کرونا کی صورتحال میں انڈسٹریلائزیشن : ایک جائزہ ۔۔۔۔ محمد شاہ جہان اقبال

0

انقلابِ زمانہ کے ساتھ ساتھ دنیاءِ روز گار میں بھی رد و بدل ہوتی رہتی رہی ہیں۔ انسان نے اپنے معاش کے لیے جہاں زمین کے سینے کو چیرا وہاں آسمان کی بلندیوں کو بھی ادھیڑا۔ زراعت سے معاش کا یہ سفر صنعتی انقلاب سے ہوتا ہوا آج جدید ٹیکنالوجی کے کندھوں پہ سوار ہے۔ ہمارا وطن عزیز بھی اس انقلابِ جدید سے متاثر ہوا۔ یہ عظیم سر سبز و شاداب ملک زرعی اعتبار سے تو مالا مال ہے ہی مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کے نو نہال سپوتوں نے جدید دور کی بدلتی ہوئی کروٹوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کی صنعتی ترقی میں بھی اپنا خون پسینہ صرف کیا۔

صنعت کا اٹوٹ رشتہ جہاں سہولت اور آسانی سے طے ہوتا وہاں اس کے گھر معیشت بھی جنم لیتی ہے۔ صنعت کو معاشیات کی رو سے سمجھنا ملکی ترقی کے خانوادے کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔ آئیے اسے سمجھنے کی کوشش کریں تاکہ اس کی ترقی، تنزلی کے بنیادی عوامل کو زیر بحث لا کر ترقی میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ کسی صنعت کی تعریف معاشیات کی رو سے ایک مخصوص جغرافیائی دائرے میں کسی مخصوص زمرے کے مصنوعات کی تیاری کرنے والے سبھی ادارہ جات پر ہوتا ہے۔ جس میں ایک پنسل کے سکے سے لے کر جہاز کے انجن تک کے پرزے شامل ہیں۔

1970ءسے پہلے پاکستان صنعتی لحاظ سے دنیا کا 12واں بڑا ملک تھا، لیکن ورلڈ اکنامک فورم کی ہفتہ رفتہ کے دوارن آنے والی رپورٹ کے مطابق آج پاکستان 107ویں سے 110ویں نمبر پر چلا گیا ہے صنعت کے میدان میں پاکستان کا حشر نشر کرنے میں بہت سے شعوری اور لاشعوری عوامل کار فرما رہے ہیں۔ ایسا کیسے ممکن ہے کہ کوئی آپ سے مہنگا سامان خریدے۔ ۔ ۔ اس موضوع کو زیرِ بحث نہ لایا جانا ایک اور ستم ہے۔ زرعی ٫صنعتی یا پھر ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کے بنیادی ستونوں کو سمجھنا بہت اہم ہو جاتا ہے جب یہ عوامل ملک کے لیے بربادی کا سبب بننے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ مختلف اشیاء کی پیداوار کو، اس وقت تک بین الاقوامی ضرورت کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا جب تک اس کی کوالٹی اور قیمت کو تجارتی منڈی میں دیگر ممالک کے نرخ نامے سے قدرے کم قیمت میں فروخت نہ کیا جائے۔

اب اشیاء کی قیمت کو حدِ اعتدال میں کیونکر رکھا جاسکتا ہے اور کیونکر اس میں گرانی پیدا ہوتی ہے اس کے چند عوامل ہیں جو درجہ ذیل ہیں۔

1۔ خام مال کا میسر نہ آنا
2۔ افرادی قوت کی کمی (لیبر میسر نہ آنا یا مہنگی ملنا)
3۔ ٹیکس، برآمدی ڈیوٹی وغیرہ
4۔ پروڈکٹس کی تیاری میں معاون اشیاء کا مہنگا میسر آنا(بجلی، گیس، کیمیکلز)
5۔ کرپشن
6۔ انڈسٹریز کے لیے سخت قوانین۔

ان زہریلے عوامل کی درست تفہیم انتہائی ضروری ہے کہ ان کو سمجھے بغیر ملک کی ترقی ناممکنات میں سے ہے۔ ہماری بدقسمتی کے لیے کیا یہ کم تھا کہ ہم اپنی زبان میں خود کفیل ہونے سے گریزاں رہے اور اب ہماری کرنسی ڈالر کے مقابلے میں جنسِ کم تر ہے۔ کارو بارِزندگی کا بین الممالک تجارت کا زیادہ انحصار اسی پر ہے۔ اس صورت میں صنعت و تجارت کا بین الاقوامی سطح پہ کیا جانا اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ تاکہ جنسِ نایاب(ڈالر) کو زیادہ سے زیادہ حاصل کیا جا سکے۔ انہی عوامل کو ماضی بعید میں اور ماضی قریب میں ایک ہتھیار کے طور پہ استعمال کیا جاتا رہا ہے ڈاکٹر جمیل جالبی اس کی تصویر کشی کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

”یہی عمل ہندوستان کی صنعتوں سےہوا۔ سترھویں صدی میں ہندستان کے کپڑے کی مانگ انگلستان میں اتنی بڑھی کہ انگلستان کی سوتی اور ریشمی صنعت تباہی کے دہانے پر آگئی۔ 1801 میں برطانیہ نے سوتی کپڑےکی در آمد پر پابندی لگا دی اور ساتھ ہی سوتی کپڑا پہننا اور بیچنا قابل تعزیر جرم قرار دے دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں سوتی کپڑے کی صنعت انگلستان میں تیزی سے فروغ پانے لگی اور جب برطانیہ کا تسلط ہندوستان پر قائم ہوا تو انہوں نے در آمدی ڈیوٹی بڑھا کر مقامی پارچہ بافوں پر قانون کا شکنجہ اتنا سخت کیا ایسے قوانین بنائے کہ یہاں کی صنعت ہی ڈھیر ہوگئی۔ یہاں کے مال پرڈیوٹی لگا دی گئی اور انگلستان کے پارچوں کو بغیر ڈیوٹی کے آنے کی اجازت دے دی “(تاریخِ ادب اردو جلد سوم)

اس وقت بھی ہماری صنعت و حرفت سے کچھ اس طرح کا ہی ہاتھ ہوا ہے۔ برآمدات میں اضافہ ہوتے ہوتے در آمدات کا پہیہ پیچھے کی طرف دوڑنا شروع ہو گیا ہے۔ جس کی وجوہات اوپر نکات کی صورت میں بیان کیے گئے ہیں۔ ہمارے انڈسٹری زونز تیزی سے تباہی کا شکار ہیں۔ سرمایہ کار بے اعتمادی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں ملکی قوانین اور سیاستدانوں کی مان مانیوں سے نالہ سرمایہ دار اپنے سرمایے کو دیگر ممالک میں لگا رہے ہیں۔ ایک کلرک سے لے کر افسر شاہی اور افسر شاہی سے لے کر حکامِ بالا تک سبھی مٗٹھی گول گرم کی کھیل میں مصروف ہیں۔

اس وقت ہم دورِ کرونا کے عہدِ ثانی سے گزر رہے ہیں دنیا کرونا کی لپیٹ میں ہے بین الاقوامی سطح پہ سرد جنگوں کے محاذ جن میں اشیاء پہ پابندیوں، زائد ٹکسزز اور ڈیوٹیز لگا کر بھی ممالک ایک دوسرے کو ڈی گریڈ کرنے کی کوشش میں لگے ہیں۔ پاکستان کے پاس اس وقت اپنی صنعت و حرفت کے بل بوتے پہ اپنی معیشت کو مضبوط کرنے کا سنہری موقع ہے۔ حکومت وقت کا انڈسٹری خصوصا چھوٹی اور درمیانی صنعت کے فروغ کے لیے اقدامات نہ صرف افراد کے لیے روز گار کے مواقع فراہم کرے گا بلکہ معیشت کے لیے بھی مبارک ثابت ہو گا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بالا مذکورہ عوامل کا جائزہ لے کر ان کا فوری اور مستقل بنیادوں پہ پائیدار حل کیا جائے۔ اس وقت پاکستان کے پاس سنہری موقع ہے جس کو بہتر انداز میں استعمال کر کے ہم اپنے پائوں پر کھڑےہو سکتے ہیں۔ کرونا کی لپیٹ جہاں دیگر ممالک میں اژدھا کا روپ دھارے ہوئے ہے وہاں ہمارے لیے ممکن ہے قدرت کی طرف سے رستہ فراہم کر دے اور یہ کرونلائزیشن ہمارے لیے انڈسٹریلائزیشن کا مژدہ ثابت ہو۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply