کیا مذہب اور سائنس میں کوئی تنازعہ و تصادم ہے؟ ۔۔۔۔ وحید مراد

0

مذہب، مخصوص عقائد پر مشتمل ایک معاشرتی و ثقافتی نظام ہوتا ہے جس میں متعین طرز عمل اور طریق عمل، عبادات، عوامی خدمات، اخلاق، ورلڈ ویو، نصوص، مقدس مقامات، پیش گوئیاں، تنظیمیں اور اجتماعات شامل ہوتے ہیں جو انسان کو الوہیاتی و روحانی عناصر سے مربوط کرتے ہیں اور ان عناصرکا مقصد زندگی، کائنات اور تخلیق کائنات کو ایک معنی دینا ہوتا ہے۔ تاہم مختلف مذہبی علماء میں اس بات پر اتفاق نہیں ہے کہ مذہب کی تشکیل میں کونسے عناصر لازمی طور پر شامل ہونے چاہیں۔ مختلف مذاہب میں یہ عناصر کم یا زیادہ ہو سکتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا کی 84 فیصد آبادی مختلف مذاہب سے وابستہ ہے اوردیگر لوگ وہ ہیں جو مختلف قسم کے عقائد و نظریات تورکھتے ہیں لیکن روائتی مذاہب سے منسلک نہیں ہیں۔

قدیم روم میں مذہب کا لفظ خدائوں کے ساتھ رشتے کے تناظر میں اور اس حوالے سے حدود، احتیاط، اضطراب، شرمندگی، خوف، پابندی، تعظیم جیسے جذبات کیلئے استعمال ہوتا تھا۔ قرون وسطیٰ میں مذہب کا مطلب اخلاق، اخلاقی ذمہ داری، حق کا احساس، اخلاقی فرض سمجھا جاتا تھا اور تمام غیر الہامی مذاہب مثلاً ہندوازم، بدھ مت، تائو ازم، کنیفوشزم وغیرہ میں عبادت کو افراد کی انفرادی خصوصیات، اخلاقیات اورخوبیوں کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا۔ ان مذاہب کو آئیڈیالوجی، علمی طریقہ کار یا ماخذ علم کے طور پر نہیں سمجھا جاتا تھا اس لئے ان مذاہب کے قدیم معاشروں میں مذہب کا وہ تصور موجود نہیں تھا جسے سترھویں صدی میں جدید مذہب (بطور نظریہ، عمل، وسیلہ علم) کی شکل دی گئی۔ انیسویں صدی میں میکس مولر Max Muller نے نوٹ کیا کہ عبرانی زبان میں مذہب کیلئے کوئی مساوی لفظ نہیں ہے اور قدیم یہودی ثقافت میں قومی یانسلی شناخت، کے درمیان کوئی واضح امتیاز نہیں پایا جاتا۔ سنسکرت زبان کے لفظ ‘دھرم’ کا ترجمہ آج کے دور میں مذہب کر دیا جاتا ہے لیکن قدیم زمانے میں اسکا مطلب ‘فرض’ لیا جاتا تھا۔ ہندوستان کی دیگر ثقافتوں میں بھی تقویٰ اورتوبہ جیسے تصورات تو موجود تھے لیکن مذہب کیلئے کوئی لفظ نہیں تھا۔ قدیم جاپان میں بھی مذہب کیلئے کوئی لفظ موجود نہیں تھا۔ 1853 میں جب امریکہ نے جاپان کو ایک معاہدے پر دستخط کیلئے مجبور کیا جس میں کئی دیگر شقوں کے ساتھ ‘مذہبی آزادی’ کا مطالبہ کیا گیا تھا اور یوں جاپان اس مغربی تصور مذہب سے روشناس ہوا۔

الہامی مذاہب میں دین کی اصطلاح موجود تھی جو اطاعت، بندگی، جزا، حساب و احتساب، عقائد، احکامات، قانون، شریعت، علم اخلاق، اور نظام زندگی (انفرادی، اجتماعی و بین الاقوامی) کا احاطہ کرتی ہے لیکن یہودی و عیسائی احبار و رحبان و کلیسا نے دین الہی میں خودساختہ عقائد شامل کرکےاسکی اصل شکل کو بگاڑ کر اسے سادہ مذہب بنا دیا تھا۔ اس میں سوائے چند مذہبی عقائد، اور انفرادی اخلاق کے کوئی اصول و شعار باقی نہیں رہا تھا اس لئے حکمت الہی کے تحت اسلام کو آخری دین کے طور پر بھیجا گیا اور اسکی کتاب قرآن مجید کو ہمیشہ کیلئے محفوظ کر دیا گیا۔ اب اسلام میں جس طرح شریعت، فقہ اورقانون کا تصور موجود ہے دیگر مذاہب میں اس طرح کے تصورات موجود نہیں ہیں۔

1200 عیسوی کے لگ بھگ جب مذہب کا لفظ انگریزی زبان میں داخل ہوا تو اسکا مطلب ‘راہبانہ زندگی کا پابند’ یا خانقاہی احکامات لیا جاتا تھا۔ مذہب کا وہ تصور جسے دنیا کی زندگی سے الگ سمجھا جاتا ہے وہ 1500 عیسوی سے قبل استعمال نہیں ہوتا تھا۔ 1500 عیسوی کے بعد مذہب کو چرچ کے ڈومین اور شہری حکام کے ڈومین میں فرق کرنے کیلئے استعمال کیا گیا۔ انگریزی زبان میں، مذہب کا جدیدتصور جس میں تجرید کے طور پر عقائد اور نظریات کے الگ الگ سیٹ شامل ہیں حالیہ ایجاد ہے۔ اس کا استعمال پروٹسٹنٹ اصلاحات اور عالمگیریت کے دوران سترھویں صدی عیسوی میں شروع ہوا۔ آجکل مذہب کے مطالعہ میں علمی، معاشرتی موضوعات سمیت تقابل ادیان اور مذہب کے بارے میں فلسفیانہ نظریات شامل ہیں۔ مذہب کے بارے میں مختلف فلسفیانہ نظریات مذہب کی ابتداء، اور کام کی مختلف وضاحتیں پیش کرتے ہیں جس میں مذہبی وجود اور اعتقاد کی انٹالوجیکل بنیادیں شامل ہیں۔

‘مذہب’ کی طرح ‘سائنس’ کی اصطلاح سے بھی جو مفاہیم آج کے دور میں مراد لئے جاتے ہیں، زمانہ قدیم اور قرون وسطیٰ میں وہ مفاہیم مراد نہیں لئے جاتے تھے۔ قرون وسطیٰ میں سائنس کو بھی مذہب کی طرح افراد کی انفرادی خصوصیات اورخوبیوں کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا۔ اسی طرح آج جو علم سائنس کے نام سے جانا جاتا ہے اسکو پہلے “فطری فلسفہ” کہا جاتا تھا، اسکو سائنس کا نام انیسویں صدی میں دیا گیا۔ سائنسی انقلاب سے قبل بیشتر سائنسی و تکنیکی ایجادات، روائتی مذہبی معاشروں نے ہی کی تھیں۔ عیسائی، یہودی اور مسلمان معاشروں کے اسکالرز نے سائنسی طریقہ کار پر انفرادی حیثیت سے کام کئے۔

سائنس اور مذہب کے درمیان ہم آہنگی، تنازعات، پیچیدگی، باہمی انحصار وغیرہ جیسے تصورات و اصطلاحات اور انکے مطالعات کا آغاز پروٹسٹنٹ اصلاحات، کالونیلائزیشن، گلوبلائزیشن کے دور میں ہوا۔ انیسویں صدی میں سائنس کے تصور نے اپنی جدید شکل پائی جس کے ساتھ ساتھ دیگر تکنیکی شعبہ جات اورعلوم مثلاً حیاتیات، ماہرین حیاتیات، طبعیات، ماہرین طبیعات سامنے آئے۔ اسی طرح ہر شعبے سے متعلق کئی ادارے اور گروہ بھی وجود میں آئے اور معاشرے میں انکے اطلاق سے ثقافت اور زبان میں بھی انکے تصورات اور اثرات دکھائی دینے لگے۔ سائنسدان کی اصطلاح پہلی بار 1834 میں ایک مذہبی ماہر ولیم وہیل William Whewell نے ان لوگوں کیلئے استعمال کی جو فطرت کے بارے میں علم اور تفہیم کے خواہاں تھے۔ اس سے قبل ارسطو سے لیکر انیسویں صدی تک اس موضوع کیلئے ‘فطری فلسفہ’ کی اصطلاح ہی استعمال ہوتی تھی۔ 1687 میں نیوٹن کی شائع ہونے والی کتاب کا نام بھی “فطری فلسفہ کے ریاضیاتی اصول” تھا۔ حتیٰ کہ 1867 میں Lord Kelvin and Peter Guthrie Tait کے ماڈرن فزکس پر مقالے کا نام بھی ‘ٹریٹائز آن نیچرل فلاسفی’ ہی تھا۔

سترھویں صدی کے اوائل میں گلیلیو کے معاملات، جو سائنسی انقلاب اور روشن خیالی کے دور کا آغاز تھے، کو بنیاد بنا کر جان ولیم ڈریپر John William Draper جیسے اسکالرز نے پوری انسانیت کی تاریخ کو ہی ‘مذہب اور سائنس کے علوم اورمنہاج کا ٹکرائو’ قرار دے دیا۔ کچھ معاصر سائنسدان مثلاً رچرڈ ڈاکنز Richard Dawkins، لارنس کرائوس Lawrence Krauss، پیٹر اٹکنز Peter Atkins اور ڈولنڈ پریتھورو Donald Prothero اس تھیسز کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں لیکن عصر حاضر کے، سائنس کے بیشتر مورخین, مذہب اور سائنس کے مابین کسی تاریخی تنازعے کی تصدیق نہیں کرتے۔ بیشتر سائنسدان، فلاسفہ اور مذہبی ماہرین جیسے فرانسسکو ایالہ Francisco Ayala، کینتھ آر ملر Kenneth R. Milller اور فرانسس کولنز Francis Collins نے مذاہب اور سائنس کے مابین مطابقت اور باہمی انحصارپایا ہے۔ ماہر حیاتیات اسٹیفن جئے گولڈ Stephen Jay Gould اور کئی دیگر سائنسدان و ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ مذہب اور سائنس دو متوازی ڈومینز ہیں جو زندگی کے مختلف پہلوئوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ سائنس کے کچھ دیگر مورخین جان لینکس John Lennox، تھامس بیری Thomas Berry، براائن سویم Brian Swimme اور کین ولبر Ken Wilber سائنس اور مذہب کے درمیان باہمی ربط رکھنے کی تجویز دیتے ہیں جبکہہ ایان بابر Ian Barbour جیسے دیگر لوگوں کا خیال ہے کہ ان میں متوازی فرق موجود ہے۔

سترھویں صدی میں، رائل سوسائٹی (لندن برائے سائنس) کے بانی، سب چرچ کے ممتا ز افراد اور روائتی راسخ العقیدہ مذہبی خیالات کے حامل لوگ تھے اور ان میں سے بہت سوں کا خیال یہی تھا کہ انکی سائنسی سرگرمیاں روائتی مذہبی عقیدے کی حمایت کرتی ہیں۔ انیسویں صدی کے وسط تک اس سوسائٹی میں ان مذہبی لوگوں کا ہی اثر و رسوخ تھا جبکہ اسوقت سائنس زیادہ پیشہ ورانہ مضمون بن چکا تھا۔ البرٹ آئن اسٹائن نے بھی سائنس اور مذہب کی ہم آہنگی کے بارے میں’سائنس، فلسفہ اور مذہب سے متعلق ایک کانفرنس’ میں کہا کہ

” ایک مذہبی شخص اس لحا ظ سے متقی اور دیندار ہوتا ہے کہ اسے ان مابعد الطبعی حقائق اور اہداف کی اہمیت اور عظمت پر کوئی شک ہی نہیں ہوتا جو نہ عقلی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں اور نہ انہیں عقلی بنیاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ اسی ضرورت اور حقیقت کے ساتھ وجود رکھتی ہیں جس طرح ان کو ماننے والا وجود رکھتا ہے۔ اس لحاظ سے مذہب بنی نو ع انسان کی قدیم کوشش ہے کہ انسان ان اقدار و اہداف کے بارے میں واضح طور پر آگاہی حاصل کرے اور مستقل طور پر اور مستحکم طور پر انہیں اثر پذیر کر سکے۔ اگر اس طرح سائنس اور مذہب کو سمجھا جائے تو سائنس اور مذہب کے درمیان کوئی تنازعہ نظر نہیں آتا۔ سائنس صرف یہ بتا سکتی ہے کہ کیا ہے؟ لیکن کیا ہونا چاہیے اور کیا نہیں ہونا چاہیے؟ اسکے ڈومین سے باہر ہے۔ دوسری طرف مذہب صرف انسانی فکر اور عمل کی تشخیص کے ساتھ معاملہ کرتا ہے وہ حقائق اور حقائق کے مابین تعلقات اور تعاملات کی بات کا جواز مہیا نہیں کر تا”۔

آئن سٹائن کی اس تشریح کے مطابق مذہب اور سائنس کے مابین تنازعات کی اس سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں کہ صورتحال کی غلط انداز سے تشہیر کی گئی ہے۔

قرون وسطیٰ میں مغربی یورپ میں سائنسی علوم کی ترقی(خاص طو رپر نیچرل فلاسفی) میں عربوں کے اس کام نے کافی بنیاد مہیا کی جس میں انکے لاطینی اور یونانی کتب کے تراجم بھی شامل تھے۔ ارسطوکے کام نے ادارہ سازی، نظام سازی اورمنطق (ریزن) کی توسیع میں اہم کردار ادا کیا۔ عیسائیت نے عقیدہ کے دائرے میں ریزن کو قبول کر لیا حالانکہ اس سے قبل عیسائیت میں ریزن کو وحی کے ماتحت سمجھا جاتا تھا۔ وحی حتمی سچائی تھی اور اس سچائی کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا تھا۔ قرون وسطیٰ کی یونیورسٹیوں میں فطری فلسفہ اور الہیات کی فیکلٹی الگ تھی اور فلاسفہ کی فیکلٹی کو الہیات کے امور پر بحث مباحثہ کی اجازت نہیں تھی۔ تاہم فطری فلسفے کا مطالعہ جامعات کی ہر فیکلٹی میں پڑھانا لازمی سمجھا جاتا تھا۔ یہ ایک آزاد فیلڈ تھی، الہیات سے الگ تھی مگر فطرت اور کائنات کے بارے میں حریت فکر کا اچھا ذوق پیدا کرتی تھی۔ قرون وسطیٰ کے اختتام تک اسے مذہبی حمایت حاصل تھی اور یہ بات بھی تسلیم شدہ تھی کہ یہ ایک اہم علم ہے۔

کچھ لوگوں مثلاً Guillermo Paz-y-Mino-C اور Avelina Espinosaکا خیال ہے کہ ارتقاء اور مذہب کے مابین تاریخی تصادم ہے کیونکہ مافوق الفطرت علت کےاعتقاد اور سائنسی عقلیت و تجربیت پسندی کے مابین بنیادی عدم مطابقت پائی جاتی ہے۔ Jerry Coyne (ارتقائی ماہر حیاتیات) کے مطابق بہت سے ممالک میں لوگوں کو بیک وقت مذہبی اعتقادات کے ساتھ ارتقائی نظریات پر یقین کرنےمیں الجھن اور مشکل پیش آتی ہے اور یہی عدم مطابقت کا اظہار ہے۔ ماہر طبیعات Sean M اور ارتقائی ماہر حیاتیات Richard Dawkins کھلے عام مذہب سے دشمنی کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ انکا خیال ہے کہ سائنسی علوم اور سائنس پر مبنی کاروبار زندگی نے مذہب کو شکست دے دوچار کر دیا ہے۔ رینی تھامس Renny Thomas کی ایک اسٹڈی کے مطابق ہندوستان میں بھی ملحد سائنس دان پائے جاتے ہیں لیکن ملحد ہونے کے ساتھ ساتھ انکا طرز زندگی روائیتی اور مذہبی ہے اور انکے نزدیک مذہبی طرز زندگی پر عمل پیرا ہونا الحاد کے منافی نہیں ہے۔ ۔ ڈینئیل ڈینیٹ Daniel Dennett کا کہنا ہے کہ مذہب کسی خاص نقطہ نظر پر اس وقت تک کوئی گرفت نہیں کرتا جب تک وہ نقطہ نظر کسی مذہبی عقیدے کو نہ ماننے پر اصرار نہ کرے۔

فرانسس کولنز Francis ollins، جارج ایف آر ایلس George F.R. Ellis، کیننتھ آر ملرKenneth R. Miller، کتھرین ہاہو Katharine Havhoe، جارج کوائن George Coyyne اور سائمن کونے مورس Simon Conway Morris کہتے ہیں کہ مذہب اور سائنس میں مطابقت پائی جاتی ہے اور یہ باہم متضاد نہیں ہیں۔ انکا استدلال ہے کہ سائنس فطرت میں خدا کو تلاش کرنے اور بہت سارے عقائد پر غور و فکر کرنے کے مواقع مہیا کرتی ہے۔ کیونکہ بہت سے سائنسدان مذہبی ہیں اورامریکی عوام کا ایک بڑا حصہ مذہبی ہے اور ارتقا ء پر بھی یقین رکھتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سائنس اور مذہب میں مطابقت پائی جاتی ہے۔ ملر نے استدلال کیا ہے کہ جب سائنسدان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ مذہبی ہیں یا وہ ملحد ہیں تو وہ کوئی سائنسی بحث نہیں کر رہے ہوتے ہیں بلکہ وہ سائنس کے دائرہ کار سے تجاوز کرتے ہوئے معنی اور مقصد کے کے ڈسکورس کےمباحث میں قدم رکھ رہے ہوتے ہیں۔ ملر نے خاص طور پر جس عجیب اور غیر منصفانہ چیز کی نشاندہی کی ہے وہ یہ ہے کہ:

“کس طرح ملحدین، اکثر اپنی سائنسی اتھارٹی کو اپنے غیر سائنسی فلسفیانہ نتائج کے ثبوت اور تاکید کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ جیسے مثال کے طور پر سائنس کےپاس آج تک کوئی ایسی طریقہ ایجاد نہیں ہوا کہ جس سے کائنات کی مقصدیت ومعنی یا خدا کے وجود کے بارے میں کسی سوال کا کوئی جواب دیا جا سکے تو اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ کائنات کا کوئی معنی مقصد ہی نہیں کسی طور پر بھی درست نہیں”۔

کارل جبرسن Karl Gibersonکا استدلال ہے کہ “کچھ سائنسدان اکثر دینیات و الہیات کے بڑے رہنمائوں اور ماہرین کو نظر انداز کرکے، کم باخبر اور انتہائی سوچ رکھنے والے نچلے درجے کے لوگوں کی مثالیں پیش کرکے انکے خلاف استدلال کرتے ہیں اور مذہبی رہنما بھی ایسا کرتے ہیں کہ سائنس کے بڑے ماہرین کی بجائے چھوٹے ماہرین کے دعووں کا رد پیش کرنے لگتے ہیں اگر دونوں طرف کے بڑے ماہرین کو دھیان میں لیا جائے تو دونوں طرف کے چھوٹے لوگ جو انتہاپسند سوچ رکھتے ہیں خود بخود غیر متعلقہ ہو جائیں گے”۔

مذہب اور سائنس کےمابین تنازعے کا مقدمہ سب سے پہلے انیسویں صدی مین ولیم ڈریپر John William Drapper اور انڈریو ڈکسن Andrew Dickson نے پیش کیا۔ اسکے بعد سائنس اور’ مذہب کے مابین تعلقات ‘ گفتگو کا ایک باضابطہ موضوع بن گیا جبکہ اس سے قبل کسی نے بھی سائنس کو مذہب کے خلاف یا اسکے برعکس نہیں سمجھا تھا۔ سائنس کے بیشتر عصری مورخین اب تنازعہ کے اس مقدمہ کو اپنی اصل شکل میں مسترد کرتے ہیں اور اسکی حمایت نہیں کرتے۔ سائنس کے مورخ گیری فرنگرین Gary Ferngren کہتا ہے کہ

“اگرچہ تنازعات کی مقبول ترین تصویر میں عیسائیت کو سائنس کے دشمن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ عیسائیت نے اکثر سائنسی کوششوں کی پرورش کی ہے اور حوصلہ افزائی کی ہے اور کچھ ادوار ایسے بھی گزرے ہیں کہ جن میں دونوں میں ہم آہنگی پر زیادہ زور نہیں دیا گیا۔ لیکن گیلیلیو اور اسکے پس منظر کے تنازعات مستثنیات ہیں وہ کوئی اصول نہیں ہیں”۔

آجکل کے زیادہ تر مورخین اس ‘تنازعہ ماڈل’ سے دور ہو گئے ہیں جو بنیادی طور پر گیلیلیو کے پس منظر پر مبنی تھا اب زیادہ رجحان مطابقت، انضمام اور اوورلیپنگ یا پیچیدہ صورتحال کے ماڈلز کی طرف ہے۔

ایک جدیدسوچ جسے اسٹیفن جے گولڈ Stephen Jay Gould نے ‘Non overlapping magisteria’ کے طور رپر بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ بنیادی طوررپرسائنس اور مذہب انسانی تجربے کے الگ الگ پہلوئوں سے نمٹتے ہیں اور اس طرح جب یہ دونوں اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہیں ان میں کوئی تنازعہ رونما نہیں ہوتا۔ اسی طرح W.T. Stace کہتے ہیں کہ جب مذہب اور سائنس کو انکے اپنے ڈومین میں دیکھا جائے تو دونوں مستقل اور مکمل ہیں۔ آرنلڈاو بینز Arnold O Benz کے مطابق دونوں کا آغاز تو حقیقت کے مختلف تصورات سے ہوتا ہے لیکن دونوں حیرت اور اخلاقیات کے احساسات میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ امریکہ کی نیشنل اکیڈمی آف سائنس بھی اس سوچ کی تائید کرتی ہے کہ سائنس اور مذہب دو آزاد ڈومین ہیں۔

سائنس اور مذہب انسانی تجربے کے مختلف پہلوئوں پر مبنی ہیں۔ سائنس میں ضروری ہے کہ وضاحتیں اور ثبوت، فطری دنیا کی جانچ پڑتال سے حاصل کردہ شواہد پر مبنی ہوں۔ جب سائنسی مشاہدات یا تجربات اور کسی مظہر کی وضاحت باہم متصادم ہوتے ہیں تو لامحالہ اس وضاحت میں ترمیم یاتصحیح کی جاتی ہے یا اسکو بالکل ترک کر دیا جاتا ہے۔ لیکن مذہبی اعتقاد کی بنیاد کسی تجربی ثبوت پر منحصر نہیں ہوتی کہ متضاد ثبوتوں کے مقابلے میں اس میں ترمیم کی جائے۔ سائنس کے ذریعے اس کائنات کے خالق و مالک یا مذہبی حقائق کی جانچ پڑتال اور تفتیش نہیں کی جا سکتی اس لئے سائنس اور مذہب دو الگ الگ شعبے ہیں اور انسانی فہم و تفہیم کے پہلوئوں کو مختلف طریقوں سے حل کرتے ہیں۔ ان دونوں کو ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑا کرنے سے تنازعات جنم لیتے ہیں اور اس صورت میں دونوں کے حامی ایک دوسرے کو رد کرنے لگتے ہیں جو درست عمل نہیں۔

آرچ بشپ جان ہبگڈ John Habgood نے کہا کہ اگر سائنس اور ریاضی اس بات پر اپنی توجہ مرکوز کریں جس طرح کہ مذہب کرتا ہے کہ اس جہاں کو کیسا ہونا چاہیے؟ تو پھر اس فطری جہاں کی تعبیر و تشریح میں وہی مشکلات پیدا ہونا شروع ہوجائیں گی جو فیثا غورث کے مقلدین میں پیدا ہو گئی تھیں”۔ ہبگڈ مزید کہتے ہیں کہ ” نہ صرف یہ کہ سائنس کے حامیوں کو مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے بلکہ مذہبی اتھارٹیز کو بھی سائنسی معاملات (جیسے گلیلیوکے معاملے میں ہوا) میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

تھامس ایس کوہن Thomas S. Kuhn کے مطابق “سائنس ثقافتی روایات سے پیدا ہونے والوں نمونوں پر مشتمل اسی طرح کی چیز ہے جس طرح مذہب کے بارے میں ایک سیکولر نقطہ نظر پیدا ہوا”۔ مائیکل پولانی Michael Polanyi کہتے ہیں کہ

” یہ محض آفاقایت و عالمگیریت سے وابستگی ہے جو موضوعیت سے بچاتی ہے اور اسکا ذاتی پسند نا پسند سے کوئی سروکار نہیں ہے جو سائنسی طریقہ کار کے بہت سے تصورات میں پایا جاتا ہے۔ تمام علم ذاتی ہوتا ہے لہذا سائنس دان بھی ایک بہت ہی ذاتی کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ سائنسی تجربات کے دوران بھی وہ موضوعیت کو اپنے اوپر طاری کئے رکھے جیسے کہ بہت سے سائنس دان محض دانشوارانہ خوبصورتی اور تجرباتی ذوق و شوق میں انتہائی عمل کی پیروی کرنے لگ جاتے ہیں۔ اصولی طور پر سائنس کو بھی انہی اخلاقی اصولوں کا پابند ہونا چاہیےجو مذہب میں پائے جاتے ہیں”۔

سائنس اور مذہب کے درمیان کشمکش کی کیفیت اس وقت سامنے آتی ہے جب لوگ سائنسی تھیوریز کو Over Simplify کرتے ہوئے یہ کہنے لگتے ہیں کہ یا تو سائنس ٹھیک ہے یا مذہب۔ حقیقت یہ ہے کہ سائنس اور مذہب دونوں کا کام سچائی کو تلاش کرنا ہے لیکن دونوں کی سچائی کی نوعیت مختلف ہے۔ اور دو مختلف سچائیوں کو تلاش کرنے کے طریقے بھی مختلف ہیں اس لئے اسے اختلاف نہیں کہا سکتا۔ سائنس سچائی تک مشاہدات اور تجربات کے ذریعے پہنچتی ہے اور اسکی پیشنگوئی صرف یہ ہوتی ہے کہ یہ چیزیں پہلی بھی وقوع پذیر ہو چکی ہیں لہذا مستقبل میں بھی اسی طرح وقع پذیر ہوسکتی ہیں۔ لیکن مذہب کا تعلق جس سچائی سے ہے اسکی جڑیں غیب میں ہیں۔ مذہب جس نجات، ہم آہنگی، اور اللہ کی رضا کے حصول کی پیشنگوئی کرتا ہے اس کیلئے ایمان ، بھروسہ، اعتماد اور یقین کا تقاضا شرط ہے کیونکہ ان حقائق کا سائنسی طریقہ سے اس دنیا میں تجربہ اور تجزیہ نہیں کیا جا سکتا۔

جدید دور میں مذہب اور سائنس کے درمیان مکالمے کی بنیاد Ian Barbour کی کتاب’Issues in Science and Religion’ ہے جو اس نے 1966 میں تحریر کی۔ یہ ایک انتہائی سنجیدہ موضوع ہے اور اس پر کام کیلئے کئی یونیورسٹیوں میں اکیڈمک چئیرز تشکیل دی جا چکی ہیں اور کچھ جرائد بھی اس پر مسلسل کام کر رہے ہیں جیسے Zygon, Theology and Science۔ امریکن جرنل آف فزکس میں بھی اس موضوع پر مقالے شائع ہوتے رہتے ہیں۔ فلسفی Alvin Plantinga کا استدلال ہے کہ سائنس اور مذہب کے درمیان اختلافات سطحی نوعیت کے ہیں اور اتفاق گہری نوعیت کا ہے لیکن سائنس کا اگر کوئی تصادم ہے تو وہ فطرت پرستی کے ساتھ ہے اور یہ بہت گہرا تصادم ہے۔

دنیا میں اس وقت سائنسدانوں کی ایک بہت بڑی تعداد مذہبی حقائق پر ایمان رکھتی ہے، اسکا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1901 سے 2013 تک تمام نوبل انعامات میں سے 22 فیصد یہودی مذہب کے ماننے والوں کو دئے گئے۔ 1901 سے 2000 تک 654 انعام یافتہ افراد کا تعلق دنیا کے 28 مختلف مذاہب سے تھا ان میں سے 65 فیصد عیسائی تھے۔ عیسائی مذہب کے ماننے والوں نے کیمسٹری میں 73 فیصد، طبیعات میں 65 فیصد، میڈیسن میں 62 فیصد، اقتصادیات مین 54 فیصد انعامات جیتے۔ یہودی مذہب کو ماننے والوں میں سے 17 فیصد کیمسٹری، 26 فیصد طب، اور 23 فیصد نے طبیعات میں انعامات جیتے۔ مسلمانوں نے مجموعی طور پر 13 فیصد انعامات جیتے۔ لیکن ملحدین، اگناسٹکس اور فری تھنکرز نے مل ملا کر کیمسٹری میں صرف 7 فیصد، میڈیسن میں 9 فیصد اور طبیعات میں 5 فیصد انعامات جیتے۔

امریکہ میں بہت سے سروے اور اسٹڈیز کی گئی ہیں جن کے مطابق 51 فیصد سے زائد سائنس دان خدا پر یقین رکھتے ہیں اور 48 فیصد سائنسدان یقین تو نہیں رکھتے لیکن عدم وجود کا دعویٰ بھی نہیں کرتے۔ دیگر سرویز میں بتایا گیا ہے کہ 48 فیصد سائنسدان مذہب پر کسی نہ کسی انداز سے یقین رکھتے ہیں، 17 فیصد ملحد ہیں، 11 فیصد اگناسٹکس ہیں اور 20 فیصد اپنا تعلق کسی ایمان سے نہیں جوڑتے اور نیوٹرل ہیں۔ Elaine Ecklund کے ایک سروے کے مطابق 76 فیصد سائنسدان مذہبی روایات کو مانتے ہیں، 85 فیصد کو خدا کی موجودگی کے بارے میں کوئی شبہ نہیں۔ 85 فیصد سائنسدان سائنس اور مذہب کے درمیان کوئی تنازعہ محسوس نہیں کرتے، 73 فیصد مذہب اور سائنس کے اشتراک پر زور دیتے ہیں، 12 فیصد سائنس اور مذہب کی آزادی پر زور دیتے ہیں۔ جن 1400 امریکی پروفیسروں کا ڈیٹا لیا گیا ان میں سے صرف 10 فیصد ملحد تھے اور 13 فیصد اگناسٹکس تھے۔

میڈیکل کے شعبے میں شکاگو یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق 76 فیصد ڈاکٹرز خدا پر یقین رکھتے ہیں اور 90 فیصد ڈاکٹر کبھی کبھاردینی خدمات میں ضرور شرکت کرتے ہیں۔ ہندوستان میں 1100 سائنس دانوں کا ڈیٹا لیا گیا او راس اسٹڈی کے مطابق 66 فیصد نے ہندو مذہب پر یقین کا اظہار کیا، 14 فیصد نے اپنے مذہب کے بارے میں خاموشی اختیار کی، 10 فیصد ملحد ہیں، 3 فیصد مسلمان، 3 فیصد عیسائی، 4 فیصد بدھ مت، سکھ مت یا دیگر مذاہب کے پیروکار ہیں۔

سائنسدانوں کے حوالے سے کی جانی والی مذکورہ گفتگو اور پیش کئے جانے والے سرویز کا نچوڑ یہ ہے کہ سائنس، اپنے طریقہ کار اوراستدلال کی بنیاد پر، تخلیق شدہ ترتیب کی نوعیت اور اسکے چلانے کے طریقوں کے بارے مین سچائیوں کو دریافت کرنے کی کوشش کرتا ہے جبکہ ایمان روحانی سچائیوں سے متعلق ہے۔ سائنس اور ایمان کی سچائیوں کے تقاضے بہت مختلف ہیں کیونکہ وہ دونوں مختلف سوالات کا سامنا کرتے ہیں لیکن وہ ایک دوسرے سے متصادم نہیں ہیں کیونکہ روحانی ترتیب اور مادی ترتیب ایک ہی خدا نے پید ا کی ہے۔ سائنس، یہ سوالات پوچھتی ہے کہ انسانی زندگی اور کائنات کے معاملات کیسے ہوتے ہیں، کیسے چلتے ہیں اور وہ کہاں سےآتے ہیں؟جبکہ مذہب اور عقائد کی روایات، معنویت کے سوالات پوچھتی ہیں کہ ہم یہاں کیوں ہیں اور ہمیں یہاں موجود چیزوں کے ساتھ کیا کرنا چاہیے اور باقی مخلوقات کے ساتھ کس طرح کا تعلق رکھنا چاہیے؟ سائنسی نظریا ت کے وہ پہلو جو ایمانی حقیقت کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں وہ انسانی علم کیلئے خوش آئند اضافہ ہو سکتے ہیں اور ان نظریات کے وہ پہلو جو اس سچائی کو مجروح کرتے ہیں انہیں ملحد الہیات سمجھ کر مسترد کر دینا چاہیے۔

اگر آپ پہلے سے مذہب پر یقین رکھتے ہیں اورآپکا اس بات پرایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کائنات کا خالق و مالک ہے تو پھر سائنس کا ہر تجربہ، ہر تھیوری اور ہر انکشاف آپ کے اس ایمان کو اور مضبوط تو بنا سکتا ہے لیکن اسے کمزور نہیں کر سکتا۔ بقول احمد جاوید صاحب:

“ہمارا تصور علم یہ ہےکہ ہر شے چاہے وہ شعور کے اندر واقع ہو چاہے وہ شعور کے باہر موجود ہو، اللہ کی قابل اعتبار نشانی ہے اور اسکے تجزیے کے نتیجے میں برآمدہونے والا کوئی بھی جزو اسکے اللہ کی نشانی ہونے کی حیثیت کو بڑھانے کے لائق ہونا چاہیے گھٹانے کی طرف نہیں جانا چاہیے۔ اگر کسی شے کا مادی تجزیہ ہمیں اس شے کو اللہ کی نشانی کے مرتبے سے گرانے پر مائل کر رہا ہے تو ہمیں اس پورے تجزیے کو، اس پوری لاجک کو بلا تکلف اعتماد کے ساتھ رد کر دینا چاہیے۔ ہم شے کی صورت کےتجزیے میں غلطی کرنے کی پوری آزادی رکھتے ہیں، اور شے کی صورت کو سمجھنے میں غلطیوں کا تسلسل ہمیں اللہ سے دور نہیں کر سکتا۔ ایمانی تصور علم کی بنیاد اور غائیت ہی یہ ہے کہ شے کے بارے میں ایک مستقل پرسپیکٹو قائم رہے اور شے سے حاصل ہونے والے تمام ادراکات کو اس مستقل تناظر کی تشکیل، تعمیر، تقویت اور تکمیل میں عملاً صرف کرکے دکھایا جائے”۔

کائنات کی تخلیق کے جدید نظریات اور فہم آپ کے عقیدے کو غلط ثابت نہیں کر سکتے اور نہ ہی آپ کو ان پر کوئی تشویش ہونی چاہیے کیونکہ خدا نے تو ہم سے کبھی یہ نہیں کہا کہ ہم اسکا وجود سائنسی اعتبار سے ثابت کرکے پھر اس پر ایمان لائیں۔ اگر اسکی مشیت یہ ہوتی کہ ہم اسے سائنسی طور پر ثابت کرکے حق پا سکیں تو وہ ایسا بھی کر سکتا ہے لیکن یہ اسکی مشیت نہیں ہے۔ وہ ہم سے اپنے وجود کو سائنسی طورپر ثابت کرنے کیلئے نہیں کہتا بلکہ وہ ہم سے تقاضاکرتا ہے کہ ہم اسے دیکھے اور سائنسی طور پر ثابت کئے بغیر اسکے انبیاء کرام ؑ کے بتائے ہوئے طریقے پر ایمان لائیں اور انہوں نے اسکا جو پیغام ہم تک پہنچایا ہے اسے حق جانیں اور اہل علم کا فرض ہے کہ وہ تصور علم جو ایمانی شعور کا مرکز ہے اسے تمام علوم کا موجد اور جنریٹر بنا کر دکھائیں۔ اس لئے ہمیں سائنسی ایجادات و نظریات سے خائف ہونے کی بجائے اپنے ایمان کو مضبوط رکھتے ہوئے انکا ایمانی شعور کے مطابق تجزیہ کرنا چاہیے اور اس یقین پر قائم رہنا چاہیے کہ کوئی سائنسی دریافت یا نظریہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔

اسی موضوع پر مزید مطالعہ کیجئے:

سائنس کے عقیدت مند کٹر مذہبی ہوتے ہیں؟ — وحید مراد

کیا عقیدے سے جان چھڑانا ممکن ہے؟ —- وحید مراد

References

1.Earls, Aaron(2015) “Are Science and Religion at odds”

https://factsandtrends.net/2015/10/27/are-science-and-religion-at-odds/

2.Carey, Jesse (2018) “Science and Faith shouldn’t be at odds”

http://www.pbs.org/moyers/journal/blog/2007/06/post.html

3.Haught, John F, “Science and Religion: from conflict to conversation” https://archive.org/details/sciencereligionf0000haug

4.Religion and Science https://www.sacred-texts.com/aor/einstein/einsci.htm

5.Harrison, Peter (2015) “The Territories of Science and Religion” https://books.google.com.pk/books?id=WLvnBgAAQBAJ&redir_esc=y

6.Relationship between religion and Science https://en.wikipedia.org/wiki/Relationship_between_religion_and_science

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply