ہم ڈرتے کیوں ہیں؟ —— عمار احمد

0

کوئی بھی ایسا نظریہ جس نے انسانی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے ہوں وہ صرف ایک نظریہ نہیں بلکہ کئی قسم کے عقائد، تصورات، خیالات اور اقدار کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اس کو قبول کرنے والا فرد یا معاشرہ اسے اس نظریے کے کل کے ساتھ قبول کرتا ہے۔ وہ نظریہ اور عقیدہ ہی اس فرد اور معاشرے کو اچھے برے کے معنی اور صحیح غلط کا فرق سمجھاتا ہے، اس کی اپنی علیحدہ تہذیب و تمدن، تاریخی شناخت، بیانیے حتی کہ ہیرو اور ولن بھی وہ نظریہ ہی طے کرتا ہے۔ مثلاً دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ایک اسلام پسند (اسلامسٹ) کے لیے دین اسلام ہمیشہ پہلی ترجیح ہوگا، وہ نجی زندگی سے لے کر سیاست، معیشت اور معاشرت تک ہر معاملے میں دین سے راہنمائی حاصل کرے گا۔ ایک لبرل ذہن رکھنے والا شخص اپنے عقیدے کو دین کی بجائے دیگر مذاہب کی طرح صرف ایک مذہب سمجھے گا، اس کے نزدیک مذہب کی حیثیت ثانوی ہوگی، وہ سیاست میں سیکولر نظام اور مذہب کو عبادت گاہوں تک محدود رکھنے کا قائل ہوگا، اور معیشت سے معاشرت تک کسی بھی معاملے میں خود کو مذہب کی طے کردہ حدود و قیود کا پابند نہیں سمجھے گا۔ اسی طرح سوشل ازم محض کسی معاشی فلسفے کا نام نہیں بلکہ اس کی اپنی علیحدہ تاریخی، سیاسی، سماجی اور معاشرتی اخلاقیات ہیں جو سوشلسٹ نظریے کا لازمی حصہ ہیں۔

حالیہ دور تیزی سے ابھرتے نئے نظریات اور تحریکوں کا دور ہے جو پچھلے چند سالوں کے انتہائی مختصر وقت میں ساری دنیا میں تیزی سے پھیلتے چلے گئے۔ معاشرتی اقدار و روایات کو نئے معنی مل رہے ہیں۔ ذمہ داریوں اور حدود کا دائرہ کار بدل رہا ہے۔ نئی نسل اپنے ذہن میں نئے سوال لئے پھر رہی ہے اور ان کا اطمینان بخش جواب طلب کررہی ہے۔ مجموعی طور پر معاشرے میں روایتی رسوم و رواج، عقائد و نظریات اور خیالات کے احتساب اور تنقیدی جائزے کی لہر اٹھ رہی ہے اور پوری دنیا میں ایک نیا گلوبل کلچر پروان چڑھ رہا ہے۔

آج سے چند دہائیوں قبل ہم جنس پرستی کو معاشرتی طور پر معیوب سمجھا جاتا تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے تحریک نے زور پکڑا اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے اکثر ممالک میں ہم جنس پرستی کو جائز قرار دے دیاگیا۔ پہلے ڈراموں، فلموں اور اسٹیج شوز میں کسی کی رنگت، جسامت یا جنس سے متعلق مذاق اڑانا (جگت لگانا) بہت عام بات تھی۔ لیکن اب ایسے رویوں کی شدید حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور انہیں ریسزم، سیکسزم، باڈی شیمنگ اور ٹرانسفوبیا سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ نئی اصطلاحات دراصل لبرل ازم کی ہی دین ہیں جن میں بہت تیزی سے غیر معمولی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے تک فلموں یا ڈراموں میں راہ چلتی لڑکی کو دیکھ کر جملے کسنے والا، چھیڑنے والا سڑک چھاپ غنڈہ فلم کا ہیرو اور مرکزی کردار ہوتا تھا جبکہ آج ایسی حرکتوں کو ہراسمنٹ تصور کیا جاتا ہے، اکثر بات “می ٹو” تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ آج اگر لائیو ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر کوئی سیاستدان، اداکار یا صحافی اپنے ساتھی کولیگ یا کسی اور کو مذاق میں بھی موٹا یا کالا کہہ دے تو اس کا مکمل کیریر تباہ ہوسکتا ہے۔ بے شک یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ فرد کے جذبات اور عزت نفس کا پہلے سے زیادہ خیال رکھا جارہا ہے۔ لیکن انسانی جذبات کے تقدس کی اس نئی تعریف میں مذہب سرے سے شامل ہی نہیں ہے اور مذہبی جذبات مجروح کرنے کو لبرل ازم کی ایک اور دین “آزادی اظہار رائے” سے تحفظ دیا جاتا ہے۔ لیکن بات صرف یہاں تک رہتی تو مناسب تھا، مسئلہ یہ ہے کہ معاملہ یہاں تک رکتا نہیں ہے۔ اگر کسی کو یہ لگتا ہے کہ دنیا تیزی سے اس نظریہ آزادی کو قبول کررہی ہے تو یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ آزادی اظہار رائے کی حدود کہاں شروع اور کہاں ختم ہوتی ہیں یہ لکیریں کھینچنے میں مغرب واضح تضادات کا شکار ہے۔

جیسا کے ابتداء میں عرض کیا گیا کہ نظریات اور تحریکیں ایک مکمل پیکج کی طرح ہوتی ہیں جنہیں آپ ان کے مکمل لوازمات کے ساتھ قبول کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ آپ کے پاس اس پیکج میں موجود اپنی من پسند خصوصیات کو قبول اور ناپسندیدہ چیزوں کو مسترد کرنے کی چوائس نہیں ہوتی۔ لہذا کسی نظریے کو قبول کرنے سے پہلے یا کسی تحریک کو اپنا کندھا فراہم کرتے وقت یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ آپ کا معاشرہ اور خود آپ اس نظریے کی انتہا کو قبول کرنے کے متحمل ہونگے بھی یا نہیں؟ مثال کے طور پرلبرل ازم کے جھنڈے تلے آج کل ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے تحریک زور و شور سے جاری ہے، اس حوالے سے ہمارے یہاں بائیں بازو کے کئی روشن خیال لبرل لوگوں سے لے کر کچھ ‘کنفیوز’ مذہبی لوگوں کا بھی یہ خیال ہے کہ انسان اپنی نجی زندگی میں جو چاہے کرے، جس سے چاہے (جسمانی) تعلق رکھے، ہمیں اس کے بیڈروم کے اندرونی معاملات سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے۔ مرد، مرد کی جانب اور عورت، عورت کی جانب اگر کشش محسوس کرتے ہیں تو یہ اس کے فطری جذبات ہیں، جو قدرت نے اس کے اندر رکھے ہیں، لہذا انہیں روکنا نامناسب اور زیادتی ہے۔ بالکل ٹھیک۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ سلسلہ یہیں رک جائے گا؟ یہ دیکھنے کے لیے مغربی معاشرے میں ان نئی تحریکوں کی ایک ہلکی سی جھلک دیکھنا ہی کافی ہے۔ ہم جنس پرستی کو جائز اور عام رواج کا درجہ دینے کے بعد مغرب میں آج کل ایک نئی تحریک سر اٹھا رہی ہے جس کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ اب محرم رشتوں کے درمیان جنسی تعلق کو بھی جائز قرار دے دیا جائے اور اسے ہرگز معیوب نہ سمجھا جائے۔ اور ان مطالبات کے حق میں بھی بالکل یہی دلیلیں دی جارہی ہیں۔ یہ ہے عظیم انسانی اقدار کی پوشاک اوڑھے مہذب مغرب کا اصل چہرہ۔ اب یہاں ہمارے روشن خیال لبرل طبقے سے سوال کیا جاسکتا ہے کہ آپ کے لبرلزم کا دائرہ کہاں تک ہے؟ آپ کے لبرلزم کی حدود کہاں تک ہیں؟ کیا آپ کی روشن خیالی ایک ایسے معاشرے کی اجازت بھی دے دیگی جس میں باپ بیٹی، ماں بیٹے اور بہن بھائی کے رشتے کا تقدس پامال ہونا جائز سمجھا جائے؟ اسی طرح مغرب میں ایک ایسا طبقہ بھی آہستہ آہستہ سر اٹھا رہا ہے جن کا یہ مطالبہ ہے کہ بالغ مرد یا عورت کا نابالغ لڑکے یا لڑکی کے ساتھ جسمانی تعلق کو جائز قانونی تحفظ دیا جائے۔ خود مغرب کا وسیع اخلاقی دائرہ بھی ان قبیح مطالبات کے لیے تنگ ثابت ہورہا ہے جہاں تمام تر لبرل ازم کے باوجود محرم رشتوں یا نابالغ بچوں کے ساتھ جسمانی تعلق ‘فی الحال’ ایک کریہہ فعل سمجھا جاتا ہے تاہم ان مطالبات کو بھی لبرل ازم کی انتہا قرار دینا ممکن نہیں کیونکہ ابھی لبرل ازم کی کوکھ سے بہت کچھ برآمد ہونا باقی ہے۔

فیمنیزم بھی اسی لبرل ازم کی ایک شاخ ہے جوکہ اب ایک تناور درخت کی صورت اختیار کرچکی ہے اور اس کی جڑیں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ فیمنزم کا مطلب کیا ہے؟ لبرل ازم کی طرح یہ بھی بظاہر ایک خوش نما نظریہ ہے جس کا بنیادی مطالبہ عورتوں کے لیے مردوں کے برابرحقوق اور وہ تمام کام کرنے کی آزادی کا حصول ہے جو مرد کررہے ہیں۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مردوں کی طرح عورتیں بھی گھروں سے نکل کر اعلی تعلیم حاصل کرتیں، ڈاکٹر، انجینئر اور کامیاب بزنس وومن بنتیں، شاعری اور ادب میں بڑا نام پیدا کرتیں، سائنس دان بنتیں، نئی ایجادات کرتیں، آئی ٹی کے شعبے میں کمال کرتیں لیکن چونکہ یہ سب لگ بھگ پہلے ہی ہورہا ہے اور فیمنزم کی تحریک کو بنیادی طور پر عورتوں کے حقوق نہیں بلکہ کمرشل فوائد ہی مقصود ہیں لہذا اس کمرشلائزڈ فیمنزم کے کیا نتائج و ثمرات دیکھنے میں آرہے ہیں اور برابری کہاں کی جارہی ہے؟ ذرا ملاحظہ کریں، لڑکوں کی طرح اب لڑکیاں بھی گالیاں دے رہی ہیں، سگریٹ پی رہی ہیں، مختصر کپڑوں اور آزادانہ جنسی تعلق کو آزادی سمجھ رہی ہیں اور شادی جیسے خوبصورت رشتے سے بدظن ہورہی ہیں جو خاندانی نظام اور مضبوط معاشرے کی بنیاد رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ ماں بننے اور بچے پالنے کو بوجھ سمجھا جارہا ہے، جبکہ ماڈل، ایکٹرس، ڈانسر، ویٹرس اور سیکرٹری بننے کو آزادی، مساوات اور کامیابی سمجھا جارہا ہے۔ یعنی سارے منفی کاموں میں ہی مردوں کی برابری کرنے کو آزادی نسواں کا نام دیا جارہا ہے۔

ایک انڈین فیمنسٹ محترمہ کا بلاگ پڑھنے کا اتفاق ہوا جس میں وہ معاشرے سے یہ شکوہ کرتی نظر آئیں کہ میں اپنی جسمانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنے آفس کولیگ، اپنے کلاس فیلو یا جس شخص سے چاہوں جسمانی تعلق رکھوں یہ معاشرہ مجھے کیوں بدکردار کہتا ہے؟ بااخلاق اور بدکردار کی تشریح یہ معاشرہ کیوں کررہا ہے؟ حال ہی میں معروف سنگراور ایکٹر علی ظفر پر ایک خاتون سنگر میشاء شفیع نے جنسی ہراسمنٹ کا الزام لگایا اور پاکستان میں “می ٹو’ تحریک کا افتتاح کیا۔ ثبوتوں کی عدم دستیابی کے سبب اس معاملے پر کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی، میشاء شفیع اپنے موقف پر قائم ہیں جبکہ عدالت میں علی ظفر کے خلاف ان کا کیس خارج ہوچکا ہے۔ لیکن اس سارے معاملے میں پاکستانی فیمینسٹ نے عجیب کرادر ادا کیا، علی ظفر کے مجرم ثابت ہونے سے قبل ہی ان کے خلاف مظاہرے کیےگئے، ٹوئیٹر پر گالیاں دیں گئیں، حتی کہ ایک اور معروف سنگر مومنہ مستحسن نے یہاں تک کہہ دیا کہ علی ظفر نے میشاء شفیع کو ہراساں کیا ہے یا نہیں لیکن بہرحال ان کو میشاء سے غیر مشروط معافی (انکنڈیشنل اپولوجی) مانگ لینی چاہیے۔ یعنی فیمینزم کی بھی بہرحال اپنی کچھ نہ کچھ (عجیب و غریب ہی صحیح لیکن) اخلاقیات اور اصول موجود ہیں جن کو لازمی ماننے کا مطالبہ ہر مرد و زن سے کیا جاتا ہے اور جو بھی ان سے اختلاف کرنے کی گستاخی کر بیٹھے تو اس کی رائے کا احترام نہیں کیا جاتا بلکہ اسے سوشل بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ یہاں مغرب کا آزادی اظہار رائے کا فلسفہ مانند پڑجاتا ہے کیونکہ یہ لبرل ازم کو مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی راہ میں رکاوٹ بننے کا سبب بنتا ہے۔ اب آپ کسی بڑے پلیٹ فارم پر بیٹھ کر ہم جنس پرستی، فیمینزم، می ٹو موومنٹ یا اس جیسے دیگر لبرل ازم کی شاخوں پر ذرا تنقید اور اختلاف کرکہ دیکھیں، آپ کا مکمل کیریر تباہ ہونے سے کم سزا آپ کو نہیں ملے گی۔

اگر ہم یہ دیکھیں کہ مغرب کے آزاد خیال اور پروگریسو معاشرے میں فیمینزم کس شکل میں موجود ہے اور وہاں اس کے کیا مطالبات ہیں تو ہمارے سامنے یہ تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے کہ عورت ننگ دھڑنگ سڑکوں پر احتجاج کررہی ہے اور مردوں کی طرح سڑک پر ٹاپ لیس گھومنے کی آزادی مانگ رہی ہے۔ وہ اپنے جسم کے اوپری حصے کو جنسی تحریک (سیکشولائزیشن) کا سبب سمجھنے والے مرد کو دقیانوسی قرار دے رہی ہے۔ اور یہ تو صرف ایک مثال ہے، ایسے کئی اور مطالبات فیمینزم کی تحریک کے جھنڈے تلے مغرب میں پیش کیے جارہے ہیں۔ اب یہاں دیسی لبرل طبقے سے پھر سوال کیا جاسکتا ہے کہ جب مشرق میں بھی فیمینزم اس اسٹیج پر پہنچے گی تو کیا تب بھی آپ اس کا ساتھ دینگے؟ یہ جانتے ہوئے کہ یہ بھی فیمینزم کی انتہا نہیں ہے بلکہ اس وقت تک مغرب میں تو فیمینزم اس سے بھی اگلے مرحلے میں داخل ہو چکی ہوگی۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اخلاقی اور مذہبی جذبات کے احترام کے معاملے میں مغرب کا نظریہ آزادی اچانک ایک سو اسی کے زاویے سے گھوم جاتا ہے۔ مشرق سے مغرب تک ہر معاشرے کی اپنی کچھ نہ کچھ طے شدہ اقدار ضرور ہیں جن کا احترام اس معاشرے میں رہنے والے ہر فرد پر لازم ہوتا ہے۔ فرانس میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاج پر یہی لبرلز مسلمانوں کو سمجھا رہے ہوتے ہیں کہ “ایٹ روم ڈو واٹ دی رومنز ڈو” یعنی روم میں وہی کرو جو رومی کرتے ہیں۔ تو کیا مشرق میں یہ اصول صادر نہیں آتا؟ کیا مشرقی روایات کا احترام سب کا فرض نہیں؟ معاشرے کی اکثریت کے اخلاقی اور مذہبی جذبات محترم کیوں نہیں ہیں؟ سیکولر اقدار کا نام نہاد علمبردار فرانس آج کل ڈنکے کی چوٹ پر سرکاری سطح پر نبیﷺ کی شان میں گستاخی کررہا ہے جن سے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کی مذہبی و جذباتی وابستگی ہے۔ خود فرانس کا صدر آزادی اظہار رائے کے نام پر اس قبیح فعل کی حمایت میں ڈٹ کر کھڑا ہوگیا ہے۔ جبکہ ترکی کی جانب سے فرانس کی سخت الفاظ میں مذمت پر فرانس نے اپنا سفیر ترکی سے واپس بلالیا ہے۔ یعنی جدید سیکولر اقدار کے تحت صدر مقدس، سفیر مقدس، حتی کہ آئین اور قانون بھی مقدس اور محترم ہوسکتا ہے لیکن لوگوں کے مذہبی جذبات مقدس نہیں ہوسکتے۔

درحقیقت مغرب کا فلسفہ آزادی ایک دھوکے اور تضاد کے سوا کچھ نہیں ہے جو آزادی اظہار رائے کے پردے میں چھپ کر سیکولر ازم کا پرچار کررہا ہے۔ جس کے تحت معاشرے کی اخلاقی حدود کی تذلیل یا مذہبی جذبات کو مجروح کرنا آزادی جبکہ کسی فرد واحد کے جذبات مجروح کرنا جرم ہے۔ اس وقت آدھی دنیا مذہب کے دائرے سے باہر کھڑی ہے اور ہر طرح کی مذہبی اور اخلاقی حدود سے آزادی مانگ نہیں بلکہ چھین رہی ہے۔ لیکن ان تمام تر تضادات کے باوجود لبرل ازم مغرب کا مکمل طرز زندگی بن چکا ہے اور مغرب اپنے نظریات کو لے کر جارحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ مذہبی عقائد اور ایمان سے دستبرداری یعنی سیکولرازم اب خود مغرب کا عقیدہ بھی ہے اور ایمان بھی۔ جبکہ دوسری جانب مذہبی طبقہ خصوصاً مسلمان اپنے عقیدے اور نظریات کو لے کر مدافعانہ پوزیشن اور معذرت خوانہ رویہ اپنائے نظر آتے ہیں۔ مغرب کے کھوکھلے نظریات کی حقیقت جاننے کے باوجود سوال یہ ہے کہ ہم مسلمان اپنے دین اور عقیدے پر شرمندہ کیوں ہیں؟ ہم اپنے نظریے کو اپنانے اور بیان کرنے سے ڈرتے کیوں ہیں؟ ہم کیوں ‘لبرل مسلمان’ یا ‘سیکولر مسلمان’ جیسی اصطلاحات کے پیچھے چھپنے کی کوشش کررہے ہیں؟ ہم کس سے ڈر رہے ہیں؟ ہم ڈر ہی کیوں رہے ہیں؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply