عمران خان کی ذرا سی حمایت —– حسن غزالی

0

“The difference between a politician and a statesman is that a politician thinks about the next election while the statesmen think about the next generation.”
James Freeman Clarke

کئی مرتبہ دل چاہا کہ اُن غیر جانب دار لوگوں کی خدمت میں ایک واقعہ پیش کروں جو نواز شریف اور آصف زرداری کی دولت کی بھوک بھول گئے ہیں، اور ان کی زبانیں عمران خان کے لیے کڑوی ہوگئی ہیں۔ (یہ واقعہ اسٹیفن آر کووے نے اپنی کتاب First Things First میں لکھا ہے۔) یہ ایک معصوم خواہش تھی مگر ہر بار میں نے اسے دبا دیا، کیونکہ اب میں پہلے کی طرح اپنی عقل لٹاتا نہیں ہوں بلکہ احتیاط سے خرچ کرتا ہوں۔ پھر یہ ڈر بھی تھا کہ کسی جمہوریت پرست نے پوچھ لیا، “کیا تم ٹاک شوز دیکھتے ہو؟” تو کیا جواب دوں گا؟

کیونکہ میں تو خبریں بھی نہیں دیکھتا۔ البتہ فیس بک اور یو ٹیوب کی آمریت قائم ہے: یہ کچھ خبریں یا واقعات جبراً بتادیتے ہیں۔ یہ سب تحفّظات اپنی جگہ ہیں لیکن کچھ دنوں سے بہت دل چاہ رہا ہے، اور علّامہ اقبال نے کہا ہے کہ کبھی کبھی عقل کو دل کی بات مان لینی چاہیے:
اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
اس لیے میں نے ٹھان لی ہے، اور اب میں نہ صرف وہ واقعہ سناؤں گا بلکہ ایک لطیفہ بھی سناؤں گا۔ اب جو بھی ہو!

اسٹیفن آر کووے نے First things First کے پہلے باب میں یہ واقعہ لکھا ہے:

ایک بڑی یونی ورسٹی کے کالج آف بزنس میں ایک شخص کا ڈین کی حیثیت سے تقرر ہوا۔ اس نے محسوس کیا کہ کالج کو فنڈز کی بڑی ضرورت ہے۔ اس شخص میں فنڈز جمع کرنے کی بڑی اہلیت تھی۔ اس نے رقم حاصل کرنے کے لیے بھاگ دوڑ شروع کردی۔ کالج کے معمول کے مسائل اس کے ماتحت دیکھنے لگے، اور وہ خود بہت کم توجہ دیتا تھا۔ اس کے خلاف شکایتیں ہونے لگیں اور شکایتوں کا ڈھیر لگ گیا۔ اوپر والوں سے بھی اس کی پرزور شکایت کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک اہل شخص ہے، اسے وقت دیں۔
کچھ عرصے کے بعد فنڈز آنا شروع ہوئے اور اس کے خلاف شکایتیں دور ہونے ہونے لگیں۔ پھر اس کی کوششوں کو سراہا گیا، اور اس کی بھرپور تائید کی گئی۔

افسوس! ہم عمران خان کو وقت دینے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں، اس کی مشکلات سمجھ ہی نہیں رہے ہیں، اور یہ دیکھ ہی نہیں رہے ہیں کہ وہ مفاد پرستوں کے گھیرے میں ہے، اور اس پر اپنوں کی طرف سے بھی دباؤ ہے، لیکن یہ بھی کھلی حقیقت ہے کہ عمران خان نے پھر بھی اپنی ہی جماعت کے کئی ارکان کے خلاف کارروائی کی ہے۔

اب ایک لطیفہ سنیے:

ایک شخص نے ایک قتل کردیا۔ اس کے گھر والوں نے اس کے لیے ایک اچھے وکیل کی تلاش شروع کی۔ ان کا دو کم فیس والے وکلا نواز اور آصف سے بھی واسطہ پڑا، لیکن انھوں نے عمران نام کا ایک وکیل کیا جس کی بڑی اچھّی ساکھ تھی۔ اس نے بڑی بھاری فیس لی اور جان لڑا دی، مگر وہ مقدمہ ہار گیا، اور مجرم کو پھانسی ہوگئی۔
اس کے کچھ عرصے کے بعد، مجرم کے والد کی ایک پارٹی میں اتفاق سے نواز وکیل اور آصف وکیل سے ملاقات ہوئی۔ سلام دعا کے بعد انھوں نے کیس کے بارے میں پوچھا۔ والد نے بڑے دکھ سے بتایا کہ عمران وکیل کیس ہار گیا اور اس کے بیٹے کو پھانسی ہوگئی۔ نواز اور آصف نے افسوس کا اظہار کرنے کے بعد پوچھا، “آپ نے کتنی فیس دی تھی؟”
“پچاس لاکھ۔”
“پچاس لاکھ فیس دی! پھر بھی عمران آپ کے بیٹے کو نہیں بچا سکا اور اسے پھانسی ہوگئی۔
آپ ہم میں سے کسی کو بھی یہ کیس دیتے۔ ہم آپ کا یہ کام دس بارہ لاکھ میں کرادیتے۔”

مجرم کے باپ نے نواز یا آصف کو کیس اس لیے نہیں دیا تھا کہ وہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کے بیٹے کے بچنے کا جو امکان ہے وہ بھی نہ رہے اور اسے پکّی پھانسی ہو جائے۔ اگر نواز یا آصف ہوتے تو پھانسی والا کام سو فیصد ہوتا اور بڑی جلدی ہوتا، لیکن اچھی ساکھ والے عمران وکیل کی صورت میں کیس جیتنے کی کچھ امید تو تھی۔ اب عمران کیس ہار گیا تھا تو مجرم کے والد کو یہ پچھتاوا تو نہیں تھا کہ اس نے اپنے بیٹے کو بچانے کی پوری پوری کوشش نہیں کی۔

نواز شریف اور آصف زرداری قومی مفاد سے اتنے ہی لاپروا ہیں جیسے وہ دونوں وکیل مجرم کو بچانے سے۔ ان دونوں قوم کے ہمدردوں کی وکیلوں کی طرح اصل دل چسپی پیسہ کھینچنے سے ہے۔

حبیب بینک یاد کیجیے جسے پیسہ بنانےکے لیے کوڑیوں کے دام بیچ دیا گیا۔ یہ کوئی واقعہ یا حادثہ نہیں تھا بلکہ ایک سانحہ تھا۔ حبیب بینک تحریکِ پاکستان کا ایک سرگرم کارکن رہا تھا، اور پاکستان بننے کے بعد سرمایہ دارانہ دنیا میں حبیب بینک نے پاکستان کا تعارف کرایا تھا۔ کراچی میں حبیب بینک کی بلندی کی طرف بڑھتی ہوئی عمارت پاکستانی عوام کو سر اٹھانے کا کہتی تھی۔ اس پتھر کی عمارت سے پاکستانیوں کو اپنائیت تھی اور یہ پاکستان کی دنیا میں ایک شناخت بھی تھی۔ یہ سب اب مٹّی ہوگیا ہے اور اس مٹّی میں کچھ دلوں کے ٹکڑے اور کافی خواب بھی دفن ہیں۔ اب بھی چند لوگ ایسے ضرور ہوں گے جتنی کی آنکھوں میں اس عمارت کو دیکھ کر نمی اتر آتی ہوگی۔

عمران خان سے بیزار اور نواز یا آصف کو پھر سے قبول کرنے کے لیے تیار لوگوں کا حال اس مسافر کی طرح ہے جس کا گدھا ایک مزار کے فقیروں نے بیچ دیا دیا تھا۔

مولانائے روم رحمتہ اللہ علیہ مثنوی شریف میں حکایت بیان فرماتے ہیں کہ ایک مسافر ایک مزار پر رات گزارنے کے لیے رک گیا۔ وہاں جعلی درویشوں نے، جنھیں کئی دن سے باقاعدہ کھانا نہیں ملا تھا، اسے اپنا مہمان بنا لیا۔ انھوں نے مسافر کا گدھا چپکے سے بیچ دیا اور ایک شان دار دعوت اڑائی اس میں مسافر کی بھی مہمان کے طور پر بڑی آؤبھگت کی۔
جب صبح مسافر کو پتا چلا کہ ان فقیروں نے اس کا گدھا بیچ دیا ہے تو جو کیفیت اس کی ہوئی وہی کیفیت عمران کے سیاسی وابستگیوں سے پاک مخالفین کی ہوگی۔

ایک تجربہ تو قوم کو ہر ماہ ہوتا ہے جب اسے بجلی کا بل ملتا یے۔ بےنظیر بھٹو نے بہت ہی مہنگے داموں بجلی خریدنے کا غیرملکی کمپنیوں سے معاہدہ کیا تھا۔ بجلی کے منہ عوام کا خون اس معاہدے سے ہی لگا ہے____ اسی نے بجلی کو ڈائن بنایا ہے۔ اس سے پہلے 500 یونٹ کا بل بھی نیوٹرل ہوتا تھا۔ عوام کو چاہیے کہ جب وہ واپڈا کے لیے دعا کرے تو بےنظیر بھٹو کے لیے بھی دعا کِیا کرے۔

عوام، تعلیم یافتہ طبقہ اور تجربےکار لوگ اپنی آنکھیں بند رکھیں یا اپنی آنکھیں کھلی رکھیں نواز یا آصف میں سے اگر کوئی حکمراں ہوگا تو عوام کا جنازہ ضرور نکلے گا اور کچھ ملک تو بک ہی گیا ہے کچھ اور بھی بک جائے گا۔
بلّی دودھ کی رکھوالی کر ہی نہیں سکتی!

اب اگر عمران بھی ناکام ہوگیا تو کم از کم یہ پچھتاوا تو نہیں ہوگا کہ ملک فروشوں اور ووٹ کے قاتلوں کو بار بار آزمانے کی بجائے ایک فائٹر کیپٹن، ایک سچے سپاہی، عمران خان کو کیوں نہیں آزمایا!

عملی دنیا کتنی بےرحم ہوتی ہے اور خوابوں پر کیسی ضربیں لگاتی ہے اس کا اندازہ 1987 کے ورلڈ کپ سے لگایا جا سکتا ہے۔ پاکستانی ٹیم فیورٹ ٹیموں میں سے تھی، اور سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے کے بعد یہ بڑی حد تک یقینی نظر آرہا تھا کہ پاکستان ورلڈ کپ جیت جائے گا۔ ورلڈ کپ جیتنا عمران خان کا خواب تھا، اور یہ خواب پورا کرنے کا یہ آخری موقع تھا، (عمران خان نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا تھا، اعلان کے مطابق ریٹائرڈ بھی ہوگیا تھا مگر صدر ضیاء کی درخواست پر ریٹائرمنٹ واپس لےلی تھی) لیکن پاکستان سیمی فائنل میں ہار گیا، اور عمران خان کا خواب کرچی کرچی ہوگیا۔

اب دیانت داری سے ان سوالات کے جواب خود سے ہوچھیے:

1 کیا پاکستان کے حالات ٹھیک کرنا اور اسے اپنے پیروں پر کھڑا کرنا______ورلڈ کپ جیتنے سے زیادہ آسان ہے؟
2 کیا پاکستانی انتظامیہ سے کام لینا____کرکٹ ٹیم کو لڑانے سے زیادہ آسان ہے؟
3 کیا پاکستانی سیاست دانوں کی چال بازیوں سے نمٹنا____ مخالف ٹیموں کی حکمت عملی کا سامنا کرنے سے زیادہ آسان ہے؟

چند ماہ پہلے، سینیر صحافیوں کی عمران خان سے ایک گفتگو کا اہتمام کیا گیا۔ اس میں تُند و تیز سوالات پوچھے گئے۔ محمد مالک کا رویّہ خاصا جارحانہ رہا۔ انھوں نے کئی مرتبہ عمران خان کی بات کاٹی، اور اس کے لیے بات کرنا کچھ مشکل کر دیا۔ عمران خان نے نرمی اور عاجزی سے اس طرح کے الفاظ کہے، “مالک، مالک؛ ایک منٹ؛ ۔۔۔ دو مرتبہ تو ہاتھ بھی جوڑے۔
یہ وہ عمران خان ہے جس کی شہرت ایک سخت گیر کیپٹن کی تھی، اور اس کے ٹیڑھے پن کے کئی قصّے مشہور تھے۔
آج یہ وزیرِاعظم ہے مگر عاجزی کررہا ہے______ہاتھ جوڑ رہا ہے۔
افسوس! خود کو باشعور سمجھنے والے بہت سے لوگوں کو بھی یہ احساس نہیں ہے کہ عمران خان نے اس قوم کی خاطر خود کو کتنا بدلا ہے۔

عمران خان نے کہا تھا کہ جب PTI کی حکومت ہوگی تو وہ قرضوں کے لیے بھیک نہیں مانگیں گے۔
وزیرِاعظم بننے کے بعد اس پر یہ سفّاک حقیقت واضح ہوئی کہ قرضوں سے کسی بھی صورت بچا نہیں جا سکتا، قرضے تو لینے ہی پڑیں گے تو اس نے اِسے انا کا مسئلہ نہیں بنایا۔ اس نے نواز شریف کی طرح قومی ضرورت کے نام پر ملک بیچنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اپنی انا بیچی۔
وہ شخص جو سیاست میں نہیں آتا صرف کمنٹری کرتا اور دنیا میں مختلف موضوعات پر تقریریں کرتا تو اپنے لیے اربوں روپے کما سکتا تھا______اس نے بھیک مانگی،
کیا اپنے لیے؟
نہیں، اپنی قوم کے لیے۔
پھر بھی “اس” سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیں۔

وزارتِ عظمی کا حلف اٹھاتے ہوئے عمران خان سے خاتم النیینﷺ کا تلفظ صحیح ادا نہیں ہوا، اسے دو تین بار تلفظ بتایا گیا اس نے کوشش کی مگر خاتم النبیین ﷺ اس سے صحیح ادا نہیں ہوسکا۔ اس پر اسے بڑی ملامت کی گئی، (کی بھی جانی چاہیے) لیکن یہ حقیقت ہے کہ ناموسِ رسالتﷺ کے لیے سرکاری سطح پر اقدامات عمران خان نے ہی کیے۔
کیا اس کو مانا گیا؟

مخالفین کے دلوں کا بخل اب تک نظر آتا ہے۔ عمران خان کے ایمانی اقدام کی تعریف کے لیے بہت سے مومنین کی زبان نہیں کھل سکی بلکہ سِل گئی۔

نواز شریف، بےنظیر بھٹو اور آصف زرداری نے ناموسِ رسالتﷺ کے لیے سرکاری سطح پر کبھی کچھ نہیں کیا۔

ذرا فرض کیجیے، اگر مولانا فضل الرحمٰن وزیرِاعظم ہوتے تو کیا وہ ناموسِ رسالتﷺ کے لیے سرکاری سطح پر عمران خان کی طرح کوشش کرتے؟

اپنے دل سے پوچھیے، کیا آپ کا دل یہ مانتا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن گستاخانہ خاکوں کے خلاف ٹھوس اقدام کرتے؟
سوچیے، اور دیر تک سوچیے۔ کیا آپ کی عقل گواہی دیتی ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن ایسی ایمانی غیرت سے بھرپور تقریر کرتے جیسی عمران خان نے جنرل اسمبلی میں کی؟

بھارتی وزیرِاعظم مودی نے پاکستانی سرحد پر فوج کا میلہ لگا دیا اور پاکستان کو سبق سکھانے کی بات کی۔ مودی کا خیال تھا کہ پاکستانی حکومت مصالحت کے لیے گِڑگِڑائے گی۔ مودی نے وزیرِاعظم کے مقام سےایک تھانےدار کی سطح پر گر کر بات کی تھی اور وہی ذہنیت دکھائی تھی جو ایک تھانےدار کی ہوتی ہے۔
عمران خان نے اپنے منصب کی مناسبت سے بڑی ہی معقول بات کی۔ اس نے پہلے مودی کے الزام کا کھوکھلا پن ثابت کیا پھر مودی کی دھمکی کا دو ٹوک جواب دیا۔ عمران خان نے کہا،
“اگر انڈیا نے پاکستان پر حملہ کیا تو
پاکستان جوابی حملے کا سوچے گا نہیں
بلکہ
جوابی حملہ کرے گا۔
پاکستان کے پاس کوئی اور دوسرا راستہ نہیں ہوگا
جوابی حملے کے بغیر۔”

پھر ایسا ہی ہوا!
انڈیا نے ہوائی حملہ کیا، پاکستان نے جوابی کارروائی کی، اور ایک بھارتی طیارہ گرایا اور اس کے پائلٹ کو گرفتار کرلیا۔
یہ پاکستان کی غیرت اور طاقت کا ایک بھرپور اظہار تھا۔ پاکستانی قوم میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ عوام نے پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگائے اور عمران خان کے جرات مندانہ فیصلے کو سراہا۔
کافی لوگ ایسے تھے جنھوں نےخاموشی اختیار کی؛ (بلاشبہ یہ گونگے لوگ پاکستانی تھے) بےشمار لوگوں نے صرف پاک فوج کی تعریف کی اور اسے صرف پاک فوج کا کارنامہ قرار دیا۔

ایک سادہ سا سوال ہے،
“کیا نوازشریف ایسا دوٹوک موقف اپناتے؟”
اس کا جواب ہے “نہیں”، نواز شریف ایسا جرات مندانہ موقف اپنا ہی نہیں سکتے تھے۔ انھوں نے کھانے پینے اور مال بنانے میں زندگی گزاری ہے، اور انھیں شہزادوں کی طرح رہنا پسند ہے۔ ان کی ناز و نعم کی عادی مگر پھر بھی فریادی زندگی (مجھے کیوں نکالا؟) بتاتی ہے کہ ان میں کوئی اصولی موقف اپنانے کی اہلیت ہی نہیں ہے۔ یہ مودی جیسے مجسّمہء شر سے کیسے ٹکرا سکتے تھے!
سر سے خون نکل جاتا تو ۔۔۔

یہاں یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ آصف زرداری بھی انڈیا کے خلاف یہ جرات مندانہ اقدام نہیں کر سکتے تھے:
ان کا مزاج، ان کی عادتیں، اور ان کا طرزِ زندگی دیکھ لیجیے۔ یہ سب گواہی دیتے ہیں کہ آصف زرداری سپاہی نہیں بن سکتے____ یہ ان کی فطرت میں ہی نہیں ہے۔
رہا بلاول، یہ تو اب تک گفتار کا غازی بھی نہیں بن سکا ہے۔

عمران خان پر بےپناہ تنقید کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس نے کئی غیر عقلی اور غیر عملی دعوے کیے تھے۔ اس کی خوش فہمی کی وجہ یہ تھی کہ اسے اپنی دیانت اور جذبے پر بڑا ناز تھا، لیکن اسے پتا نہیں تھا کہ پاکستانی سیاست میں اصول پرستی کو نچوایا بھی جاتا ہے اور اخلاقیات کے ساتھ زنا بھی کیا جاتا ہے۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس پر پاکستانی سیاست کی اصلیت کھلتی جارہی ہے، اور اب وہ عملی باتیں زیادہ کرتا ہے۔ کاش! لوگ عمران خان کی حقیقت پسندی دیکھیں اور اس کی ماضی کی خوش فہمیوں پر اسے لعن طعن کرنا چھوڑ دیں۔
خوش فہمی کی اور بھی مثالیں ملتی ہیں۔ کچھ بیرونِ ملک میں مقیم اپنے شعبوں میں بہت کامیاب لوگ ملک و قوم کی خدمت کے جذبے سے سرشار ایک بڑی ہی کامیاب زندگی چھوڑ کر پاکستان آئے۔ انھیں بھی بڑی خوش فہمیاں تھیں____ جو خاک میں مل گئیں۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جو ہمارے قومی ہیرو ہیں، جب وطن کی خدمت کے لیے آئے تو انھیں حکومتی سطح پر تو اہمیت دی گئی مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ادارے کے سربراہ نے انھیں سائیڈ میں رکھا۔
بےنظیر بھٹو کے پہلے دور میں زرداری کے حوالے سے ایک واقعہ بہت مشہور ہوا تھا: ایک شخص اپنے وطن کی خدمت کے لیے آیا ہی تھا کہ اسے لوٹ لیا گیا۔

عمران خان کے غلط اقدامات پر تنقید ضرور کی جانی چاہیے، اور اس کے ریاستِ مدینہ کے دعوے کی سچائی کو پرکھا جاتا رہنا چاہیے، لیکن اس کے اچھے اقدامات کی تائید بھی کی جانی چاہیے۔ عمران خان کے اچھے اقدامات کی طرف سے آنکھیں بند کرلینا یقیناً پاکستان کی تعمیرِنو سے غافل ہونا ہے۔
سیاست میں تنقید ہوتی ہے اور خاردار تنقید ہوتی ہے۔عمران خان میں تنقیدی تیروں کے لیے سینہ سِپر رہنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔ اسے پتا ہونا چاہیے کہ پاکستانی سیاست میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نالی میں ڈبو کر پتھر مارتے ہیں۔ جس طرح ایک پولیس آفیسر کو دشمنوں کے حملوں کے لیے اور ایک فوجی کو جان دینے کے لیے تیار ہونا چاہیے اسی طرح ایک کھرے سیاست دان کو غلیظ تنقید کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے!

یہاں پگڑی اُچھلتی ہے اسے مےخانہ کہتے ہیں

بےشمار لوگوں کو یاد ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ایک دوسرے کی کتنی شدّت سے مخالفت کی اور ایک دوسرے پر کتنے گھناؤنے الزامات لگائے۔ مخالفت کی شِدت کی ایک چھوٹی سی مثال پیش کرتا ہوں: نواز شریف کے ہہلے دورِ حکومت میں آصف زرداری ایک عرصے تک جیل میں رہے اور اتنے بیزار ہوگئے کہ ایک مرتبہ انھوں نے کہا، “جن چھوڑے، بھوت چھوڑے مگر میں نواز شریف کو نہیں چھوڑوں گا۔”

اب وہی آصف زرداری سب بھول گئے ہیں اور ایک عرصے سے نوازشریف سے اچھے تعلقات قائم کیے ہوئے ہیں۔
آصف زرداری کی اپنے مفاد کے لیے یہ کشادہ دلی دیکھ کر، کیا عمران خان کے مخالفین کو ملک و قوم کے مفاد کے لیے عمران خان کے لیے اپنے دل کشادہ نہیں کرنے چاہییں؟

بےشمار لوگوں کی مخالفت کے باوجود، عمران خان کو کرروڑں پاکستانیوں نے عزّت دی ہے، عزت دینے کی ایک نہیں کئی وجوہات ہیں، مگر تاریخ میں اسے عزت ایک ہی وجہ سے ملے گی۔ اس نے ریاستِ مدینہ کا خواب دکھایا ہے اس خواب سے اسے آخری سانس تک وفا کرنی ہوگی۔

کی محمدﷺ سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

موسم اب کافی ٹھنڈا ہو گیا ہے، اس لیے میری یہ خوش فہمی جائز ہے کہ کچھ لوگ ٹھنڈے دل سے اس پر ضرور غور کریں گے، اور ان پر یہ بات واضح ہوگی کہ عمران خان کے اچھے اقدامات کی حمایت کرنا گناہ نہیں ہے۔

نوٹ: یہ جو کچھ میں نے لکھا ہے اپنی ذاتی عقل سے لکھا ہے، اور اس لیے لکھا ہے کہ میرا کافی دنوں سے دل چاہ رہا تھا۔
جب آصف زرداری کا دل چاہے تو وہ اعلیٰ نسل کے گھوڑے پال سکتے ہیں، اور نواز شریف کا دل چاہے تو وہ اپنے لیے محل بنوا سکتے ہیں____ کسی نثرنگار کا اگر دل چاہے تو کیا وہ ایک سیاسی تحریر نہیں لکھ سکتا!

آصف زرداری اور نواز شریف نے تو اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے قومی خزانہ لوٹا، لیکن میں نے یہ تحریر لکھنے کی خواہش پر حلال عقل خرچ کی ہے۔ یہ عقل میں نے زندگی کے میٹھے، کڑوے، اور بہت کڑوے تجربات سے کمائی ہے______ کسی کی عقل میں کرپشن نہیں کی ہے!

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply