کچھ بھی لکھ دیتے ۔۔۔۔ فرحان کامرانی

0

ایک مرتبہ میرے ایک دوست نے ایک انگریز سے سرٹیفکیٹ حاصل کرتی ہوئی اپنی تصویر فیس بک پر لگائی۔ کسی نے اُس سے تصویر میں موجود انگریز کا نام دریافت کیا۔ اُس نے انگریز کا نام تحریر کردیا تو کسی نے نیچے بڑی دلچسپ اور مختصر بات لکھی۔ اُس نے لکھا ’کچھ بھی لکھ دیتے۔‘ مطلب یہ کہ کچھ بھی لکھ دیتے، تحقیق کون کرتا؟ یا یہ کہ کچھ بھی لکھ دیتے کیا فرق پڑتا؟ یہ بات بڑی معنی خیز تھی۔ ہمارے معاشرے میں خاص طور پر اِس ’کچھ بھی لکھ دیتے‘ کی خاص اہمیت ہے۔ ہر سچ اہم ہوتا ہے چاہے وہ جتنا چھوٹا ہو یا جتنا بھی بڑا ہو۔ ہمارا معاشرہ جھوٹ میں اتنا ڈوب گیا ہے کہ کوئی کسی کی بات پر ویسے ہی اعتبار نہیں کرتا اور اعتبار کرے بھی کیسے کیونکہ لوگوں کی جمیع اکثریت سفید جھوٹ بولنے سے بھی کبھی نہیں چوکتی اور اگر جھوٹ نہ بھی بولا جائے تو باتوں میں مبالغہ آرائی کا تڑکا لگانا ہماری قومی عادت کے درجے میں ہے ہی۔ پورا سچ وہ جنس نایاب ہے جو کبھی اس وطن کے لوگوں کو ملی ہی نہیں اور جو باتیں مسلّم حقائق ہیں اُن کو یہاں ہر لمحہ ہر پل پوری شدت سے جھٹلایا گیا۔ اب تک اس ملک کے لوگوں کو معلوم نہ ہو سکا کہ لیاقت علی خان صاحب کو کیوں قتل کیا گیا؟

احمد رضا قصوری کے والد پر گولی کس نے چلوائی؟
بھٹو کو پھانسی دیے جانے کی اصل وجہ کیا تھی؟
کیا قائد اعظم طبعی موت مرے تھے یا کسی سازش کے ذریعے ان کا عرصہ حیات تنگ کیا گیا تھا؟
کیا محترمہ فاطمہ جناح کا قتل ہوا تھا؟
ضیاء الحق کے فضائی حادثے میں کس کس کا دخل تھا؟
مشرقی پاکستان بننے کا اصل ذمہ دار کون تھا؟
مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو کس کے ہاتوں مرے؟
محترمہ بے نظیر بھٹو کو کس نے مروایا؟
خالد شہنشاہ اور بلال شیخ کو کس نے اس عالم سے دوسری دنیا پہنچایا؟
الطاف حسین جب پاکستان سے فرار ہو رہا تھا تو اس کی گاڑی میں ایک ملک کا سفیر کیوں بیٹھا تھا؟

اس نوع کے ہزاروں تشنہ سوالات ہیں جن کا کوئی جواب کسی کے پاس ہے ہی نہیں۔ جن افراد یا اداروں کا فرض ہے کہ ان سوالات کا جواب دیں وہ ’کچھ بھی لکھ دیتے‘ ہیں۔ کیونکہ کچھ بھی لکھا اور کہا جا سکتا ہے۔ اس ملک کے نام نہاد مورخ تاریخ کے ساتھ اتنا بڑا کھلواڑ کر گزرتے ہیں کہ دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اس کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا اور لوگ کچھ بھی نہیں کہتے، اس لئے کہ ’کچھ بھی‘ لکھا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ہمارے ملک کے ایک ’عظیم مورّخ‘ نے ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے 4 اکتوبر 2014ء کو فرمایا کہ ”برصغیر میں قدم رکھنے والے پہلے مسلمان اسماعیلی تھے جو بڑے شاندار مشنری تھے“۔ محترم ’عظیم مورّخ‘ صاحب کا یہ دعویٰ ’ڈان‘ جیسے اخبار میں ۵ اکتوبر 2014ء کو شائع ہوا۔ چھے سال ہونے کو آئے پر اپنے اس’عظیم‘ انکشاف کی کوئی تاویل، تشریح یا ثبوت نہ ’مورّخ‘ صاحب نے پیش فرمایا نہ ہی ڈان اخبار نے۔ بات چند سال پرانی ہے مگر تب بھی میرے خیال میں ڈان اخبار کے دفتر میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی سہولت تو ہو گی ہی۔ وہ ذرا سی محنت کر کے اِس خبر کو چھاپنے سے پہلے اسماعیلیہ کی تاریخ ہی نکال لیتے۔ اسماعیلیہ کی ابتداء چھٹے امام کے بعد ہوتی ہے اور یہ زمانہ عباسی خلافت کا بنتا ہے جب کہ مسلمان تو ہند میں دور نبوی میں ہی وارد ہونا شروع ہو گئے تھے۔ دور نبوی اور دور صحابہ کے کئی نشانات برصغیر میں جابجا موجود ہیں تو ان حقائق نظر انداز کر کے ’عظیم مورّخ‘ براہ راست اسماعیلیہ پر چھلانگ ماردی اور مزاحیہ بات یہ کہ یہ مضحکہ خیز دعویٰ ڈان جیسا اخبار چھاپ دیتا ہے۔ پھر سونے پہ سہاگہ یہ کہ محترم فرما دیتے ہیں کہ اسماعیلیہ ’مشنری‘ تھے!
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے!

اسماعیلیہ تو دو صدی قبل مشنری بنے ہیں ورنہ فدائی حملہ اور Assassin (یعنی ہشاشین) کا تصور ہی اسماعیلیہ نے دنیا کو دیا ہے۔ یادش بخیر، اسماعیلیہ کے پاس مصر اور شام کا کچھ علاقہ بھی ایک دور میں رہا ہے اور بعد میں الموت کا علاقہ بھی انکے ایک فرقے کے پاس تھا اور تاریخ کا تھوڑا سا ہی مطالعہ بالکل واضح کر دیتا ہے کہ وہ کس قدر ’مشنری‘ تھے۔ پھر عظیم مورخ یہ بھی نہیں بتا پائے کہ اتنے عظیم مشنریز نے کتنے لاکھ لوگ برے صغیر میں اپنے ہم عقیدہ بنائے؟ مگرہمارے ملک کے سب سے بڑے مورخ کو اِن حقائق سے کیا فرق پڑتا ہے؟ وہ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں، اخبار والے کچھ بھی چھاپ سکتے ہیں اور لوگ کچھ بھی پڑھ سکتے ہیں۔ اسلئے کہ کسی بھی چیز سے فرق بھی کیا پڑتا ہے؟ یادش بخیر، ’عظیم مورّخ‘ ترقی پسند ہیں اور ایک عہد میں اشتراکی روس کی مدح سرائی کرتے رہے ہیں۔ چھوٹ بولنا غالباً محترم نے اشتراکیت سے ہی سیکھا ہے اسلئے جدلیاتی مادیت کا جنم ہی تاریخی جھوٹوں سے ہوا تھا۔ اشتراکیت تھی ہی ایک جھوٹ پر مبنی عمارت اسی لئے یوں تاریخ کے کوڑا دان کی نذر ہوئی۔ اشتراکیوں کے لئے کوئی بھی جھوٹ بول دیناجائز بلکہ فرض عین کا درجہ رکھتا ہی ہے۔ جدید تاریخ کا علم ویسے ہی پرانے جانے مانے سچ کو جھٹلانے اور نئے مزاحیہ ’سچ‘ کو تخلیق کرنے کا ہی عمل ہی تو ہے ’عظیم مورّخ‘ نے کون سا نیا کام کر دیا، ویسے بھی وہ ’کچھ بھی لکھ دیتے‘ فرق کیا پڑتا ہے؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply