فیض کی اسلام پسندی: دو ساتھیوں کی گواہی

0

اردو کے عہد ساز شاعر فیض احمد فیض کی چھتیسویں برسی کی مناسبت سے دانش ٹی وی نے ایک پروگرام ‘فیض کی باتیں’ میں فیض صاحب کی زندگی، شاعری، افکار اور شخصیت پر گفتگو کیلئے، انکے دو ساتھیوں جناب فتح محمد ملک اور جناب افتخار عارف کو مدعو کیا۔ ان دونوں حضرات نے فیض صاحب کے ساتھ کافی وقت گزارا، انکے ساتھ کام کیا اور انہیں بہت قریب سے دیکھا۔ افتخار عارف صاحب سے سوال کیا گیا کہ فیض صاحب کے حوالے سے کچھ ایسی باتیں بتائیے جن پر عام طور پر گفتگو نہیں ہوتی یا جو آج کی مناسبت سے زیادہ اہم ہیں۔ اسکے جواب میں افتخار عارف صاحب کا کہنا تھا:

فیض صاحب کے بارے میں بہت سی باتیں منسوب کی جاتیں ہیں۔ فیض صاحب اس وقت موجود نہیں ہیں اس لئے انکی وضاحت تو نہیں ہو سکتی اس لئے جو لوگ زیادہ زور سے بول سکتے ہیں وہ بدزبانی بھی کرتے ہیں۔ مثلاً فیض صاحب کی مذہبی جہت کے حوالے سے ایک واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے واقعہ کربلا پر ایک مرثیہ لکھا اور وہ انکی کتاب میں بھی موجود ہے۔ روشن علی میم جی صاحب، جو فیض صاحب اور سبط حسن صاحب کے کرم فرما اور ایسٹرن فیڈرل یونین کےسربراہ تھے، انکے ہاں ایک کھانے پر ہم سب لوگ جمع تھے میں نے باتوں باتوں میں بتایا کہ کل امام حسین ؑ کا جشن ولادت ہے اور میں اس میں شرکت کروں گا۔ اس پر فیض صاحب نے بھی اس پروگرام میں شرکت کی خواہش ظاہر کی اور دوسرے روز جب ہم اس پروگرام میں پہنچے تو وہاں پاکستان اور ہندوستان کے کئی مسالک کےبہت سے مذہبی رہنما اور اسکالرز موجود تھے۔ جب ہم لندن یونیورسٹی کے ہال میں داخل ہوئے تو وہاں پر مجمع میں موجود سب لوگ فیض صاحب کے استقبال کیلئے اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ وہاں پر ایک بہت بڑے شعیہ عالم آقا مہدی حکیم تھے انہوں نے ڈاکٹر زوار حسین زیدی سےپوچھا کہ یہ کون صاحب ہیں تو میں نے تھوڑی سی بدتہذیبی کرتے ہوئے کہا کہ ‘آیت اللہ العظمیٰ در شعر اردو’۔ اس پر فیض صاحب نےکہا کہ یہ کیا بیہودگی ہے میں نے جواب میں کہا کہ سر اگر میں اردو میں کہتا کہ ‘اردو شاعری کے حاضر امام فیض صاحب ہیں’ تو وہ سمجھ نہیں پاتے اس لئے انہیں فارسی میں بتایا ہے۔

عام طور پر برصغیر کا کوئی دانشور جب ترقی پسند کہلانے لگتا ہے تو پہلا کام یہ کرتا ہے کہ اپنے دین کے خلاف ہرزہ سرائی کرنا یا بدزبانی کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ میں فیض صاحب کے بارے میں یہ تو نہیں کہتا کہ وہ بہت پرہیز گار شخصیت تھے لیکن میں یہ بات وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ انکی حمیت اور باطن دین کے مطابق تھا اور انکا کوئی رویہ دین سے معاندانہ نہیں تھا۔ روشن فکری انکا رویہ تھا اور وہ ایک جداگانہ صورت احوال ہے اور اسکا انکے باطن اور مذہبی پس منظر سے کوئی تصادم نہیں تھا۔

اسکے بعد فتح محمد سے سوال کیا گیا کہ آپ نے بھی اپنی کتاب میں فیض صاحب کے بارے میں لکھا کہ انہوں نے بچپن میں قرآن کریم حفظ کرنا شروع کیا تھا اور وہ مکمل نہیں ہو سکا اور بعد میں انہوں نے اس پر افسوس کا بھی اظہار کیا تھا، اس حوالے سے آپ کیا کہتے ہیں؟ اسکے جواب میں فتح محمد ملک صاحب نے کہا کہ:

اسلام آباد میں ایک تقریب میں، میں نے اس بات پر دکھ کا اظہار کیا کہ فیض صاحب اور ندیم صاحب کے درمیان دوری کیوں پیدا ہو گئی؟ اس پر فیض صاحب نے کہا کہ ایوب مرزا کے گھر چلتے ہیں اور وہاں بات کریں گے۔ وہاں جب لوگ چلے گئے تو فیض صاحب کہنے لگے کہ بھئی مجھے جو بات کہنی ہے وہ میں ندیم صاحب کی عدم موجودگی میں نہیں کہہ سکتا کیونکہ پھر وہ غیبت ہو جائے گی۔ تم مجھے لاہور انکے ہاں لے کر چلو اور وہاں انکے سامنے یہ بات چھیڑو تو انکے سامنے میں بھی بات کروں گا اور وہ بھی اس پر بات کریں گے۔ اس پر میں نے کہا کہ میں یہ سب انتظامات تو کر سکتا ہوں لیکن آپ بڑی شخصیات ہیں اور میں چھوٹا سا طالب علم ہوں اس لئے آپ کے اس معاملے کے درمیان نہیں بیٹھوں گا۔

اس واقعہ کو بیان کرنا کا مقصد یہ ہے کہ فیض صاحب نہ صرف اپنی زندگی میں اسلامی تعلیمات اور اصولوں پر کاربند تھے بلکہ اپنی شاعری بھی ان اصولوں اور تعلیمات کو کسی نہ کسی انداز سے پیش کرتے تھے۔ اسی طرح فیض صاحب وفات سے قبل کے چند روز میں اپنے آبائی گائوں تشریف لے گئے اور وہاں اسی مسجد میں نمازیں ادا کیں جہاں بچپن میں نمازیں پڑھتے تھے اور پھر وہاں سے واپس آئے اور جان، جان آفریں کے سپرد کی۔ تو فیض صاحب شروع سے لیکر آخر تک دین اسلام کے اصولوں پر کاربند رہے لیکن وہ کوئی مذہبی رہنما یا مولوی نہیں تھے۔ افتخار عارف صاحب نے اس میں ایک جملے کا اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی انٹرویو میں ایک صاحب نے فیض صاحب سے پوچھا کہ آپکا مذہب کیا ہے؟تو فیض صاحب نے جواب دیا کہ جو مولانا رومی کا مذہب ہے اور پھر سوال ہوا کہ رومی کا کیا مذہب ہے تو فرمایا کہ جو میرا مذہب ہے۔

افتخار عارف نے مزید بتایا کہ: میں نے بی بی سی پر فیض صاحب کا ایک انٹرویو کیا تھا اور اس میں ان سے پوچھا کہ فیض صاحب آپ کی زندگی کے پچھتاوے کیا ہیں؟ تو انہوں نے کہا تھا کہ دو پچھتاوے ہیں۔ ایک یہ کہ میں کرکٹر بننا چاہتا تھا اور نہیں بن سکا اور دوسرا پچھتاوا یہ ہے کہ میں قرآن کریم حفظ کرنا چاہتا تھا اور یہ کام مکمل نہیں کر سکا۔

فتح محمد ملک صاحب نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ فیض صاحب، دین و دانش اور حکمت میں علامہ اقبال کی شخصیت، شاعری اور فن سے فیض حاصل کرتے تھے۔ میرے وہ دوست جو سائنٹفک سوشلزم پر یقین رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ فیض صاحب نے پہلی بار جب کمیونسٹ مینو فسٹو پڑھا تھا تو کہا تھا کہ میرے چودہ طبق روشن ہو گئے ہیں تو یہ بات بھی اقبال کے تسلسل میں ہی کہی تھی کیونکہ اس سے قبل اقبال اپنی شاعری میں ‘نیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب’ جیسی باتیں کہہ چکے تھے۔ اسی طرح فیض صاحب، اسلام، اسلام کی تاریخ اور اسلام کی علم و حکمت میں بڑی شخصیات کے فیضان سے ثروت مند ہوتے رہے مگر یہ بات درست ہے کہ وہ مولوی نہیں تھے۔

ملک صاحب سے جب پوچھا گیا کہ “آغا ناصر نے کہیں لکھا ہے کہ فیض صاحب نے پیام مشرق کا ترجمہ کرنے کا آغاز کیا تھا جس پر انکے ترقی پسند دوستوں نے ناگواری کا اظہار کیا جس پر فیض صاحب نے اقبال کے کلام کی عظمت بیان کرتے ہوئےکہا کہ میرے لئے اعزاز کی بات ہوگی اگر میں ایسا کام کر سکوں۔ آپ نے بھی اقبال اور فیض پر کتابیں بھی لکھی ہیں تو اس حوالے سے آپ بہتر طور پر بیان کر سکتے ہیں۔ اسکے علاوہ فیض صاحب کے مزاج میں جو ایک دھیما پن، نرمی اور شگفتگی پائی جاتی ہے اسکی وجہ سے نہ صرف وہ اپنے نظریات کے رسوخ کا سبب بنے بلکہ اپنے نظریاتی مخالفین کے دلوں میں بھی انہوں نے اپنے نظریات کے لئے ایک نرم گوشہ پیدا کیا اس حوالے سے آپ کے کیا تاثرات ہیں؟”

اسکے جواب میں فتح محمد ملک صاحب نے کہا کہ: ہاں یہ بات درست ہے آغا ناصر مرحوم نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ فیض صاحب کی وہ نظم جو زبان زد عام ہے ‘ہم دیکھیں گے۔۔۔’ اس کے بارے میں انکے بقول فیض صاحب نے انہیں بتایا کہ یہ میں نے انقلاب ایران سے متاثر ہو کر لکھی ہے۔ آغاناصر نےاسی مضمون میں مزید لکھا ہےکہ جب میں نے فیض صاحب سے انقلاب روس اور انقلاب ایران کے موازنہ کی بات کی تو انہوں نے کہا کہ انقلاب ایران، انقلاب روس سے زیادہ سائنٹفک ہے۔ اب ہمارے ہاں بدقسمتی یہ ہے کہ جو لوگ اپنے آپ کو سائنٹفک سوشلسٹ کہتے ہیں وہ اس نظم کا عنوان بیان ہی نہیں کرتے۔ انہوں نے اپنے طور پر اس نظم کو عنوان دے رکھا ہے’ہم دیکھیں گے’ حالانکہ یہ تو نظم کا پہلا مصرعہ ہے عنوان نہیں ہے۔ نظم کا اصل عنوان ہے ‘و یبقیٰ وجہ لربک’ اور یہ قرآن مجید کی سورۃ الرحمن کی ایک آیت کریمہ کا حصہ ہے۔ اور اگر اس عنوان کو سامنے رکھیں اور پھر اس نظم کو پڑھنا شروع کریں تو قرآن پاک کی کئی آیات مصرعہ در مصرعہ وہاں اپنے مفہوم میں آتی چلی جا تی ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے شاید ‘داس کیپیٹل’ بھی نہیں پڑھی اور ‘قرآن مجید’ بھی نہیں پڑھا۔ ہمارے دانشور نعرہ بازی کو ہی کافی سمجھتے ہیں۔ علم و حکمت کی جو بات ہے اسکی طرف نہیں جاتے۔

جو لوگ اپنے آپ کو سائنٹفک سوشلسٹ کہتے ہیں وہ فیض کی نظم “ہم دیکھیں گے” کا عنوان بیان ہی نہیں کرتے۔ نظم کا اصل عنوان ہے ‘و یبقیٰ وجہ لربک’ اور یہ قرآن مجید کی سورۃ الرحمن کی ایک آیت کریمہ کا حصہ ہے۔ فتح محمد ملک
اس نظم میں جو دیگر مصرعے ہیں مثلاً بس نام رہے گا اللہ کا، روئی کی طرح اڑ جائیں گے وغیرہ یہ سب کہاں سے لئے گئے ہیں ؟ظاہر ہے یہ سب قرآن مجید سے لئے گئے ہیں۔ افتخار عارف

ابوالخیر کشفی صاحب نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ میری کتاب میں ایک ایسا مضمون شامل تھا جس میں اردو ادب میں نعت گوئی زیر بحث تھی۔ اس میں میرے ذاتی تجربے کی بنیاد پر ایک فقرہ ایسا درج تھا جس سے یہ اندازہ ہوتا تھا کہ فیض صاحب نے کبھی کوئی نعت نہیں لکھی۔ فیض صاحب نے جب یہ فقرہ پڑھا تو انہیں صدمہ ہوا اور انہوں نے گلہ کیا کہ یہ تم نے کیوں لکھا کہ میں نے کوئی نعت نہیں لکھی، میں نے نعت کا عنوان تو کبھی استعمال نہیں کیا لیکن نعتیں لکھی ہیں اور اپنی دو غزلوں ‘جتنے چراغ ہیں تیری محفل سے آئے ہیں۔۔۔’ کی طرف اشارہ کرکے بتایا کہ یہ دراصل نعتیں ہی ہیں۔

عام حالات میں فیض صاحب ہمیشہ شفقت سے پیش آتے تھے اور کبھی گلہ نہیں کرتے تھے لیکن یہاں انہوں نے گلہ کرنا ضروری سمجھا کہ مجھے آنحضرت ﷺ کی سیرت طیبہ کے فیضیان کو عام کرنے کیلئے اپنے فن کو استعمال کرنے کے حوالے سے نشانہ کیوں بنایا گیا۔ اسی طرح جب فیض صاحب جیل میں تھے تو قیدیوں کو قران مجید پڑھایا کرتے تھے اور سمجھایا کرتے تھے کیونکہ انہوں نے قرآن پاک کا بہت گہرا مطالعہ کر رکھا تھا اور باقاعدہ وقت مقرر کر کے روزانہ یہ خدمت سرانجام دیتے تھے۔

اسکے بعد میزبان نے یہی سوال جناب افتخار عارف سے پوچھتے ہوئے کہا کہ یہ شاید اردو تاریخ کا واحد واقعہ ہے کہ کسی نظم کو اسکے اصل عنوان سےکاٹ کر مقبول کیا گیا ہے؟ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ اسکے جواب میں افتخار عارف صاحب نے کہا کہ:

یہ نظم واشنگٹن میں لکھی گئی تھی، وہ فیض صاحب کی خودساختہ جلاوطنی کا دور تھا اور امام خمینی اس وقت ایران میں واپس داخل ہو چکے تھے۔ لوح ایام میں مختار مسعود کی جو روداد ہے اسے اگر آپ دیکھ لیں اور اس پورے منظر نامے پر غور کریں جو اس نظم میں بیان ہوا ہے تو واضح ہو جاتا ہے کہ جب رضا شاہ پہلوی اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ اور اپنے شہنشاہی کے تمام دعوں کے ساتھ ایک درویش کے آگے پسپا ہو گئے تھے، اس پر غور کریں اور پھر اندازہ کریں کہ یہ نظم کیا ہے۔ پھر آپ کی سمجھ آئے گا کہ اس کے ہر مصرعے میں کسی نہ کسی آیت کی تفسیر شامل کی گئی ہے۔

فیض کی اوریجنل بیاض میرے پاس ہے اور بعد میں یہ شائع بھی ہوئی اور پھر میں نے بھی ایک امانت کے طور پر اسے شائع کرایا اور اس وقت بیگم فیض صاحبہ حیات تھیں اور میں نے ان سےکہا کہ میں نے تمام خطوط وغیرہ فیض فائونڈیشن کو فراہم کر دئے مگر اگر آپ اجازت دیں تو یہ بیاض میں اپنے پاس رکھ لوں۔ یہ بیاض بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ نظم کہاں اور کس موقع پر لکھی اور آغاناصر نے اسکے حوالے سے صحیح بات کی لیکن اگر آپ کسی بات کو نہ ماننا چاہیں تو آپ کچھ بھی کہہ سکتےہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ جب کسی چیز کی سند فراہم ہو جائے تو پھر اسے مان لینا چاہیے۔ اس نظم میں جو دیگر مصرعے ہیں مثلاً بس نام رہے گا اللہ کا، روئی کی طرح اڑ جائیں گے وغیرہ یہ سب کہاں سے لئے گئے ہیں ؟ظاہر ہے یہ سب قرآن مجید سے لئے گئے ہیں۔

اسکے بعد جناب افتخارعارف سے سوال کیا گیا کہ فیض صاحب کی شخصیت میں ایک خاص طرح کی نرمی اور ملائمت تھی، انکی رومانویت اور طبعیت کے اس دھیمے پن کا انکے نظریات کے فروغ، قبولیت اور رسوخ میں کیا کردار رہا؟ اس کے جواب میں افتخار عارف صاحب نے کہا کہ :

1934 میں ماسکو میں ایک اجلاس ہوا اور اسکے بعد پیرس اور لندن اور دیگر ترقی پسند تحریکوں میں بھی اس پر غور ہوا اور میکسم گورکی اور دیگر دانشوروں نے نظریہ سازی کی کہ ادیب کا کام عوام کے کردار کی تعمیر کرنا ہے اور اس سلسلے میں ہمیں اپنے آ پ کو عوام سے جوڑنا چاہیے چنانچہ اس کےنتیجے میں دو طرح کے لوگ سامنے آئے ایک وہ جو صرف نعرہ بازی پر یقین رکھتےتھے جیسے شروع میں ہاشمی مطلبی فریضہ آبادی، فرنیاز حیدر، کسی حد تک کیفی اعظمی، سردار جعفری، مخدوم محی الدین وغیرہ۔ مجاز ان سے ذرا مختلف شاعر تھے، انہوں نے انقلاب اور رومان کی پہلی بار آمیزش کی تھی۔ فیض صاحب شاعر کے طور پر مجاز سے بڑے شاعر ہیں لیکن انقلاب اور رومان کی آمیزش کے حوالے سے مجاز کے بعد دوسرے شاعر ہیں۔

فیض صاحب واضح طور پر ایک نظریہ شعر رکھتے تھے اور وہ یہ تھا کہ شعر کو پہلے ادبی معیارات کے مطابق شعر ہونا چاہے اسکے بعد اس میں کسی نظریہ کی آمیزش ایک ثانوی بات ہے چنانچہ شعر کو جمالیات ادب کے حوالے سے وہ پابند سمجھتے تھے۔ نظریہ بہت اہم ہو سکتا ہے لیکن انکا خیال یہ تھا کہ نظریہ کو نعرہ نہیں ہونا چاہیے اس لئے انکی جتنی بڑی رومانوی نظمیں ہیں ان میں سے کچھ لاہور اور کراچی میں بھی لکھی گئیں لیکن ان کا بڑا حصہ وہ ہے جوسویت یونین میں لکھا گیا۔ یعنی سویت یونین میں بیٹھ کر انہوں نے کوئی سیاسی نعرے بازی نہیں کی بلکہ رومانوی نظمیں لکھیں۔ فیض صاحب کا جمالیاتی نظریہ اور انقلاب کو محبوبہ بنانے کا تصور ہی ہے جو انکو دیگر ترقی پسند شعرا ء سے ممتاز کرتا ہے۔ انہوں نے کہیں بھی اپنے نظریے کو کمپرومائز نہیں کیا لیکن شعر کو جمالیات شعر کے تابع رکھا۔

انکی طبیعت میں شروع سے ایک وسیع المشربی تھی اور وہ ہمیشہ اپنے آپ کو پیچھے رکھتے تھے۔ مثلاً بہت آسانی سے وہ پاکستان کی ترقی پسند تحریک کے رہنما ہو سکتے تھے، قیام پاکستان کے بعد اس سلسلے میں ان کو کوئی چیلنج نہیں تھا لیکن فیض صاحب کے ہوتے ہوئے احمد ندیم قاسمی صاحب اسکے سیکرٹری جنرل ہو گئے اور اسی طرح جب ترقی پسند تحریک نے اقبال پر قدغن لگانے کی کوشش کی تو فیض صاحب اس اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے اوراسکے بعد کبھی ترقی پسند تحریک کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ انکی 73، 74 برس کی زندگی میں ایسا کوئی ایک لمحہ دکھا دیجئے جس میں انہوں نے کسی دینی شخصیت کے خلاف کوئی بات کی ہو، کسی نظریے کے خلاف بات کی ہو مگر دیگر لوگوں نے تو لینن اور اسٹالن کےنام لیکر اور ان سے چھوٹے لوگوں کی بھی تعریفیں کی ہوئی ہیں۔

بیسویں صدی کی تاریخ میں صرف چند ترقی پسند شاعر ہیں جو آزادی کی تحریک سے وابستہ تھےلیکن انکی شاعری میں کہیں سستی نعرے بازی نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات کا لحاظ رکھا کہ اپنی شاعری میں کسی کی تعریف نہیں کی، ان میں فیض احمد فیض اور انکے علاوہ پیلرونورودا، ناظم حکمت، احمد شاملو، ہوچی منہ، سنگور سنگوروغیرہ شامل ہیں۔ یہ سب لوگ اپنی شاعری میں جب نظریے کی بات بھی کرتے ہیں تو جمالیاتی پیرائے سے دست کش نہیں ہوتے۔ سویت یونین کے سب سے بڑی ترقی پسند نظریہ ساز ایلیا المرگ تھے انکا نظریہ یہ تھا کہ لمحے کی شاعری زیادہ ضروری ہے اس وقت جب قوموں کی تقدیر بدل رہی ہو۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جب قوموں کی تقدیر بدل رہی ہوتواس وقت رومان اور جمالیاتی ذوق کی بات کرنا ٹھیک نہیں ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ شاعری اب کسی کو یاد نہیں ہے جو وقتی نعرہ بازے کی شکل میں لکھی گئی۔ لینن کے ساتھ چلنے والوں میں سے بھی وہی شاعر باقی رہے جو جمالیاتی نقطہ نظر سے پکے تھے۔

افتخار عارف صاحب کی اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے فتح محمد ملک صاحب نے کہا کہ:

انسانی عظمت کا جو معیار فیض صاحب کی زندگی اور عمل سےظاہر ہوتا ہے یعنی خواہ انکا فن ہو، صحافت ہو یا سیاست ہو، کہیں انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی جو ہلکی بات ہو یا نعری بازی کی حد کو چھوتی ہوئی بات ہو۔ ندیم صاحب نے مجھے بتایا کہ فیض صاحب جب اخبار کے دفتر آتے تھے تو پروگریسو پیپرز کے مالک میاں افتخار الدین اور اس طرح کے دیگر سیاستدان وغیرہ انکے پاس آتے تھے اور گھنٹوں ان سے بات چیت کرتے تھے اور مشورے دیتے تھے کہ آج کس اہم موضوع پر اداریہ لکھا جانا چاہیے۔ فیض صاحب سب کی باتیں سنتے رہتے تھے لیکن جب سب لوگ چلے جاتے تو اس موضوع پر اداریہ لکھتے جس پر انہوں نے پہلے سوچ رکھا ہوتا تھا اور جو انکے دل میں سچ بن کر بیٹھا ہوا ہوتا تھا اور اس موضوع پر نہیں لکھتے تھے جس پر اخبار کا مالک لکھوانا چاہتا تھا۔ تو فیض صاحب حق گوئی کا اطلاق بڑی نرمی، نزاکت، بڑے دھیمے پن سے اور شرف انسانیت کو سامنے رکھتے ہوئے، کسی کے ساتھ فضول بحث میں پڑے بغیر کرتے تھے۔

فتح محمد ملک صاحب سے سوال کیا گیا کہ شاعری کے علاوہ فیض صاحب کا جو نثری سرمایہ ہے جس میں انکے مضامین، اخبارات کے اداریے اور دیگر کام شامل ہےاس حوالے سے کتابوں کی شکل میں انکا کام سامنے نہیں آیا کیا اس پر بھی کوئی کام ہو رہا ہے؟ اسی طرح ایک زمانے پر پی ٹی وی پر ایسے ڈرامے پیش کئے گئے جن میں طبقاتی تقسیم اور جاگیر داری نظام کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اس کام پر بھی فیض صاحب کے اثرات تھے؟

اسکے جواب میں انہوں نے فرمایا کہ: ہاں بالکل انکا اثر ہے اور اس سلسلے میں ہمارے ہاں سب سے پہلے جاگیرداروں کے خلاف موثر آواز حضرت شاہ ولی اللہ کی تھی جنہوں نے کہا کہ اسلام میں جاگیر داری کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور انکے بعد پہلے شاعر علامہ اقبال ہیں جنہوں نے ‘الارض للہ’ کے تصور کو شاعری میں پیش کیا اور کہا کہ یہ زمین اللہ کی ہے ‘ دیہہ خدایا یہ زمیں تیری نہیں۔۔۔ تیرے آباء کی نہیں۔۔’، اسی طرح نثر میں بھی انہوں نے بہت کچھ لکھا۔

فیض صاحب کا بھی جو اقبال سے تعلق ہے وہ انکے لڑکپن کے زمانے سے ہی ہے جب وہ گورنمنٹ کالج لاہور کے طالب علم تھے تو انہوں نے اقبال پر دو نظمیں لکھیں ان میں سے ایک نقش فریادی میں شامل ہے۔ تو جیسے اقبال رومی کو اپنا مرشد سمجھتے تھے ایسے ہی فیض، اقبال کو اپنا مرشد سمجھتے تھے۔ اسی طرح فیض صاحب کی اپنے گائوں میں بہت زمین تھی اور وہ زمین انہوں نے کسانوں میں بانٹ دی تھی اور کبھی اس بات کا کہیں اعلان بھی نہیں کیا اور نہ اسے اپنی شہرت کا سبب بنایا۔ یہ سب ان روحانی تعلیمات کا نتیجہ تھا جو انہیں ورثے میں ملیں اور انہوں نے انہیں اپنایا اور ان پر عمل کیا۔ فیض صاحب کی زندگی کے اس پہلو کو ترقی پسندوں نے اس لئے نمایا ں نہیں کیا کیونکہ یہ فیضان کارل مارکس کا نہیں تھا یہ علامہ اقبال، قرآن، اور اسلام کا فیضان تھا۔

اس گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے افتخار عارف صاحب نے کہا کہ: فیض صاحب نے دو فلمین بنائی تھیں اور دونوں فلاپ ہو گئی تھیں اور جب کوئی انکی فلموں پر بات کرتا تھا تو اس بات وہ خوش نہیں ہوتے تھے۔ فلاپ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت تک ان نظریات کی عوام کے مزاج میں اتنی قبولیت نہیں تھی اور جب تک عوام کسی چیز میں اپنا عکس نہیں دیکھتے وہ مقبول نہیں ہوتی۔ اقبال کا بھی نظام استعارہ اور لغت بھی بڑی حد تک عوام کی سمجھ سے باہر تھی مگر عوام یہ سمجھتے ہیں کہ اقبال اور فیض ہمارے شاعر ہیں اس لئے پسند کرتے ہیں۔ سب باتیں انکی سمجھ میں آئیں یا ناں آئیں مگر عوام کو یقین ہے کہ انہوں نے جو باتیں کی ہیں وہ ہماری ہی فلاح و بہبود کی ہیں۔

میں جب پاکستان ٹی وی میں تھا تو ہم نے اردو کے ناولوں کی ڈرامائی تشکیل کا ایک منصوبہ بنایا۔ اسکے لئے ‘آنگن’، ‘اداس نسلیں’ اور ‘خدا کی بستی’ کے نام تجویز کئے گئے۔ جب ہم نے شوکت صدیقی صاحب کے ناول ‘خدا کی بستی’ پر کام شروع کیا تو اس ناول کا سارا مزاج پسماندہ طبقات اور نظریاتی مباحث پر بنیاد رکھتا تھا۔ اس سلسلے میں فیض صاحب کے پاس کراچی گیا اور ان سے درخواست کی کہ اسکی ڈرامائی تشکیل میں ہماری مدد کریں تو انہوں بہت شفقت فرماتے ہوئے یہ خدمت سرانجام دی اور پھر وہ ڈرامہ انہی کے نام پر پی ٹی وی پر چلا۔

فیض صاحب کو جتنی اردو پر دسترس حاصل تھی اتنی ہی انگریزی پر بھی دسترس حاصل تھی لیکن وہ ہمیشہ تقاریر وغیرہ اردو زبان میں ہی کیا کرتے تھے۔ فیض صاحب جب لینن پرائز وصول کرنے گئے تو انہوں نے اس وقت بھی اردو میں تقریر کی جو انکی کتاب ‘دست سبا’ میں شامل ہے۔ اردو میں انکی بہت سے اعلیٰ پائے کے نثری مضامین، تنقیدی مضامین ہیں جو انکی کتاب ‘میزان’ میں شامل ہیں۔ انکے علاوہ انکے خطوط پر مشتمل کتاب بھی شائع ہوئی۔ انہوں نے ثقافت کے موضوع پر جو مضامین لکھے، اس طرح کے تواتر کے ساتھ پاکستان میں اور کسی نے کام نہیں کیا حالانکہ یہ پاکستان کا بنیادی مسئلہ تھا۔ لیکن ابھی انکے حوالے سے بہت سا کام کرنا باقی ہے مثلاً جس زمانے وہ بیروت یا سویت یونین میں تھے اور جو خطوط لکھتے تھے یا تقسیم ہندوستان سے قبل کا انکا جو کام ہے اسکو سامنے لانے کی ضرورت ہے۔

پروگرام کو اختتام کی جانب بڑھاتے ہوئے میزبان نے سوال کیا کہ فیض صاحب کیلئے زیادہ اہم کیا چیز تھی؟ انکے سیاسی نظریات، ترقی پسند تحریک سے وابستگی یا انکی شاعری، وسیع المشربی اور عوام دوستی؟

فتح محمد ملک صاحب نے اسکے جواب میں کہا کہ: قیام پاکستان کے بعد جب فیض صاحب نے دیکھا کہ سجاد ظہیر صاحب جیسے راہنمائوں کے زیر اثر ترقی پسند تحریک، اسلامی، پاکستانی اور روحانی قدروں سے دور ہوتی جا رہی ہے تو وہ ترقی پسند دوستوں سے بحث میں نہیں پڑے اور انکی مخالفت نہیں کی بلکہ انہوں نے اپنے آپ کو ذاتی طور پر اس تحریک کے تنظیمی امور سے آہستہ آہستہ، کسی اعلان کے بغیر دور اور الگ کر لیا۔ ترقی پسند حضرات اپنے خالص سیاسی اور انقلابی لائحہ عمل پر آگے بڑھتے گئے اور انہوں نے جو ادب تخلیق کیا اس میں ادبیت کم تھی اور نعرہ بازی زیادہ تھی۔ سجاد ظہیر صاحب کے آس پاس جو لوگ تھے وہ زیادہ تر تخلیقی ذہن کے لوگ نہیں تھے بلکہ سیاسی ذہن کے لوگ تھے۔ سبط حسن صاحب بہت اچھے لکھاری تھے اور بہت اچھے ذہن کے مالک تھے لیکن وہ شاعر نہیں تھے تنقید نگار تھے۔ فیض صاحب نے اس ماحول میں نہ ان لوگوں سے بحث کی اور نہ اپنا کوئی الگ راستہ چنا۔

افتخار عارف صاحب نے کہا کہ :ہمارے ہاں راولپنڈی سازش کیس ٌپر جو گفتگو ہوتی ہے اس میں سب لوگ واقعات کو اپنے اپنے انداز سے بتاتے ہیں مثلاً یہ ایک صورت احوال ہے کہ پاکستان میں جمہوری حکومتوں کے خلاف فوج سے ساز باز کرنے کا جو سلسلہ ہے اس میں خواہ مقاصد کچھ بھی ہوں لیکن یہ سلسلہ کب شروع ہوا؟ اس بات کو ماننا چاہیے کہ جمہوری حکومتیں جیسی بھی تھیں لیکن اس عمل کے دوران چند فوجی افسران ان جمہوری حکومتوں کے خلاف بغاوت اور سازش کر رہے تھے اور ان معاملات میں جو لوگ بھی شامل تھے انکے حوالے سے تنقید ہوتی ہے خواہ وہ سجاد ظہیر صاحب ہوں، فیض صاحب ہوں یا کوئی اور ہو۔ دیگر ممالک میں بھی فوج کی مدد سے انقلابات آئے لیکن ظاہر ہے یہ اقدامات کسی بھی اعتبارسے مستحسن قرار نہیں دئے جا سکتے۔

پروگرام کے آخر میں فتح محمد ملک صاحب سے دریافت کیا گیا کہ کچھ عرصے سے پاکستان میں مختلف قسم کےمیلے منعقد ہونے لگے ہیں اور اب ‘فیض میلہ’ بھی منعقد ہو رہا ہے۔ شروع میں اسکا رنگ عوامی نوعیت کا تھا اور فیض صاحب کو ایک عام آدمی کے شاعر کے طور پر پیش کیا جاتا تھا لیکن اب اس میں ایک نیا ٹرینڈ آرہا ہے کہ اب فیض کو عوامی فیض کی بجائے ایلیٹ کلاس کے فیض کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور اب یہ سب کچھ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی برانڈنگ کے ساتھ ہو رہا ہے۔ آپ اس کو کس نظر سے دیکھتے ہیں خاص طور پر یہ ذہن میں رکھتے ہوئے کہ ارون دھتی رائے نے اس پر کافی تنقید کی ہے۔

ملک صاحب نے فرمایا کہ :ایک لحاظ سے ان میلوں کے منتظمین قابل داد ہیں کہ انہوں نے اسے میلہ ہی سمجھا ہے اور اسے میلے کے طور پر ہی پیش کر رہے ہیں۔ میلے ٹھیلوں میں کوئی سیریس بات نہیں ہوتی اور نہ انہیں سیریس لینا چاہیے۔ کیونکہ ان میں ایک لطف و انبساط کا ماحول فراہم کرنا ہوتا ہے۔ وہ فیض کی شاعری اور نظریات کا رخ تو نہیں ہے لیکن جو لوگ یہ میلے ٹھیلے کر رہے ہیں یہ کام انکے مزاج کا ہے۔ ان میلوں میں فیض شناسی بس اسی حد تک ہے کہ انکی وہ طویل نظم جس کا ہم ذکر چکے ہیں اسکو بغیر عنوان کے پہلے مصرعے کے ساتھ ‘ہم دیکھیں گے’ دہرایا جائے اور اس سے لطف اندوز ہوا جائے۔ یہ کوئی فیض کے پیغام کو لوگوں کے دلوں میں اتارنے کا جذبہ نہیں ہے یہ تو بس تفریح کی حد تک ہے۔ یعنی فیض ذریعہ تفریح بن کر رہ گئے لیکن چلیں یہ کام بھی منتظمین کے مقاصد کو تو فروغ دے رہا ہے کیونکہ ان میلوں کے برعکس اگر یہ کہا جائے کہ فیض کے انقلابی پیغام کو عوام تک پہنچایا جائے تو اس وقت کوئی تنظیم یا ادارہ ایسا نہیں جو یہ کام کر رہا ہو۔

یہ مکمل گفتگو اس لنک پہ سنی جاسکتی ہے:

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply