راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 21) —- یاسر رضا آصف

0

شبیر کا لہجہ درشت اور تلخ تھا۔ وہ کسی بات پر جعفر سے بحث کر رہا تھا۔ میں خیالوں کی دنیا سے واپس آیا تو وین میں عجیب ہڑبونگ مچی ہوئی تھی۔ انھوں نے آتے ہی جعفر سے واش روم کا پوچھا تھا جس کا جواب انھیں ’’پاس ہی ہے‘‘ ملا تھا۔ سو وہ پاس ہونا جیسے جیسے دور ہوتا گیا۔ اُن کی گفتگو میں تلخی بڑھتی گئی۔ اسلام نے سابقہ روایت کو قائم رکھتے ہوئے بیچ بچائو کروایا اور یوں بحث ایک پیٹرول پمپ پر جاکر اپنے اختتام کو پہنچی۔

تھکاوٹ بھی کیسی عجیب کیفیت ہے جو انسان کے جسم کے ساتھ دماغ پر بھی برابر اثر انداز ہوتی ہے۔ پھر انسان اپنی آواز کو اونچا اور اونچا کرتے ہوئے اپنی کیفیت پر قابو پانے کی کوشش میں جُت جاتا ہے۔ میرے لیے یہ سب کہیں سے بھی نیا نہیں تھا۔ مجھے روزانہ کی بنیاد پر سفر سے واسطہ پڑتا ہے۔ میں گھر آنے سے پہلے خود کو شانت کرنے کے لیے اچھی باتوں کو سوچتا ہوں۔ ایسی باتیں جو ذہن کو شگفتگی کی طرف لے جائیں۔ ایسے واقعات جو سوچ کو مثبت رو پر مسلسل سفر کرنے میں مدد دیں۔ میں وین کی کھڑکی سے انھیں پانی پیتے اور مُنھ ہاتھ دھوتے دیکھ رہا تھا۔ اب اُن کے چہروں کی تازگی جیسے لوٹ آئی تھی۔

تھوڑے سے وقفے کے بعد وین دوبارہ بل کھاتی سڑک پر رواں دواں تھی۔ سمیر نے مجھے بتانا شروع کیا کہ کیسے امداد خوبانی کے پیڑ پر چڑھا اور کیسے اس نے مہارت کے ساتھ خوبانیوں کو کپڑے میں باندھا۔ چشمے کے پانی سے انھیں دھونے کے بعد کیسے ہم نے مزے لے لے کر قدرتی پھل کی دعوت اڑائی وغیرہ وغیرہ۔ میں سمیر کی ہر بات بڑے انہماک سے سن رہا تھا۔ چہرے کے تاثرات ہاتھوں کی حرکت اور آنکھوں کی چمک کو دیکھتے ہوئے ہر فقرے کی تصویر ذہن میں بناتے ہوئے سن رہا تھا۔

جب سمیر اپنی داستان ختم کرچکا تو سیٹ پر سر رکھ کر نڈھال سا ہوگیا۔ میں نے بھی آنکھیں بند کیں اور خود کو پُرسکون کرنے کی کوشش میں لگ گیا۔ میں اردگرد موجود دنیا سے بے خبر اپنی خیالی دنیا میں جا کھڑا ہوا۔ جو کسی ونڈر لینڈ سے کم نہیں تھی۔ گاڑی نیچے ہی نیچے اُترتے ہوئے اور مختلف موڑ مڑتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی۔ میں کبھی کبھار آنکھیں کھول کر باہر کا منظر دیکھ لیتا اور پھر چند لمحوں بعد آنکھیں بند کیے سیٹ کی پشت پر سر رکھے لیٹ جاتا۔ میں کسی ایسے سحر زدہ منظر کی تلاش میں تھا جو مجھے اپنی گرفت میں لے سکے۔ بلاشبہ پہاڑوں کی بناوٹ اور خوب صورتی کم نہیں تھی لیکن وہ منظر انھیں پہاڑوں کی اوٹ میں کہیں کھو گیا تھا جسے میری آنکھیں کھوج نکالنے کے لیے بے تاب تھیں۔ یہ سلسلہ یونہی جاری رہا مگر وہ دلفریب منظر کہیں دکھائی نہ دیا۔ میں نے تہیہ کیا کہ اب میں تب تک آنکھیں بند رکھو ں گا جب تک کہ گاڑی کہیں رُک نہ جائے۔ یوں سارا رستہ گاڑی موڑ کاٹتی اور بل کھاتی اندھیری سُرنگ میں سفر کرتی رہی۔ میں نے اندھیرے سے دوستی کرلی تھی۔

گاڑی کافی دیر بعد ایک مقام پر رُک گئی۔ گیٹ کھُلنے کی آواز پر میں نے سیٹ سے سر اوپر اٹھایا اور آنکھیں کھول دیں۔ سبھی نیچے اُترنے لگے۔ میں نے قدم بڑھائے اور لوہے کے ڈبے سے باہر نکل آیا۔ پہلے جو گاڑی مجھے ہمسفر محسوس ہوتی تھی اب وہی قید خانہ لگنے لگی تھی۔ ایسا چلتا پھرتا قید خانہ جس میں ذرا بھر بھی تازگی اور چاشنی نہیں تھی۔ فرق صرف اتنا تھا کہ میں پابہ زنجیر نہیں تھا۔ اردگرد اور بھی گاڑیاں کھڑی تھیں۔ ایک عمارت کے لان میں کرسیاں بھی رکھی تھیں۔ جگہ جگہ خشک میوہ جات کی ریڑھیاں لگی تھیں۔ ایک ٹین کا کھوکھا بھی تھا۔ جس میں پٹھان اپنی تلوار جیسی تیز دھار مونچھوں کے ساتھ سگریٹ اور نسوار سجائے منتظر کھڑا تھا۔ کچھ فاصلے پر منرل واٹر کی چھوٹی بڑی بوتلوں کو لکڑی کے تختے پر قرینے سے رکھے نوجوان لڑکا موجود تھا۔ لوگ ہر کسی دکان نما سٹال سے کچھ نہ کچھ خریدنے میں مصروف تھے۔ جیسے وہ پہاڑوں کو دیکھنے نہیں بلکہ یہ سب خریدنے ہی گھر سے نکلے ہوں۔

میری توجہ دور پار پہاڑی سلسلے پر جم گئی۔ یہ راکا پوشی کا ویو پوائنٹ تھا۔ سامنے راکا پوشی کا پہاڑ اپنی سفید قبا پہنے مسکرارہا تھا۔ میں نے سگریٹ سلگائی اور بڑی توجہ کے ساتھ برف سے ڈھکے سفید پہاڑ کو دیکھنے لگا۔ دنیا و مافیہا سے بے خبر میں اُسے تکے چلا جارہا تھا۔ میں نے اعتراف کیا ’’مجھے راکا پوشی سے محبت ہو گئی ہے ‘‘ میں نے خود کلامی کی ’’یوں لگتا ہے کسی سادھو نے برف کی چادر اوڑھ رکھی ہے۔ چپ چاپ اپنے دھیان میں گم ہے۔ ابھی چند ساعتوں بعد خاموشی ٹوٹے گی۔ راکا پوشی اپنی مدھر مگر گھمبیر آواز میں مجھ سے ہمکلام ہوگا۔ قدرت کے رازوں پر گفتگو کرے گا۔ گمشدہ انسانی تاریخ کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرے گا اور ایک مرتبہ پھر دھیان میں چلا جائے گا‘‘۔ میں یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ میرے کندھے پر ایک نئے منظر نے ہاتھ رکھ دیا۔ میں نے دائیں جانب گردن گھمائی اور خاکستری پہاڑ اپنی تمام تر وجاہت کے ساتھ موجود تھے۔ راکا پوشی جیسے اُن کا سردار ہو اور وہ سبھی سردار کے حکم کے منتظر ہوں۔ میرے وجود میں ٹھنڈک پھیلنے لگی۔ ایسی ٹھنڈک جو جیسے صحرا میں طویل سفر کے بعد نخلستان کے دیکھنے پر ملتی ہے۔ وہی ٹھنڈک، وہی طمانیت جو کسی شاہکار کی تکمیل پر فنکار کے حصے آتی ہے۔ میرا وجود روئی کے گالے میں تبدیل ہوگیا۔ مسکان ہونٹوں سے نکلتی ہوئی پورے چہرے پر پھیل گئی۔ میری آنکھوں میں چمک پیدا ہو گئی۔ میں اپنے آپ سے ملنے کی منزل کے بہت قریب پہنچ گیا۔

میں سگریٹ سلگائے راکا پوشی کو دیکھ رہا تھا اور مسکرا رہا تھا۔ یہ مسکراہٹ نہ تو طنزیہ تھی اور نہ ہی مصنوعی تھی بلکہ یہ مسکراہٹ اطمینان بھری تھی اور قدرتی بھی تھی۔ مجھے برف میں چھُپا سفید بوڑھا صاف نظر آرہا تھا۔ لارڈ آف رنگز والا ولائتی بوڑھا نہیں بلکہ مقامی سفید لباس والا روایتی بوڑھا؛ جس کے چہرے پر برف کے کٹائوسے جھریاں پڑگئیں تھیں۔ سفید آنکھوں میں گھلتی برف کی نمی تھی۔ یہ نمی کسی دُکھ کے باعث نہیں بلکہ یہ تو زرخیز سوچ کا نم تھا اور سفید ہونٹوں پر بھید بھری مسکان تھی۔ پیشانی پر لکیریں تھیں جو گزرے سمے کی راہ گزر لگ رہی تھیں۔ میں نے سگریٹ کا لمبا کش کھینچا، دھویں کو اپنے سینے میں بھرا اور سانس کو روک لیا۔ یہ ایک طرح کا پاگل پن تھا۔ جہاں آکسیجن پہلے کم تھی وہاں پھیپھڑوں کے ساتھ اس طرح کھلواڑ کرنا خطرناک بھی ہو سکتا تھا۔ ان چند لمحوں میں یعنی سانس اندر لے جانے اور اُسے باہر پھینک دینے کے وقفے میں جو کچھ ہوا، میری سوچ سے بھی آگے کی بات تھی۔

پہلے جو راکا پوشی چوکڑی مارے بیٹھاتھا۔ ایک دم سے اُس نے اپنا برف بھرا دامن جھاڑا اور اُٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ یہ عجیب منظر تھا کہ آدھا دھڑ سفید بادلوں کے نیچے تھا اور آدھا دھڑ بادلوں سے اوپر تھا۔ بادلوں کے چھوٹے بڑے ٹکڑوں میں فاصلہ تھا۔ یوں منظر اور بھی خواب ناک حیثیت اختیار کر گیا تھا۔ وہ بولا تو لہجے کی گھمبیرتا پوری وادی میں گونج گئی۔ ’’میں انسان کو غاروں کے زمانے سے جانتا ہوں۔ پہلے انسان چھپ چھپا کر رہا پھر بستیاں بسانے لگا اور وہ بستیاں بڑی ہوتی گئیں۔ یعنی ایک نقطے سے شروع ہونے والی کائنات پھیلتی چلی گئی۔ فصیلوں اور بڑے دروازوں والے شہر وجود میں آگئے۔ میں نے کنفیوشس اور بُدّھا کو گیان بانٹتے بھی دیکھا۔ میں نے چنگیز اور ہلاکو کی تلوار چلتے بھی دیکھی۔ میں نے امن بھی دیکھا۔ میں نے جنگیں بھی دیکھیں۔ زلزلے اور طوفان دیکھے۔ زمین کو حصوں اور بخروں میں بٹتے دیکھا۔ انسان لوبھی اور لالچی ہے۔ اقتدار اور حاکمیت کی ہوس لیے ہے۔ نفرت کی آگ میں جلنے والا ہے لیکن ہاں جنھوں نے اس آگ کو بجھایا خود کو سمجھا آج بھی امر ہیں۔ میں کیا بتائوں میں نے انسان کو کس کس روپ میں دیکھا ہے۔ انسان کو ایسی حالتوں میں بھی دیکھا کہ اگر زبان پر لائوں تو دھرتی میں زلزلے سے زیادہ کپکپاہٹ ہو ‘‘۔

راکا پوشی نے اپنی کھونڈی اپنے سامنے زمین پر لٹائی اور دوبارہ اپنے آسن پر بیٹھ گیا۔ برف کی شال کو اپنے گرد لپیٹنے کے بعد اور دوبارہ سے دھیان میں جانے کے لیے آنکھیں بند کرنے سے پہلے ایک جملہ کہا جو مجھے اندر سے کھا گیا۔ ’’افسوس، اس زمین پر انسان جیسا عقل مند جاندار بھی آج تک یہ راز نہ جان سکا کہ اُس کی بقا کس عمل میں ہے‘‘۔ میں نے اس وقت تک سانس کو روکے رکھا جب تک چہرہ سُرخ نہیں ہو گیا۔ اب راکا پوشی دوبارہ ایک پتھریلا برف سے ڈھکا ہوا پہاڑ تھا۔ جس کے اردگرد کئی اور پہاڑ تھے۔ میرا ضبط جواب دے گیا میں نے سانس کو سینے سے خارج کردیا۔

میں راکا پوشی کے تنویم زدہ سحر سے باہر آیا تو عابد مجھے اپنی جانب آتا دکھائی دیا۔ اس نے مسکرا کر مجھے انرجی بحال کرنے کا مشورہ دیا۔ مرنڈا کی بوتل سے ڈسپوزل کپ میں مالٹے رنگ کا محلول انڈیلتے ہوئے عابد مسکرا رہا تھا اور کہہ رہا تھا ’’یاسر بھائی، موج کرو، ہلکے ہلکے سپ لے کر پیو اور ماحول بنائو‘‘۔ میں نے مسکرا کا شکریہ ادا کیا اور مرنڈا کی چسکی لی۔ عابد بوتل اور فوم کے گلاسوں کے ساتھ دوسرے دوستوں کی تواضع میں مصروف ہو گیا۔ عابد کی شخصیت، ہمدردی اور عاجزی کی طرف مائل ہے۔ کسی کو مدد چاہیے ہو، مالی معاونت کی حاجت ہو، مشورہ درکار ہو، دوستوں میں سے کوئی اور موجود ہو نہ ہو آپ کو عابد وہاں ضرور ملے گا۔ میں احباب کے ساتھ گھلتا ملتا ضرور ہوں مگر ہر وقت انا کو ساتھ لیے پھرتا ہوں۔ اس کے برعکس عابد کے سنگ ہمیشہ میں نے عاجزی ہی دیکھی ہے۔ اس وقت بھی وہ مرنڈا لیے اپنے دوستوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر اُن کی تواضع میں مصروف تھا اور چہرے پر اطمینان بخش مسکراہٹ لیے تھا۔ میں مرنڈا کی چسکیاں لیتے ہوئے اپنے بچپن میں پہنچ چکا تھا۔

میں صحن میں پلاسٹک کی گیند کو دیوار پر مار کر اُس کی واپسی کا انتظار کیے بغیر ہی بلّا گھما رہا تھا۔ کبھی گیند بلّے سے ٹکرا جاتی اور کبھی چکما دے کر بلّے کے پاس سے گزر جاتی۔ سفید شلوار قمیض میں ملبوس معتبر سا دکھنے والا شخص کمرے میں میری نانی اماں کے سامنے کرسی پر بیٹھا تھا۔ وہ سر جھکائے اپنے گھریلو معاملات بتا رہا تھا۔ میں کھُلے دروازے اور سلاخوں والی کھڑکی سے اُسے دیکھ سکتا تھا اور دیکھ بھی رہا تھا۔ وہ رُکتا، ہلکا سامسکراتا اور سر جھکا کر دوبارہ اپنی بات شروع کردیتا۔ اُس کی آنکھوں میں بڑوں کے احترام کے لیے شکر گزاری کی نمی صاف نظر آرہی تھی۔ میں گیند کو صحن میں لگی پھولوں کی کیاریوں میں تلاش کررہا تھا کہ امی جان نے دوپٹے کے پلو سے پانچ روپے کا نوٹ جو مڑا ہوا تھا کھول کر میری مٹھی میں تھمایا اور مجھے بوتل لانے کے لیے بھیج دیا۔ کریانے کی دُکان ہمارے گھر کے قریب ہی تھی۔ میں نوٹ مٹھی میں بھینچے دُکان کی طرف سرپٹ دوڑنے لگا۔ میں نے نوٹ کو سختی سے مُٹھی میں دبایا ہوا تھا جیسے وہ کوئی جادوئی پرندہ ہو اور میرے ذرہ برابر ڈھیل دینے پر پھُر کرکے اُڑجانے والا ہو۔

میں بھاگ نہیں رہا تھا بلکہ اُڑتاجا رہا تھا۔ پائوں زمین کو چند ثانیے کے لیے چھوتے اور میں پھر سے چھلانگ لگا کر ہوا میں ہوتا یا شاید مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میں ہوا میں اُڑ رہا ہوں۔ میں دُکان پر پہنچا اور اپنی پسندکے مطابق مرنڈا کی بوتل خریدی۔ کانچ کی خالی بوتل واپس دینے کا وعدہ کرکے گھر کی جانب دوڑا۔ دُکان دار نے ڈھکن کھول کر پائپ لگا دیا تھا اس لیے آہستہ آہستہ دوڑتے ہوئے واپسی کی راہ لی۔ میں کانچ کی ٹھنڈک کو محسوس کررہا تھا۔ میری پسندیدہ بوتل میرے ہاتھ میں تھی۔ کھُلے ڈھکن اور پائپ کے ساتھ؛ سو کچھ دیر تو میں نے جیسے تیسے صبر کیا لیکن بار بار مالٹے رنگ کے محلول کے اچھال سے میرا دل مچل گیا اور مجھ سے رہا نہیں گیا۔

میں نے اپنے آپ کو تسلی دی اور سوچا کہ ایک آدھ گھونٹ بھر لینے سے بوتل کی مقدار کم نہیں ہو گی یوں ہلکی سے چوری کی کسی کو خبر بھی نہیں ہو گی اور میں اپنے پسندیدہ مشروب کا مزہ بھی چکھ لوں گا۔ میں نے اپنی رفتار آہستہ کی، پائپ کو ہونٹوں میں دبایا اور سانس پیچھے کی طرف کھینچنے لگا۔ ایک گھونٹ نے طلب کو مزید بڑھا دیا اور میں بھول گیا کہ بوتل مہمان کے لیے ہے جو میری نانی اماں کے سامنے کُرسی پر بیٹھا ہے اور جس کی سائیکل گلی میں دیوار کے سائے میں کھڑی ہے۔

میں گھونٹ پر گھونٹ بھرتا گیا اور مستی میں ٹہلتے ہوئے گھر کی جانب چلتا گیا۔ گھر کے قریب پہنچنے پر جب سائیکل پر میری نظر پڑی تو مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ ساری مستی ہوا ہوگئی۔ میں جیسے ہوش میں آگیا تھا۔ مجھے علم ہو گیا کہ اس غلطی کی سزا ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ مارکٹائی تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ تو انجانے خوف نے میرے پائوں برف کردیے۔ میں نے بوتل کی طرف دیکھا جو قریبًا آدھی رہ گئی تھی۔ میں نے اس مسئلے کا فوری حل تلاش کرنے کی ترکیب سوچی۔ ہمارے ہمسایوں نے چھتوں کی لپائی کے لیے مٹی کی ٹرالیاں منگوائی تھیں۔ جس کے چھوٹے بڑے ڈھیر گھر کے سامنے مسجد کی دیوار کے ساتھ لگے ہوئے تھے۔ مجھے حل مل گیا۔ میں نے جلدی سے مٹی اُٹھا کر بوتل کے اردگرد لگائی اور کچھ اپنے چہرے اور قمیض پر بھی مَل لی۔ میں روہانسی صورت کے ساتھ سائیکل کے پاس سے گزرتا ہوا گھر میں داخل ہو گیا۔

لکڑی کی دہلیز پار کرتے ہوئے میں نے اپنی کہانی پر دوبارہ غور کیا اور اطمینان کے بعد صحن میں بیٹھی امی جان کے پاس پہنچ گیا۔ میں نے والدہ کو گھڑی گھڑائی کہانی رو رو کر سنائی کہ کس طرح میرا پائوں پھسلا اور میں مٹی کے ڈھیر پر جا گرا۔ بوتل میرے ہاتھ سے کیسے چھوٹ کر ڈھیر کے اوپر گر گئی لیکن یہ میری ہوشیاری تھی کہ میں نے اُسے فوراً اُٹھا لیا اور آدھی بوتل بچانے میں کامیاب رہا۔ ماں آخر ماں ہوتی ہے۔ وہ ایک دم سے فکر مند ہوگئیں اور پریشانی میں میرے جسم کو ٹٹول کر دیکھنے لگیں کہ کہیں چوٹ تو نہیں لگی۔ انھوں نے مجھے احتیاط سے چلنے اور دیکھ بھال کر قدم رکھنے کے متعلق چند نصیحتیں کیں۔ پھر انھوں نے بچی ہوئی بوتل کو چھوٹے سے دیدہ زیب کانچ کے گلا س میں انڈیلا اور میری غلطی ہمیشہ کے لیے چھُپ گئی۔ میں بچپن کی معصومانہ زندگی پر مسکراتا رہا میں نے غور کیا کہ کپ کب کا خالی ہو چکا ہے۔

میں نے چند قدم اُٹھائے اور ڈسپوزل کپ کو لکڑی کے بڑے سے ڈبے میں پھینک دیا۔ ڈبے پر جلی حروف میں ’’یوزمی‘‘ لکھا تھا میں یہ سوچ کر مسکرا دیا کہ اگر اس کا اردو ترجمہ لکھا جائے تو تین الفاظ درکار ہوں گے ’’مجھے استعمال کریں‘‘۔ جن زبانوں نے اختصار کی راہ اختیار کی وہ آج ہر جگہ بولی جاتی ہیں۔ لکڑی کے ڈبے پر جلی حروف میں ’’یوزمی‘‘ لکھا ہونے کے باوجود اردگرد خالی ریپر، ڈسپوزیبل گلاس اور رنگ بہ رنگے شاپر بکھرے ہوئے تھے۔ مجھے افسوس ہوا کہ جہاں جہاں ہم لوگ پہنچتے ہیں اپنی نشانی چھوڑنا نہیں بھولتے۔ شکر ہے کہ ہماری قوم چاند پر نہیں پہنچ گئی ورنہ شاعروں کی شاعری آلودہ ہو جاتی۔

میں نے اس کا ذکر فہیم سے کیا جو سگریٹ کے کش اس قدر تیزی سے لے رہا تھا اور یوں تواتر سے دھواں چھوڑ رہا تھا گویا اُس کا مُنھ نہ ہو کارخانے کی چمنی ہو۔ اُس نے سگریٹ والے ہاتھ کو لہرایا جیسے فضا میں غیبی کینوس پر برش پھیر رہا ہو اور یوں گویا ہوا ’’یاسر بھائی، کئی ملکوں میں کوڑا کرکٹ سڑک پر یوں پھینکنے پر بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے اور سزا الگ سے ملتی ہے‘‘۔ میں نے تائید میں سر ہلایا تو فہیم کے اندر کا پروفیسر جاگ گیا۔ اُس نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’’اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہاں اس ناپسندیدہ عمل کو جرم کا درجہ دیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں نہ تو سکول میں اس کی مشق کروائی جاتی ہے اور نہ ہی تفریحی مقامات پر اس کے متعلق بتایا جاتا ہے۔ دوسری طرف جرمانے اور سزا کا تصور بھی نہیں‘‘۔ میں نے سر کو مثبت انداز میں جنبش دی۔ میں حال سے چھلانگ لگا کر مستقبل میں پہنچ گیا۔ اگر یہی حال رہا تو مستقبل میں جھیلیں دریا اور ساحلی علاقے تک کوڑے سے اٹے ملیں گے۔ مجھے ٹرین میں بیٹھے لڑکے کا فقرہ یاد آگیا۔ اُس وقت تو میں بھی خوب ہنسا تھا لیکن اب وہ فقرہ یاد کرکے سوچ میں پڑ جاتا ہوں۔

ٹرین کراچی کی جانب چھک چھک کرتی جارہی تھی۔ میں برتھ پر لیٹا ہوا تھا۔ برتھ کے بالکل نیچے عینک لگائے تیکھے نین نقشوں والا لڑکا بیٹھا تھا۔ لڑکے کی سامنے والی سیٹ پر پانچ سات سال کی بچی اپنی والدہ سے لگاتار ایک ہی سوال پوچھ رہی تھی کہ ممّا کراچی کب آئے گا، آخر کب آئے گا کراچی؛ اور ماں اُسے یہ کہہ کر خاموش کروا دیتی کہ آجائے گا بیٹا، آپ بس چپ بیٹھو۔ بچی تھوڑی دیر چُپ رہتی پھر وہی سوال کسی اور طریقے سے دُہرا دیتی۔ میں یہ سب بغور دیکھ رہا تھا۔ میں چھوٹی بچی کے چہرے پر جھنجھلاہٹ صاف دیکھ سکتا تھا۔ کھڑکی کا شیشہ اوپر تھا اور وہ بے چینی میں بار بار کھڑکی کی سلاخوں کو پکڑ کر باہر جھانک رہی تھی۔ سلاخوں میں فاصلہ کم تھا اس لیے مُنھ باہر نکالے بغیر آنکھوں کو اِدھر اُدھر گھما کر کراچی کے آثار تلاش کر رہی تھی۔

میرے والے برتھ کے نیچے لڑکا کہنیاں اپنی رانوں پر ٹکائے، آگے کو جھُک کر رسالے کی ورق گردانی میں مصروف تھا۔ لڑکے کے سر کا اوپری حصہ اور رسالہ دونوں ہی مجھے صاف دکھائی دے رہے تھے۔ اُس بچی نے جب ایک مرتبہ اور پوچھا تو نوجوان لڑکے نے رسالہ اپنے چہرے سے ہٹایا اور سنجیدہ انداز میں کہا کہ بیٹا جہاں سے کوڑے کے پہاڑ نظر آنا شروع ہو جائیں تو سمجھنا کراچی آگیا۔ اُس کی ماں سمیت سبھی لوگ ہنسنے لگے۔ میں خود بھی بہت ہنسا مگر اب فکر مند ہوں کہ اگر یہی حالت رہی تو عین ممکن ہے یہاں اسی جگہ پتھریلے اور برفیلے پہاڑوں کے ساتھ کوڑے کے پہاڑ بھی دیکھنے کو ملیں۔ اور پھر وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان پہاڑوں کے ساتھ ساتھ کوڑے کرکٹ کے پہاڑ بھی دکھائی دینے لگے۔ ٹوٹی کاریں، ادھڑی بسیں، بے کار فرنیچر، پرانے شاپر اور خراب کھلونے مجھے ہر طرف نظر آنے لگے۔ مجھے اس خیال سے ہی جھر جھری آگئی کہ یہ سب اپنے ساتھ کس قدر بدبو لے کر آئے گا۔ فہیم میرے قریب نہیں تھا ورنہ میں فہیم سے سرگوشی میں پوچھتا کہ بھئی کیا تمھیں کوڑے کے ڈھیر پہاڑوں جتنے بلند دکھائی دے رہے ہیں۔ اگر وہ ہاں کہہ دیتا تو مسئلہ حل ہو جاتا۔ یعنی یہ کوئی بیماری نہ رہتی لیکن اگر وہ نفی میں سر ہلا دیتا تو سمجھو میں مارا جاتا۔ سو میں نے یہ بات اپنی ذات تک ہی محدود رکھنے کا فیصلہ کیا۔

سمیر نے روانگی کا اشارہ کیا اور سبھی دوست ایک ایک کرکے وین میں بیٹھنے لگے۔ میں بھی بھاری قدموں سے چلتا ہوا وین کے قریب پہنچ گیا۔ میں نے اپنی گردن موڑی اور الواداعی نظر راکا پوشی پر ڈالی۔ وہ برف کے بے جان برفیلے پہاڑ کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ میرے ہونٹوں پر طنزیہ مسکان ابھری اور میں وین میں سوار ہو گیا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

پچھلی قسط اس لنک پہ پڑھیں

اگلی قسط اس لنک پہ پڑھیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply