معترضین حدیث کی علمی پسماندگی اور مغرب کے اگلے ہوئے نوالے — حسیب احمد حسیب

0

معترضین حدیث کی پسماندگی کا عالم یہ ہے کہ وہی اعتراضات کہ جو صدیوں پہلے مستشرقین کی زبان پر تھے انہی کی جگالی کیے جاتے ہیں آنکھیں ترس گئیں کہ ان کی جانب سے کوئی جدید اعتراض کوئی نئی دلیل دیکھنے کو ملے مگر ہر بار وہی نکات وہی قصے وہی کہانیاں بس الفاظ بدل جاتے ہیں کردار بدل جاتے ہیں شکلیں بدل جاتی ہیں لیکن کوئی ایسی دلیل سامنے نہیں آتی کہ اس کو پڑھنے یا پھر اس کا جواب دینے کیلئے تحقیق کی ضرورت پڑے سو اسی تسلسل میں ایک پرانے ناقد کی جانب سے ایک انتہائی بوسیدہ اعتراض نئے الفاظ کی شکل میں کچھ یوں پیش کیا جاتا ہے۔

“دس سال کے عجمی بچے نے حدیثیں اکٹھی کرنی شروع کیں۔ وہ عجمی بچہ کہاں کس کے پاس عربی پڑھا؟۔ کس مدرسے کی فراغت ہے؟ سولہ سال کی عمر تک چھ سال میں چھ لاکھ روایتیں جمع بھی کر لیں، چھان بین بھی کر لی پورا عربستان گھوم لیا۔ اٹھارہ سال کی عمر میں تاریخ بخاری کی بارہ جلدیں بھی۔مکمل کیں اور اعلان کیا کہ تاریخ میں کوئی ایسا نام نہیں جس کا قصہ ہمارے پاس موجود نہ ہو۔ اگر پچیس سال کی عمر میں جمع کرتے تو شعور اتنا پختہ ضرور ہو چکا ہوتا ہے بہت ساری کہانیاں درایت پر پرکھ کر مسترد کر دیتے۔ دس سال کے بچے کا شعور اور زمانے سے واقفیت کا عالم سب کو معلوم ہے۔ بس حافظہ اچھا ہونا کافی نہیں ہوتا”

اگر آپ نہیں سمجھ سکے تو سمجھ لیجئے کہ یہ گفتگو امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رح کی بابت ہو رہی ہے عام طور پر اس بات کا جواب کچھ یوں دیا جائے گا کہ امام بخاری رح کی تاریخ کھولی جائے گی عربی و اردو حوالے ڈھونڈے جائیں گے عبارات پر بحث ہوگی اسانید پر گفتگو ہوگی مگر کیا اس بچگانہ اعتراض پر اتنی محنت کی ضرورت ہے ؟ کیا یہاں پر اتنی تحقیق درکار ہے، اگر اس مجہول اعتراض پر غور کیا جائے تو دو بنیادی نکات سامنے آتے ہیں۔

اول؛ کیا کم عمر بچے علمی کارنامے سرانجام دے سکتے ہیں۔
دوم؛ کیا کسی کے علمی کام کی جانچ کیلئے اس کا تعلیمی ریکارڈ معلوم ہونا ضروری ہے۔

اب ہر دو نکات پر گفتگو کرتے ہیں

علمی حلقوں میں ہمیں ایک اصطلاح ملتی ہے Child prodigy اس کی تعریف کچھ یوں ہوگی

A child prodigy is defined in psychology research literature as a person under the age of ten who produces meaningful output in some domain to the level of an adult expert.
Encyclopedia of Creativity (Second Edition). Academic Press.

ایسے ذہین بچے کہ جو دس سال سے کم عمر میں کسی شعبہ علم میں کوئی ایسا کارنامہ سرانجام دیں کہ جو بالغ و باشعور افراد سر انجام دیتے ہیں۔

یہاں پر ہم کچھ مثالیں شامل کرتے ہیں

پہلی مثال ہے Wolfgang Amadeus Mozart موزارٹ اور س کے کام سے کون واقف نہیں ہے کہ جو پانچ سال کی عمر میں میوزک کمپوز کرتا تھا اور دس سال کی عمر تک اس نے اپنے شعبے میں ایک نام بنا لیا تھا۔

دوسری مثال ارفع عبد الکریم رندھاوا

Pakistani student and computer prodigy who became the youngest Microsoft Certified Professional (MCP) in 2004. She was submitted to the Guinness Book of World Records for her achievement۔

تیسری مثال Michael Kearney

Home-schooled by his parents, Michael’s intellectual development accelerated at a head-spinning pace. Fast-tracked through high school and college, Michael enrolled at the University of South Alabama in 1992 at the age of eight.

Two years later, aged 10, he walked out with a Bachelor’s degree in anthropology, entering the Guinness Book of World Records as the youngest ever university graduate – an extraordinary feat that remains unsurpassed to this day.

یہ صرف تین مثالیں ہیں جرمنی کے Johann Heinrich Friedrich Karl Witte نے صرف 13 سال کی عمر میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرکے دنیا کو حیران کردیا تھا کارل 9 سال کی عمر میں ہی جرمن، لیٹن، اٹالین، گریک، فرنچ زبانوں پر عبور رکھتا تھا۔

Witte, Karl. The Education of Karl Witte, Or the Training of the Child. . trans. L. Wiener (London: Harrap, 1915)

پھر یہ سوال ہی انتہائی بیہودہ ہے کہ کس نے کہاں سے تعلیم حاصل کی اس کا استاد کون تھا وہ کہاں رہتا تھا، پہلے کسی بھی صاحب علم کے علمی کام کو دیکھا جاتا ہے اور پھر اس کی تاریخ تلاش کی جاتی ہے ناکہ پہلے اس کی تاریخ کھوجی جائے اور پھر اس کے علمی کام پر فیصلہ صادر کیا جائے، مزید ان لوگوں سے سوال کیا جائے کہ Thomas Alva Edison نے سائنس کون سے سکول سے پڑھی فزکس، کیمسٹری، میتھس، انجینیرنگ کس شعبے کا پی ایچ ڈی تھا ایک کان سے سن نہیں سکتا تھا اور اتنی ساری ایجادات۔

Wright Brothers کے پاس کون سی فارمل ڈیگریز تھیں کتنی بار سکول سے نکالے گئے۔
Michael Faradayنے اپنی ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی کیا کچھ سائنس کو دیا اور بعد ازاں اسے کون سی اعزازی ڈگریاں ملیں کیا کسی کو اس کے استادوں کا نام معلوم ہے؟

The Man Who Knew Infinity شری نیواسا راما ننجن Srinivasa Ramanujan کی زندگی پر بنی ہوئی ہالی ووڈ فلم ہے، راما ننجن ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا کسی ایک جگہ فارمل تعلیم حاصل نہیں کی اس کے ابتدائی اساتذہ کا نام کسی کو معلوم نہیں اس نے ابتدائی طور پر کس سے سیکھا یہ بھی کسی کو نہیں معلوم پرائمری سطح پر مختلف سکولوں میں گیا لیکن حالات کی وجہ سے کسی ایک جگہ بھی ٹک نہیں پایا مختلف علاقے تبدیل کیے، 13 سال کی عمر میں S. L. Loney on advanced trigonometry کا ازخود مطالعہ کیا اور 14 سال کی عمر تک غلام ہندوستان کے تعلیمی نظام کو کہیں پیچھے چھوڑ چکا تھا۔

اس مختصر مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام بخاری رح کا کم عمری میں علم حدیث پر عبور کوئی ایسی انوکھی بات نہیں کہ جس کی مثال انسانی تاریخ میں موجود نہ ہو اور نہ ہی کسی مخصوص ادارے یا فرد سے تعلیم کا نہ ہونا کوئی ایسی انہونی بات ہے کہ جس پر تنقید کی جائے گو کہ یہ تنقید بھی فریب پر مشتمل ہے لیکن اگر اسے تسلیم بھی کر لیا جائے تو اس کی حیثیت پر کاہ کی بھی نہیں ہے۔

دوسری جانب شائقین،علم حدیث اور امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رح کی سوانح جاننے کے لیے مولانا محمد الاعظمی (سابق شیخ الحدیث جامعہ عالیہ عربیہ مئو)
کی تصنیف ’’تذکرۃ البخاری‘‘ کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔
https://kitabosunnat.com/kutub-library/Tazkra-Tu-Al-Bukhari%20%28%20Muhammad%20Al%20Azmi%20%29

اس کتاب کے مطالعے سے ہمارے بہت سے اشکالات دور ہو جائیں گے اس کے بعدچند نکات اہل علم کی خدمت میں ڈاکٹر Dr. Jonathan Brown ایک امریکی اسکالر ہے وہ اپنے مقالے Blind Spots: The Origins of the Western Method of Critiquing Hadith میں لکھتا ہے

This new German school of history assumed that the first step of studying any text was to question its reliability and determine its authenticity. In other words, the default setting for scholars was to doubt the reliability of material transmitted about the past. Certainly, this principle of doubt did not mean that European historians doubted everything about the past. But as their criticisms of the textual integrity of Homer’s epics or the historical veracity of the Bible illustrate, they were willing to indulge fundamental doubts about the cornerstones of Western history and religion based upon what they considered anachronisms or stylistic inconsistencies within a text. Contrast this with the statement of Sunni hadith critics like Mullā ‘Alī al-Qārī (d. 1014/1606), who asserted that ‘it is manifestly obvious that if something has been established by transmission [from the Prophet], then one should not heed any contradiction with sense perception or reason.

Qārī, Mullā ‘Alī. Al-Asrār al-marfū‘a fī al-akhbār al-mawdū‘a, ed. Muhammad Lutfī Sabbāgh. Beirut, al-Maktab al-Islāmī, 1986

یہاں سے ہمیں اس منہج علم کی تفریق کا سراغ ملتا ہے کہ جو ہمارے اور مغربی استشراق کے درمیان ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کس انداز میں ہمارے مشرقی ناقدین حدیث انہی اصولوں کی چاکری کر رہے ہیں کہ جو مغرب نے متعین کیے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کا مقصود اصلاح نہیں صرف اور صرف فریب کاری ہے تاکہ مسلمانوں کو ان کی حقیقی علمی میراث سے دور کیا جا سکے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply