راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 24) —- یاسر رضا آصف

0

یہ میری ان سے پہلی ملاقات تھی۔ پھر وہ دونوں روزانہ کی بنیادوں پر آنے لگے۔ اُن کے پوچھنے کے انداز میں اس قدر ہمدردی ہوتی جیسے وہ مجھے اپنے قبیلے کا فرد سمجھتے ہوں۔ میں بھی اپنی تمام کیفیت انھیں کھل کر بتانے لگا۔ پھر اچانک ہی میں روبہ صحت ہونے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے میری طبیعت سنبھلنے لگی اور میرے چہرے کی رونق بحال ہونے لگی۔ میں دنوں میں ہی دوبارہ صحت مند ہوگیا۔ مجھے بھوک اس قدر شدید لگنے لگی کہ گھرمیں کھانے پر میں سب سے زیادہ ٹوٹ کر حملہ آور ہوتا۔ میرے جسم کی توانائی بحال ہوگئی۔ میں دوبارہ کرکٹ کے میدان کا رُخ کرنے لگا۔ ایک روز وہ دونوں میاں بیوی مجھے راستے میں مل گئے۔ انھوں نے مجھے ایسے دیکھا جیسے میں نے صحت مند ہو کر کوئی گناہ کرلیا ہو۔ وہ اجنبیوں کی طرح مُنھ پھیر کر گزر گئے۔ شاید میں اب اُن کے حلقے سے نکل گیا تھا۔ زندگی کے اس مرحلے سے مجھ پر نیا انکشاف ہوا کہ ہر شخص کا اپنا حلقہ ہوتا ہے۔ جواریوں، نشیئوں اور کبوتر بازوں کا بھی الگ حلقہ ہوتاہے۔ انسان کو ایسے تو نہیں معاشرتی حیوان کہا گیا۔

میں نے بوتل سے پانی کے چند گھونٹ بھرے۔ موبائل پر وقت دیکھا۔ ساڑھے چار کے قریب کا وقت ہو چکا تھا۔ میں نے موبائل جیب میں ٹھونسا اور آنکھیں بندکرکے اپنی نشست پر سر رکھ دیا۔ میں سوچوں کو مجتمع کرنے کی کوشش میں لگ گیا۔ دراصل میں اُس اچانک پیدا ہونے والی خلش سے پیچھا چھڑانا چاہ رہا تھا جو ایک دم سے مجھے اداس کرنے کے لیے دل سے ہوک کی طرح اٹھنے لگی تھی۔ مجھے سفر فقط رائیگانی کا سفر لگنے لگا تھا۔ بنا مقصد پہاڑوں کو تکتے جانا مجھے عجیب لگنے لگا تھا۔ اُداسی نے میرے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کردیا۔ میں سونا چاہتا تھا مگر اُداسی مجھے اندیشوں اور وسوسوں کے صحرا میں لیے پھرتی تھی۔ ایسی تپش میں نیند کیسے آسکتی تھی۔ میں سونے کی اداکاری کرنے لگا۔

گاڑی بابو سرٹاپ پر جا کر رُک گئی۔ میں نے گاڑی کے رُکنے پر موبائل نکال کر وقت دیکھا۔ پانچ بج چکے تھے۔ میں نے پچھلا آدھا گھنٹہ کس کرب اور اذیت میں گزارا تھا یہ صرف میں ہی جانتا تھا۔ میں نے کسی سے کوئی بات نہیں کی اور وین سے نیچے اتر آیا۔ وہی بابو سر ٹاپ جو جاتے سمے مجھے جنت کا کوئی ٹکڑا لگ رہا تھا اب فقط اونچائی پر ایک ویران ٹیلہ لگنے لگا تھا۔ میں بے زاری اور کوفت محسوس کررہاتھا۔ مجھے تنہائی درکار تھی۔ ایسی تنہائی جس میں کوئی مخل نہ ہو حتٰی کہ میری اپنی ذات بھی؛ مجھ پراُداسی کی کیفیت طاری تھی بلکہ آپ اسے ٹھیک طرح سے اداسی بھی نہیں کہہ سکتے۔ مسلسل سفر سے میرا ذہن کئی خانوں میں بٹ گیا تھا۔ اندیشے تھے، وسوسے تھے اور میں تھا۔ کبھی کبھار آپ ذہن کو سکون دینا چاہتے ہیں۔ آپ چاہتے ہیں کہ وہ کچھ بھی نہ سوچے۔ آنکھیں بند کرکے اور ٹیک لگا کر کسی دیوار کے ساتھ بیٹھ جائیں۔ میں بھی کسی ایسے گوشے کی تلاش میں تھا۔ میں نے اِدھر اُدھر نظریں دوڑائیں لیکن ایسا گوشہ کہیں نہیں تھا۔ اردگرد بہت سے لوگ تھے یا مجھے اُن کی تعداد زیادہ لگنے لگی تھی۔

میں سنبھل سنبھل کر قدم رکھتا ہوا سڑک کے موڑ سے نیچے اترنے لگا۔ سامنے ایک کمرہ تھا جو پتھروں سے مل کر بنا تھا اور اُس کے پیچھے کھُلا منظر؛ ایسا منظر جو مجھے درکار تھا تاکہ ذہن کو شانت کرسکوں۔ میں پتھروں پر پائوں رکھتا ہوا چلنے لگا۔ میں دیوار پر ہاتھ رکھتے ہوئے گھوم کر اُس ترچھے کمرے کے پیچھے پہنچ گیا۔ وہاں بینچ نما پتھر پڑا تھا۔ جیسے کسی نے پہلے ہی سے میرے بیٹھنے کا انتظام کر رکھا ہو۔ میں نے خود کو اُس پتھر نما بینچ پر ڈھیر کردیا جیسے زمانوں کے سفر سے واپسی ہوئی ہو۔

سامنے پہاڑیاں تھیں۔ نیچے وادی تھی اور ٹیڑھے میڑھے راستے تھے۔ منظر بہت کھلا تھا۔ دور تک نگاہ جاتی تھی۔ میں نے ایک لمبا سانس کھینچا اور آنکھیں میچ کر پتھریلی دیوار سے ٹیک لگالی۔ سر کو پتھریلی دیوار پر ٹیکنے سے کچھ سکون ملا اور شور کم ہونا شروع ہوگیا۔ پھر سناٹا چھا گیا۔ کسی طرف سے کوئی آواز نہیں آئی۔ بہت زیادہ شور اور حد سے زیادہ سناٹا دونوں ہی ذہن کو دھچکا دیتے ہیں۔ میں نے ایک دم آنکھیں کھول دیں۔ میں بائیں جانب جھُکا، پتھر پر ہاتھ رکھ کر مزید جھُکا اور لوگوں کی چہل پہل دیکھنے لگا۔ سبھی موجود تھے۔ وہ کافی اوپر تھے اور میں نشیب میں نیچے تھا۔ میں اپنے اند ر آکاس بیل کو پنپتے ہوئے محسوس کررہا تھا۔ ایسی بیل جو وجود کو چاٹ کھایا کرتی ہے۔ اسے مایوسی نہیں کہا جاسکتا۔ شاید یہ احساس اُس سے بھی بدتر تھا۔ میں خود سے بات کرنا چاہتا تھا۔ اپنے آپ سے ملاقات کی خواہش لے کر گھر سے نکلا تھا۔ یہی بات مجھے اندر ہی اندر کھائے جارہی تھی کہ میرا مقصد سفر کے دوران وفات پا چکا ہے۔ میں کبھی سوچتا کہ ایسا کچھ نہیں ہے، وہ سب میرا وہم تھا۔ کبھی گزرے واقعے پر حقیقت کا گمان ہوتا۔

میں اسی ادھیڑ بن میں گرفتار بیٹھا تھا کہ ایک شخص سر پر کیپ پہنے، بھاری بھر کم بوٹوں سے پائوں رکھنے کی آواز پیدا کرتا ہوا آتا دکھائی دیا۔ دائیںطرف کی پہاڑی آگے تک چلی گئی تھی اس لیے میں اُس شخص کو واضح طور پر دیکھ سکتا تھا۔ وہ دیوار پر ہاتھ کا سہارا لے کر اُسی پتھر نما بینچ پر آکر میرے پہلو میں بیٹھ گیا۔ اُس کے چہرے پر جھریوں کا جال بچھا ہوا تھا۔ ہاتھوں پر سلوٹیں تھیں۔ اُس نے میری جانب دیکھا اور مسکرادیا۔ بدلے میں مجھے بھی نہ چاہتے ہوئے مسکرانا پڑا۔ ایک پھیکی اور روکھی مسکراہٹ جس کے کوئی معنی نہیں ہوتے، میرے ہونٹوں پر تھی۔ اچانک میرے ذہن میںجھماکا ہوا۔ یہ میرا ہی وجود تھا جو میرے پہلو میں بیٹھا تھا۔

میرے ذہن میں ہلچل مچ گئی۔ سارے سوالات اتھل پتھل ہونے لگے۔ کیا پوچھا جائے اور کیا نہ پوچھا جائے۔ کہاں سے بات شروع کی جائے کیا سوال پوچھنا ٹھیک رہے گا۔ نہیں کچھ مختلف بات کرنی چاہیے۔ موسم سے بات کا آغاز کرنا بہتر رہے گا۔ جب کسی کے پاس بات کرنے کے لیے کوئی موضوع نہیں ہوتا یا بات کے آغاز کے لیے کوئی سرا نہیں ملتا تو خاموشی طاری ہوجاتی ہے۔ چوں کہ ذہن بہت سارے موتیوں میں سے اپنے مطلب کا موتی چننے میں مصروف تھا اس لیے خاموشی تھی۔

میری مسلسل خاموشی پر وہ اپنی بوڑھی اور گھمبیر آواز میں گویا ہوا ’’ راستوں سے محبت نہیں کی جاتی انھیں پائوں کے نیچے رکھا جاتا ہے۔ اگر ہم راستوں کو سر پر بٹھائیں گے تو ہم دفن ہو جائیں۔ محبت کرنی ہے تو منزل سے کرو‘‘۔ میں چونکا؛ یہ تو میری ہی آواز تھی مگر کچھ بھاری لہجے کے ساتھ؛ میں خاموش تھا بلکہ ساکت تھا۔ اُس نے اپنا دایاں ہاتھ میری آنکھوںکے آگے لہرایا جیسے شیشہ صاف کررہا ہو۔ ایک دم سے سارا منظر اُجڑ گیا۔ ہر طرف ٹوٹے پھوٹے پتھر تھے۔ چھال کے بنا درخت تھے اور جانوروں کے ڈھانچے قحط سالی کے باعث بکھرے ہوئے تھے۔ پورا منظر ایک آفت زدہ علاقے میں ڈھل چکا تھا۔

اب میں چُپ نہیں رہ سکا۔ یہ سب کافی ڈرائونا تھا۔ میں نے استفسار کیا کہ یہ کیا ہے؟ اُس نے بلا تامل جواب دیا ’’یہ تمھارا اندر ہے‘‘۔ اُس کا یہ کہنا تھا اورمیں سناٹے میں آگیا۔ میں گُنگ ہوگیا۔ تھوڑے توقف کے بعد اُس نے میری آنکھوں کے آگے پھر ہاتھ کو لہرایا جیسے جادوگر کرتب کے سمے رومال لہراتا ہے۔ سب کچھ اپنی پہلے والی حالت میں واپس آچکا تھا۔ میں نے ایک ٹھنڈا سانس لیا۔ جیسے کسی بھیانک خواب کے ختم ہونے پر شکریہ ادا کر رہا ہوں۔ میں نے تشکر بھری نظروں سے اُسے دیکھا۔

میں سوچ میں پڑگیا کہ کیا میں اندر سے اتنا بنجر اور بھیانک ہو چکا ہوں۔ میں افسوس کرنے لگا کہ میں کتنا اُجڑ گیا ہوں۔ جب سوچ اس نہج پر چل نکلی تو اداسی کی کیفیت لوٹ آئی۔ ایک خوف نے میرے ذہن میں اپنے بازو پھیلائے کہ اب میں زرخیز نہیں رہا اور یہ خوف دیو ہیکل شکل اختیار کرتے ہوئے مجھ پر حاوی ہونے لگا۔ اب تشکر کی بجائے میری آنکھوں میں نمی تھی۔ میں نے پرُنم آنکھوں سے اُس کی جانب دیکھا۔ وہ بالکل مطمئن بیٹھا تھا۔ شاید بدھا بھی نروان کے بعد اتنا ہی مطمئن ہوگا۔ میں نے سوچا اور کچھ پوچھنے کے لیے الفاظ کو ترتیب دینے لگا۔ مجھے کیوں، کیا، کب اور کیسے کے علاوہ کچھ سوجھ نہیں رہا تھا۔

شاید وہ میری دِلی کیفیت سے آگاہ تھا اور میرے ذہن میں چلنے والے جھکڑ بھی دیکھ رہا تھا۔ وہ مسکرایا اور مسکراہٹ کے سبب مجھے زہر لگنے لگا۔ مجھے اُس سے گھِن آنے لگی یعنی اپنے آپ سے ہی بیزاری محسوس ہونے لگی۔ اُس نے اپنا دایاں ہاتھ ایک بار پھر میری آنکھوں کے آگے لہرادیا۔ میں نے سامنے موجود وادی کو دیکھا۔ سبزہ دو چند ہوگیا۔ درخت مزید گھنے اور اونچے ہوگئے۔ ایک جھرنا آبشار کی صورت سامنے کی پہاڑی سے نیچے گرنے لگا۔ آبشار کے پانی کی پھواروں سے دھنک وجود میں آگئی اور رنگ بکھیرنے لگی۔ رنگ بہ رنگے پرندے اُڑانیں بھرنے لگے اور چہچہانے لگے۔ جہاں کچھ دیر پہلے ڈھانچے دکھائی دے رہے تھے وہاں اب جیتے جاگتے جانور گھاس چرنے میں مصروف تھے۔ میرے سامنے زندگی اپنے خوب صورت ترین روپ میں فطرتی حُسن کے ساتھ جلوہ گر تھی۔

میں طلسماتی منظر کے حُسن میںگرفتار ہو چکا تھا کہ اُس کی آواز میرے کانوں میں گونجی ’’یہ بھی تمھارا ہی اندر ہے، اب فیصلہ تمھیں خود کرنا ہے‘‘۔ میرے سامنے جنگلی پھول کھلے ہوئے تھے اور اُن کی خوشبو میرے نتھنوں کے رستے میرے دماغ تک پہنچ رہی تھی۔ میں پھولوں کی خوشبو سے مسحور ہوا جارہا تھا۔ میں جنت نما منظر کے حصار میں قید ہو چکا تھا۔ میرے چہرے کی مسکان لوٹ آئی تھی۔ میرے اندر روشنی سی بھر گئی تھی۔ امید اور نااُمیدی کی رسی پر جھولنے والا میرا وجود اب ساکن ہو گیا تھا۔ مجھے سمجھ آگئی تھی کہ جو کچھ بھی ہے میرے اندر ہے۔ میں نے شکر گزاری کے احساس کے ساتھ نم آنکھوں سے اپنے دائیں جانب دیکھا مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔ میں نے فوراً سامنے دیکھا جیسے ٹی وی کے چینل بدلنے پر سکرین پر منظر بدل جاتا ہے، بالکل ویسے ہی سامنے کا منظر اپنی ابتدائی حالت میں واپس آچکا تھا۔ لیکن میری کیفیت پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔ میں پُرسکون محسوس کر رہا تھا کہ میرے چہرے پر تنائو نہیں بلکہ اطمینان تھا۔ میں نے زندگی کا بھید پالیا تھا یعنی زندگی زندہ دلی ہے۔

میں اب خاصہ مطمئن ہو گیا تھا۔ وہی پہاڑ جو پہلے مجھے کاٹ کھانے کو دوڑ رہے تھے اب دلکش دکھائی دے رہے تھے۔ دوستوں کی ہنسی کانوں میں رس گھول رہی تھی اور مجھے میرا جسم ہلکا پھلکا محسوس ہو رہا تھا۔ جیسے کوئی شخص کئی دن کے جگ راتے کے بعد گہری نیند سو کر اٹُھا ہو۔ ویسے بھی میری آنکھیں پوری طرح کھُل چکی تھیں۔ میں احباب کے ہمراہ ہنستے ہنساتے وین میں پہنچ گیا۔ وہی وین تھی جسے میں کچھ دیر پہلے تک چلتی پھرتی جیل سمجھ رہا تھا اب مجھے کافی آرام دہ لگ رہی تھی۔ اپنی نشست پر بیٹھنے کے بعد میں نے سوچنا شروع کیا۔ جیسے جیسے وین آگے بڑھنے لگی میری سوچ بھی ویسے ویسے آگے ہی آگے بڑھتی چلی گئی۔

میں خود سے مخاطب ہوا۔ میں نے نتائج اخذ کیے۔ مجھے خود کو جذبات کے سپرد نہیں کرنا چاہیے۔ اپنے ذہن پر قابو پاتے ہوئے مجھے خود کو مغلوب ہونے سے بچانا ہو گا۔ میں جو کچھ بھی دیکھتا ہوں سب علامتی اور اشاراتی ہے۔ مجھے ان علامات کے مفاہیم اور ان اشارات کے معانی تک رسائی حاصل کرنا ہوگی۔ خواب کو تعبیر کے ساتھ دیکھنا ہی اصل بات ہے۔

میں سفر سے سیکھ رہا تھا اور اپنی روح سے ہمکلام ہو رہا تھا۔ بہت پہلے ایسا ہوا کرتا تھا کہ میں اپنی روح سے اس طرح گفتگو کرتا تھا۔ مجھے خوشی ہوئی کہ دوبارہ رابطہ بحال ہو گیا ہے۔ طبیعت پُر سکون ہوئی تو سانس لینے میں بھی لطف آنے لگا۔ یہ ایسا احساس تھا جس کا تجربہ مجھے زندگی میں پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ ایک دم سے ذہن میں روشنی کوندی اور مجھے بات سمجھ میں آگئی۔

چھٹی کا دن میرے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا۔ میں کھُل کر سانس لے سکتا ہوں۔ کِھلکِھلا کر ہنس سکتا ہوں یعنی صحیح معنوں میں زندہ ہو جاتا ہوں۔ رات کو کتاب جو میرے سرہانے ہوتی ہے، اُسے پڑھتا ہوں اور کچھ نہ کچھ لکھ بھی لیتا ہوں۔ کتاب سے میرا تعلق ویسا ہی ہے جیسا پھولوں کا بہار سے ہے۔ کتاب مجھ میں زندگی بھر دیتی ہے۔ میں صبح کی اذان تک کتاب پڑھتا ہوں۔ خاموشی کے لمحات میں ہر ایک سطر میرے سامنے منظروں کے مختلف پہلو عیاں کرتی جاتی ہے اور ان دیکھی دنیا میں سانس لیتا جاتاہوں۔ کتاب پڑھتے سمے میں خود کو خلا میں تیرتے ہوئے محسوس کرتا ہوں۔ یہ خلا مُردہ نہیں ہوتی بلکہ رنگوں، پیڑوں اور انسانوں سے پُر ہوتی ہے۔ خلا اس لیے بھی کہ الفاظ آواز سے مبرّا ہوتے ہیں۔ صبح کے آثار جیسے ہی نمودار ہونا شروع ہوتے ہیں، کتاب میں نشانی لگاتا ہوں اور خود کونیند کے سپرد کر دیتا ہوں۔

میں رات دیر تک کتاب پڑھتا رہا۔ چھٹی کا دن تھا۔ اس لیے بارہ بجے کے بعد اُٹھا۔ نہا دھو کر ناشتہ کیا اور اوپر والے کمرے میں آگیا۔ جہاں کتابوں کا جہان پھر سے میرا منتظر تھا۔ میری آنکھیں کچھ تلاش کرتے ہوئے اِدھر اُدھر گھوم رہی تھیں۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ سامنے پڑی شئے بھی کبھی دکھائی نہیں دیتی اور کبھی چھُپی ہوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی آسانی سے مل جاتی ہے۔ میں نے پورے کمرے کا جائزہ لیا مگر سگریٹ کا پیکٹ کہیںبھی دکھائی نہ دیا۔ میں نے کتابوں کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔ الماری کی درازوں کو کھولا۔ کُرسی کے نیچے بھی جھانکا مگر وہ کہیں بھی دکھائی نہ دیا۔

میں نے سگریٹ چھوڑنے کی بارہا کوشش کی مگر خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ پتہ نہیں کیسے یہ بات میرے ذہن میں بیٹھ گئی ہے کہ سگریٹ کے بغیر میری سوچ پرواز نہیں کرسکتی۔ بچوں سے چھُپ چھُپا کر پیتا ہوں اور سگریٹ کے پیکٹ کو اُن کی نگاہوں کی زد سے محفوظ رکھنے کے لیے چھپاکر رکھتا ہوں۔ یہ سب جوکھم اُٹھاتا ہوں پر اُس عادت کو ترک نہیں کرپاتا۔ میں جب ڈھونڈنے کے باوجود بھی پیکٹ تلاش نہ کرسکا تو تھک ہار کر اپنے بستر پر بیٹھ گیا۔ میں نے تکیہ اُٹھا کر اپنی گود میں رکھ لیا اور اُس پر کہنیوں کا وزن ڈال کر چہرے پر اضطراب کی حالت میں ہاتھ پھیرنے لگا۔

میرے دائیں جانب تکیے کے عین نیچے سے سگریٹ کا پیکٹ جھانک رہا تھا۔ میں کتاب پڑھتے وقت دو تکیے اوپر نیچے رکھ کر یعنی سر کو اونچا کرکے کتاب پڑھتا ہوں۔ کبھی بیٹھ کر تو کبھی لیٹ کر؛ تکیے کے نیچے رات سگریٹ میں نے خود ہی رکھے تھے مگر اپنی غائب دماغی کے سبب بھول گیا تھا۔ وین میں بیٹھے ہوئے مجھے یہ بات سمجھ آگئی۔ یعنی دھند چھٹ گئی اور تصویر واضح ہو گئی۔ میں نے اُس روز جس شئے کو پورے کمرے میں تلاش کیا تھا وہ تو میرے سرہانے کے نیچے تھی۔

یعنی میں جس کی تلاش میں میلوں کا سفر طے کرکے ان پہاڑوں میں آیا تھا وہ تو ہر وقت اور ہر لمحہ میرے پاس تھا۔ میرے ساتھ تھا۔ سانس لیتے وجود کی صورت میرے اندر موجود تھا۔ یہ کیسا راز تھا جو راز ہو کر بھی راز نہ تھا۔ جو چھُپا ہوا بھی نہیں تھا اور پوری طرح ظاہر بھی نہیں تھا۔ میں نے مسکرا کر خود کو طعنہ دیا کہ میں ہی بے وقوف تھا جو اتنی سی بات بھی نہ سمجھ سکا۔ میری مسکراہٹ کو ساتھ بیٹھے اسلام نے نوٹ کیا اور پوچھا بھی مگر میں اِدھر اُدھر کی باتوں میں ٹال گیا۔

وین پٹرول کی ایجنسی پر رُک گئی۔ گاڑی کا پٹرول تو بابو سر ٹاپ پر ہی ختم ہو گیا تھا۔ ڈرائیور ’’جل کھڈ ‘‘تک گاڑی ریزرو پر لے کر آیا تھا۔ ڈھلوان کے باعث گاڑی پھسلتی ہوئی یہاں تک پہنچی تھی۔ جب پٹرول ایجنسی کے کارندے نے فی لیٹر پٹرول کی قیمت ایک سو بتیس روپے بتائی تو اسلام نے کم مقدار پر ہی اکتفا کرنا مناسب خیال کیا۔ اتنا پٹرول ڈلوایا گیا کہ جس سے گاڑی ناران پہنچ سکے۔ اسلام روپوں کے حساب کتاب اور موقع کی مناسبت سے فیصلہ کرنے میں طاق تھا۔ اس لیے سارا حساب کتاب اُسی کے سپرد کیا گیا تھا اور وہ خوش اسلوبی سے یہ فرض نبھا رہا تھا۔ پٹرول ملنے کے بعد گاڑی دوبارہ رواں دواں ہو گئی اور ناران کی طرف سفر کرنے لگی۔

وین میں خاموشی تھی۔ سبھی زبانیں بند کیے اپنی اپنی دنیائوں میں گم تھے۔ میرا ذہن پھر سوچنے لگا۔ میںنے اپنی روح سے دوبارہ گفتگو شروع کردی۔ مجھے میرا ہمدم، میرا دوست اور میرا محافظ مل گیا تھا۔ سمت کا تعین باقی تھا۔ پہلا قدم بعد میںاُٹھائے جانے والے قدموں کی سمت متعین کرتا ہے۔ اس لیے مجھے سوچنا تھا اور سمجھنا تھا مگر معاملہ یہ تھا کہ سوچنا کیا تھا اور سمجھنا کیا تھا۔ کتابیں پڑھنے سے الفاظ کے رستے نئی دنیائوں کی سیر کی مگر اب وقت تھا خود کو پڑھنے اور سمجھنے کا؛ وین کے ساتھ ساتھ سوچ بھی دوڑنے لگی۔

سوال دماغ میں ہلچل مچانے لگے۔ اس کائنات میں ہر شئے کا تضاد موجود ہے تاکہ پہچان ہو سکے جیسے سیاہ نہ ہوتا تو سفید کی پہچان ممکن نہیں تھی۔ انسان کو اپنی ذات کی پہچان کے لیے کس ضد کو دیکھنا ہوگا۔ یعنی ایسا کون سا تضاد تھا جو انسان کی پہچان میں مددگار ہو سکتا تھا۔ مجھے فی الحال دوباتوں کی سمجھ آئی تھی۔ پہلی بات؛ جو کچھ اندر ہے اُسی کا عکس باہر دکھائی دیتا ہے۔ دوسری بات؛ اگر باہر بدلنا ہے تو اندر کو بدلنا ہوگا۔

میں بس میں بیٹھا تھا اور ہمیشہ کی طرح کھڑکی کے ساتھ والی سیٹ پر قبضہ جمائے تھا۔ رات قریبًا دس بجے کا وقت تھا اور مجھے لگاتار باہر دیکھتے رہنے کی خواہش بھی تھی۔ موسم سرد تھا لہٰذا کھڑکی کھولنے سے بیماری کا جوکھم جھیلنا پڑتا اس لیے کسی صورت بھی کھڑکی کھولنا مناسب نہ تھا۔ کھڑکی کے شیشے پر لگی خراشوں اور جمی ہوئی خاک کی تہہ نے اُسے کچھ کچھ دھندلا دیا تھا۔ مجھے باہر کا منظر دیکھنا تھا۔ کلیجی رنگ کا دبیز اور بھاری پردہ کھڑکی کے شیشے کو یوں ڈھانپے ہوئے تھا کہ مجھے باہر دیکھنے کے لیے چہرے کو شیشے کے ساتھ تقریبًا چپکا کر رکھنا پڑرہا تھا۔ میں باہر کے نظارے کے لیے پردہ تھام کر رکھے ہوئے تھا۔ میں دائیں ہاتھ سے پردہ پیچھے کرتے ہوئے شیشے میں سے باہر جھانک رہا تھا۔ میں اندھیرے میں ٹٹولتی ہوئی نظروں کے ساتھ پیچھے بھاگتی سڑک اور درختوں کے ہیولے دیکھ رہا تھا۔ اس دوران کبھی مجھے دور بستی میں جلتی کچھ روشنیاں بھی دکھائی دے جاتی تھیں۔ اس طرح باہر دیکھتے ہوئے الگ ہی لطف محسوس کر رہا تھا۔

جب تصویر پوری طرح واضح نہ ہو تو منظر کی تکمیل تخئیل اپنی کارفرمائی سے کرتا ہے اور ایسی ہی کچھ کارفرمائی تخئیل سے میری سوچ کے مطابق منظر تخلیق کر رہا تھا۔ میں یوں ہاتھ میں پردہ تھامنے سے اور جھات ڈال کر دیکھنے کے متواتر عمل سے اُکتا گیا تھا۔ اکتاہٹ نے جب بے چینی کا روپ دھارا تو میں سیٹ سے تھوڑا اوپر ہوا، بازو لمبا کیا اور پردہ اگلی نشست کے ساتھ اکٹھا کردیا۔ چھت میں نصب روشنی کھڑکی کے شیشے پر مجھے میرا ہی عکس دکھانے لگی۔ منظر غائب ہوگیا۔ اب شیشہ بند ٹی وی کی سکرین لگ رہاتھا۔ جس کے اندر بھی بس کی نشستیں تھیں اور میں تھا۔ میں نے انتظار کیا، غور کیا لیکن منظر دکھائی نہ دیا۔ میں نے پردہ واپس سرکا لیا اور جھات والا سلسلہ دوبارہ شروع کرکے نظارہ کرنے لگا۔ مجھے ادراک ہوگیا کہ نظارے کے لیے پردہ داری ضروری ہے۔

میں اپنے خوابوں اور اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو بتا کر پہلے ہی کافی نقصان اُٹھا چکا تھا۔ اگر اب دوبارہ یہ سلسلہ شروع ہوا تھا تو اُسے ہر حال میں اپنی ذات تک رکھنا تھا۔ بزرگ کہتے ہیں کہ ہانڈی کو پکنے دو اور ڈھکن مت اُٹھائو۔ ڈھکن اُٹھ گیا تو سب بھاپ بن کر اُڑ جائے گا۔ جب تک ڈھکن جڑا ہے پکنے والا پانی بھی امرت ہے جیسے ہی ڈھکن اُٹھا، آب حیات بھی دھویں میں بدل جائے گا۔ پھر سوائے سفید دھند کے کچھ نہیں رہے گا۔ یہ دھند بھی چند لمحوں کے لیے ہوگی پھر کہانی ختم سمجھیں۔ مطلب مجھے ہر حال میں اپنا مُنھ بند رکھنا تھا۔

میں شروع دن سے شیخی کا مارا اور بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے والا شخص تھا۔ جسے ہر حال میں خود کو نمایاں صورت میں پیش کرنا پسند تھا۔ نتیجہ کیا نکلا نہ میں دنیا دار بن سکا اور نہ ہی صوفی بن سکا۔ یہ دو طرفہ ادھورا پن مل کر بھی مجھے مکمل نہ کر سکا۔ میں ایک عرصہ ایسی پُل پر کھڑا رہا جس کے ایک جانب دنیا تھی تو دوسری جانب روحانیت تھی۔ اب اگر میں نے کسی جانب ایک قدم بڑھا لیا تھا تو مجھے اسی سمت آگے بڑھتے جانا تھا۔ میں دنیا کا شاید اس لیے نہ بن سکا کہ میں ہزار کوشش کے باوجود احساس سے محروم نہ ہو سکا۔

ایک سائنسی آرٹیکل پڑھتے ہوئے مجھ پر یہ راز کھُلا کہ ایٹم کے بنیادی ذرات میں کچھ ایسے ذرّے بھی شامل ہوتے ہیں جو سیکنڈ کے ہزارویں حصے کے لیے غائب ہو جاتے ہیں اور پھر اپنے اُسی راستے پر ظاہر بھی ہو جاتے ہیں۔ میرے ذہن میں فورًا اپنی سوچ کا پنسل اسکیچ اُبھرا اور میں حیرت زدہ رہ گیا۔ یہی حال میری سوچ کا تھا جو تیسری جہت سے چوتھی اور پھر چوتھی سے پانچویں جہت میں جا پہنچتی تھی۔ میرے اندر آواز گونجی ’’تم کیا انوکھا سوچتے ہو۔ سبھی سوچتے ہیں۔ کچھ بتاتے ہیں اور کچھ نہیں بتاتے۔ جو نہیں بتاتے، یا تو وہ بتانا نہیں چاہتے یا پھر بتا نہیں پاتے۔ سوچو نہ بتانے سے کیسے کیسے نظریات دفن ہو گئے ہوں گے‘‘۔ میں نے خود کی نندیا کی اور سیٹ پر آنکھیں بند کرکے دراز ہوگیا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

پچھلی قسط اس لنک پہ پڑھیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply