راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 25) —- یاسر رضا آصف

0

میں اپنی سیٹ پر بے سُدھ پڑا تھا۔ بظاہر تو میں سکون کی حالت میں تھا لیکن خوابوں کی دنیا میں کبھی کسی کچی سڑک پر خاک اڑاتے دوڑنے لگتا تو کبھی کسی سفیدی میں لپٹے باریش بزرگ کی معیت میں کھجوروں کے باغ میں چہل قدمی کرنے لگتا۔ کبھی ہوا میں بلند ہوتا اور ہوتا ہی چلا جاتا۔ اُڑتے اُڑتے ستاروں تک جا پہنچتا تو کبھی دھرتی کی گہرائی میں اُترنے لگتا اور پاتال میں خود کو الگ طرح کی مخلوق کے درمیان حیران اور گم سم پاتا۔ کبھی سمندر کے کنارے کسی جہاز کو دیکھنے لگتا تو کبھی صحرا میں اونٹوں کی قطاروں کے ساتھ چلنے لگتا۔ میں ٹوٹے ہوئے شیشے کے ٹکڑوں میں کتنے ہی مناظر میں خود کو خانوں میں بٹا ہوا دیکھ رہا تھا۔ ہر ٹکڑے میں میری حرکت کرتی ہوئی تصویر تھی اور میں تھا۔

میری سوچ یا شاید میری روح مسلسل بدلتے ہوئے مناظر کے ساتھ سفر میں تھی اور میں یہ سب باہر کھڑا دیکھ بھی رہا تھا۔ عجیب سلسلہ تھا۔ یہ کیفیت بالکل ایسے ہی تھی کہ آپ کسی شیشے کے جار میں جیلی نما پگھلا ہوا پلاسٹک ڈالیں۔ پھر اس کے اندر سُرخ، سبز اور نیلا رنگ انڈیل دیں۔ جار کا ڈھکنا لگائیں اور اُسے اُلٹا سیدھا کردیں۔ جیلی نما مادے میں رنگوں کی آمیزش ایبسٹریکٹ پیٹرن تخلیق کرے گی۔ میری دماغی حالت بھی ایسے ہی تجریدی درجے پر پہنچ چکی تھی۔ جہاں سب کچھ آپس میں گھل مِل رہا تھا مگر پھر بھی جُدا جُدا تھا۔ یہ اُلجھائو بڑھتا چلا گیا اور ساتھ رفتار بھی بڑھتی گئی۔ جیسے فلم کو فارورڈ کردیا گیا ہو بالکل ایسے ہی تیزی آگئی۔ پھر سب کچھ رُک گیا۔

میں نے خود کو ایک صحرا میں کھڑے دیکھا۔ دور تک ریت کے ٹیلے پھیلے ہوئے تھے۔ اُڑتی ہوئی ریت صحرا کی ترجمانی کر رہی تھی۔ میں نے پیاس محسوس کی۔ حلق میں ببول کے کانٹے اُگ آئے۔ لُو چہرے کو جھُلسانے لگی۔ اچانک بادل کا ٹکڑا میرے سر پر آگیا۔ بجلی کڑکی اور بادل کو چیرتی ہوئی گزر گئی۔ بادل کسی بڑے ٹینکر کی طرح پھٹ گیا۔ میرا چہرہ پانی سے تر ہوگیا۔ مجھے اپنے چہرے پر گیلے پن کا احساس ہوا اور میں ہڑ بڑا کر اُٹھا۔ میرا چہرہ سچ مچ پانی سے تر تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آئی کہ ہُوا کیا ہے۔ میں نے ہاتھ سے چہرے کو صاف کیا۔ آہستہ آہستہ میرے حواس بحال ہونے لگے۔ میں نے بغیر آواز کے گاڑی میں دھینگا مشتی ہوتے دیکھی۔

دیکھنے کے ساتھ ساتھ سننے کی حس بھی بیدار ہوگئی۔ محسوسات والی حِس تو چہرہ تر ہونے کے ساتھ ہی جاگ گئی تھی۔ فیاض منرل واٹر کی بوتل پر اپنی گرفت مضبوط کیے ہوئے تھا۔ فہیم اور ذیشان اُس سے بوتل چھیننے کے لیے تگ و دو کر رہے تھے۔ بوتل کا ڈھکن دبائو کے باعث مزید ڈھیلا ہوا اور پانی کا ایک فوارہ شبیر کی کمر کو گیلا کرگیا۔ سمیر نے شبیر کی کمر کی جانب اشارہ کرکے برجستہ کہا ’’پاکستانی جوہی چاولہ‘‘ سبھی قہقہے لگانے لگے۔ میں بھی اس پر مسکرائے بنا نہ رہ سکا۔ دھینگا مشتی کرنے والی پارٹی نے ہنس ہنس کر اپنی طاقت زائل کرلی۔ فیاض نے اپنے سُرخ چہرے پر عاجزی لاتے ہوئے پانی میں سے حصہ دینے کا وعدہ کیا اور یوں لڑائی سمجھوتے پر اختتام کو پہنچی۔ ویسے بھی محلے کی لڑائی سے لے کر جنگ عظیم تک سبھی کا اختتام بالآخر سمجھوتے پر ہی ہوتا ہے۔ میں نے جیب سے رُومال نکالا اور چہرے کو پوری طرح خشک کرنے لگا۔ شبیر مسکراتے ہوئے اپنی قمیض کو جھٹکنے لگا۔ میری نیند یوں غارت ہوئی پر اس اچانک بدلائو نے طبیعت بحال کردی۔

وین رینگتی ہوئی ناران کی سڑک پر آچکی تھی۔ اردگرد موجود عمارتیں اور دُکانیں وہی تھیں بس سڑک پر موجود لوگوں کے چہرے بدل چکے تھے۔ ناران پہلے جیسا خوابیدہ نظارہ لیے تھا۔ مجھے ناران دیکھا دیکھا لگ رہا تھا۔ زندگی میں بارہا ایسا ہوتا ہے کہ انسان کو کسی خاص لمحے یہ احساس چھُو جاتا ہے اور وہ بے ساختہ پکار اُٹھتا ہے ’’ یہ تو پہلے ہو چکا ہے‘‘۔ ناران کو دیکھ کر میری حالت بھی کچھ ایسی ہی ہو رہی تھی۔ وین ایک بار پھر ’’سکون ہوٹل‘‘ کی عمارت کے سامنے جا کر رُک گئی۔ اس مرتبہ ہمیں دوسری منزل پر خالی کمرے ملے۔ گزشتہ تجربے کے پیشِ نظر نہانے کا رِسک نہیں لیا اور صرف مُنھ ہاتھ دھونے پر ہی اکتفا کیا۔

تمام احباب بالکونی میں اکٹھے ہو گئے۔ سبھی کے چہروں پر لمبے سفر کی روداد لکھی تھی۔ جب ہنزہ جاتے سمے ہم لوگ اسی بالکونی میں کھڑے تھے تو ایسی قربت محسوس نہیں کررہے تھے جیسی اب محسوس ہو رہی تھی۔ سیڑھیاں اُترتے ہوئے ایک دوسرے کو جگہ دینا اور سبھی کے متعلق پوچھنا کہ کوئی رہ تو نہیں گیا۔ اب ہمارا معمول بن چکا تھا۔ یعنی ایک دوسرے کی فکر تھی اور سبھی کو ایک دوسرے کا خیال بھی تھا۔ بازار میں خاصی چہل پہل تھی۔ ہم لوگ ہنستے مسکراتے اُسی ہوٹل میں جا پہنچے جہاں سے پچھلی مرتبہ کھانا کھایا تھا۔ چارپائی ہوٹل کا انتخاب وہاں کے کھُلے ماحول اور کھانے کی لذت کے باعث ہُوا تھا۔ ہم سبھی نے اسلام کے پوچھنے پر ٹرائوٹ مچھلی کھانے کی خواہش ظاہر کی۔ ایک گھنٹے بعد ہم سبھی مچھلی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ ذائقہ ایسا تھا کہ کانٹے تک چبا جانے کو من چاہ رہا تھا۔ دوسرا ہم لوگ کافی دنوں سے سبزیوں اور دالوں پر گزارہ کر رہے تھے۔ میں نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا۔

عابد اور سمیر نے کھانے کے دوران خریداری کے متعلق پوچھا تو میں نے دلچسپی دکھائی۔ یوں کھانے کے بعد ہم نے قریبی اے۔ ٹی۔ ایم کا رُخ کیا۔ پھر خریداری کا طویل مرحلہ شروع ہو گیا۔ میں نے اپنی بیگم کے لیے سفید شال پسند کی جس کے کناروں پر سبز بیل کڑھی ہوئی تھی۔ جس میںچیدہ چیدہ سُرخ پھول بھی اپنی چھب دکھا رہے تھے۔ ماں جی کے لیے سیاہ شال لی۔ خریداری کے دوران جب سُرخ رنگ کی شال دکھائی گئی تو میں نے جھٹکے سے اُٹھا کر دور پھینک دی۔ سمیر نے میرے اس اچانک ردِعمل پر حیرت سے مجھے دیکھا۔ میں نے بیٹوں کے لیے دو لکڑی کی کھلونا گاڑیاں بھی خریدیں جو خاصی مضبوط دکھائی دے رہی تھیں۔ وہ الگ بات ہے کہ بچوں کو سپرد کرنے کے چند لمحوں بعد ہی ٹکڑوں میں بٹ چکی تھیں۔ ناران میں روز مرہ کا سامان دستکاری کے حوالے سے اپنی خاص پہچان رکھتا ہے۔ اس لیے کچھ سجاوٹی اشیاء بھی خریدے بنا رہ نہ سکا۔

میں او رسمیر سامان کے ساتھ اپنے کمرے میں پہنچے۔ ہم نے سامان رکھا اور چہل قدمی کے لیے ایک بار پھر ناران کے بازار میں آ پہنچے۔ سمیر نے چائے کی طلب کو بوجھل آنکھوںسے مجھ پر واضح کیا تو مجھے چائے کی خوشبو نتھنوں میں محسوس ہونے لگی۔ ہم ایک ڈھابے پر جا پہنچے۔ پلاسٹک کی کرسیاں دور تک فٹ پاتھ پر پڑی ہوئی تھیں۔ چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے سمیر نے سُرخ رنگ کی شال نہ خریدنے کے متعلق پوچھا۔ جس طرح میں نے شال کو جھٹک کر پھینکا تھا۔ شاید وہ حرکت اُسے متوجہ کر گئی تھی۔ خیر جو کچھ بھی تھا سمیر میرا دیرینہ دوست تھا لہٰذا اُس سے کچھ چھپانا ممکن نہیں تھا۔ تومیں نے اپنی بچپن کی آنجہانی آپ بیتی سنانی شروع کی جب میری عمر سوچنے کی نہیں تھی لیکن سوچ کے دروازے کھلتے گئے۔

میں کھانا کھارہا تھا کہ میری چھوٹی بہن بھاگتی ہوئی میرے پاس آئی۔ اُس کی آواز میں تھرتھراہٹ تھی۔ وہ پھولے ہوئے سانس اور توتلے لہجے کے ساتھ بولی ’’بھائی آپ کو ابوجی بلا رہے ہیں‘‘۔ میں نے ہاتھ میں پکڑا ہوا روٹی کا لقمہ وہیں چھابی میں رکھا اور اُس کے پیچھے بیٹھک کی طرف چل دیا۔ والد صاحب کے ایک بازو پر پلستر چڑھا تھا اور وہ بازو گلے میں لٹکائے بیٹھے تھے۔ یہ سن بانوے تھا اور روہڑی ٹرین حادثے کو پیش آئے تیرہ روز گزر چکے تھے۔ میں پانچویں میں پڑھتا تھا اور تھوڑی بہت سُوجھ بُوجھ رکھتا تھا۔ اُنھیں جب بتایا گیا کہ میں کھانا ادھورا چھوڑ کر صرف اُن کی بات سُننے آیا ہوں تو شفیق مسکراہٹ کے ساتھ مجھے اپنے قریب بلا کر سر پر ہاتھ پھیرنے لگا۔

میں اُن کے پاس مؤدب انداز میں کھڑا ہو گیا۔ وہ مجھے بہنوں سے حُسنِ سلوک اور امّی جان سے محبت کا درس دینے لگے۔ ایسے لگتا تھا کہ وہ کسی لمبے سفر پر روانہ ہونے والے ہیں اور جلدی جلدی سب کام نبٹا لینا چاہتے ہیں۔ اُنھوں نے مجھے پڑھائی جاری رکھنے کی تلقین کی اور ساتھ معلم بننے کی دُعا بھی دی۔ پھر وہ میرے چچا کے سہارے اُٹھے اور شکستہ چال میں دہلیز پار کرتے ہوئے ایمبولینس میں جا کر لیٹ گئے۔ میں پچھلا دروازہ بند ہونے تک اُنھیں دیکھتا رہا۔ ایمبولینس کچی سڑک پر دھول اُڑاتی ہوئی دور ہوتی چلی گئی۔ جب تک سڑک کی دھول بیٹھ نہیں گئی میں تب تک خالی نظروں سے دیکھتا رہا۔ انھیں ملتان کے کسی بڑے ہسپتال میں علاج کی غرض سے لے جایا جا رہا تھا۔ جانے سے پہلے اُنھوں نے گھر کے سبھی افراد سے فرداً فرداً ملاقات کی اور ہر شخص کے ذمّے کوئی نہ کوئی کام سپرد کیا۔

مجھے آج بھی یاد ہے کہ کس طرح اُنھوں نے دہلیز پر ہاتھ رکھ کر آخری مرتبہ گردن موڑ کر گھر کو دیکھا تھا۔ کس طرح سبھی لوگوں سے الوداعی ملاقات کی تھی اور کس طرح کمال ضبط سے اپنی نم آنکھوں کو چھپانے میں کامیاب رہے تھے۔ ٹرین کے حادثہ سے زندہ بچ جانے والوں میں وہ بھی شامل تھے۔ اُن کا ڈبہ عین انجن کے پیچھے تھا اور حادثے کے بعد اُس ڈبے سے صرف دو لوگ یہ زندہ نکل پائے تھے۔ اُن میں ایک عورت تھی اور دوسرے میرے والد صاحب تھے۔ میں ماڈل پبلک سکول میں پانچویں کا طالب علم تھا۔ سُرخ پینٹ اور سُرخ ٹائی کے ساتھ سردیوں میں سفید شرٹ کے اوپر سُرخ کوٹ یا جیکٹ پہننے کی اجازت تھی۔ مجھے جیکٹ پسند تھی جس کی فرمائش کراچی جاتے سمے میں نے والد صاحب سے کی تھی۔ اُنھوں نے چھوٹی سی ڈائری میں خوش خطی سے میرے سامنے اُس فرمائش کو درج کیا تھا لیکن شومئی قسمت کہ اُن کا سامان ابتری کی حالت میں حادثاتی ٹرین سے ہم تک پہنچا تھا۔ بیگ کئی جگہ سے اُدھڑ چکا تھا لیکن کچھ چیزیں پھر بھی محفوظ رہی تھیں۔

میں نے اپنی بات روک دی اور سمیر کی جانب دیکھا جو ہمہ تن گوش تھا۔ میں نے سمیر سے پوچھنا مناسب سمجھا ’’بور تو نہیں ہو رہے‘‘ اُس نے آنکھوں میں محبت بھرتے ہوئے کہا ’’نہیں، یاسر بھائی آپ سنائیں۔ میں تو بات مکمل ہونے کا انتظار کر رہا ہوں‘‘۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا اور بات جاری رکھی۔

نومبر کا مہینہ تھا اور رات کو سردی خاصی بڑھ جاتی تھی پھر ہم جس گائوں میں تھے وہاں ریگستانی فضا کے باعث بھی رات کچھ زیادہ ٹھنڈی ہو جاتی تھی۔ یہ ہمارا آبائی گائوں تھا جس میں میرے والد صاحب کی پیدائش ہوئی تھی اور اُن کا بچپن گزراتھا۔ میں نے اپنی بڑی بہن سے جیکٹ مانگ لی۔ اُنھوں نے میرا دِل بہلانے کے لیے مجھے سُرخ رنگ کی وہی جیکٹ پہنا دی جو والد صاحب کراچی سے لے کر آئے تھے۔ میں جیکٹ پہنے خود کو بڑا معتبر محسوس کررہا تھا۔ میرا چچا مشتاق میرے ساتھ تھا۔ وہ داستان گو قسم کا شخص تھا۔ میرے دادا کے بھائی کا بیٹا تھا۔ اُسے بات سُنانے کا فن تھا اور مجھے سُننے کا شوق تھا۔ یہی بات ہماری سنگت کی وجہ تھی۔ وہ اکثر بیمار رہا کرتا اور ہڈیوں کا چلتا پھرتا ڈھانچہ لگتا تھا۔ لوگ بیماری کے باعث اُس سے دور بھاگتے تھے اور مجھے بھی حتی الامکان پرہیز کرنے کا مشورہ دیتے رہتے تھے۔ لیکن مجھے اُس کی باتیں اور کہانیاں بہت پسند تھیں۔ میں جیکٹ پہنے، ہاتھ جیبوں میں ٹھونسے گائوں کی گلیوں میں بڑے مزے سے چل رہا تھا۔ میں وقتی طور پر بھول چکا تھا کہ میرے ابّو جان ہسپتال میں داخل ہیں۔ آج اُن کا آپریشن ہے اور صورتِ حال انتہائی نازک ہے۔

میں نے گائوں کے چوک میں موجود ہوٹل سے چائے پی اور چچا مشتاق سے خوش گپیاں کرتا ہوا گھر پہنچ گیا۔ میری دونوں مائیں ایمبولینس کے ساتھ ملتان ہسپتال میں تھیں۔ اِس لیے مجھے ٹوکنے والا کوئی نہیں تھا۔ میں رات دیر سے گھر پہنچا اور کمرے میں لگے بستر پر جیکٹ کو اُتار کر لیٹ گیا۔ میں نے رضائی اوڑھی اور سو گیا۔ میری آنکھ میری بہنوں کی چیخ و پکار سے کھلی۔ میں نے رضائی ہٹائی اور ننگے پائوں صحن کی طرف بھاگا۔ صحن میں میرے والد کی لاش پڑی تھی اور عورتیں اُس کے اردگرد بیٹھی ہوئی بین کر رہی تھیں۔ میں نے اُنھیں غور سے دیکھا۔ مجھے لگا کہ وہ فوت نہیں ہوئے بلکہ سوئے ہوئے ہیں اور ابھی اُٹھ کر بیٹھ جائیں گے۔ اُن کے چہرے پر دبی دبی مسکان تھی۔ ماتھے پر کسی قسم کی کوئی شکن نہیں تھی تو پھر میں کیسے مان لیتا کہ وہ وفات پا چکے ہیں۔ لیکن اُن کی چارپائی کے گرد عورتوں کے بین اور آہ و زاری مجھے اُن کی موت کا یقین دِلا رہی تھی۔ یہ موت سے میری پہلی باقاعدہ ملاقات تھی۔

اچانک میری آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔ میں کافی دیر تک روتا رہا اور ہچکیاں لیتا رہا۔ رات بہت ہو چکی تھی اور مجھے خبر نہیں کہ کب مجھے نیند آگئی۔ میں کیا دیکھتا ہوں کہ میرے والد صاحب چارپائی سے اُٹھے اور میرے پاس آکر بیٹھ گئے۔ انھوں نے میری سسکیوں کے جواب میں مُسکرا کر مجھے تسلی دی۔ مجھے یقین دلانے لگے کہ سبھی جھوٹ بول رہے ہیں میں تو زندہ ہوں اور تمھارے ساتھ ہوں۔ وہی حرارت جو اُن کے زندہ ہونے کی دلیل تھی اُن کے ہاتھوں سے پھوٹ رہی تھی۔ جب وہ میرے آنسو پونچھ رہے تھے۔ میری آنکھ کھلی تو میں صحن کے کچے فرش پر لیٹا ہوا تھا اور والد صاحب کی لاش بدستور صحن میں پڑی تھی۔

تب سے مجھے سُرخ رنگ سے نفرت سی ہو گئی۔ ٹھیک طرح سے میں اِسے نفرت بھی نہیں کہہ سکتا۔ بس یوں سمجھو کہ مجھے سُرخ رنگ اچھا نہیں لگتا۔ یہ میرے پُرانے زخم ہرے کر دیتا ہے۔ میرا بچپنا تھا سوچ پختہ نہیں تھی۔ مجھے لگا کہ یہ سب میرا قصور ہے۔ اگر میں سُرخ جیکٹ نہ پہنتا تو والد صاحب زندہ ہوتے۔ میں نے وہ جیکٹ اپنے پاس نشانی کے طور ضرور رکھی لیکن اُسے پہننے کی ہمت کبھی نہ ہوئی۔ میں سمیر کو یہ سب بتا رہا تھا اور میری آنکھوں کے کنارے گیلے ہو گئے تھے۔ جنھیں چھپانے کے لیے میں نے دانستہ مُنھ دوسری طرف پھیر لیا۔ سمیر نے بھی سمجھداری دکھائی اور موضوع بدل دیا۔ ہم افسردہ سے اُٹھے اور بازار میں بلاوجہ ٹہلنے لگے۔

افسردگی میرے وجود کو پوری طرح جکڑے ہوئے تھی۔ میں سگریٹ کے کش لیتا خود کو بھاری بھر کم بوجھ کے ساتھ کھینچ رہا تھا۔ میں سڑک پر پائوں اُٹھا کر نہیں چل رہا تھا بلکہ پائوں قریبًا گھسیٹتا ہوا اپنے آپ کو لیے جارہا تھا۔ سمیر نے میری بوجھل طبیعت کوبھانپ لیا اور لگا طرح طرح کی باتیں کرنے؛ اُس نے مختلف موضوعات پر لطائف سُنانے شروع کردیے۔ کبھی مجھے کسی بات کے آخر میں نوک جھوک کا نشانہ بناتا تو کبھی کسی موضوع کو چھیڑ کر بات میری جانب اُچھال دیتا تاکہ میں بولوں، جواب دوں اور اپنے بوجھ کو سر سے اُتار پھینکوں۔ کافی تگ و دو کے بعد آخر کاروہ کامیاب ہو گیا۔ جس طرح فرہاد اپنے تیشے سے پہاڑ کو کاٹنے میں کامیاب رہا تھا بالکل اُسی طرح لفظوں کے تیشے سے سمیر نے بھی میرے اردگرد تعمیر افسردگی کی فصیل گرادی۔ میں سمیر کی باتوں کے جواب دینے لگا۔ اُس کی ہاں میں ہاں ملاتا ہوا، اُس کے لہجے کی شوخی میں اپنے برجستہ جملوں کے پھُول اُگاتا ہوا سڑک پر چلتا چلا گیا۔ ہم نے پھر واپسی کا راستہ اختیار کیا اور ہوٹل میں آ پہنچے۔ سمیر تو بستر پر لیٹتے ہی سو گیا پر میں جاگتا رہا۔

اب ہم دوبارہ ’’سکون ہوٹلـ‘‘ میں ہی ٹھہرے تھے۔ خریداری کرتے ہوئے کافی تھک گئے تھے۔ پھر گھر جانے کی جلدی بھی تھی۔ یہ بات بڑی عجیب تھی کہ جب تک گھر جانے کی بات نہیں ہوئی تھی تب تک کوئی تاہنگ، کوئی لگن نہیں تھی مگر اب گھر کا ماحول، محلے کی گلیاں اور شہر کے دوست یاد آنے لگے تھے۔ سفر نے جہاں مجھے تھکایا تھا وہاں سرشار بھی کیا تھا۔ میرا ذہنی انتشار کافی حد تک ختم ہو چکا تھا۔ میری کیفیت اب ایسی تھی جیسے لمبی مسافت کے بعد کسی مسافر کو سرائے کا آرام دہ بستر مل جائے۔ مجھے اپنی زندگی میں کچھ ایسے پل نصیب ہوئے تھے جنھیں میں کبھی فراموش نہیں کر سکتا تھا۔

نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ میرے ہمسفر اور رفیق، میرے کمرے کے ساتھی، بکھرے ہوئے سامان کی طرح پڑے تھے۔ وہ نہ جانے کب سے نیند کی وادی میں گلگشت کر رہے تھے۔ اور میں آنکھیں کھولے مسلسل چھت کو گھور رہا تھا۔ موبائل سے اٹھکیلیاں کرتے کافی دیر ہو گئی تھی۔ فیس بک کی پوسٹس پر کمنٹس بھی کر چکا تھا۔ کئی ایسی غزلوں پر بھی ’’واہ، واہ‘‘ لکھ چکا تھا جن کا لائک کا حق بھی نہیں بنتا تھا۔ میرے خیال میں اگر آپ کی حوصلہ افزائی سے کسی کے بے جان جسم میں زندگی کی رمق پیدا ہوجائے تو اس میں حرج نہیں۔

میں نے لحاف کو مُنھ سے ہٹایا اور ذہن کو شانت کرنے کی کوشش میں آنکھیں بھی بند کی ہوئی تھیں لیکن نیند صاف چکما دے گئی تھی۔ باہر بالکونی سے ہنسی مذاق اور ٹھٹھے کی دبی دبی آوازیں آرہی تھیں۔ جن میں ضبط کے باوجود بھی قہقہے کی آمیزش ہو رہی تھی۔ آوازیں صاف اور واضح سُنائی دے رہی تھیں۔ ایک ایک لفظ کی سمجھ آرہی تھی۔ ذیشان، فیاض اور فخر کسی سنہری بالوں والی پری وش کے متعلق گفتگو کر رہے تھے۔ اُن کی باتوں میں جذباتیت تھی۔ وہ کافی پُر جوش لگ رہے تھے۔ مجھے اُن کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ اُس پری وش نے تینوں کے دِلوں پر کاری ضرب لگائی تھی۔ وہ دوبارہ اُس کی تلاش میں جا رہے تھے۔ قدموں کی آوازیں دور ہوتے ہوئے گونج میں بدل گئیں اور پیچھے گہرا سکوت چھوڑ گئیں۔ سکوت میرے لیے جان لیوا ثابت ہوااور زندگی کا ایک حسین باب کھل گیا۔

میں ایک نجی سکول میں پڑھایا کرتا تھا کہ مجھے ایک دوست کے توسط سے ہوم ٹیوشن مل گئی۔ لڑکا آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا۔ والد فوج میں تھا اور والدہ گورنمنٹ سکول میں اُستانی تھیں۔ تہذیب یافتہ خاندان تھا۔ پھر گھر سے پیدل پندرہ سے بیس منٹ کی مسافت تھی۔ دو گھنٹے کی ٹیوشن کے عوض رقم بھی اچھی مل رہ تھی۔ میں نے فوراً ہاں کردی۔ میں چار سے چھ دو گھنٹے کے لیے لڑکے کو پڑھانے لگا۔

سردی رخصت ہو چکی تھی اور بہار کا موسم اپنے عروج پر تھا۔ مجھے بیٹھک کا دروازہ کھُلا ملتا۔ جس میں پنکھا دھیمی رفتار سے چل رہا ہوتا۔ آرام دہ صوفے کے دونوں طرف پھولوں کے گملے رکھے ہوتے۔ پانی کا گلاس اور جگ میز پر پڑے ملتے۔ پھر آدھے گھنٹے بعد چائے بھی آجاتی۔ بہار رخصت ہوئی تو بیٹھک کا دروازہ اور کھڑکیاں کھول کر بیٹھنے لگا۔ گلی میں پانی چھڑکایا ہوا ملتا۔ جس سے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے آتے۔ وقت بھی شام چھ سے آٹھ کا ہو گیا۔ بیٹھک کے سامنے دو منزلہ مکان تھا۔ جس کے چوبارے کی کھڑکی ہر وقت کھلی رہتی۔

ایک رو ز میں اپنے معمول کے مطابق سفید کرتا شلوار پہنے ہوئے پہنچا تو کھڑکی میں سے کسی دو شیزہ کی جھلک دکھائی دی۔ پھر یہ بات بھی ٹیوشن کی طرح معمول بن گئی کہ جب میں پہنچتا تو کھڑکی میں مسکراہٹ بکھیرتا ہوا چہرہ میرے استقبال کے لیے موجود ہوتا۔ پہلے پہل تو میں نے بھی اسے سرسری لیا لیکن وقت کے ساتھ فطری تجسس نے سر اُٹھانا شروع کردیا۔ دِل میں عجیب سی بے چینی اور کھُد بُد ہونے لگی۔

میں نے اپنے شاگرد سے دوستی گانٹھ لی اور سامنے والے پری وِش کے گھر کے متعلق معلومات حاصل کرنے لگا۔ پہلی منزل طے ہو گئی۔ دھیرے دھیرے وہ پری وِش بہانے بہانے شاگرد کے گھر آنے جانے لگی۔ میں نے گرمی کا عُذر پیش کرتے ہوئے کھڑکی دروازہ گلی کی جانب سے بند کردیا اور دِل کا دروازہ کھول دیا۔ وہ بی اے کی طالبہ تھی۔ کتابیں لے کر اکثر کچھ نہ کچھ پوچھنے آنے لگی۔ اُس کے بال سنہری اور آنکھیں نیلی تھیں۔ وہ ہر چھوٹی سے چھوٹی بات پر کلکاری مار کر ہنسنا اپنا فرض سمجھتی تھی۔ قہقہہ لگاتے ہوئے تالی بجا کر گردن کو پیچھے کی جانب ایک خاص زاویے سے خم دیتی کہ نرخرہ تھرکتا ہوا واضح نظر آتا۔ گو بات عہد و پیمان تک ابھی نہیں پہنچی تھی لیکن میں بُری طرح گھائل ہو چکا تھا۔

میں نے کبھی اظہار نہیں کیا اور نہ ہی دوسری جانب سے ہی کوئی ایسی بات ہوئی مگر دِل یقین کر بیٹھا تھا کہ اظہار کی صورت میں انکار ممکن نہیں۔ دماغ بعض اوقات خطرے کی گھنٹی بجاتا پر ایسے میں دِل اُسے تھپکی دے کر سُلا دیتا اور دماغ کو خواب سجانے میں مصروف کردیتا۔ مجھے ایک شادی کے سلسلے میں پانچ دن کے لیے لاہور جانا پڑ گیا۔ ایک چھٹی میں نے تھکاوٹ اُتارنے کی نذر کردی۔ ساتویں روز جب میں گلی میں پہنچا تو گلی میں رنگ بہ رنگے قمقمے روشن تھے۔ دو منزلہ مکان روشنیوں میں نہایا ہوا تھا۔ میرا ماتھا ٹھنکا لیکن خود کو تسلی دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ میں صوفے پر بیٹھ گیا اور کھڑکی سے جگمگاتے گھر کو دیکھنے لگا۔ لڑکے نے بتایا کہ اُس پری وِش کی ماموں زاد کے ساتھ بچپن سے نسبت طے تھی۔ سو آج اُس کی مہندی ہے۔ میرے سر پر جیسے گھڑوں پانی پڑ گیا۔

میں حد درجہ اُداس ہو گیا۔ جی چاہا کہ ابھی کے ابھی دوڑ لگا دوں اور جتنا دور ہو سکے چلا جائوں۔ میں نے بوجھل من کے ساتھ جیسے تیسے پڑھایا اور ریلوے گرائونڈ کی طرف چل دیا۔ وہاں ویرانی میں بیٹھ کر پہلے خود کو کوستا رہا۔ خود کو بے وقوف اور کم عقل کہنے کے بعد مجھ پر یہ بات واضح ہوئی کہ آپ جو توقع لگاتے ہیں، جو کچھ سوچتے ہیں، ممکن نہیں کہ ویسا ہی ہو۔ دوسری بات جو راز کی صورت افشاں ہوئی کہ کسی کی ہنسی اور خوش اخلاقی کو محبت نہیں سمجھنا چاہیے۔ محبت تو اِس سے کہیں آگے کی منزل ہے۔ میں ریلوے گرائونڈ میں بکھرے کنکروں اور پتھروں کو ٹھوکریں مارتا گھر کی طرف چل دیا۔ میں لحاف میں پڑا سنہری بالوں کے متعلق سوچ رہا تھا اور اپنی سادہ دلی پر مسکرا رہا تھا۔ یوں ہی مسکراتے ہوئے اور دل ہی دل میں خود پر قہقہے لگاتے ہوئے مجھے نیند نے تھپک تھپک کر سلادیا۔

جاری ہے۔۔۔۔

پچھلی قسط اس لنک پہ پڑھیں

اگلی قسط اس لنک پہ پڑھیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply