئے بس یہ مصرع پڑھا، اور چپ چاپ بیٹھ گیا۔

ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا

سرور، مصطفیٰ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا: ’’کیا بھئی‘‘، اور مزے لیتے ہوئے غالب ہی کا ایک مصرع برجستہ پڑھ ڈالا۔

خانہ زاد زلف ہیں زنجیر سے بھاگیں گے کیوں

سبھوں کی باچھیں کھل گئیں۔ مصطفیٰ نے کہا: ’’بات تو سچ ہے، مگر اس زنجیر سے نکل کے آ تو گیا۔‘‘

عمر نے شعر پڑھا۔
کیوں کر اس بت سے رکھوں جان عزیز
کیا نہیں ہے مجھے ایمان عزیز

سرور نے یہ شعر سنایا۔
ہر چند سبک ہوئے بت شکنی میں
ہم ہیں تو ابھی راہ میں ہے سنگ گراں اور

پھرعماد نے لب کشائی کی۔
بے مے کسے ہے طاقت آشوب آگہی
کھینچا ہے عجز حوصلہ نے خط ایاغ کا

نبیل نے شعر پڑھا۔
آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاں
سوز غمہائے نہانی اور ہے

آصف نے اپنا پسندیدہ شعر سنایا۔
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

فلسفہ سے رام جیت کو خاصی دلچسپی ہے۔ اس نے آصف کے اس شعر پر نکتہ پردازی سے کام لیتے ہوئے اپنی بات رکھی۔
’’’ہزاروں خواہشیں‘ اور ’ہر خواہش پہ دم نکلے‘ کے مسئلے کو سماج اور اس میں کارفرما عوامل سے آزاد کر کے دیکھنا لاحاصل ہے ۔۔۔ خواہش کوئی مجرد شئے نہیں ہے ۔۔۔ اصل میں اس کی جڑیں سرمایہ داری اور بازار میں پیوستہ ہیں۔‘‘
جو ادب و سیاست کے امتزاج کے قائل نہ تھے، خاموش رہے۔ کچھ نے اس سخن فہمی پر داد دی۔

دیگر احباب بھی غالب کے دیوان سے باری باری اپنی پسندیدہ غزلیں اور اشعار پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ لوگوں نے سبحان اللہ! سبحان اللہ! واہ! واہ! ۔۔۔ کے تار باندھ دیے۔ یہ آوازیں مستقل کان کے پردوں پر پڑ رہی ہیں۔ غالب کے ایسے کلام کو بھی لوگ پڑھ رہے ہیں اور اس سے ریلیٹ کر رہے ہیں جن سے ذاتی زندگی کے تلخ تجربات اور روزمرہ کے مسائل کی ترجمانی ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ جو پراٹھے اور شامی کباب امین احسن نے ’زہرۃ‘ سے پیک کروا کر لایا ہے، لوگ بڑے مزے لے لے کر کھا رہے ہیں۔
کافی وقت گزر چکا ہے۔
رات کجلا سی گئی ہے۔
سب اپنے اپنے گھروں کی طرف کوچ کرنے کو تیار ہیں۔

امین اور میں نے تھوڑا رک کر جانے کا ارادہ کیا۔ ملک کے سیاسی، سماجی، اور اقتصادی مسائل پر باتیں ہو رہی ہیں۔ اقتصادیات کی بھاری بھرکم اصطلاحیں جو امین استعمال کر رہا ہے وہ میری سمجھ سے بعید ہیں۔ ان اصطلاحات کا استعمال کرنا غالباً اس کی مجبوری ہے کیوں کہ جامعہ سے اسی مضمون میں اس نے ایم اے کیا ہے۔ بہرحال، اس خشک مضمون کے علاوہ وہ اردو ادب میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔ عصمت چغتائی کا شیدائی ہے، اور ان کا افسانہ ’مغل بچہ‘ جو حال ہی میں اس نے پڑھا ہے، بڑے چاؤ سے مزے لے لے کر مجھے سنا رہا ہے۔
دور سے ’امین‘ پکارنے کی ایک تیز آواز آئی۔
’’آتا ہوں بھائی، لگتا ہے معراج ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے امین چلا گیا۔

تمام رفقاء کے جانے کے بعد میں نے سوچا کہ اب ذرا آرام لے لوں، اور پھر باغ میں لیٹ گیا۔ چاروں طرف اندھیرا گھپ ہو رہا ہے لیکن بجلی کی روشنی نے جامعہ کیمپس پر جو سحر انگیز ہالہ بنایا ہے وہ ایسا نظارہ پیش کر رہا ہے گویا قدرت نے چاندنی بکھیر دی ہو۔ میں نے اپنی ’خلوت‘ کو ’انجمن‘ میں تبدیل کرتے ہوئے ’محشر خیال‘ میں گردش کرتے ہوئے غالب کے اشعار سے ایک شعر— جسے میں نے حال ہی میں پڑھا ہے — کو یاد کرنے اور اس کی تہ داری سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔

تھا میں گلدستہ احباب کی بندش کی گیاہ
متفرق ہوئے میرے رفقاء میرے بعد

ابھی ’بندش کی گیاہ‘ پر غور ہی کر رہا ہوں کہ مرز ا غالب سنگ مرمر کی ایک میز پر تشریف فرما نظر آئے۔ دور سے ان کی پوشاک کافی خوبصورت اور جاذب نظر دکھ رہی ہے۔ ’ایک برکا سفید پاجامہ، سفید ململ کا انگرکھا، اس پر ہلکی زرد زمین کی جامہ دار کا چغہ۔ ‘ مرزا صاحب کے کیا کہنے! ’کشیدہ قامت، متوسط بدن، لیکن ہاڑ بہت چکلا، شانے اس عمر میں بھی خم سے آزاد۔ سنہرا چمپئی رنگ، اس پر داڑھی، سر منڈا ہوا۔ مسکراتا ہوا روشن چہرہ، آنکھیں بڑی بڑی۔ ‘

نزدیک گیا تو دیکھا کہ ’ساری داڑھوں کے گر جانے کے باعث دونوں گال ذرا پچک گئے ہیں۔ ‘ آگے کے دو دانت با لکل بھی نہیں ہیں۔ اور یہ کہ ا ن کی پوشاک گرد سے اٹی ہوئی اور قدرے بد رنگ لگ رہی ہے۔ کلاہ پاپاخ کی غیر موجود گی صاف عیاں ہے، کمر بند ناپید ہے، اور سفید داڑھی، پریشان اور پراگندہ دکھ رہی ہے۔ غالب مغموم اور ایک خاص قسم کی مایوسی میں گھرے ہوئے معلوم پڑ رہے ہیں۔
میں دہرا ہوا اور ہاتھ اٹھا کر آہستہ سے سلام کیا۔
غالب، البیرونی ہال کی طرف آنکھیں گاڑے دیکھ رہے ہیں۔
کافی دیر تک خاموش رہنے کے بعد :
’’آہ! میاں، آپ ہیں۔‘‘

داروغہ کلو ان کی بائیں جانب اپنے دونوں ہاتھوں سے ایک تھیلا گود میں پکڑے بیٹھا ہے۔ انہوں نے آنکھوں سے اشارہ کرتے ہوئے مجھے اپنی دائیں جانب بیٹھنے کو کہا۔ غالب کے مزاج کو بھانپتے ہوئے میں سمجھ گیا کہ وہ بات کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ میں نے ہمت جٹائی اور ان کا ہی ایک شعر تھوڑی اونچی آواز میں پڑھا۔

کچھ تو پڑھیے کہ لوگ کہتے ہیں
آج غالب غزل سرا نہ ہوا

مرزا نے مجھے کن انکھیوں سے دیکھا اور ان کی زبان سے بس یہ نکلا:
غالب ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سے
بیٹھے ہیں ہم تہیہ طوفاں کیے ہوئے

کلو نے تھیلے سے نکال کر کاغذ کے تقریبا ً25-30 پنوں کا ایک پلندہ غالب کو بڑھایا۔ مرزا بغور دیکھتے ہوئے پننے پلٹتے جا رہے ہیں۔ میں نے ذرا ہمت کی اور ان سے پوچھ بیٹھا:

’’ان صفحات میں آپ کے نئے اشعار ہیں؟‘‘

مرزا کی حاضر جوابی کے کیا کہنے! ان کی اکبرآبادی برج میں گندھی ہوئی لچک اور مٹھاس پر دہلی کی کرخت بولی کی مہر صاف عیاں ہے اور حاوی بھی۔ انہوں نے انشا اللہ خاں انشا کا مصرع پڑھا۔

تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں

اپنی بیزار طبیعت کو سنبھالتے ہوئے جواب دیا۔

’’یہ دستنبو ہے۔‘‘

میں حیرت میں پڑ گیا، اور تعجب سے دھیمی آواز میں پوچھا۔

’’دستنبو؟ مگر آپ نے 1857 کی بغاوت اور اس کے بعد دہلی کے باشندوں پر فرنگیوں کے ظلم وستم کے تناظر میں اسے لکھا تھا۔‘‘

’’میاں! آپ بالکل صحیح فرماتے ہیں۔ وہ 1858 میں لکھا گیا تھا۔‘‘

غالب نے دستنبو پڑھنا شروع کیا۔ اور میں ہمہ تن گوش ہوگیا۔ ان کی آواز بڑی صاف اور ہلکی ہے۔ کچھ ہی پننوں کو سننے کے بعد میں سمجھ گیا کہ اس دستنبو میں موجودہ ہندوستان کے سیاسی وسماجی حالات پر مرزا نوشہ نے اپنی رائے قلم بند کی ہے۔ اور یہ بھی محسوس ہوا کہ انہوں نے 15 دسمبر کی شام جامعہ میں پولس کی بربریت کی مذمت بھی اس میں کی ہے۔ اس تشدد کو خواہ مخواہ جامعہ کے طلباوطالبات سے منسلک کر کے دیکھا جا رہا ہے۔ مرزا پولس کی سفاکانہ حرکت کی ہر چھوٹی بڑی تفصیلات بیان کر رہے ہیں، جس سفاکی کا کرنا گویا پہلے سے ہی طے تھا۔ وہ دستنبو بند کرتے ہیں، اور اپنے دایئں ہاتھ سے البیرونی ہال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پڑھتے ہیں:

کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور

مجھے بغور دیکھا، کچھ وقفے کے بعد فرمایا۔

’’یہ دستنبو دوئم کا مسودہ ہے۔‘‘

اور تاسف کے ساتھ کہنے لگے:

’’میاں! دیکھو۔ ریڈنگ ہال اور لائبریری کا ظالموں نے کیا حال کیا ہے! شیشے، ٹوٹے ہوئے۔۔۔ سی سی ٹی وی، چور ۔۔۔ کاپیاں اور کتابیں بکھری پڑی ہیں۔۔۔ کرسیاں اور میز، پھیکے ہوئے ہیں۔ ہر طرف طلباوطالبات کے خون اورآنسو۔۔۔ ہر سو سے طلباوطالبات کے آہ و فغاں، چیخ و پکار، اور سسکیوں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے ۔۔۔اور طرفہ تماشہ یہ کہ کمبختوں نے مسلمان مخالف گالیاں دے کر بچوں کے ضمیر تک کو گہری ٹھیس پہنچائی ہے۔‘‘

ایک سخت اور تکلیف دہ کھانسی کے بعد پھر بولے۔

’’اصل میں ان کی یہ حرکت جامعہ کی روح کو مجروح کرنے کی ایک کوشش ہے ۔۔۔کیا یہ لوگ جامعہ کی تاریخ، اور ہندوستان کی جنگ آزادی میں اس کا حصہ بھول گئے؟ یہاں کی دیواریں تک اس حصہ داری کا ثبوت دیتی ہیں! ۔۔۔ انہیں جامعہ کا اسکول، اور یہاں کا شعبہ تعلیم کوئی جا کر دکھلائے۔ ان کی مشابہت نہ ہی برطانوی اور نہ ہی مغلیہ فن تعمیرات سے ہے۔۔۔ اس جرمن ماہر تعمیرات کا کیا نام تھا؟۔۔۔ یا خدا! یہ حافظہ کیوں ساتھ نہیں دیتا؟‘‘

میں نے دماغ پر ذرا زور دیا اور اس میر عمارت کا نام ذہن سے پھسل کر میری زبان پر آ گیا۔
’’مرزا، وہ کارل ہینز تھا۔‘‘
’’ہاں! ہاں، وہ کارل ہینز تھا۔‘‘

غالب کی آنکھوں سے آنسو کی چھوٹی چھوٹی بوندیں مستقل ٹپک رہی ہیں۔ ایسا لگا کہ وہ رو رہے ہیں لیکن فوراً احساس ہوا کہ اشک آور گیس کے دھوئیں جو فضا میں جامعہ کے اوپر آویزاں ہیں، اس سے ان کی غدود اشک وا ہو گئی ہیں۔ وہ مستقل کھانس رہے ہیں مانو شہیقہ (pertussis)سے پریشان ہیں، اور اپنی سرخی مائل آنکھوں کو بار بار مل بھی رہے ہیں۔ مرزا تھوڑا آگے کی طرف جھکے اور دوبارہ اپنی بات شروع کر دی۔

’’مہاتما نے جامعہ کے تعلق سے بالکل صحیح کہا تھا کہ ’اس کی مثال ریگستان میں ایک نخلستان کی سی ہے۔‘‘ ‘
’’یہ آج بھی ناخواندگی کے ریگستان میں ایک نخلستان ہی ہے، مرزا صاحب۔‘‘
پھر وہ استفسار تفہیمی کا سہارا لیتے ہوئے پوچھ بیٹھے:
’’کیا یہ اپنی ساکھ باقی رکھ پائے گا؟‘‘

اسی اثنا میں کلو نے آہستہ سے بتایا کہ مرزا نوشہ نے اپنی کمر بند سے 15 دسمبر کی اس شام ایک طالب علم کے زخم پر پٹی کیا تھا، اور لائبریری میں ہوئی بھگدڑ میں اپنی کلاہ پاپاخ بھی کھو بیٹھے۔
’’آپ کو پتا ہے، میاں، کہ میرا سارا کلام 1857 کے پرآشوب ماحول میں لٹ گیا تھا؟‘‘ ، کچھ توقف کے بعد سوال کیا۔
اور پھر تاسف بھرے لہجے میں بتایا۔

’’میرا کلام میرے پاس کبھی کچھ نہیں رہا۔ نواب ضیاء الدین خاں اور نواب حسین مرزا جمع کر لیتے تھے، جو میں نے کہا انہوں نے لکھ لیا۔ ان دونوں کے گھر لٹ گئے۔ ہزاروں روپے کے کتب خانے برباد ہو گئے۔ اب میں اپنے کلام کو ترستا ہوں۔‘‘

مرزا نوشہ ایک لمبا سانس بھرتے ہیں، اور پھر کرخت آواز میں فرماتے ہیں۔
’’کیا وہ اس بات سے بالکل ہی بے بہرہ ہیں کہ کتب خانوں کی موجودگی تہذیب و تمدن اور شائستگی کی غماضی کرتا ہے۔ ایسی بے ادبی، بد تہذیبی! کیا یہ اب کتابوں کو بھی نذر آتش کریں گے؟‘‘
کچھ دور سے آوازیں آنے لگیں۔

ہمیں چاہیے ڈیموکریسی!
آواز دو۔۔۔ ہم ایک ہیں!
بول رے ساتھی ہلہ بول!
’سی اے اے- این پی آر- این آر سی‘ واپس لو، واپس لو!
’’دمن کریسی جیسا کوئی لفظ بار بار سنائی دے رہا ہے، میاں۔ یہ کیا ’بلا‘ ہے؟‘‘
’’دمن کریسی نہیں، مرزا۔ طلباوطالبات ڈیموکریسی بول رہے ہیں۔‘‘
’’ڈیموکریسی؟‘‘
’’جی، ہاں۔ اس نظام سیاست کی تعریف ایک امریکی صدر نے ’لوگوں کا، لوگوں کے ذریعہ، لوگوں کے لئے‘ کہہ کر کی ہے۔‘‘
تمسخر آمیز لہجے میں کہا:

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

جوں ہی مرزا نوشہ نے اپنا یہ مصرع ختم کیا، میرے ذہن میں ایک سوال بجلی کی طرح کوند پڑا۔ غالب نے ڈیموکریسی کو دمن کریسی کیوں کہا؟ کیا انہوں نے تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے مجھ سے دمن کریسی بولا؟ پھر خیال آیا کہ دمن کریسی کہنے کی وجہ غالباً یہ ہے کہ اقلیتیں عمومی طور پر اس نظام میں ظلم وستم کا شکار ہوتی ہیں۔ اس مسئلہ پر ابھی غور ہی کر رہا ہوں کہ مرزا کی آواز سنائی دی۔

’’یہ ’سی اے اے- این پی آر- این آر سی‘ پر کیسا ہنگامہ بپا ہے؟‘‘
’’اپنے ہی ملک میں اب اپنی ہی شہریت کا ثبوت دینے کے لئے کاغذات دکھانے پڑیں گے، مرزا۔ حکومت وقت کے تجویز شدہ بل کے قانون میں تبدیل ہونے پر احتجاج کا ایک سمندر امنڈ پڑا ہے۔ یا یوں سمجھیں کہ اس قانون کے تحت مسلمانوں کو اپنے ہی ملک میں جلا وطن کرنے کی ایک سازش ہے۔‘‘
’’یہ کیا بات ہوئی؟ اپنے ہی ملک میں جلا وطن کرنے کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟ حضرت جہاں پناہ کو تو فرنگیوں نے رنگون بھیج دیا تھا۔ ہمیں کہاں بھیجیں گے؟‘‘

’’ڈیٹنشن کیمپ۔‘‘
’’تو میاں آپ کے دمن کریسی میں ان کا ارادہ 1857 کی طرح نسل کشی کرنے کا ہے؟ اگر ایسی ہی بات ہے تو انہیں اپنی فہرست میں پہلا نام میرا درج کرنا چاہیے۔۔۔ میرے اجداد تو ثمرقند سے اس سر زمین پر آئے تھے۔۔۔ سوائے دیوان کے میرے پاس تو کچھ بھی نہیں۔‘‘
اور پھر فوراً پوچھا۔
’’میاں صاحبزادے، سیاست کی اس بساط پر ’ شاہ‘ کو کوئی مات دے گا؟‘‘
’’ہر فرعونے را موسیٰ، مرزا۔ طلبا، طالبات، اور خواتین!‘‘

’’ہوں‘‘ ۔۔۔ ’’وہ انصاف کی طاقت سے طاقتوروں کا زور گھٹا دیتا ہے اور اپنے کرم سے کمزوروں کو طاقت بخشتا ہے۔ ابابیل کے کنکروں کی ضرب سے فیل سوار خود سروں کا خاک میں مل جانا، یا ایک مچھر کا نمرود کو موت کے بستر پر سلا دینا کیا تھا؟ یقیناً یہ وہ نشانیاں ہیں جن سے اس کی بے پناہ قوت وقدرت کا اظہار ہوتا ہے۔ ورنہ مجھ کو بتاؤ کہ یہ دو مختلف قسم کی تباہیاں جو مختلف زمانوں میں نازل ہوئیں یہ کس ستارے کی نگاہ ستم کا کرشمہ تھی۔‘‘
ایسا لگا کہ غالب کو کسی فکر نے اچانک اپنی گرفت میں لے لیا۔ کچھ رک کر بولے۔

’’پورب میں مسلمانوں کی جو ناگفتہ بہ حالت ہے اس سے تو ان ظالموں کی عداوت صاف عیاں ہے۔۔۔ لفظ باغی، ان دنوں مسلمان کا مترادف بن گیا ہے۔۔۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت وقت نے مسلمانوں کا شکار کرنے کے لئے سپاہیوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ اور وہ اس کا فائدہ اٹھا کر ظلم وجور پر آمادہ ہیں۔۔۔ آپ نے متاثرین کی شہادتیں سنیں، اور حقائق کی تحقیق کرنے والے وفد کی رپورٹ پڑھی؟‘‘  ’’جی، میں اس پروگرام میں موجود تھا۔‘‘
’’الامان الحفیظ! الامان الحفیظ۔‘‘

اور پھر مرزا نے درد انگیز آواز میں اپنا یہ قطعہ پڑھنا شروع کر دیا۔

بسکہ فعال ما یرید ہے آج
ہر سلح شور انگلستاں کا
گھر سے بازار میں نکلتے ہوئے
زہرہ ہوتا ہے آب انساں کا
چوک جس کو کہیں، وہ مقتل ہے
گھر بنا ہے نمونہ زنداں کا
شہر دہلی کا ذرہ ذرہ خاک
تشنہ خوں ہے ہر مسلماں کا

اتنا پڑھنے کے بعد وہ اچانک گم سم ہو گئے۔ میں تذبذب میں پڑ گیا کہ ان کا ادھورا قطعہ پورا کر دوں یا مرزا ہی کے پڑھنے کا تھوڑا انتظار کر لوں؟ اور میں نے پڑھ ہی ڈالا !

کوئی واں سے نہ آ سکے یاں تک
آدمی واں نہ جا سکے، یاں کا
میں نے مانا کہ مل گئے پھر کیا
وہی رونا تن و دل و جاں کا
گاہ جل کر کیا کیے شکوہ
سوزش داغ ہائے پنہاں کا
گاہ رو کر کہا کیے باہم
ماجرا دیدہ ہائے گریباں کا
اس طرح کے وصال سے یارب
کیا مٹے دل سے داغ ہجراں کا

’’بہت خوب، میاں۔ بہت خوب۔‘‘ غالب کے چہرہ پر ایک ہلکا سا تبسم دوڑ گیا۔

’’ہاترس سے مرزا تفتہ کا رقعہ آیا ہے کہ اس کالے قانون کے خلاف لکھنئو، کانپور، آگرہ، اور متعدد دیگر جگہوں پر احتجاج چل رہے ہیں۔۔۔ فرنگیوں نے 1857 میں بیگم کے زیورات لوٹ لئے تھے۔۔۔ 2019 میں سپاہیوں نے دلہنوں کو دئے جانے والے جہیز لوٹ لئے ۔۔۔مسلمانوں سے یہ کیسی دشمنی نکال رہے ہیں؟ اس قدر نفرت؟۔۔۔ ہمارے وجود کو اب دو کوڑی کے کاغذ سے تولیں گے؟ حد ہوگئی! ۔۔۔ تفتہ نے یہ بھی لکھا ہے کہ 23 لوگ مارے گئے ہیں ۔۔۔ مظفرنگر میں انس نامی لڑکے کو ا س کے گھر کے قریب کے قبرستان میں بھی دفن نہیں کرنے دیا گیا۔‘‘

’’بالکل صحیح لکھا ہے۔‘‘
ایسا لگا کہ اچانک غالب کے دل پر چوٹ سی لگی، آنکھیں نم ہوگئیں۔
’’کیا ہوا؟‘‘
’’یوسف کا چہرا یاد آ گیا۔‘‘ مغموم لہجے میں کہا۔
’’یوسف کی وفات بھی تو 1857 میں ہوئی تھی؟‘‘
’’غلط، بالکل غلط۔ وہ مارا گیا تھا۔‘‘
’’لیکن مرزا آپ نے دستنبو میں اس بات کا تذکرہ بالکل بھی نہیں کیا ہے؟‘‘
’’صحیح فرماتے ہو، میاں۔ وہاں یوسف کی موت کی وجہ تیز بخار بتائی ہے میں نے۔‘‘
اچانک غالب غصے سے تمتما اٹھے، ان کا چہرہ سرخ ہو رہا ہے، اور پھر وہ ایک رو میں بول پڑے:
’’19 اکتوبر کو پیر کے دن نے، جس کا نام ہفتے کے رجسٹر سے کاٹ دینا چاہئے، آتش فشاں اژدھے کی طرح دنیا کو نگل لیا۔‘‘
’’کیا ہوا تھا؟‘‘

’’پانی، رومال، غسال، گورکن، اینٹ، چونے گارے وغیرہ کا ذکر چھوڑو، یہ بتاؤ کہ میں کیسے جائوں، میت کہاں لے جائوں؟ کس قبرستان میں سپرد خاک کروں؟ بازار میں اچھا، برا کسی قسم کا کپڑا نہیں ملتا۔ زمین کھودنے والے مزدور گویا کبھی شہر میں تھے ہی نہی۔ ہندو اپنے مردوں کو دریا کے کنارے لے جا کر جلا سکتے ہیں لیکن مسلمانوں کی کیا مجال ہے کہ دو تین شخص ساتھ ساتھ راستے سے گزریں، چہ جائے کہ میت کو شہر سے باہر لے جایں۔‘‘ اس قیامت خیز دن کا واقعہ غالب نے خون کے گھونٹ پیتے ہوئے سنایا۔
’’کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ دستنبو کا مقصد۔۔۔‘‘، جملہ پورا بھی نہ کر پایا کہ مرزا نے فوراً میری بات کاٹ دی۔

’’میں اچھی طرح سمجھ رہا ہوں، میاں، کہ آپ کس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں ۔۔۔ یہ خیال رہے کہ میں ظاہری طور پر ان کے ساتھ تھا، لیکن باطن سے ان کا بد خواہ ہی تھا ۔۔۔ کیا آپ کی نظر میرے اس سکے پر نہیں پڑی جو میں نے 11 مئی 1857 کو حضرت ظل سبحانی بہادرشاہ ظفر کی شہنشاہی کے اعلان پر پیش کیا تھا؟ ۔۔۔ میاں، مجھے اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہے کہ آپ کا اگلا سوال کیا ہو گا۔ اس بات کا بھی تذکرہ دستنبو میں نہیں ہے! ۔۔۔ اگر کسی کو منشی جیون لال کا اصل روزنامچہ دستیاب ہو جائے تو اس کی نظر بآسانی میرے سکے پر پڑ سکتی ہے۔‘‘

یہ سنتے ہی میں نے ان کا سکہ شعر ان کو سنا دیا۔

بر زر آفتاب ونقرہ ماہ
سکہ زد در جہاں بہادر شاہ

غالب نے مجھے فرط محبت سے دیکھا، اور مشفقانہ انداز میں بولے۔
’’دستنبو کا مطالعہ، برطانوی حکومت اور اس کے ظلم وبربریت کے سیاق وسباق میں ہی کیا جانا چاہئے۔ کیوں، میاں؟‘‘
اور پھر کچھ دیر کے بعد یہ شعر پڑھا۔

صادق ہوں اپنے قول کا غالب خدا گواہ
کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے

’’بابری مسجد کے فیصلے کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟‘‘ کچھ وقفے کے بعد میں نے پوچھا۔
’’’بات جو نکلے گی تو دور تلک جائے گی‘ ۔۔۔ ’’رہنے دیں، حضرت! ۔۔۔ مختصر یہ کہ اس فیصلے کو برداشت کرنا بڑا گراں گزرا ۔۔۔ لیکن ۔۔۔ غالبا ً عمومی خیال یہی تھا:

ہے موجزن اک قلزم خوں، کاش، یہی ہو!

’’کشمیر کے تعلق سے آپ کی کیا رائے ہے؟‘‘ ، میں نے فوراً ہی اگلا سوال داغ دیا۔
’’پچھلے ہفتے ’ کشمیر سے ایک پوسٹ کارڈ‘ ملا۔ اس ضعیف العمری میں ایسے سانحہ کی ٹیس اور احساس ذلت کا بوجھ بڑا گراں گزرتا ہے۔‘‘

اچانک غالب باغ کے ایک کونے میں چلے گئے، اور ان کے بڑبڑانے اور سسکنے کی آواز، کچھ دور سے بھی صاف سنائی دے رہی ہے۔ آواز کے زیروبم کے ساتھ وہ مستقل بولے چلے جا رہے ہیں:
’’کشمیر کشمیر کشمیر کشمیر کشمیر ۔۔۔‘‘
آستینوں سے آنسو پوچھتے، اور سسکیوں کو دباتے، مرزا واپس لوٹے، اور پوچھا۔
’’دکن میں چند لوگ مارے گئے ہیں؟‘‘
’’خبر گر چہ صحیح ہے، مرزا، مگر تھوڑی پرانی ہے۔ گوری لنکیش، گووند پنسرے، اور ایم ایم کلبرگی اپنی تنقیدوں اور تحریروں کی وجہ کر مار دئے گئے۔‘‘
یہ خبر سنتے ہی مرزا ذرا آزردہ سے ہو گئے۔

’’مولوی محمد باقر کی یاد آ رہی ہے۔ گو کہ ہمارے رشتے تلخ تھے لیکن بڑا ہی جانباز تھا۔ ’دہلی اردو اخبار‘ میں اپنی تنقید سے اس نے برطانوی حکومت کے دانت کھٹے کر رکھے تھے۔ ۔۔۔فضل حق خیرآبادی کو فرنگیوں نے کالا پانی بھیج دیا تھا، اور وہ وہیں مرے ۔۔۔ صہبائی کو تو ظالموں نے چیلوں کے کوچے میں ان کے گھر سے زبردستی نکال کر گولیاں داغ دی تھیں۔ صرف اس چیلوں کے کوچے میں ایک ہزار سے زیادہ افراد کو قتل کر دیا تھا۔‘‘
ایک ہلکی سی کھانسی کے بعد ۔۔۔
’’میاں، یہ سیڈیشن کیا بلا ہے؟‘‘
’’توہین ریاست۔‘‘ اس مبہم نظریہ کے متعلق کچھ نہ سوجھا تو بس یہی کہہ دیا!

’’اچھا، سمجھا! فرنگیوں نے تعزیرات ہند کی دفعہ -124الف کا استعمال 1857 کی سیاست میں متحرک مسلمانوں کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کی غرض سے ہی لایا تھا ۔۔۔ انہیں ’وہابی‘ کہہ کر منظم طریقہ سے بدنام کیا، جو آج بھی مسلم مخالف بیانیوں کا ایک اہم جزو ہے ۔۔۔ ہنٹر نے اپنی کتاب ’دی انڈین مسلمانز‘ میں جو زہر اگلا ہے اس نے مسلمان نام کو ہی تشدد، سرکشی، اور بغاوت کا ہم معنیٰ بنا دیا ہے ۔۔۔ اس بیا نیے کا نقش عوامی حافظہ پر کافی گہرا ہے۔‘‘
مرزا نے منہ پر پانی کا چھپکا مارا، کچھ ٹھہر کر پھر پوچھا۔
’’یہ شرجیل کون ہے؟‘‘

’’شرجیل ایک ’آزاد و خود بیں‘ نوجوان ہے جس نے اپنے سیاسی عزائم کو بڑے ہی پر جوش اور مدلل انداز میں سب کے سامنے رکھا۔ اسے غدار اور باغی جیسے القاب سے بدنام کیا جا رہا ہے۔ جن لوگوں کا شرجیل کی بدنامی میں اپنا سیاسی مفاد چھپا ہے، وہ لوگ اسے ’موسنگھی‘ کہہ رہے ہیں۔‘‘
’’موسنگھی؟‘‘
’’جی، مرزا۔ موسنگھی، ایک نئی اختراع شدہ اصطلاح ہے۔ اصل میں یہ سنگھ بمعنیٰ دائیں بازو کی پارٹیاں، اور مسلم کا امتزاج ہے۔‘‘
’’حضرت، آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ شرجیل کے تناظر میں یہ لفظ ’بے محل‘ سا ہے؟‘‘
’’آپ بالکل صحیح فرما رہے ہیں، مرزا نوشہ۔ جو مسلمان دائیں بازو کی پارٹیوں سے منسلک ہوں جیسے شہنواز اور مختار، صرف انہیں ہی اس لفظ سے پکارا جاسکتا ہے۔‘‘
کیمپس کے باہر سے آتی ہوئی آوازوں نے غالب کو کافی دیر سے کچھ پریشان سا کر رکھا ہے۔
’’یہ شوروغوغا کیسا ہے، میاں صاحبزادے؟‘‘
اس ہنگامہ کو وہ خود دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے دونوں ہاتھ میری جانب بڑھاتے ہوئے یہ شعر دھیمی آواز میں پڑھا:

مضمحل ہو گئے قویٰ غالب
وہ عناصر میں اعتدال کہاں

غالب کی قوت سامعہ بہت کمزور ہے، اس کے باوجود باہر سے آتی ہوئی آوازوں — نبیہ خان کی انقلابی شاعری، چندا یادو کی تقریر، انقلابی نعرے، عامر عزیز کا بیلڈ، پوجن ساحل کی آواز میں اطالوی فسطائیت کی مخالفت کا مشہور گانا ’بیلا چاؤ‘ کا ہندوستانی روپ ’واپس جاؤ‘، اور اسی قبیل کے دوسرے پروگرام، جو یونیورسٹی کے گیٹ نمبر 7 کے باہر بڑے دھوم سے جلوہ افروز ہیں — کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ وہ بڑے محظوظ ہو رہے ہیں۔ نوجوانوں کی ہمت وجولانی کو دیکھ کر وہ بڑے خوش ہیں، اور دعائیں بھی دے رہے ہیں۔

’’یہ طلباوطالبات ذاکر، مجیب، عابد، اور لوہیا کی یاد دلا رہے ہیں ۔۔۔ اسی جامعہ میں پہلی بار ان لوگوں نے برطانیہ کی مخالفت کا مزہ چکھا تھا۔‘‘
لگ بھگ ڈھائی گھنٹے تک محظوظ ہونے کے بعد، غالب نے بڑے ہی پر جوش انداز میں یہ مصرع پڑھا۔
پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے
ایک ہلکی سی کھانسی، اور آنکھوں کو دونوں ہاتھوں سے ملتے ہوئے مرزا نے استفسار کیا۔
’’میاں، ان دنوں مشیر الحسن کہاں رہتے ہیں؟‘‘
’’داغ مفارقت دے گئے!‘‘
غالب نے سرد آہ بھری، اور بولے۔

’’مشیر! چند سال پہلے ہی تو ایڈورڈ سعید ہال میں دستنبو سے ایک عبارت کا حوالہ دے رہا تھا 1857۔۔۔ کے اثرات کا تذکرہ، بڑے ہی مدلل انداز میں کر رہا تھا ۔۔۔ ذکاء اللہ کے بارے میں بھی تفصیل سے بتا رہا تھا ۔۔۔ اس دار فانی سے اتنی جلدی کوچ کر گیا؟ ۔۔۔ ایک بڑا مؤرخ اور ایک علم دوست انسان تھا۔ اس کے ادب کے مذاق کے کیا کہنے! ۔۔۔ آپ کی جامعہ کی ’تہذیب‘ میگزین میں اس کا ایک جملہ آج بھی مجھے ازبر ہے: ’میری نیک تمنائیں ہمیشہ تہذیب والوں کے ساتھ ہیں۔‘‘ ‘

کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور

’’ان دنوں شیخ الجامعہ کون ہے؟‘‘
میں ہلکا سا جھکا، اور ان کے کان میں سرگوشی کی۔
’’کس طرح کے ابن الوقت لوگ اس دبستان علم پر حکومت کر رہے ہیں؟‘‘
اچانک غالب پر اداسی چھا گئی، اور کف افسوس ملتے ہوئے انہوں نے مصرع پڑھا۔

ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو؟

’’آپ پنشن بلا ناغہ پا ر ہے ہیں؟‘‘
’’ہاں بھئی ۔۔۔ لیکن یہ رقم بڑی چھوٹی ہے۔ اصل میں 1857 کی بغاوت کے بعد میری پنشن بند ہو گئی تھی ۔۔۔ بھلا ہو اس سید احمد کا جس نے اسے دوبارہ بحال کروا دیا تھا۔‘‘

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

’’آپ نے سید احمد کی مرتبہ ’آئینہ اکبری‘ پر تقریظ لکھا ہے؟‘‘
’’ہاں، میاں۔ لیکن یہ فارسی میں ایک نظم کی شکل میں ہے جس کا ترجمہ فاروقی نے کیا ہے۔‘‘
ایک لمبے سکوت کے بعد استفسار کیا۔
’’یہ فاروقی کہاں رہتے ہیں؟‘‘
’’جنہوں نے ’تلاش میر‘ لکھی ہے، یا ’دستنبو‘ کا اردو اور انگریزی زبانوں میں ترجمہ کرنے والے حضرت فاروقی۔‘‘
’’نہیں، میاں! وہ جناب جنہوں نے ’تفہیم غالب‘ میں میرے اشعار میں پنہاں اسرارورموز پر روشنی ڈالی ہے۔‘‘
تفہیم غالب پر کئی سال پہلے میں نے ایک طائرانہ نظر ڈالی تھی۔ کتاب کا نام سنتے ہی میں نے مصنف کا نام یاد کرنے کی خاطر ذہن پہ ذرا زور دینا ہی چاہا کہ غالب بول پڑے۔

’’ارے میاں، وہ بندہ جس نے ’ کئی چاند تھے سر آسماں‘ جیسی معرکتہ الآرا ۔۔۔‘‘
اس ناول کا نام سنتے ہی سمجھ آگیا کہ مرزا نوشہ شمس الرحمٰن فاروقی کی بات کر رہے ہیں۔
’’کافی ضعیف ہو گئے ہیں۔ مستقل سکونت الٰہ آباد ہے، لیکن علاج و معالجہ کے لئے دہلی اکژ آتے ہیں۔‘‘
اس سے پہلے کہ مرزا کچھ کہتے یا سوال کرتے، میں پوچھ بیٹھا۔
’’آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ جس انداز سے فاروقی صاحب نے وزیر خانم کے حسن، اور ’غمزہ وعشوہ وادا‘ کو بیان کیا ہے وہ اپنا دل دے بیٹھے ہیں؟‘‘
غالب نے زور کا ایک ٹھہاکا لگاتے ہوے فرمایا۔

’’میاں صاحبزادے! وزیر خانم جیسی خواتین پر فریفتہ ہونے میں فاروقی حق بجانب ہیں! ۔۔۔ خیر، فاروقی نے میرے اشعار کی تہ داری پر جس طرح روشنی ڈالی ہے، اور جن جن نکات کو ڈھونڈ نکالا ہے اس نے مجھے بھی کئی جگہوں پر حیرت میں ڈال دیا ہے ۔۔۔ آپ نے کتاب میں اس شعر کی تشریح دیکھی ہے؟‘‘

ہیں زوال آمادہ اجزائے آفرینش کے تمام
مہر گردوں ہے چراغ رہ گزر بادیاں

’’جی، مرزا۔ جیمز جینز کی ’دی ڈائنگ سن‘ کا حوالہ دیتے ہوئے فاروقی صاحب نے ایک نئے معنیٰ کی راہ نکالی ہے جو واقعی قابل تعریف ہے۔ اس شعر کی تفہیم پڑھتے ہوئے میں اکژ انگشت بدنداں ہو جاتا ہوں۔‘‘
اب غالب نڈھال لگ رہے ہیں۔
’’رات کا کھانا ساتھ کھانا پسند کریں گے؟‘‘ ، میں نے پوچھا۔
’’انگریزی ملے گی؟ لکیور۔‘‘
’’لکیور؟‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا۔
’’میاں، آپ کیا صرف انگور نوش فرماتے ہیں؟‘‘
چہرے پر ایک فرط تبسم کے ساتھ لکیور کی تعریف کی۔
’’اس کا لطف بھی آم ہی جیسا ہوتا ہے۔ رنگت کی بہت خوب، قوام کی بہت لطیف، طعم کی ایسی میٹھی جیسے قند کا پتلا قوام۔ اور یہ ہندوستانی گڑ چھال کی چھنی ہوئی شراب مجھے بالکل پسند نہیں۔‘‘
’’حضوروالا، اوکھلا میں متنوع قسم کی بریانی ملتی ہے۔ ’زہرۃ‘، یا ’النواز ریستوراں‘ چل سکتے ہیں، اور نہاری کے لئے، ’جاوید‘ کے یہاں۔‘‘
’’میاں، ان پکوانوں کے لئے شاہجہان آباد میں بہت بہتر خانسامے موجود ہیں۔ آپ اگر لکیور کا انتظام کرا دیتے تو بڑی نوازش ہوتی۔‘‘
]لکیور سے غالب کی مراد غالبا ًشارتروز (Chartreuse) شراب ہے۔ [
’’اس وقت کہاں تشریف لے جا رہے ہیں؟‘‘
’’بیگم کو ساتھ لوں گا، پھر بلی ماروں کے محلے جائوں گا۔‘‘

بلی ماروں کا نام سنتے ہی میرا ذہن ٹھنکا۔ اس جگہ کے تعلق سے ایک سوال نے میرا ناک میں دم کر رکھا ہے۔ آج مرزا نوشہ سے اس سوال کا جواب دریافت کرنے کی امنگ نے دل میں انگڑائی لی۔ میں نے اجازت مانگی، جسے مرزا نے ایک لمبی ’ہوں‘ سے دی۔
’’مرزا، اس لفظ سے تو میں واقف ہوں لیکن دہلی کے چنڈو خانوں میں َََََََََََََََ بلی ماروں کے محلے کی وجہ تسمیہ کے تعلق سے کچھ اور ہی مشہور ہے۔‘‘
’’اور وہ کیا ہے، میاں صاحبزادے؟‘‘
’’کچھ لوگوں کو بولتے سنا ہے کہ ایک پٹھان بلی پالا کرتا تھا اور اسی بلی سے ۔۔۔ اس لئے یہ محلہ بلی ماروں کے نام سے ’مشہور‘ ہوا۔‘‘
غالب نے زور کا ایک قہقہہ لگایا، خوب محظوظ ہوئے، آنکھیں آبدیدہ ہو گئیں۔
’’میاں، رہنے دیں یہ سب اشقلے۔‘‘
’’بیگم اور بی وفادار کہاں ہیں؟‘‘

’’بیگم بتا رہی تھیں کہ کسی نیک کام کے لئے خواتین کا ایک جلسہ لگا ہے، آپ کے اس دمن کریسی میں ۔ ۔۔ ان دنوں وہ اس میں شامل ہونا فرض عین سمجھتی ہیں ۔ ۔۔ کہتی ہیں کہ زین العابدین کے دونوں معصوموں کے لئے اس ’جنگ‘ میں شرکت اشد ضروری ہے ۔۔۔ شاید دادیاں بھی وہاں موجود ہیں ۔۔۔ اس جگہ کا نام ۔۔۔ مجیب باغ ۔۔ ۔ ذاکر باغ ۔۔۔ حافظہ ساتھ نہیں دے رہا ۔۔۔‘‘
’’شاہین باغ۔‘‘
’’ہوں۔‘‘
’’آپ کیوں اس پیرانہ سری میں روزانہ ان احتجاجوں میں آ نے کی زحمت گوارا کرتے ہیں۔ کبھی کبھار حاضری دے دیا کریں۔‘‘
’’ضعیف ہوا ہوں، مرا نہیں ہوں۔‘‘
میں نے لکیور کی یاد دلائی۔
انہوں نے ٹھنڈا سانس بھرا، اور یہ شعر پڑھا۔

موج خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائے
آستان یار سے اٹھ جائیں کیا!

شاہین باغ روانہ ہونے سے پہلے غالب نے اپنا دایاں ہاتھ کلو کی طرف بڑھایا، جس نے ایک ریشمی بٹوا تھیلے سے نکال کر غالب کے حوالے کیا۔
’’میاں صاحبزادے، اسے آپ رکھیں۔‘‘
میں نے بٹوا کو آنکھوں سے لگایا، بوسہ دیا۔ جھٹ کھول کر دیکھا تو اس میں دو دو ہزار کے پانچ نوٹ پڑ ے ہیں۔
کلو، غالب کا ہاتھ پکڑے ہوئے ہے، اور ہم لوگ جامعہ قبرستان کی طرف دھیرے دھیرے بڑھ رہے ہیں۔ اسی اثنا میں مرزا نے جامعہ قبرستان کی طرف ایک نظر ڈالی، اور شعر پڑھا۔

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کئے؟

میں غالب کی ڈگمگاتی چال کو بغور دیکھ رہا ہوں کہ کلو نے آہستہ سے بتایا کہ 15 دسمبر کی شام کو مرزا کی بائیں پنڈلی میں ربر کی گولی لگ گئی تھی۔
ای رکشہ کو میں نے اشارہ کیا۔
مرزا کو تحفے میں دینے کے لئے جو دستنبو، انگوروں کی ایک بڑی جھابی، امرتی، اور مبارکپور کا بنا ہوا ریشمی کمربند خریدا تھا، اسے کلو کے حوالے کیا۔
کلو نے غالب کو آرام سے ای رکشہ پر بٹھایا، اور دونوں شاہین باغ کی طرف چل پڑے۔

اپنی شدید مصروفیت کے باعث میں بلی ماروں کے محلے میں واقع غالب کی حویلی ان سے ملاقات کے لئے نہیں جا پارہا ہوں۔ لیکن کلو سے انکی خیریت گاہے بگاہے لیتا رہتا ہوں۔ اس بات کا مجھے بخوبی علم ہے کہ مرزا نوشہ کی طبیعت ناساز چل رہی ہے۔ ان کی سماعت ویسے ہی کمزور تھی، پولس کے ذریعہ استعمال کی گئی stun grenadeنے انکی قوت سامعہ کو ہمیشہ کے لئے معطل کر دیا ہے۔ ربر کی گولی جو انہیں 15 دسمبر کی شام کو لگی تھی اس کا infection جلدی پھوڑے (carbuncle) کی شکل اختیار کر گیا۔ اور انہیں مولانا آزاد میڈیکل کالج میں اس کا آپریشن کرانا پڑا۔ ڈاکٹر نیا تھا، اور طبی ناتجرباکاری کی وجہ سے اس نے مرزا نوشہ کو جزوی مخدر (LA) دیئے بغیر چرا لگایا جسے انہوں نے چوں چرا کئے بغیر بڑے صبروتحمل کے ساتھ برداشت کیا۔ جلدی پھوڑے ٹھیک ہو گئے، مگر غالب کی پنڈلی پر ایک گہرا داغ چھوڑ گیا۔

15 فروری کی صبح کو نوئیڈا میں اپنے ایک عزیز دوست، ادریس کے گھر پر محوگفتگو ہوں کہ اچانک موبائل پر ایک میسیج نمودار ہوتا ہے: ’’غالب نے داعی اجل کو لبیک کہا۔‘‘ چند لمحوں کے لئے دل کی حرکت بند ہو گئی ہے۔ میں نے زیر لب اناللہ ۔۔۔ پڑھا۔ غالب کی بیگم، عارف کے دونوں بچوں، اور تجہیزوتکفین کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی غرض سے فوراً کلو کو کال لگایا۔ مختصر بات چیت ہوئی۔ مرزا نوشہ کی نماز جنازہ کے تعلق سے کلو کو مشورہ دیا کہ ان کے مداحوں کے لیے تھوڑا انتظار کرنا بہتر رہے گا۔

لوگ کچھ پوچھنے کو آئے ہیں
اہل میت جنازہ ٹھرائیں
لائیں گے پھر کہاں سے غالب کو
سوئے مدفن ابھی نہ لے جائیں

ادریس کے گھر سے تو میں صحیح وقت پر نکلا، لیکن ڈی این ڈی فلائی اوور پر ٹریفک کے اژدھام میں پھنس گیا، اور اس طرح مرزا کی نماز جنازہ سے محروم رہ گیا، جو دہلی دروازہ پر ادا کی گئی۔ میں نے آٹو والے سے سیدھے بستی حضرت نظام الدین چلنے کو کہا جہاں غالب کی تدفین ان کے خسر صاحب کی قبر کے نزدیک ہونی ہے۔ یہاں پہنچ کر میں نے آتے ہوئے جنازے کے جلوس میں شرکت کی جو جلد ہی اس مقام پہ پہنچا جہاں مرزا کی تدفین ہونی ہے۔

میں، مرزا نوشہ کو قبر میں اترتے ہوے بغور دیکھ رہا ہوں۔ آخری زیارت کے لئے چہرہ مبارک پر سے سفید چادر ہٹائی گئی۔ اور لوگوں کی طرح میں بھی ’غالب خستہ‘ کو آخری بار دیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ مرزا، ’حسین اور خوش رو‘ نظر آ رہے ہیں، جن کی جلد آج بھی چمپئی ہی ہے۔ بالآ خر انہیں سپرد خاک کر دیا گیا۔

تین بار میں نے بھی مٹی ڈالی، فاتحہ پڑھی، اور جامعہ نگر کو روانا ہو گیا۔
جامعہ اسکوائر (گیٹ نمبر7) قریب ہی ہے کہ پوجن ساحل کے گیٹار بجانے اور نظم پڑھنے کی آوازیں کانوں کو محسوس ہونے لگیں۔

گیٹار کی آواز سے آنکھ کھلی تو دیکھتا ہوں کہ رات بھیگ سی گئی ہے، اور پوجن ساحل ’واقعی‘ گیٹار پر جالب کی نظم پڑھ رہا ہے۔ او رطلبا وطالبات کا ایک جم غفیر اس کی آواز سے آواز ملا کر جھوم رہا ہے۔

میں بھی خائف نہیں تخت دار سے
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا ۔۔۔

[نوٹ: مرزا غالب سے اس ملاقات کا باعث شمس الرحٰمان فاروقی کا ’غالب افسانہ‘ اور انہی کے قلم سے اس کا انگریزی ترجمہ ’Bright Star, Lone Splendour‘ بنا۔ متذکرہ دو تحریروں کے علاوہ اس ملاقات کے لئے ’دستنبو‘ کے اردووانگریزی ترجمے از خواجہ احمد فاروقی، الطاف حسین حالی کی ’یاد گار غالب‘ کے چند صفحات، اور ’خطوط غالب‘، مرتبہ غلام رسول مہر کے کچھ پننوں سے خوشہ چینی کی گئی ہے۔]


فہد ہاشمی، دہلی یونیورسٹی کے دہلی اسکول آف اکنامکس کے شعبہ سماجیات میں ریسرچ اسکالر ہیں، اور ادب و تاریخ سے خاص شغف رکھتے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply