راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 23) —- یاسر رضا آصف

0

میری آنکھ کھلی تو کمرے میں کوئی بھی نہیں تھا۔ مجھے کسی نے بھی جگانا مناسب نہ سمجھا تھا۔ دراصل وہ میری نیند میں مخل نہیں ہونا چاہتے تھے۔ میں اٹھا، دانت صاف کیے، نہایا اور کپڑے تبدیل کرکے باہر آگیا۔ بالکونی میں رونق لگی ہوئی تھی۔ سبھی چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ میں چلتے ہوئے اسلام کے پاس گیا جو چائے کی پتیلی سے کھیل رہا تھا۔ یعنی تقسیم کے عمل سے گزر رہا تھا۔ تقسیم کا عمل بھی ریاضیاتی طور پر اپنی الگ جہت رکھتا ہے۔ کہیں مثبت تو کہیں منفی طور پر استعمال ہوتا ہے۔ یہاں تقسیم کا یہ عمل مثبت پہلو لیے تھا۔

اسلام نے حسبِ دستور مجھے خوش آمدید کہاا ور نوڈلز کا پیالہ چمچ سمیت مجھے تھمادیا۔ میں نوڈلز کا مزہ چکھنے لگا اور ساتھ چائے کی چسکیاں بھرتے ہوئے پہلے سے جاری گفتگو کا حصہ بن گیا۔ میں نے جلد ہی پیالہ خالی کردیا اور چائے کا کپ تھامے ٹہلنے لگا۔ دوسری منزل سے سامنے کا منظر دیکھنے لائق تھا۔ سرسبز پہاڑ تھے اوراُن کے درمیان حسین شہر دکھائی دے رہا تھا۔ ہوٹل کی عمارت شاندار تھی۔ رات کو اتنی تفصیل سے نہیں دکھائی دی تھی۔ اب عمارت کی شان و شوکت واضح نظر آرہی تھی۔ دو منزلہ عمارت کی کھڑکیاں شیشوں سے مزین تھیں۔ نیچے خالی جگہ پر ہماری وین کھڑی تھی۔ وین کے بائیں جانب سڑک تھی۔ سڑک کے پار پختہ عمارتوں کا شہر تھا اور ان کے گردا گرد سبز پہاڑ تھے۔ سورج کی کرنیں ترچھی پڑ رہی تھیں اور پہاڑوں کا سبزہ ہلکے سرخی مائل رنگ سے کسی آئل پینٹنگ کی شکل میں دکھائی دے رہا تھا۔

میں کافی دیر تک سبز پہاڑوں کو دیکھتا رہا۔ سورج اب پوری آب و تاب سے چمکنے لگا تھا۔ نیچے وین پر سامان باندھا جارہا تھا۔ میں نے چائے ختم کی اور کپ اسلام کے حوالے کرکے اپنے کمرے میں آگیا۔ شبیر اور بلال بیگ کمر پر لادے باہر نکل گئے۔ میں نے بھی اپنا سامان سمیٹا۔ بیگ پیک کیا اور کمرے کو لاک کرکے چابی اسلام کے سپرد کردی۔ اسلام نے چابی لیتے ہوئے پوچھا ’’کیا آپ نے اطمینان کرلیا۔ کوئی چیز رہ تو نہیں گئی۔ چوں کہ اب ہم اس جگہ کبھی واپس نہیں آئیں گے‘‘۔ میں نے اسلام کو یقین دلایا کہ کمرے سے نکلنے سے پہلے میں سبھی چیزیں سمیٹ لی تھیں۔ مجھ سے تو اتنی پوچھ گچھ کر رہے تھے حالاں کہ خود شناختی کارڈ ریسپشن سے لینا بھول آئے تھے۔

میں سیڑھیاں اُترتا ہوا وین تک پہنچا۔ اپنا بیگ وین کی چھت پر کھڑے ذیشان کی جانب اُچھال دیا۔ شبیر اور فیاض چھت پر بیگوں کو باندھنے کا کام خوش دلی سے کرتے آئے تھے گوکہ شروع سے میری ان کے ساتھ نہ بن سکی لیکن وہ ہر کام میں پیش پیش رہے۔ نوجوان خون کی اپنی کچھ خوبیاں ہوتی ہیں۔ کسی بھی معاشرے کو زندہ رکھنے اور آگے بڑھنے کے لیے نوجوانوں کا کردار اہم ہوتا ہے۔ میں ذیشان کو تمام سامان ترتیب سے باندھتے ہوئے دیکھتا رہا۔ رسی سے سبھی بیگ باندھنے کے بعد اس پر مومی لفافہ چڑھانا وہ کبھی نہیں بھولتا تھا۔ میں نے سگریٹ سلگائی اور سڑک پر آگیا۔ سڑک کشادہ تھی اور بائیں جانب کو ڈھلوانی صورت میں نیچے کی طرف بہتی ہوئی ندی کی طرح لگ رہی تھی۔ جس پر پانی کی بجائے ٹریفک بہتی جارہی تھی۔

میں کافی دیر آتی جاتی کاروں اور بسوں کو دیکھتا رہا۔ یہ سب ذہن کو شانت کرنے کے لیے تھا۔ سڑک اونچائی پر تھی۔ دائیں طرف سے اوپر کو اُٹھی ہوئی اور بائیں طرف کو جھکی ہوئی میدانی علاقے کی سڑکوں سے قدرے مختلف تھی۔ اسلام ریسپشن پر حساب کتاب کرکے فخر کے ساتھ وین کی جانب آگیا۔ سبھی وین کے پاس اکٹھے ہوگئے۔ تصویروں کا سلسلہ چل نکلا۔ کسی یاد کو محفوظ کرنے کا اس سے اچھا ذریعہ آج کل کے جدید دور میں اور کوئی نہیں۔ گروپ فوٹو لیا گیا۔ جس میں سبھی دوست مسکرا رہے تھے۔ جب بھی دنیور کا ہوٹل یاد آتا ہے تو میں اپنے موبائل سے تصویر نکال کر دیکھ لیتا ہوں۔ مجھے اپنے چہرے پر اُداسی صاف دکھائی دیتی ہے۔

تصویروں سے فارغ ہو کر سبھی ایک ایک کرکے وین میں بیٹھنے لگے۔ میں اپنی پسندیدہ نشست پر دروازے کے ساتھ بیٹھ گیا۔ وین دوبارہ حرکت میں آگئی۔ اداسی تھی کہ میرے رگ و پے میں سرایت کیے جاتی تھی۔ بے وجہ کی اداسی بھی سوچ کے کئی نئے دروازے کھول دیتی ہے۔ انسان اپنی ذات کے تہہ خانے میں خاموشی سے اتر جاتا ہے۔ میں بھی خاموش تھا اور اُداس تھا۔ اداسی کی وجہ جاننے کے لیے میں نے اپنے آپ سے پوچھنا شروع کیا لیکن وہاں قبرستان جیسی خاموشی تھی۔ کہیں کوئی آہٹ، کوئی ہلچل تک نہیں تھی۔ ایسا اس لیے تھا کہ جس مقصد کو لے کر میں گھر سے نکلا تھا وہ کہیں ان پہاڑوں میں کھوگیا تھا یا مجھے ہی سرا نہیں مل رہا تھا۔ گتھی مزید الجھتی جارہی تھی۔ اب نہ تو یادیں تھیں اور نہ ہی فریبِ نظر تھا۔ سو میں باہر کے منظروں سے جی کو بہلانے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔

وین اپنی پوری رفتار سے سڑک پر دوڑ رہی تھی اور میں پیچھے ہٹتے منظر کو دیکھ رہا تھا۔ وین کی رفتار بڑھتی تو اردگرد کا منظر اُسی تیزی سے پیچھے کی جانب دوڑنے لگتا۔ مجھ پر نیند کا غلبہ ہونے لگا۔ مجھے نہیں خبر میری آنکھیں کب پوری طرح بند ہوگئیں اورمیں خوابوں کی دنیا میں چلا گیا۔ کبھی کبھار کسی اچانک جھٹکے سے پل بھر کے لیے میری آنکھ کھلتی اور پھر دوبارہ بند ہوجاتی۔ میں جھولتا ہوا نیند کی گرفت میں پوری طرح قید ہو کر سفر کرتا رہا۔ میں وین کی اچانک بریک سے پوری طر ح جاگ گیا۔ وین رُک چکی تھی۔ دروازہ کھول کر سبھی لوگ باہر نکلنے لگے۔ میں بھی وین سے باہر آگیا۔ سامنے ایک خوب صورت جھرنا تھا۔ جہاں لوگوں کی چہل پہل تھی۔ میں نے مُنھ ہاتھ دھویا اور خود کو پوری طرح بیدار کیا۔ فخر ہاتھوں میں جوس کی بوتلیں تھامے آگیا۔ انرجی بحال کرنے کے لیے یہ مقام بالکل درست تھا۔ کئی کاریں اور بسیں پہلے سے وہاں کھڑی تھیں۔ جھرنے کے پانی میں پلاسٹک کی کرسیاں کچھ اس طرح رکھی گئی تھیں کہ آپ کرسی پر بیٹھ کر پانی میں پائوں ڈبو کر آرام کرسکتے تھے۔ میں نے اپنے حصے کی جوس والی بوتل بغل میں دبائی۔ بوٹ اُتارے، جرابیں بوٹوں میں پھنسائیں اور پائنچے اوپر کرکے ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ فخر اور فیاض بھی میرے ساتھ پڑی خالی کرسیوں پر آکر بیٹھ گئے۔ گفتگو کا سلسلہ چل نکلا۔

فطرت سے قریب تر لوگ طویل عمری کی حامل زندگی گزارتے ہیں۔ فخر کا موقف بہت واضح اور حقیقت سے قریب تر تھا۔ دھوپ جسم کو سہلا رہی تھی اور ٹھنڈا پانی پائوں کو راحت پہنچا رہا تھا۔ فیاض نے پوچھا کہ سُنا ہے آپ کہانیاں بھی لکھتے ہیں۔ میں نے دائیں جانب گردن موڑ کر فیاض کی طرف دیکھتے ہوئے کہا’’ہاں میں افسانے لکھتا ہوں‘‘۔ فخر نے مجھے کریدنا شروع کیا کہ آپ موضوعات کہاں سے لاتے ہیں۔ یعنی کیسے افسانہ لکھ لیتے ہیں۔ میں نے جوس کاگھونٹ بھرا اور کسی بڑے ٹی وی چینل پر بیٹھے ادیب کی طرح گردن اونچی کرکے جواب دیا کہ فخر یار، موضوعات خود چل کر میرے پاس آتے ہیں۔ میں جانتا تھا کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں لیکن میں پہلا لکھاری نہیں تھا جو ایسی بات بول رہا تھا بلکہ سبھی لکھاری قریبًا یہی جھوٹ کہتے آئے ہیں۔ پبلک سچ کا سامنا نہیں کرسکتی اس لیے کبھی کبھی ادیبوں کو بھی جھوٹ کا سہارا لینا پڑتاہے۔

فیاض مجھ سے کوئی بات سننا چاہ رہا تھا۔ وہ اصرار کررہا تھا کہ میں کسی موضوع پر کوئی کہانی سنائوں۔ پانی کی ٹھنڈک نے پائوں کے راستے ذہن تک رسائی حاصل کرلی تھی۔ تروتازہ ہوا مجھے تخیل کی جانب لے کر چل نکلی۔ میں نے فخر کی طرف دیکھا وہ بھی یہی چاہتا تھا۔ اُس کی آمادگی ضروری تھی۔ چوں کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ ایک ہی وقت میں میری بات سے ایک شخص تو لطف اُٹھا رہا ہو لیکن دوسرا بوریت محسوس کررہا ہو۔ اس لیے میں نے فخر سے آنکھوں ہی آنکھوں میں پوچھنا مناسب سمجھا۔ بعض اوقات الفاظ کی بجائے آنکھوںکے اشارے اور گردن کے خم زیادہ موثر ثابت ہوتے ہیں۔

میں نے جوس کا ایک اور گھونٹ بھرا۔ گلہ تر کیا اور کرسی پر تھوڑا اوپر ہو کر بات کا آغاز کردیا۔ بات سنانے کا طریقہ میں نے اپنی نانی اماں سے سیکھا تھا۔ رات کو روز وہ مجھے کوئی نہ کوئی کہانی سنایا کرتیں۔ میں شام ہوتے ہی اُن کی چاپلوسی شروع کردیتا۔ سردیوں میں رضائی اوڑھے وہ کوئی قصہ چھیڑ دیتیں۔ میری خواہش ہوتی کہ یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے۔ وہ کہانی ختم نہ کریں لیکن بالآخر کہانی ختم ہو جاتی۔ انھوں نے مجھے کہانیوں کے ذریعے مروجہ مقامی اسلوب دے دیا۔ پھر اس میں تھوڑا ہاتھ میرے داداابو کا بھی ہے۔ اُن کے پاس جب گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے جاتا تو رات کو نماز کے بعد اُن کا حقہ تازہ کرنا نہیں بھولتا تھا۔ یہ سب صرف کہانی کے لیے کرتا تھا۔ نانا جان بھی کبھی میرے دام میں پھنس جاتے تو اُن سے بھی کوئی بات ضرر سُن لیتا۔ مجھے بات سُننے کا چسکا تھا اور یہی چسکا بعد میں مجھے کتابوں تک کھینچ کرلے گیا۔ یوں مجھے کہانیاں پڑھنے کی لت لگ گئی۔

میں نے فخر اور فیاض کو مزید انتظار کروانا مناسب نہ سمجھا اور بات شروع کردی۔ کسی بھی کہانی کو سُننے سے پہلے اُس کا پس منظر جاننا ضروری ہے۔ دونوں سے اثبات میں سر ہلایا۔ میں آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ ہمارا دوست عبدالرحمن جس کی رنگت سفید اور سُرخی مائل تھی۔ جِلد کاٹو تو گویاخون ٹپکنے لگے۔ ایک روز ہم اُس کے گھر گئے تو اُس کے داداجی دھوتی کرتہ پہنے صحن میں نیم کے نیچے چارپائی پر بیٹھے تھے۔ ان کی رنگت عبدالرحمن سے بھی زیادہ سُرخ تھی۔ داڑھی اور سرکے بال مکمل سفید تھے لیکن چہرے سے خون ٹپکتا تھا۔ ہم تین دوست انھیں دیکھ کر چہ مگوئیاں کرنے لگے تو انھوں نے پیار سے اپنے پاس بلالیا۔ ہم مونڈھے کھینچ کر اُن کے پاس بیٹھ گئے۔ عبدالرحمن لسی کے گلاس لے کر آگیا۔ دادا جی جلد ہی ہم سے بے تکلف ہوگئے اور ہنسی مذاق بھی کرنے لگے۔ میرا جسم کمزور تھا۔ مجھے صحت مند ہونے کا شوق چڑھا رہتا تھا۔

میں نے لسی پیتے ہوئے دادا جی سے پوچھا کہ آپ کے خاندان کی صحت کا راز کیا ہے۔ وہ مسکرائے اور ایک مافوق الفطرت کہانی سنا ڈالی۔ ایسی کہانی جس پر یقین کرنا یا نہ کرنا آپ دونوں کے ہاتھ ہے۔ میں نے یہ کہتے ہوئے اپنے دونوں سامعین کی جانب دیکھا۔ اُن کی آنکھوںمیں تجسس کی چنگاریاں واضح دکھائی دے رہی تھیں۔ دادا جی نے بتایا کہ اُن کے پڑدادا مُغل فوج میں افسر تھے۔ ایک روز شکارکے لیے راجہ کے ساتھ جنگل کی طرف گئے۔ شکار کا اصول یہ ہوتا ہے کہ شکار کیے گئے جانورکو ساتھ نہیں لے جایا جاتا۔ اسے توہم پرستی کہہ لیں یا کچھ بھی؛ شکاری حضرات کے مطابق اگر شکار کیا گیا جانور ساتھ لے کر جائیں تو اُس کی گند یعنی بُوسے شکار ہوشیار ہوجاتا ہے اور دام میں نہیں آتا۔

لہٰذا انھوں نے ہرن کو حلال کرکے کھال اُتار کر درخت کے ساتھ اُلٹا لٹکا دیا اور ایک سپاہی کی حفاظتی ڈیوٹی لگادی۔ جب واپس آئے تو سیٹی کی آواز سے چونک گئے۔ وہ بغیر شور کیے جب شکار کے قریب پہنچے تو سامنے کا منظر دیکھ کر اُن کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ چھوٹا سا سفید رنگ کا سانپ سیٹی بجارہا تھا اور گوشت کا ٹکڑا ٹوٹ کر اس کے مُنھ میں گررہا تھا۔ میرے پڑدادا نے سپاہی کو بھگایا تاکہ قریب کی بستی سے کسی جوگی کو لے آئے۔ حفاظتی ڈیوٹی والا سپاہی بے ہوش پڑا تھا۔ سانپ اپنی خوراک کھانے میں ایسا مست تھا کہ اُسے اردگرد کا کچھ ہوش نہ تھا۔

قریب ہی جوگیوں کا ڈیرہ تھا۔ سپاہی ایک بزرگ جوگی کو ساتھ لیے تھوڑی ہی دیر میں آگیا۔ جوگی سانپ کو دیکھ کر اُچھل پڑا۔ اس نے بین نکالی اور سانپ کو کیلنے میں مصروف ہوگیا۔ سانپ مست ہوا اور جوگی نے اُسے پکڑ لیا۔ سفید سانپ کے سر پر تاج بنا ہوا تھا۔ اور پہلو میں دو چھوٹے چھوٹے پر بھی تھے۔ اُس نے چاقو سے اُسے کاٹا۔ جھولے سے پیالہ نکالا اور اُس کا گودا پیالے میں نکال لینے کے بعدہر سپاہی سے پوچھا کہ کیا آپ یہ پینا پسند کریں گے۔ سب نے انکار کردیا۔ وہ انکار سنتے ہی پیالہ مُنھ کو لگا کر گودا پی گیا۔ میرے بزرگ بتایا کرتے تھے کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ جوگی جوان ہوگیا۔

اُس نے جھولا اور پیالہ وہیں پھینکا اور جنگل کی طرف بھاگ گیا۔ اُس کی رفتار کسی تیز رفتار گھوڑے جیسی تھی۔ سبھی لوگ ہکا بکا کھڑے یہ سب دیکھ رہے تھے۔ میرے پڑدادا نے پھینکا ہوا پیالہ اُٹھایا اور اُسے زبان سے چاٹ لیا۔ بس وہ دن اور آج کا دن ہے کہ ہمارے خاندان کے سبھی لوگ صحت مند اور تندرست ہیں۔ دادا جی نے بتایا کہ میری عمر ایک سو سات سال ہے اور مجھے کوئی بیماری نہیں۔ فیاض اور فخر کے مُنھ کھُلے ہوئے تھے۔ وہ حیرانی سے مجھے دیکھ رہے تھے۔ میں نے بات ختم کی اور فخر کو شانے سے ہلا کر سگریٹ طلب کی۔ کچھ باتیں ہماری سوچ اور فہم سے ماورا ہوتی ہیں۔ فیاض نے تبصرہ کیا۔ فخر نے یقین کرنے سے یکسر انکار کردیا اور اسے ایک فرضی کہانی قرار دیا۔ میں نے کہا کہ یقین کرنا اور نہ کرنا آپ کا حق ہے۔ باقی اس میں سچائی کتنی ہے یہ میں بھی نہیں جانتا۔ لیکن عبدالرحمن کے دادا جی کی آنکھوں میں سچائی تھی اور اُن کی سُرخ رنگت اور تندرست جسم گواہ بھی تھے۔ سو مجھے یہ کہانی اب تک نہیں بھولی۔ بلال جھرنے سے پرے کھڑا ہمیں بُلا رہا تھا۔ کوچ کا نقارہ بج چکا تھا۔ سو ہم لوگ حیرت کی دنیا سے حقیقت کی دنیا میں واپس آگئے۔ ہم لوگ اُٹھے۔ پائوں خشک کیے، بوٹ پہنے اور واپس وین میں جا کر اپنی اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئے۔

وین ایک بار پھر چلنے لگی۔ پہاڑ پیچھے ہٹنے لگے۔ جھرنا کہیں دور رہ گیا اور ہم مسلسل موڑ کاٹتی وین میں جھولے لیتے ہوئے سفر کا لطف اُٹھانے لگے۔ سفر نے زندگی کے معنی مجھ پر آشکار کرنے شروع کردیے تھے۔ کئی بھولی بسری یادیں ذہن کے تہہ خانوں سے باہر آگئی تھیں۔ میں نے بہت کچھ حاصل کرلیا تھا مگر وہ مقصد جس کے لیے آغاز کیا تھا اور جسے ساتھ لے کر یہاں تک پہنچا تھا، پہاڑوں تلے دب گیا تھا۔ میری کیفیت اس سے پہلے کہ مجھے اُداسی اور مایوسی کی گھاٹی میں دھکیلتی، وین میں فہیم کی ہنسی گونجنے لگی۔ اس بار فہیم کی تیر اندازی عابد اور شبیر پر ہو رہی تھی۔ چوں کہ وہ صبح سے ڈرائیور کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھے تھے اور فہیم آخری سیٹ پر ہچکولوں کے باعث بے زار ہوگیا تھا اس لیے فہیم نے مزاح کا سہارا لے کر اپنے دل کی بات کہہ ڈالی۔

مزاح ہتھیار بھی ہے اور خوش نما پھولوں کی ڈالی بھی؛ اس کے ذریعے کڑوی اور کسیلی بات بھی کسی کو نگلنے میں آسانی رہتی ہے۔ انسان اپنے دلی جذبات کا اظہار بھی کرلیتا ہے اور دوسرے لوگ بُرا بھی محسوس نہیں کرتے۔ لیکن اس اندازِ گفتگو کے لیے خاص مہارت کا ہونا ضروری ہے۔ میں بھی اپنے دل کی بات اکثر ہنسی مذاق میں کہہ جاتا ہوں۔ فہیم بھی یہی روش اپنائے ہوئے تھا۔ وہ پوچھ رہا تھا کہ کتنی مرتبہ قے کرنے سے مجھے فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے کا موقع مل سکتا۔ سبھی دوست اُس کی گفتگو کا لطف لے رہے تھے۔ میں بھی اس برجستہ جملے پر ہنسے بنا نہ رہ سکا۔ عابد کہاں چُپ بیٹھنے والا تھا۔ اُس نے گردن موڑی اور فوراً جواب دیا کہ فہیم تمھیں فرنٹ پر بیٹھنے کے لیے بے ہوش ہونا پڑے گا۔ اس جملے کے بعد تو وین میں باقاعدہ قہقہے بلند ہونے لگے۔

ہر شخص کا الگ مزاج ہوتا ہے اور اُسی مناسبت سے اُس کا حلقۂِ احباب ہوتا ہے۔ سفر کے دوران میرے دوستوں میں اضافہ ہوگیا تھا۔ میں ایسے لوگوں کے ساتھ تھا سفر سے پہلے جس میں سے کئی لوگوں کے چہروں تک سے شناسا نہیں تھا لیکن اب وہی میرے ہمسفر اور ہمدم بنے ہوئے تھے۔ میں اُن سبھی کے مزاج کے مطابق ڈھلنے لگا تھا۔ میں یہ سب سوچ رہا تھا اور کھڑکی سے باہر پہاڑوں کی اونچائیوں کو دیکھ رہا تھا۔ مجھے ماضی کا عجیب و غریب حلقہ یاد آگیا۔ جو چند روز تک میرے ساتھ جُڑا رہا پھر الگ ہوگیا۔

میں نے گیارہویں کا امتحان دیا تو میری طبیعت خراب رہنے لگی۔ جسم ٹوٹنے لگتا، نڈھال سا رہتا۔ شام کو بخار ہوجاتا اور پھر یہ کیفیت دن کو بھی طاری ہونے لگی۔ بخار نے مجھے دنوں میں ہی ہڈیوں کاپنجر بنادیا۔ میں انگریزی دوائیوں سے الرجک ہوں۔ گولیاں اور کیپسول کھانے سے میری جان جاتی ہے۔ اس لیے میں نے گھریلو ٹوٹکوں اور حکیمانہ پڑیوں سے بخار کو مات دینے کی کوشش کی۔ لیکن بخار تھا کہ سر چڑھ کر ناچنے لگا۔ بالآخر مجھے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ ڈاکٹر کو دکھایا تو خبر ہوئی کہ ٹائیفائیڈ ہے۔ میری حالت قابلِ رحم تھی۔ زبان کا ذائقہ کڑوا ہو چکا تھا۔ میں خاموش رہنے لگا اگر مجھے کوئی بات کرتا تو میںکاٹ کھانے کو دوڑتا۔ خیر دوڑا تو مجھ سے کیا جانا تھا میں تو چلنے سے بھی قاصر تھا۔

میرا مستقل ٹھکانہ اب میری بیٹھک تھی۔ میں صبح دروازہ کھول دیتا اور کھڑکی کھول کر تازہ ہوا کے جھونکوں کے آنے کا انتظار کرنے لگتا۔ دوائیں جن میں مختلف اقسام کی گولیوں کے پتّے اور سیرپ کی شیشیاں شامل تھیں، میری چارپائی کے پاس چھوٹے سے میز پر پڑی مجھے چڑاتی رہتیں۔ کھانے میں صرف دلیہ، ساگودانہ اور چائے رس ہی مل رہے تھے۔ زندگی بے آب و گیاہ صحرا میں جیسے ٹھہر سی گئی تھی۔ کچھ دن ایسے ہی گزر گئے۔ بخار کم ضرور ہو جاتا تھا، پر اُتر نے کا نام تک نہ لیتا تھا۔ میری کیفیت مسلسل تغیر پذیر حالت میں تھی۔ کبھی سردی لگنے لگتی اور جسم پر کپکپی طاری ہو جاتی تو کبھی پسینے آنے لگتے اور میں بستر سے اُٹھ کر پائوں گھسیٹتا ہوا ریگولیٹر کو گھما کر پنکھا تیز کردیتا۔ رات کی نیند بھی واجبی سی رہ گئی تھی۔ دن کے وقت مجھے نقاہت گھیرے رکھتی۔ میں لمحوں کو دانتوں سے کاٹتا ہوا وقت گزارتا چلا جارہا تھا۔

دوست اور رشتہ دار میری تیمارداری سے زیادہ مجھے طرح طرح کے مشورے دینے آتے تھے۔ وہ مجھے قابلِ رحم نظروں سے دیکھتے۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں مجھے سُدھر جانے کا کہتے اور چلے جاتے۔ میں پہلو بدل کر سوچنے لگتا کہ ایسا میرے ساتھ ہی کیوں ہو رہا ہے۔ یہ بیماری میرے ہی گلے کیوں پڑ گئی ہے اور یہ بخار مجھے ہی کیوں چمٹ گیا ہے۔ ایک روز میں بیٹھک میں چارپائی پر تکیے کے سہارے بیٹھا تھا اور اپنی حالت پر غور کر رہا تھا کہ ایک مرد اور عورت دروازے سے اندر داخل ہوئے۔ عورت کا جسم لاغر، رنگت سیاہ اور آنکھیں پیلی تھیں۔ مرد بھی ہڈیوں کا ڈھانچہ تھا۔ چہرے پر سیاہیاں پڑی تھیں اور ہاتھ کمزوری کے باعث کپکپاہٹ کا شکار تھے۔ میرے لیے وہ دونوں اجنبی تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ دونوں میاں بیوی میرے ہی محلے میں رہتے ہیں اور پچھلے کئی سالوں سے انجانی بیماری کا شکار ہیں۔ پھر انھوں نے ڈاکٹروں کی نااہلی، جعلی دوائوں اور مہنگائی کا قصہ چھیڑ دیا۔

جاری ہے۔۔۔۔

پچھلی قسط اس لنک پہ پڑھیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply