بیادِ جعفر بلوچ —— عزیز ابن الحسن

0

وہ تھے تو اردو زبان و ادب کے ایک محنتی انتھک اور فنا فی التدریس استاد مگر ادبی حلقوں میں ان کی شہرت ایک شاعر اور اس سے بھی بڑھ کر ایک طناز اور طرار برجستہ گو کی تھی۔ فی البدیہ شعر کہنے اور ہجویات گھڑنے میں دوسری صف کے اماموں میں شمار ہوتے تھے اور بلا کے جملہ باز تھے۔ ان کی اس صلاحیت کے قائل اور گھائل اپنے اور بیگانے سبھی رہتے تھے۔

جعفر بلوچ کی ہجویہ شعروں اور تضمینوں کی اہم خصوصیت یہ تھی کہ اس میں مزاح، زبان کا چٹخارہ اور لفظوں کا کھیل تو ہوتا تھا مگر تضحیک نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہجویہ اشعار کا شکار بننے والے بھی ان سے لطف لے تھے۔ ان کی چبھتے ہوئے جملے اس پر مستزاد ہوتے تھے۔ کہیں کوئی اٹپٹی صورتحال ہو اور وہاں جعفر بلوچ بھی ہوں تو ممکن نہیں تھا کہ جعفر بلوچ کو کوئی پھڑکتا ہوا شعر یا چٹکلا نہ سوجھے۔

جیسا کہ پہلے بھی کہیں بھی کہیں لکھ چکا ہوں کہ ایک دفعہ ڈاکٹر وحید قریشی کو اوریئنٹل کالج آنا تھا۔ کالج سے انہیں جو گاڑی لینے کے لئے بھیجی گئی وہ شاید کلٹس تھی۔ قریشی صاحب تن و توش والے آدمی تھے اس میں سما نہیں پارہے تھے۔ ان کے گھر سے ہی ڈرائیور نے فون کرکے مسئلے کی سنگینی سے آگاہ کیا۔ جلدی جلدی بڑی گاڑی کا انتظام کیا گیا اور قریشی صاحب آئے۔ ان کی واپسی پر پھر وہی مسئلہ درپیش ہوا۔ جعفر بلوچ بھی تشریف لائے ہوئے تھے جو اپنے ہی انداز کے آدمی تھے اور وحید قریشی صاحب کی طرح جملے باز بھی بلا کے تھے۔ اب منظر یہ تھا کہ قریشی صاحب واپس تشریف لے جانے کے لیے ایک ہاتھ میں کھونٹی تھامے اور دوسرا ہاتھ جعفر بلوچ کے کندھے پر رکھے گاڑی کی طرف بڑھ رہے تھے۔ گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا گیا اور قریشی صاحب نے پہلے اپنی کھونٹی اندر پھینکی پھر اپنا دایاں پیر اندر رکھا اور دوسری طرف جعفر بلوچ کا کندھا بھی ساتھ لیتے ہوئے دھپ سے رقبہ نشست میں “دھنس” گئے اور جعفر بلوچ ان کے اوپر گرتے گرتے بچے۔ سب نے ہاتھ پھیلاتے ہوئے قریشی صاحب کو شکریے کے ساتھ رخصت کیا۔ گاڑی چلی گئی اور لوگ بھی ادھر ادھر ہو گئے تو جعفربلوچ جو کافی دیر سے کچھ ضبط کیے کھڑے تھے راقم کے کان کے قریب منہ لاتے ہوئے پھڑکتا جملہ چھوڑ گئے:

“اللہ اکبر اللہ اکبر!
لحد میں اتارنے کا منظر آنکھوں میں گھوم گیا۔

یہ اور ان کے اس طرح کے پچاسیوں جملے اور چٹکلے ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے جعفر صاحب سے طبع رواں سے تخلیق پاتے دیکھے تھے۔ قائد اعظم لائبریری باغ جناح لاہور میں کوئی پروگرام تھا جس کے ایک مقرر جعفر بلوچ بھی تھے۔ اتفاق یوں ہوا کہ وہ پروگرام شروع ہونے کے کچھ دیر بعد حال میں پہنچے۔ ادھر وہ ہال میں داخل ہو رہے تھے کہ ادھر معلن نے ان کا نام پکار دیا۔ وہ اپنی نشست کی طرف جانے کی بجائے سیدھے مائیک پر چلے گئے اور گفتگو کا آغاز ہی اس ترمیمی مصرعے سے کیا

آ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور “پکارے” بھی گئے

ہال قہقہوں سے گونج اٹھا۔

شاید اسی دن کا واقعہ ہے یا کسی اور جگہ کا کہ ہم کسی پروگرام سے باہر نکلے تو بارش ہو رہی تھی۔ سامنے ایک معزز بزرگ آرہے تھے۔ ایسے موقعے پر جیسا کے ہوتا ہے بارش کے چھنٹوں سے بچنے کے لیے چھتری پکڑنے والے نے دوسرے ہاتھ سے سامنے سے قمیض کا دامن اور سمیٹ کر شلوار کا گھیر پکڑ کر اوپر کی طرف اٹھایا ہوا تھا اور دیکھنے میں یوں لگتا ہے جیسے سے اس نے اپنا سامان ریئسہ سنبھال رکھا ہے۔ یہ بزرگ بھی اسی منظر کی تصویر بنے چلے آرہے تھے۔ جعفر بلوچ نے یہ نظارہ دیکھا تو ہاتھ کے ہاتھ شعر کہہ دیا۔ پہلا مصرع تو یاد نہیں اس کا قافیہ جایا تھا مگر ان کی طنازی کا کامل اظہار دوسرے مصرعے میں ہوا تھا

ایک ہاتھ میں چھتری ہے دوسرے میں خایہ ہے

ان کے دوست تحسین فراقی اور اجمل نیازی پر کہے گئے ان کے اشعار لاہور کے ادبی حلقوں میں ضرب المثل بن چکے تھے۔ تحسین صاحب نے پی ایچ ڈی کی ڈگری کے لیے عبدالماجد دریا باری کا تحقیقی موضوع لیا تھا۔ فراقی صاحب نے عبدالماجد دریابادی پر کام کرنے کا حق ادا کر دیا۔ مواد کی جمع آوری ایک مشکل کام تھا کہ اس کے لیے دریاباد بات تک کا سفر کرنا پڑا تھا۔ مقالے کی تکمیل میں تاخیر ہوتی گئی دوست احباب جب بھی ان سے مقالے کے بارے میں پوچھتے یہی جواب دیتے کہ “ابھی تھوڑا وقت باقی ہے”۔

جعفر بلوچ جو فراقی صاحب کے بے تکلف ترین دوستوں میں سے تھے اور یہ جواب سن کر پک چکے تھے ایک روز انہوں نے یہ گفتہ اچھال دیا۔

جب سے اے تحسین فراقی تیرے سپرد ہوا
عبدالماجد درباری دریا برد ہوا

سر اتنا برجستہ اور خوش گفتہ کے اگلے ہی روز سارے شہر میں اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک میں پھیل گیا۔ مزے کی بات ہے کہ اس شعر کو دور دراز تک پھیلانے میں خود فراقی صاحب کا ہاتھ سب سے زیادہ۔ اس کے بعد ان سے جب بھی کوئی مقالے کی تکمیل کے بارے میں پوچھتا تو وہ اپنے مخصوص قہقہے کے ساتھ بس یہ شعر سنا دیتے!

میں سمجھتا ہوں کہ جعفر صاحب کا کلاسک کارنامہ وہ شعر تھا جسمیں انہوں نے اجمل نیازی کی جسمانی سراپے اور ان کی حرکات و سکنات کو مجسم کر دیا تھا:

عیاں یہ بات تری، ایک اک کل سے ہے
کہ تُو جمال سے اجمل نہیں، جمل سے ہے

جب تحسین فراقی جیسے ان کے جگری یار بھی ان کی شوخیوں سے نہ بچ سکے تھے تو کھمبیوں کی طرح اگنے والے ایچ ڈی ڈاکٹرز ان سے کیسے محفوظ رہ پاتے؟ دیکھیے تو انہوں نے ان کے بارے میں کیا کمال کی گل فشانی کی ہے:

جب نظر آۓ کوئی پی ایچ ڈی
یاد آتی ہے بات سعدی کی
نے محقق بود نہ دانش مند
چارپاۓ برو کتابے چند

سراج منیر جو کہ خود ایک نغزگو شاعر تھے اور برجستہ گوئی میں کمال رکھتے تھے انہوں نے ایک دفعہ ایک ہجویہ شعر کہا جس میں بلوچ کا قافیہ کاکروچ باندھا۔ میں سمجھا کہ یہ شعر شاید جعفر بلوچ کے بارے میں ہے۔ شعر سنا تو میں نے ہنستے ہوئے کہا کہ کل میں جعفر بلوچ کو سناتا ہوں۔ سراج بھائی کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولے

“باپ رے باپ، یہ انہیں سنا نہ دینا یہ ان کے لئے نہیں ناصر بلوچ کے لیے ہے جعفر یہ سن کر محظوظ تو بہت ہوں گے مگر انہوں نے پھر میری جو ہجو کہنی ہے وہ آگ کی طرح پھیل جائے گی”

ان کی عام گفتگو اور برجستہ گوئی میں ہمیشہ ایک شگفتگی ہوتی مگر ان کی غزلیہ اشعار ایک اور ہی جعفر کا رنگ دکھاتے ہیں ہیں۔ حزن و ملال کو ہنسی میں اڑانے والے اس جعفر کو بھی دیکھیے:

آج کسی کی یاد میں ہم جی بھر کر روئے دھویا گھر
آج ہمارا گھر لگتا ہے کیسا اجلا اجلا گھر

اپنے آئیں سر آنکھوں پر غیر کی یہ بیٹھک نہ بنے
گھر آسیب کا بن جائے گا ورنہ ہنستا بستا گھر

گھر کو جب ہم جھاڑیں پوچھیں رہتے ہیں محتاط بہت
گرد آلود نہیں ہونے دیتے ہم ہم سایے کا گھر

تم نے کڑیاں جھیلیں اور غیروں کے گھر آباد کیے
راہ تمہاری تکتا ہے آبائی سونا سونا گھر

جو آرام ہے اپنے گھر میں اور کہاں مل سکتا ہے
ٹوٹا پھوٹا بھی ہو تو بھی اپنا گھر ہے اپنا گھر

اک انجانے ڈر نے نیند اچک لی سب کی آنکھوں سے
کتنی ہی راتوں سے مسلسل بے آرام ہے گھر کا گھر

میری روح بروگن رہ رہ کر چلاتی رہتی ہے
میرا گھر میرا پیارا گھر میرا پیارا پیارا گھر

آوارہ گردی کے سبب وہ دن بھر تو مطعون رہا
جب سورج مغرب میں ڈوبا جعفرؔ بھی جا پہنچا گھر
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سفر علامت ہستی سفر دلیل حیات
خوشا وہ لوگ سفر جن کا ناتمام رہا

بیاض مہر نگل کر بھی رات رات رہی
سیاہ کار کا چہرہ سیاہ فام رہا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

کتنی سزا ملی ہے مجھے عرض حال پر
پہرے لگے ہوئے ہیں مری بول چال پر

کہتے ہیں لوگ جوشش فصل بہار ہے
پھولوں کا جب مزاج نہ ہو اعتدال پر

محسوس بارہا یہ ہوا ہے کہ زندگی
اک برف کی ڈلی ہے کف برشگال پر
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

زندگی کے افسانے ایک سے سہی لیکن
جو مری کہانی ہے وہ مری کہانی ہے

یہ شعر پڑھ کر ٹالسٹائی کے آننا کارینینا کا پہلا جملہ یاد آتا ہے کہ “تمام سکھی گھرانے یکساں ہوتے ہیں مگر ہر دکھی گھرانا اپنے ہی انداز کا تو دکھی ہوتا ہے۔
اسی غزل کی کچھ اور شعر دیکھیے

دیکھتا ہے رہ رہ کر منہ نگاہ والوں کا
مصرعۂ غریب اپنا نقش بے زبانی ہے

التفات فرمائیں یا تغافل اپنائیں
مدعا حسینوں کا صرف جاں ستانی ہے

پر خطا سہی جعفرؔ بے وفا سہی جعفرؔ
خیر تم سہی حق پر بات کیا بڑھانی ہے

کیا زندہ دل خوش کلام اور فی البدیہ گو آدمی تھے ہمارے جعفر بلوچ۔ وہ جس مجلس میں ہوتے عموماً غیر نمایاں ہو کر ہی رہتے مگر موقع پڑتے ہی افسوس کہ ہماری لاہور کی ادیب برادری نے انہیں بہت جلد بھلا دیا۔

جعفر بلوچ کی تنقیدی اور تحقیقی تحریریں اور ان کے متعدد شعری مجموعے چھپ چکے ہیں۔ کاش کوئی ان کی ہجویات اور فی البد یہات کے نمونے بھی جمع کر دے۔ ان کے دوستوں کے یاد خزانے میں جعفر بلوچ کے اس طرح کے بہت سے اشعار موجود ہوں گے اس کام کے لیے جناب ڈاکٹر تحسین فراقی اور ڈاکٹر جناب ڈاکٹر خورشید رضوی جتنی جلد استفادہ کر لیا جائے اتنا بہتر ہے۔

کافی عرصہ ہوا کہ جعفر بلوچ پر ان کے صاحبزادے کا لکھا ہوا ایک مضمون یہاں “دانش” پہ ہی کہیں پڑھا تھا۔ مضمون پڑھتے ہی مرحوم کے ساتھ بیتے زمانے یاد آ گئے اور فورا ہی ذہن نے ان کی یادوں کو مرتب کرنا شروع کر دیا تھا۔ چار پانچ مہینے قبل کی لکھی ہوئی تحریر آج سامنے آئی تو دانش کے مدیر کا شکوہ دور کرنے کا سامان ہو گیا جو میرے سیاسی خیالات سے کچھ خوش نہیں رہتے⁦☺️⁩

یہ بھی پڑھیں: قبلہ والد صاحب: پروفیسر جعفر بلوچ ----------- مظفر حسن بلوچ
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply