غلام عباس کی ’آنندی‘ اور آج کی “این جی او” — فرحان کامرانی

0

میری بدقسمتی ہے کہ میں نے ابھی تک غلام عباس کو نہیں پڑھا۔ مگر میں نے اُن کے افسانے آنندی سے ماخوذ فلم ’منڈی‘ دیکھی ہے۔ شیام بینیگل کی یہ کمال فلم عہد حاضر کی بڑی سچائی سے پردہ اٹھاتی ہے۔ شبانہ اعظمی، نصیر الدین شاہ اور اوم پوری کی یہ فلم موقع ملے تو ضرور دیکھئے۔ اِس فلم کی چند بنیادی تھیمز میں سے ایک یہ ہے کہ آج کے دور میں جو کسی برائی کو مٹانے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ خود ہی اسی برائی کے بیوپاری ہیں۔ فلم میں دکھایا جاتا ہے کہ طوائفوں کے خلاف مہم چلانے والی میڈم خود کوٹھے سے چھڑائی گئی لڑکی سے دھندا کروانا چاہ رہی ہیں۔ جارج آرویل نے بھی نام اور کام کی دورنگی اپنے ناولوں میں خوب دکھائی ہے۔ آزادی، غلامی ہے اور سچ، جھوٹ۔ نام بدل دئے جاتے ہیں کام وہی ہوتے ہیں۔ سماجی ادارے مرتے نہیں بلکہ گرگٹ کی طرح رنگ بدل لیتے ہیں اور بے حد قوی ہوجاتے ہیں۔ پرانی چیزیں گندی مشہور ہو جاتی ہیں۔ سب جان جاتے ہیں کہ اُن میں کیا کیا برائیاں ہیں تو نئے نام سے وہی چیزیں متعارف ہوتی ہیں اور نئے نام میں پرانی برائی کی پیکیجنگ کر دی جاتی ہے، اللہ اللہ خیر صلا۔

ضیاء صاحب کے دور میں ہیرا منڈی اور نیپئر روڈ وغیرہ پر پابندی کی صورتحال پیدا ہوئی تو نتیجے میں دھندا کرنے والیاں سارے شہر میں ادھر ادھر پھیل گئیں اور اس یشے کا پورا ہی چہرہ بدل گیا۔ آج دھندے کے لئے کوٹھا کوئی مخصوص جگہ رہی ہی نہیں۔ بڑی بڑی کمپنیوں میں کام کرنے والی، بڑے بڑے معروف اداروں میں پڑھانے والی اور سیاست کے ایوانوں میں موجود بھی کچھ عورتیں پارٹ ٹائم اسی قدیم دھندے سے منسلک ہیں۔ بہت مرتبہ شریف گھرانوں کی لڑکیوں کو اُن کے سسرال والے اور اُن کے شوہر بھی اِس دھندے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ کہنے کو تو ہیرا منڈی ختم ہی ہو گئی مگر دراصل اب سماج میں بڑے بھیانک طور پر پھیل چکی۔ کہنے کو نیپئر روڈ ماضی کا قصہ بن چکی مگر نیپئر روڈ تو اب نجی اور سرکاری جامعات تک پھیل چکی۔ بلکہ کون سا ادارہ اِس سے محفوظ ہے؟ ناموں میں کیا رہ گیا ہے اب؟

پچھلے 18 سالوں میں یہ ”آنندی“ بڑی تیزی سے NGO’s کی مہربانی سے پھیل رہی ہے۔ غریب گھروں کی لڑکیوں کو تعلیم کی امداد کے نام پر اسکالرشپ دی جاتی ہے۔ بعض اوقات انہیں دوسرے ملکوں میں تعلیم کیلئے بھیجا جاتا ہے۔ پھر وہ واپس آ کر اس NGO کی پوسٹر گرل بھی ہوتی ہیں اور اپنے پس منظر میں (جو پسماندہ ہوتا ہے) ایک نوع کی مستند سفیر بھی بن جاتی ہے۔ پھر وہ NGO اِس نوع کی لڑکیوں کی نمائش کر کے اپنے غیر ملکی امداد کنندہ اداروں سے پیسے لوٹتی ہیں۔ چند ماہ قبل منعقدہ ”عورت مارچ“ میں اسی نوع کی ایک لڑکی جو سرائیکی وسیب کے بڑے غریب پس منظر سے تعلق رکھتی ہے، مجھ کو پوسٹر اٹھائے کھڑی نظر آئی۔ کیونکہ میں اس لڑکی کو اور اسکے پس منظر کو اچھی طرح جانتا تھا اسلئے جھٹکا لگا۔ اُس لڑکی کو آپ آسانی کے لئے آنندی ہی کہہ لیجئے۔ آنندی کے پوسٹر پر کیا لکھا تھا یہ تو شائد سب جانتے ہی ہیں مگر مجھے اُس لڑکی کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ غیر تعلیم یافتہ پس منظر کی اُس لڑکی میں اب اپنی تہذیب و ثقافت کیلئے محض نفرت و حقارت کے سوا کچھ بھی باقی نہیں کیونکہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کے سادہ و غریب گاؤں سے نکالنے والی NGO والی آنٹی نے اُسے برطانیہ کی سیر کروا دی ہے۔ اسے گریجویشن تک تعلیم دلا دی ہے اور ترقی یافتہ دنیا کے سارے آزاد مزے کروا دیے۔ اس قیمت پر اس بیچاری نے اپنی روح اور جسم سب NGO والی آنٹی کو فروخت کر دیے۔ کتنی سستی قیمت لگی ہے عورت کی۔ لگانے والی بھی عورت ہی ہے۔ چلانے والی بھی عورت ہے چلنے والی بھی عورت ہے۔ اب وہ ایک کٹھ پتلی ہے جو ایک طرف NGO والی آنٹی کے ہاتھ میں کھیل رہی ہے اور دوسری طرف اپنی نت نئی خواہشات کے ہاتھوں میں۔ اب وہ ’پدرشاہی‘ کو گالی بکے گی مگر اس پر آنٹی کی شاہی قائم ہے۔ یہ ہے وہ آزادی جس کے نعرے مارچ میں بلند کئے گئے۔ ویسے اگر یہ آزادی ہے تو غلامی کس چڑیا کو کہتے ہیں؟ یہ ہے آزادی کے بھیس میں غلامی۔ اسی کو کہتے ہیں آنندی یا منڈی؟ معلوم نہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply