اقبال کتاب ایوارڈ : تقریب کا احوال — سخاوت حسین

0

علامہ اقبال سٹیمپس سوسائٹی کے زیر اہتمام علامہ اقبال پر تحریر کردہ کتب پر ایوارڈ دینے کا سلسلہ گزشتہ سال سے شروع کیا گیا ہے۔ یہ خوش آئند سلسلہ ہے جس سے علامہ اقبال پر معیاری کتب لکھنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ گزشتہ سال میر پور آزاد کشمیر کے اقبال شناس ڈاکٹر عارف خان کو ان کی کتاب “مباحث ِخطبات اقبال” پہ ایوارڈ دیا گیا تھا۔ اس دفعہ اردو اور انگریزی کی الگ الگ کیٹیگریاں بنائی گئی تھیں۔ اردو کتب میں سے معروف اقبال شناس محمد اعجازالحق کو ان کی کتاب “اقبال اور شیکسپئیر” جب کہ انگریزی کتب میں سے فارسی کے بلند پایہ محقق اور اقبال شناس بریگیڈئیر ریٹائرڈ ڈاکٹر وحیدالزماں طارق کو ان کی کتاب Iqbal and the Sages of the East پر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

مقابلے میں شرکت کے لیے جو کتب موصول ہوئیں ان کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے :

اقبال وجود زن اور تصویر کائنات از ڈاکٹر بصیرہ عنبرین، اقبال اور نیا نوآبادیاتی نظام از ڈاکٹر محمد آصف، اقبال کا تہذیبی تشخص ارتقائی مطالعہ از ڈاکٹر محمد آصف، اقبال اورقسمت نامہ سرمایہ دار و مزدور از ڈاکٹر محمدآصف، عورت اقبال کی نگاہ میں از ڈاکٹر محمد آصف، جدید نظام سیاست اوراقبال از ڈاکٹر محمد آصف، مطالب و شرح بال جبریل از حمیرا جمیل، مطالب و شرح ارمغان حجاز ازحمیرا جمیل، مطالب و شرح ضرب کلیم از حمیرا جمیل، اقبال فیض اور ہم از ڈاکٹر محمد رفیق، معارف فکر اقبال از طالب حسین ہاشمی، کلام اقبال میں رزمیہ عناصر ازنور الٰہی انجم، بیت بازی کلام اقبال از راشد عباسی، اقبال دشمنی کا ایک پوشیدہ باب از پروفیسر اسما انصاری، اقبال کا ایوان دل از محمد الیاس کھوکھر، اقبال اور شیکسپئیر از محمد اعجازالحق (اعجاز)، مبادیات فلسفہ اقبال از محمد اعجازالحق (اعجاز)۔ جب کہ انگریزی کتب کے مقابلے کے لیے ڈاکٹر وحیدالزماں طارق صاحب کی Iqbal and the Sages of the East مقابلے میں شامل تھی۔

 ایوارڈ ز کی تقریب دبستان ِ اقبال میں ہوئی۔ جسٹس (ر) نا صرہ جاوید اقبال نے ان دونوں اقبال شناسوں کو میڈل عطا کیے۔ اس موقع پر مقابلے کے منصفین ڈاکٹر نجیب جمال، ڈاکٹر نعیم بزمی اور ڈاکٹر محمود انجم بھی شریک ہوئے اورحاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں کتب معیاری تحقیق کا اعلیٰ نمونہ ہیں۔ ڈاکٹر طاہر حمید تنولی بھی اس مقابلے کے منصف تھےمگر وہ مصروفیات کی وجہ سے تشریف نہ لا سکے۔

جب گزشتہ سال اعجازالحق اعجاز کی تصنیف “اقبال اور شیکسپئیر” منصہ شہود پر آئی تھی تو ادبی حلقوں نے اسے بہت سراہا تھااور عہد حاضر کے چوٹی کے اقبال شناسوں نے اسے لینڈ مارک قرار دیا تھا۔ ڈاکٹر نجیب جمال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اور بھی بہت سی اچھی کتب مقابلے میں شامل تھیں مگریہ تصنیف واقعی ایوارڈ کی حق دار تھی اور حق بہ حق دار رسید۔ اس کتاب میں مصنف نے پہلی مرتبہ اقبال اور شیکسپئیر کا سیر حاصل اور وقیع تقابلی مطالعہ ہے۔ اس سے قبل اقبال اور شیکسپئیر کے تقابلی مطالعے پہ کوئی کتاب موجود نہ تھی۔

ڈاکٹر وحیدالزماں طارق فارسی اور اقبالیاتی ادب میں ایک بڑا نام ہیں کی تصنیف اسی سال شائع ہوئی ہے اور یہ اپنے مواد کے لحاظ سے ایک اعلیٰ درجے کا کام ہے۔ انھوں نے اس کتاب میں بہت سے مشرقی شعرا اور صوفیا کا اقبال سے موازنہ کیا ہے اور ان کے اقبال پہ اثرات کا جائزہ پیش کیا ہے۔

جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال نے تقریب کے آخر میں بطور مہمان ِ خصوصی اظہار ِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح مقابلوں کا انعقاد بہت ضروری ہے تاکہ کتاب کلچر کو فروغ حاصل ہو سکے۔

اس مقابلے کی سب سے بڑی خوبی اس کی شفافیت ہے۔ میاں ساجد علی نہایت دیانت داری سے تمام مراحل انجام دیتے ہیں۔ ججز کا انتخاب میرٹ پر ہوتا ہے۔ انھوں نے اب تک ہونے والے دونوں مقابلوں میں اعلیٰ پائے کے محققین اور اقبال شناسوں کو جج بنایا ہے اور ججز نے بھی صرف اور صرف میرٹ کو اہمیت دی ہے اور تحقیقی معیار پر ہرگز سمجھوتا نہیں کیا۔ یو۔ بی۔ ایل کی طرف سے بھی ہر سال کتابوں پہ ایوارڈ دیے جاتے ہیں مگر اس پر ہر سال اس کی شفافیت پر بہت سے سوالات اٹھتے ہیں مگر اقبال سٹیمپس سوسائٹی کی جانب سے منعقدہ ان مقابلوں کے نتائج پر ابھی تک کسی نے انگلی نہیں اٹھائی اور یہی بات اس کی شفافیت اور غیر جانب داری کی دلیل ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply