ممتاز ادیب، شاعر اور مترجم صغیر ملال مرحوم کی یاد جاتی نہیں — اظہر عزمی

0

(گزشتہ دنوں مکتبہ جدید نے صغیر ملال مرحوم کی کلیات نثر و نظم بنام “آدمی دائروں میں رہتا ہے” شائع کی ہے جس میں یہ مضمون شامل ہے جو ان کی وفات کے سال 1992 ہی لکھا گیا۔)

میرا صغیر ملال سے اتنا ہی تعلق تھا جو ایک مطلبی شخص کا کسی بااثر آدمی سے ہوسکتا ہے۔ میں نے دو تین بار جب بھی تبدیلی روزگار کا فیصلہ بلا سوچے سمجھے کیا اور حالات کے دبائو میں آکر اسے فون کیا تو عموماً وہ مجھے بھول چکا تھا۔ اس لیے پہلے تو اپنا تعارف کراتا۔ ایسے موقع پر کبھی فون کی خرابی یا میری آواز فون پر بدل جانے کے باعث کہا کرتا:

اچھا اچھا آپ بات کررہے ہیں۔ یار دراصل فون میں آواز کچھ صاف نہیں آرہی ہے آج۔ اس لیے پہچان نہیں پایا اور سنائیں کیا حال چال ہیں؟

میں اس سے رسمی باتیں کرتا اور پھر آخر میں اپنے مطلب کی بات کرتا۔ و ہ عموماً نوکری چھوڑنے کی وجہ معلوم کیا کرتا اور پھر ایسا کرنے سے باز رکھنے کی حتی المقدور کوشش کرتا اور پھر میرے “ملتجیانہ اصرار” پر کسی نہ کسی اشتہاری ایجنسی میں اپنے حوالے سے بھیج دیا کرتا۔ گو کہ یہ حوالہ ایک بار ہی نتیجہ خیز ثابت ہوا لیکن میرے لیے صغیر ملال کی نیک نیتی اور خلوص میں کبھی فرق نہ آیا۔

دوسری ملازمت کےلیے میں جس ادار ے میں پہنچا وہاں صغیر ملال مجھ سے پہلے ہوا کرتے تھے اور یہاں شعبہ تخلیق کے سربراہ تھے میں نے صغیر ملال کی حاضر جوابی اور بذلہ سنجی کے وہ قصے سنے تھے کہ بغیر دیکھے ہی ان کی شخصیت سے کسی حد تک خوفزدہ ہوگیا تھا۔ ایک مرتبہ صغیر ملال وہاں آئے تو پتہ چلا کہ سب کچھ اپنی جگہ، کبوتر بازی اور پتنگ بازی بھی آپ کی اہم دلچسپیوں میں شامل ہیں۔

بہرحال پہلی بار صغیر ملال کو دیکھ کر میرے ذہن نے خوفزدگی کی جگہ احترام کو دے دی۔ صغیر ملال درمیانے قد اور چھریرے بدن کا آدمی تھا۔ عموما جینز کی پینٹ اور کوئی عام سی شرٹ پہنا کرتا تھا۔ ماتھے کے اوپر بالوں کی قلت پائی جاتی تھی۔ صغیر ملال سے میری باضابطہ ملاقات 1989ء میں ہوئی جب میں ان سے ملاقات کے لیے ان کے ادارے میں گیا کہ جہاں وہ پچھلی ملازمت کی طرح اہم عہدے پر فائز تھے اور پھر اس کے بعد مختصر ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ وہ قیامت کا افسانہ نگار تھا لیکن ایک جریدے میں شائع ہونے والے اس کے ایک افسانے میں کردار نگاری نے مجھے متاثر کیا تھا۔ شاعری جو ابتدا اس کی شناخت بنی اپنا ایک الگ ہی رنگ رکھتی تھی اور وہ اپنے ہم عصر شعراء میں ایک قابل ذکر نام تھا۔ مطالعہ صغیر ملال کی کمزوری تھا اس کی اگر کسی سے دوستی تھی تو وہ کتاب تھی۔ میری جب بھی اس سے ملاقات ہوئی کتاب کو ہمیشہ اس کے ساتھ پایا۔ انگریزی ادب میں ماسٹرز کرنے کے باوجود اس میں کسی قسم کا دکھاوا نہیں تھا۔ انگریزی ضرورتاً بولتا تھا عادتاً نہیں۔ عالمی ادب میں اس کا مطالعہ بہت وسیع تھا جس کا ثبوت وہ غیر ملکی افسانے ہیں جس کا اس نے اردو میں ترجمہ کیا ہے اور جو ’’بیسویں صدی کے شاہ کار افسانے‘‘ کی صورت میں شائع ہوئے۔ ایک مرتبہ دیار غیر میں چند پاکستانی شعراء کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں اس ملک کے ادبی حضرات بھی شریک ہوئے بقول شخصے صغیر ملال پاکستانی شعراء میں وہ واحد آدمی تھا جس نے ان حضرات سے ان کے ادب پر گفتگو کی۔

صغیر ملال میں کسی قسم کا دکھاو انہیں تھا وہ اپنی قابلیت کا رعب کبھی نہیں جھاڑتا تھا۔ جوگنگ اور سوئمنگ کا شوقین تھا شاید وہ ایک صحت مند زندگی گزارنا چاہتا تھا اسی لئے اس نے یہ دو ’’مشقتانہ‘‘ شوق پال رکھے تھے۔ صغیر ملال سے میری کبھی کوئی لمبی چوڑی گفتگو نہیں ہوئی حالانکہ ہمارا قبیلہ روزگار ایک ہی تھا۔ میری اور اس کی قابلیت اور تجربے میں بڑا فرق تھا لیکن اس نے کبھی اس فرق کا احساس تک نہ دلایا بلکہ گفتگو میں یاری کا عنصر ہی نمایاں رہا۔ وہ افسانہ نگار تھا، شاعر تھا، مترجم تھا، اشتہار سازی کے فن کا سپہ سالار تھا لیکن میری اس سے ان موضوعات پر کبھی گفتگو نہیں ہوئی میں عموماً اپنے مطلب سے ہی گیا یعنی پرانی نوکری سے دل بھر گیا اور نئی نوکری کی تلاش ہے۔

15 فروری 1951ء کو پیدا ہونے والا صغیر ملال 26 جنوری 1992ء کو صبح دس بجے مرگیا مجھے اطلاع اس وقت ملی کہ اگر چاہتا تو جنازے میں شرکت کرسکتا تھا لیکن اپنے آپ سے دفتری مجبوریوں کا بہانہ بناکر نہ گیا اور ویسے بھی اب صغیر ملال میرے کس کام کا تھا۔ اب تو وہ مجھے نوکری کےلیے کہیں نہیں بھیج سکتا تھا اور سیدھی سیدھی بات تو یہ ہے کہ میری اور اس کی ملاقاتوں کا کسی کو علم بھی نہیں تھا اور میرے خیال میں اس نے میرے بارے میں کسی کوبتایا بھی نہ ہوگا کیونکہ اس قسم کے ’’مطلبی‘‘ لوگ تو پہلے بھی اس کے پاس آتے رہے ہوں گے۔ میں جنازے میں شریک نہ ہوا تو کیا ہوا کون ہے جو مجھے مطلبی کہے اور جنازے میں شریک نہ ہونے پر برابھلا کہے۔

صغیر ملال کی گفتگو اس قدر برجستہ اور پرمزاح ہوا کرتی تھی کہ سننے والا محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ پاٹ دار آواز کے ساتھ وہ جب کبھی قہقہہ لگاتا تو کافی دیر تک اس کی گونج سنائی دیتی۔ میں نے تو صغیر ملال کو زندہ ہی دیکھا تھا۔ لوگ بتاتے ہیں کہ مرنے کے بعد بھی اس کے چہرے پر وہی سکون تھا۔ شیو ایک دو روز کی بڑھی ہوئی تھی اور داڑھی کے چند ایک بال سفید تھے جو اس عمر کے لوگوں کے ہوجایا کرتے ہیں۔

صغیر ملال شاید بظاہر خوبصورت چہرہ نہیں رکھتا تھا لیکن حقیقتاً وہ ایک خوبصورت آدمی تھا۔

جب مجھے صغیر ملال کے انتقال کی خبر ملی تو میں نے سوچا یہ شخص کیوں مرگیا۔ یہ معاشی ناہمواریوں کا شکار تو نہیں تھا۔ قابل عزت ملازمت پر تھا۔ اچھے علاقے میں رہائش تھی، ایک بیوی دو بچے تھے اور دنیا والوں کی نظروں میں صاحب حیثیت ہونے کے لیے اس کے پاس کار بھی تھی لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ وہ ایک حساس شخص تھا شاید آگہی کے کرب نے اسے مارڈالا لیکن یہ مادہ پرست معاشرہ اس کرب کو مختلف بیماریوں کا نام دیتا ہے۔ صغیر ملال اب کراچی میں آسودہ خاک ہے۔ صغیر ملال بہت جلدی چلا گیا ابھی تو اسے بہت کام کرنے تھے۔ عالمی ادب کے کتنے شاہ کاروں، افسانوں کو قومی زبان میں منتقل کرنا تھا۔ شاعری کی نئی منزلیں طے کرنی تھیں۔ پڑھے لکھے لوگ میری کمزوری ہیں اور چند ہی ملاقاتوں کے بعد صغیر ملال میری کمزوری بنتا جارہا تھا میں اس سے مختلف موضوعات پر اس کے خیالات جاننا چاہتا تھا لیکن غم روزگار نے کبھی اتنا موقع ہی نہ دیا کہ اس سے تفصیلی ملاقات ہوتی۔ صغیر ملال اپنے نام کی مکمل تفسیر تھا وہ صغیرہی مرا۔ ادب میں یہ عمر تو کم سنی کی ہوتی ہے۔ اس کی موت پر سب کو ملال ہے۔ مضمون کے اختتام پر صغیر ملال کے چار اشعار حاضر خدمت ہیں جو مجھے ان کے ایک دوست نے سنائے۔

لوگ اس شہر کو خوشحال سمجھ لیتے ہیں
رات کے وقت بھی جو جاگ رہا ہوتا ہے
………
ممکن ہے کائنات کے کہنہ نظام میں
جو انتظام لگتا ہے وہ انتشار ہو
………
جو شہزادہ تیرے در پر کھڑا ہے
بتا، اس کے لیے کیا فیصلہ ہے
………
سمندر ہے اگر منزل کسی کی
تو دریا سب سے سیدھا راستہ ہے

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply