بھارتی مظالم: مسلمانوں کے ساتھ اب سکھ کسان نشانے پر —- وحید مراد

0

بھارتیہ جنتا پارٹی کی مودی سرکار، ہندوتوا کے نسل پرستانہ عقائد پر یقین رکھتے ہوئے اونچی ذات کے ہندوئوں کے علاوہ بھارت میں کسی اقلیت کو جینے کا حق نہیں دیتی۔ اس بھارتی سرکار نے اقتدار سنبھالتے ہی اقلیتوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ آسام میں صدیوں سے رہائش پذیر بیس لاکھ مسلمانوں کی شہریت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے انہیں بے وطن کردیا۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے اعلان کیا کہ جو لوگ اپنی شہریت ثابت نہیں کر سکیں گے انہیں خلیج بنگال میں پھینک دیا جائے گا۔ اسکے علاوہ بھارتی فوج نے ایک سال سے زیادہ عرصہ سے وادی جموں کشمیر میں کرفیوں نافذ کر رکھا ہے۔ نولاکھ بھارتی فوج کی موجودگی میں کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں اور وہ اپنے گھروں میں قید ہیں۔ کشمیریوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جا رہا ہے اور میڈیا پر پابندیاں عائد ہیں کہ انکی آوا ز دنیا تک نہ پہنچ سکے۔ اب بھارتی حکومت کسان دشمن زرعی قوانین کے نفاذ سے سکھوں کامعاشی قتل کرنا چاہتی ہے تاکہ خالصتان تحریک کی آواز کو بھی کشمیر کی طرح دبایا جاسکے۔

زرعی اصلاحات کے نام پر کسان دشمن قوانین متعارف کرائے جانے پر ملک بھر کےکسان سراپا احتجاج ہیں۔ کسان رہنمائوں نے الزام لگایا کہ بھارتی حکومت یہ ظاہرکر رہی ہے کہ احتجاجی تحریک صرف پنجاب کے کسانوں کی ہے حالانکہ اس میں ملک بھر کے کسان اور رہنما شامل ہیں۔ ان قوانین کے خلاف یوپی، غازی پور، غازی آباد، ہریانہ اور دہلی میں احتجاج جاری ہے اور اس میں کسانوں کے علاوہ مزدور، تاجر، دکاندار، ٹرانسپورٹرز اور سیاست دان بھی شامل ہیں۔ اس احتجاج کے خلاف ہریانہ دہلی سرحد پر واٹر کینن اور آنسو گیس کے گولے استعمال کئے گئے اورسرحد پر روکےجانے کی وجہ سے کسانوں اور پولیس میں مختلف مقامات پر تصادم بھی ہوئے۔ کسانوں نے مودی حکومت کے ظلم و ستم کے آگے سر جھکانے سے انکار کرتےہوئے کہا کہ ہمارے اوپر ٹینک چڑھا دو یا ہمیں مشین گنوں سے بھون ڈالوں لیکن ہم مطالبات منظور ہونے تک احتجاج ختم نہیں کریں گے۔

کسانوں کی بڑی تعداد پنجاب کے سکھوں پر مشتمل ہے اس لئے بھارتی میڈیا، ہندوتوا کی ہمنوا ئی میں اس کو خالصتانی کسان احتجاج کا نام دے رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ احتجاج اب صرف پنجاب میں خالصتان تک ہی محدود نہیں بلکہ بنگلور، اترپردیش اور جے پور کی طرف بھی بڑھتا چلا جارہا ہے جہاں مظاہروں میں علیحدگی کے نعرے بھی لگائے گئے۔ مقبوضہ کشمیر کے لوگ بھی کسانوں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سڑکوں پر آگئے اور کشمیر چھوڑ دو کے نعرے لگائے۔ بھارتی سرکار کی تلماہٹ اس وقت دیدنی تھی جب سکھ رہنما امرجیت سنگھ نے حکومت پاکستان اور میڈیا سے مودی حکومت کے خلاف تعاون کی اپیل کی اور اپنے ملک کی سکھ فوج کو تحریکِ خالصتان میں شامل ہونے کی دعوت دے ڈالی۔ اسی طرح ورلڈ سکھ پارلیمنٹ کے ممبر رنجیت سنگھ نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کو نشانہ بنانے پر وہ مودی سرکار کے خلاف اقوام متحدہ میں درخواست جمع کرائیں گے۔ مودی سرکار امرجیت سنگھ اور رنجیت سنگھ کا تو کچھ نہیں بگاڑسکی لیکن سابقہ بھارتی کرکٹر یوراج سنگھ کے والد کو دھمکیاں ضرور دی گئیں جنہوں نے کسانوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے سابقہ کرکٹرز کو حکومتی اعزازات واپس کرنے کی اپیل کی تھی۔

مودی سرکار لداخ میں چین سے شکست کھانے اور کشمیری وآسامی مسلمانوں پر مظالم ڈھانےکے سلسلے میں عالمی برادری کے سامنے بدنامی پرذہنی دبائو کا شکار تھی لیکن اب کسان وخالصتان تحریک نے اسے اعصابی تنائو کا شکار بھی کر دیا ہے۔ یہ ان تمام مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے کسی بھی وقت پلواما جیسا کوئی ڈرامہ رچا کر خطے کی فضا کو خراب کر سکتی ہے۔ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے سیکولر ہندوستان کا چہرہ مسخ کر دیا ہے مگرکسانوں کا احتجاج انکا اندرونی معاملہ ہے ہمیں اس پر کچھ کہنے کی ضرور ت نہیں۔ اسکے جواب میں بھارٹی میڈیا یہ بتا رہا ہے کہ پاکستان، بھارتی کسانوں کی اس احتجاج کی وجہ سے سخت ٹینشن کا شکار ہے کیونکہ پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ بھارت ان مظاہروں سے توجہ ہٹانے کیلئے کسی بھی وقت پاکستان کی جانب کوئی سرجیکل اسٹرائیک کر سکتا ہے۔ اس لئے پاکستان نے سرحد پر موجود اپنی فوجوں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ ایک بھارتی اخبار نے فواد چوہدری کے ٹوئیٹ ‘مودی حکومت کو پنجاب کے کسانوں کی کوئی پرواہ نہیں’ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستانی وزراء بیان بازی کرکے بھارتی حکومت اور کسانوں میں پھوٹ ڈلوانا چاہتے ہیں۔

برطانیہ میں لیبر پارٹی کے سکھ ممبر پارلیمنٹ تنمن جیت سنگھ نے کسانوں کے مسئلہ کو برطانوی پارلیمنٹ میں اٹھاتے ہوئے وزیر اعظم جانسن سے کہا کہ انڈیا میں کسان پرامن احتجاج کر رہے ہیں لیکن انڈین پولیس ان پر واٹر کینن اور آنسوگیس استعمال کررہی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کو چاہیے کہ اس سلسلے میں بھارتی ویر اعظم سے بات کریں لیکن وزیراعظم جانسن نےاس معاملے میں انجان بنتے ہوئے خاموشی اختیار کر لی۔ پھر محتاط انداز میں بولے کہ یہ سب تشویشناک ہے لیکن انڈیا اور پاکستان کو چاہیے کہ ملکر اس مسئلے کو حل کریں۔ وزیر اعظم کا یہ جواب سن کر تنمن جیت سنگھ کا حیر ت کے مارے برا حال تھا۔ تمنن جیت سنگھ نے برطانوی وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے ٹوئیٹ کیا کہ کاش وہ اس مسئلے کے بارے میں باخبر ہوتے اور اسے پاکستان بھارت تنازعے کے رنگ میں نہ دیکھتے۔ دیگر سکھ لیڈروں نے بھی وزیر اعظم بورس جانسن کی غیر حاضر دماغی پر شدید تنقید کی۔ 35 برطانوی ممبران پارلیمنٹ نے تنمن جیت سنگھ کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے اسکے ایک خط پر دستخط کئے۔

کینیڈا کے وزیر دفاع ہرجیت سنگھ نے ٹوئٹر پر لکھا کہ، ”بھارت میں پرامن مظاہرین کے خلاف بے رحمی برتنا پریشان کن ہے۔ میرے حلقے کے کئی لوگوں کو اپنے خاندان اور رشتے داروں کے بارے میں تشویش ہے۔ صحت مند جمہوریت پرامن مظاہروں کی اجازت دیتی ہے۔ میں اس بنیادی حق کی حفاظت کی اپیل کرتا ہوں”۔ کنیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے بھی بھارتی کسانوں کے احتجاج کے خلاف انڈین سیکورٹی فورسز کےرویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت ہمیشہ پرامن مظاہروں کی حمایت کرتی رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم مظاہرین کے اہلخانہ اور دوستوں کیلئے فکر مند ہیں اور ہم مذاکرات کی اہمیت پر یقین رکھتے ہیں۔ جسٹن ٹروڈو کے بیان پربھارت کو مغرب کے سامنے سخت ندامت کا سامنا کرنا پڑا۔ اپنی خفت مٹانے کیلئے انڈیا نے کنیڈا کے سفیر کو طلب کرکے کہا کہ وزیر اعظم جسٹن ٹرودو کا بھارتی کسانوں کے حتجاج کے حوالے سے بیان، بھارت کےاندرونی معاملات میں مداخلت ہے اور اس سے دوطرفہ تعلقات کو شید نقصان پہنچے گا۔ انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سریواستو نے جسٹن ٹروڈو کے بیان کو غیر ضروری قرار دیا۔

کنیڈا کے سکھوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے سب سے پہلے بھارتی کسانوں کے حق میں آوا ز اٹھائی تھی جس کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں اس تحریک کی حمایت میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا۔ سینکڑوں افراد نے وسطی لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر مظاہرہ کیا تھا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ مودی حکومت دہلی کی سرحدوں پر بیٹھے ہوئے کسانوں کی پریشانیوں کو دیکھے اور ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے۔ بھارتی ہائی کمیشن کے ایک افسر کے مطابق مظاہرین نے ‘بھارت مخالف‘ نعرے بھی لگائے۔ امریکی شہر سین فرانسسکو میں بھی بھارت نژاد شہریوں نے کسانوں کی حمایت میں ریلی نکالی۔ امریکہ میں کئی ممبران کانگرس نے بھی بھارتی کسانوں کی حمایت کا اعلان کیا۔ کانگرس کے رکن ڈاؤ لاملفا نے ایک بیان میں کہا، “میں بھارت میں پنجابی کسانوں کے احتجاج کے ساتھ یکجہتی میں کھڑا ہوں “۔ ایک اور ریپلکن رکن کا کہنا تھا کہ کسانوں کو حکومتی پالیسی کے خلاف بلا خوف وخطر پرامن احتجاج کا پورا حق ملنا چاہیے۔ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور فرانس میں بھی کسانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔

بھارتی پارلیمنٹ نے ستمبر 2020 میں زراعت کے متعلق تین بل متعارف کرائے تھے جنہیں فوراً قوانین کی حیثیت دی گئی۔ ان میں ایک زرعی پیداوار تجارت اور کامرس قانون 2020 ہے۔ اس میں کسانوں اور تاجروں کو مارکیٹ کے باہر فصلیں فروخت کرنے کی آزادی دی گئی اور اس میں ریاست کے اندر اور دو ریاستوں کے مابین تجارت کو فروغ دینے کا کہا گیا ہے۔ دوسرا قانون کسان امپاورمنٹ اور پروٹیکشن زرعی سروس قانون 2020 ہے جس میں زرعی معاہدوں پر قومی فریم ورک مہیا کیا گیا ہے۔ اس قانون میں کاشتکاروں کو زرعی مصنوعات، فارم خدمات، زرعی کاروبار کمپنیوں، پروسیسرز، تھوک فروشوں، بڑے خوردہ فروشوں اور برآمد کنندگان کی فروخت شامل ہونے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اور تیسرا قانون ضروری اشیاء کا ترمیمی قانون 2020ہے۔ اسکے تحت اناج، دالیں، خوردنی تیل، پیاز، آلو وغیرہ کو اشیائے ضروریہ کی فہرست سے نکالنے کا انتظام کیا گیا ہے۔

وزیراعظم مودی کا دعویٰ ہے کہ ان قوانین سے جو اصلاحات کی جا رہی ہیں وہ زراعت کے شعبے کیلئے ایک اہم موڑ ثابت ہوں گی جبکہ حزب اختلاف نے ان قوانین کو کسان مخالف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کسانوں کیلئے موت کا پروانہ ثابت ہوں گے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا موقف ہے کہ زرعی شعبے میں زیادہ نجی کردار کی اجازت دینے والی اصلاحات سے کسانوں کی آمدنی متاثر ہونے کا کوئی خدشہ نہیں۔ مودی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ منڈی کا نظام جاری رہے گا اور وہ موجودہ امدادی قیمتیں واپس نہیں لیں گے لیکن کسانوں کو اس پر یقین نہیں۔ حکومت کی حلیف جماعت شرومنی اکالی دل سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر ہرسمرت کور نے ان قوانین کو کسان مخالف بتاتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال نے کہا کہ حکومت کو کسانوں سے غیر مشروط بات کرنی چاہیے، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ احتجاج کی وجہ سے حکومت کی طرف سے انہیں گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہے اور ایک طرح سے انہیں گھر میں ہی نظربند کر دیا گیا ہے۔ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ کو بھی کسانوں کی احتجاجی ریلی میں جانے سے روک دیا گیا تھا اور پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ وزیر داخلی امت شاہ نے کہا کہ مرکزی حکومت کسانوں کے ساتھ بات چیت کرنے کو تیار ہے لیکن پہلے انہیں سنگھو اور ٹیکڑی سرحدوں سے دہلی کے براری میدان میں آنا ہوگا۔

بھارتی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور ناکام ہونے کے بعد کسانوں نے اس ہڑتال و احتجاج کا اعلان کیا۔ اپوزیشن جماعت کانگرس کے رہنما راہول گاندھی نے متعدد ٹویٹس میں یہ پیغام دیا کہ احتجاج کرنا کسانوں کا حق ہے اور کانگرس بھی اس قانون کی مخالفت، پارلیمنٹ سے سڑکوں تک کر رہی ہے۔ کسانوں کی اس ہڑتال میں 300 کسان تنظیمیں شامل ہیں اسکے علاقہ اس احتجاج کو بھارت کی 24 مختلف پارٹیوں، آل انڈیا موٹر ٹرانسپورٹ کانگرس، سوشل میڈیا اور سمندر پار انڈیننز کی حمایت بھی حاصل ہے۔ کسانوںکا کہنا ہے کہ ان قوانین کے تحت فصلوں کی خریداری کیلئے ملک بھر میں قائم 7000 منڈیوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے باعث انہیں اپنی فصلوں کی معقول قیمت نہیں مل سکے گی اس لئے انکا مطالبہ ہے کہ انکی پیداوار کی منافع بخش قیمت کی ضمانت دینے، انہیں بدحالی سےنکالنے اور انکے قرضے معاف کرنے کے قوانین بنائے جائیں۔

متنازعہ اصلاحات کے بارے میں کسان رہنمائوں کا کہنا ہے کہ یہ زرعی اجناس کے ذخیرہ، قیمت اور فروخت سے متعلق پہلے سے موجود قواعد کو نرم کر دیں گی۔ انڈیا کے کسان ان قواعد کی وجہ سے دہائیوں تک آزادانہ مارکیٹ کی قوتوں سے محفوظ رہے ہیں۔ پہلے صرف حکومت سے منظور شدہ ایجنٹس کو اجناس ذخیرہ کرنے کی اجازت تھی لیکن اب نئے قوانین کی روسے نجی خریدار بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ نئے قوانین کے مطابق کسان اپنی پیداوار براہ راست نجی شعبے یعنی سپر مارکیٹ، آن لائن ویب سائٹس وغیرہ کو مارکیٹ قیمتوں پر فروخت کر سکیں گے۔ اس سے قبل کسان اپنی پیداوار کا زیادہ حصہ حکومت کے زیر اہتمام تھوک منڈیوں میں امدادی قیمت پر فروخت کرتے تھے۔ یہ منڈیاں مارکیٹ کمیٹیاں چلاتی ہیں جن میں کسان، بڑے زمیندار اور کمیشن ایجنٹ شامل ہوتےہیں جو اجناس کی فروخت کیلئے آڑھت کا کام، ذخیرے اور نقل و حمل کا انتظام اور سودے بازی کرتے ہیں۔ کسانوں کا خیال ہے کہ اگر بڑے کاروباروں کو قیمتوں کے تعین کرنے اور اجناس خریدنے کی اجازت دی گئی تو کسان اپنی آمدنی کھو دیں گے۔ نیز انکا خیال ہے کہ ان اصلاحات سے تھوک منڈیاں اور امدادی قیمتیں ختم ہوجائیں گی جس کے باعث ان کے پاس کوئی سہارا نہیں بچے گا۔ جب وہ کسی نجی خریدار کی پیشکش کردہ قیمت سے مطمئن نہیں ہونگے تو وہ منڈی جا کر بھی اسے فروخت نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی منڈی کی قیمت کو بنیاد بنا کر خریدار سے بھائو تائو کر سکیں گے۔

کسان لیڈروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ حکومتوں میں بھی کسان بدحال تھے لیکن اس حکومت میں تو وہ بدترین حالات پر پہنچ گئے ہیں۔ بیس برس میں تین لاکھ سے زیادہ کسانوں نے خود کشی کی ہے۔ اگر کسی اور ملک میں ایسا ہوتا تو وہ ملک ہل گیا ہوتا لیکن انڈین حکومتوں پر اسکا کوئی اثر نہیں ہوا۔ حکومت نے کسانوں کی آمدنی تین برس میں دوگنی کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ وہیں کی وہیں ہے جبکہ پیداور کی لاگت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ سوکھے کی مار، ڈیزل، بیج، کھاد، اور ضروری اشیائ کی قیمتوں میں اضافے سے کاشت کاری ایک نقصان دہ سودا بن گئی ہے۔ زیر زمین پانی کی سطح کافی گرچکی ہے، مٹی کی زرخیزی میں بھی کافی کمی آئی ہے۔ موسمی تبدیلیوں کا براہ راست اثر کسانوں پر پڑ ر ہا ہے۔ جب فصل اچھی ہوتی ہے تو قیمتیں گر جاتی ہیں۔ کسان ایک دائمی بدحالی کی گرفت میں ہیں۔

بھارت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2014 میں 5650 کسانوں نے خودکشیاں کیں۔ 2004 میں یہ تعداد سب سے زیادہ تھی اور 18241 کسانوں نے اپنی جانیں گنوائین۔ عام طور پر کسان بیجوں اور زرعی آلات، بیٹیوں کی شادی وغیرہ کیلئے بینکوں سے قرضہ لیتے ہیں اور پھر فصلیں خراب ہو جانے کی وجہ سے قرضہ وقت پر واپس نہیں کر پاتے جسکی وجہ سے وہ ذہنی دبائو اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں اور ذلت کا سامنا نہ کرسکنے کی وجہ سے خودکشی کر لیتے ہیں۔ 2005 کی ایک تحقیق کے مطابق آندھرا پردیش میں خودکشی کی شرح سب سے زیادہ تھی۔

بھارت میں تقریباً پچاس فیصد افراد زراعت سے وابستہ ہیں اور ان میں سے 85 فیصد کسان کافی غریب ہیں جنکے پاس پانچ ایکڑ سے بھی کم زمین ہے۔ انکے لئے اپنی پیداوار کو فروخت کرنے کے سلسلے میں بڑے خریداروں سے معاملہ طے کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ایک ماہر ہرویر سنگھ کا کہنا ہے کہ لوگ فی الحال زراعت کو اپنا کام سمجھ کر کرتے ہیں لیکن جب بڑی کمپنیاں اس کاروبار سے وابستہ ہو جائیں گی تو ان لوگوں کی حیثیت یومیہ مزدور جیسی ہو جائے گی اور یہ بھارت کے سوشل سیکورٹی اور فوڈ سیکورٹی دونوں کیلئے ہلاکت خیز ہوگا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم ان قوانین کو تاریخی قرار دے رہے ہیں لیکن اس سے قبل انہوں نے کرنسی نوٹوں پر پابندی، جی ایس ٹی اور کرونا کے لاک ڈائون کو بھی تاریخی قرار دیا تھا اور انکے بیشمار فوائد گنوائے تھے لیکن ان سے جو عوام کا حشر ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔

پاکستان میں بھی نومبر 2020 میں کسان اتحاد اور کسان رابطہ کمیٹی نے ایک احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے لاہور کے داخلی اور خارجی راستوں سمیت موٹر وےپر بھی ٹریفک بند کئے رکھا۔ دو گھنٹے کے احتجاج کے بعد پولیس کے دستوں نےواٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کرتے ہوئے کسانوں کو منتشر کیا۔ مظاہرین نے جوابی پتھرائو کیا اور ٹھوکر نیاز بیگ کا علاقہ جنگ کا منظر پیش کر رہا تھا۔ اس وقعے میں کئی کسان گرفتار بھی کئے گئے اور اس دوران زخمی ہوکر جاں بحق ہونے والے ایک کسان کی موت کا ذمہ دار سی سی پی او لاہور کو قرار دیا گیا تھا اور کسانوںکا مطالبہ تھا کہ انہیں برطرف کیا جائے۔ اس احتجاجی مظاہر ہ میں کسانوں کے مطالبات میں گندم کی فی من امدادی قیمت 2 ہزار روپے کرنے، سستی بجلی مہیا کرنے، کھاد کی قیمتوں میں کمی و سبسڈی کی بحالی اور کپاس کی پیداوار کیلئے بہتر پالیسی کے مطالبات شامل تھے۔ وزیر قانون راجہ بشارت اور وزیر توانائی اختر ملک نے کسانوں کو مسائل کے حل کی یقین دہانی کراتے ہوئے یہ احتجاج ختم کرا دیا لیکن کسانوں نے عندیہ دیا کہ اگر انکے مطالبات منظور نہ ہوئے تو وہ گورنر ہائوس اور وزیر اعلیٰ ہاوس کے باہر احتجاج کے ساتھ ساتھ لانگ مارچ بھی کریں گے۔ حکومت پاکستان کو بھارتی کسانوں کے احتجاج سے سبق حاصل کرتے ہوئے یہاں کے کسانوں اور محنت کشوں کی حالت زار پر غورکرنا چاہیے۔ پاکستانی اور بھارتی کسانوں کے مسائل میں بہت مشابہت پائی جاتی ہے۔ اگر بھارتی حکومت کسان دشمن قوانین لا رہی ہے تو پاکستان میں بھی کسانوں کا کسی نہ کسی انداز میں برسوں سے استحصال ہو رہا ہے۔ اگر حکومت پاکستان نے ان مسائل کی طرف توجہ دیتے ہوئے بروقت مثبت فیصلے نہ کئے تو پاکستان میں بھی اسی طرح کے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply